Asghar Khan Askari copy

قومی مسائل سیاسی مفادات کا شکارکیوں؟

جمہوری معاشروں سیاسی جماعتیں عوام کی نمائندہ ہوتی ہیں۔اس لئے سیاسی جماعتیں تما م امور میں ملکی اور قومی مفاد کو مقدم رکھتی ہیں ۔خاص کر دستور سازی اور قانون سازی میں اس بات کا زیادہ خیال رکھا جا تا ہے کہ ملکی اور قومی مفاد مجروح نہ ہو ۔لیکن پاکستان میں معاملہ اس کے بر عکس ہے۔لگ ایسے رہا ہے کہ یہاں سیاسی جماعتیں ملکی مفاد کی بجائے سیاسی مفاد کو مقدم رکھتی ہے۔حالانکہ ایسا کرنے سے ان کو گریز کرنا چاہئے ،اس لئے کہ پانچ سال بعد ان کو انتخابات میں پھر عوام کے پاس جا نا ہو تا ہے۔ہمارے ہاں معاملہ مختلف کیوں ہے ۔ اس کا اندازہ آپ ان چند واقعا ت سے لگا سکتے ہیں۔ گزشتہ مہینے مشترکہ مفادات کونسل میں پارلیمنٹ میں موجود سیاسی جماعتوں نے نئی حلقہ بند یوں کے حوالے سے حکومت کے ساتھ آئینی تر میم پر اتفاق کیا تھا۔نئی حلقہ بند یوں سے متعلق بل قومی اسمبلی نے پاس کیا ہے۔لیکن سینیٹ کے گز شتہ اجلاس میں چار مرتبہ یہی بل ایجنڈے پررہا لیکن درکار تعداد نہ ہونے کی وجہ سے ایوان میں پیش نہیں کیا جا سکا۔حکومت اس بل کو قومی اسمبلی سے منظور کرانے میں اس لئے کامیاب ہوا کہ وہاں ان کی اکثریت ہے۔لیکن سینیٹ میں معاملہ مختلف ہے۔یہاں پیپلز پارٹی کی اکثریت ہے۔تحریک انصاف اور ایم کیو ایم کے سینیٹرز بھی ہیں۔مشترکہ مفادات کونسل میں پیپلز پارٹی نے وزیر اعلی سندھ مراد علی شاہ کے ذریعے رضا مندی کا اظہار کیا ہے،لیکن ایوان بالا میں اس اہم مسئلے پر تاخیری حربے استعمال کر رہی ہے۔اسی طر ح تحریک انصاف نے بھی وزیر اعلی خیبر پختونخوا پرویز خٹک کے ذریعے مشترکہ مفادات کو نسل میں رضا مندی ظاہر کی ہے ،لیکن سینیٹ میں عملی طور پر اس بل کو منظور کرانے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے۔اس تا خیر کی وجہ سے الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں میں مشکلات کا سامنا ہے۔اگر ایک مہینہ پہلے سیاسی جماعتیں قانون سازی کر تی تو الیکشن کمیشن کو حلقہ بندیوں کے لئے مناسب وقت مل جا تا ،لیکن یہ اہم معاملہ ابھی تک سیاسی مفادات کی سولی پر لٹک رہا ہے۔اب اگر قانون سازی ہو بھی جائے تو الیکشن کمیشن کے ساتھ حلقہ بند یوں کے لئے مناسب وقت نہیں ہوگا۔اس لئے وہ جلدی میں فیصلہ کر یں گے،پھر یہی رہنما سارا ملبہ الیکشن کمیشن پر ڈال دیں گے کہ یہ ادارہ نا اہل ہے۔حالانکہ نااہلی تمام پارلیمانی جماعتوں کی ہو گی ۔اس لئے کہ یہی لوگ بر وقت قانون سازی کر نے میں ناکام رہے۔بلا شبہ حکومت کی زیادہ ذمہ دار ی بنتی ہے کہ وہ اس معاملے کے حل کے لئے فوری اقدامات کریں ،لیکن پیپلز پارٹی جو کہ سینیٹ میں سب سے بڑی اپوزیشن جماعت ہے ان کی بھی ذمہ داری ہے کہ اس اہم معاملے پر سیاسی پوائنٹ سکورنگ کی بجائے اس بل کو منظور کرانے میں اپنا کردار ادا کریں۔اگر حکومت اور پیپلز پارٹی دونوں تا خیری حر بے استعمال کر رہی ہیں تو تحریک انصاف کی ذمہ دار بنتی ہے کہ وہ آگے آئے اور اس اہم ترمیم کو منظور کرانے میں بنیادی کردار ادا کریں ،اس لئے صاف اوشفاف انتخابات کا یہی تقا ضا ہے۔اگر پارلیمانی جماعتیں اس اہم مسئلے کو سیاست کی نظر کر نا چاہتی ہے تو چیئرمین سینٹ میاں رضا ربانی کو چاہئے کہ وہ ثالث کا کردار ادا کریں اور معاملے کو خوش اسلوبی سے حل کریں۔ ایسا نہ ہو کہ اس بل کو منظور کرانے کے لئے بھی حکومت کو فوج کا سہارا لینا پڑے۔دوسرا اہم مسئلہ جس کو وفاقی حکومت نے طاق نسیاں میں رکھ دیا ہے،وہ ہے شمالی وزیر ستان کی متاثرین جنگ کی واپسی۔خاص طور پر وہ بارہ ہزار خاندان جو شمالی وزیرستان میں فوجی آپریشن ضرب عضب شروع ہوجانے کے بعد افغانستان ہجرت کر چکے ہیں۔کئی سال گز رنے کے با وجود ان بارہ ہزار میں سے صرف پانچ ہزار کی واپسی ممکن ہو ئی ہے،جبکہ 7 ہزار متاثرین ابھی بھی افغانستان میں مو جود ہیں۔وفاقی حکومت کو چاہئے کہ فوری طور پر ان کی واپسی کے لئے اقدامات کریں۔شمالی وزیر ستان میں ابھی تک جن متا ثرین کی واپسی ممکن ہوئی ہے ۔ان کو مالی امداد کی مد میں کا فی مشکلات کا سامنا ہے۔جو کارڈ ان کو دئیے گئے ہیں ۔ ان میں اکثریت کو ابھی تک پیسے ٹرانسفر نہیں ہوئے ہیں۔لہذا وفاقی حکومت اور دیگر متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ ان بے گھر افراد کی آباد کاری پر فوری تو جہ دیں۔قبا ئلی ارکان پارلیمنٹ کو چا ہئے کہ اس مسئلے کے حل کے لئے وزیر اعظم شاہد خاقان عباسی اور وزارت سیفران کے اہلکاروں کے ساتھ نہ صرف بات چیت کریں بلکہ متاثرین کی فوری واپسی اور مالی امداد کو جلد از جلد یقینی بنائیں۔ تیسر ا اہم مسئلہ ملک میں مہنگائی کی نئی لہر کا ہے جو کہ گز شتہ چند مہینوں سے جاری ہے،لیکن نہ حکومت اس پر توجہ دے رہی ہے اور نہ ہی اپوزیشن جماعتیں پارلیمنٹ میں اس مسئلے کو اٹھانے کی زحمت کر رہی ہے۔سبزیوں ،پھلوں اور دیگر اشیاء خورد و نوش کی قیمتوں میں مسلسل اضا فہ ہو رہا ہے ،لیکن کو ئی بھی اس کے خلاف آواز نہیں اٹھا رہا۔ وفاقی حکومت خامو ش ہے۔ صو بائی حکومتیں بھی کچھ کر نا نہیں چا ہتی۔ متعلقہ ادارے بھی خواب خرگوش کے مزے لے رہی ہیں۔گزشتہ چند مہینوں سے پیٹرولیم مصنو عات کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے ،لیکن وفاقی حکومت اس کا نوٹس نہیں لے رہی کہ کیوں ایسا کیا جا رہاہے ؟ وزیر اعظم شاہد خا قان عباسی کا فرض ہے کہ وہ سیاسی مفاد کے ساتھ ساتھ ملکی اور قومی مفاد کا بھی خیال رکھیں۔ان کو چاہئے کہ اپوزیشن کے ساتھ بات چیت کریں تاکہ اگلے ہفتے سینیٹ کے پہلے اجلاس میں حلقہ بند یوں سے متعلق بل کو منظور کر ا یا جا سکے۔اگر حکومت تساہل سے کام لے رہی ہے یا سنجید گی کا مظاہر نہیں کر رہی ہے تو پیپلز پارٹی اور تحریک انصاف کی ذمہ دار ی ہے کہ وہ حکومت کو مجبور کریں کہ اہم معاملے کو فوری طور پر حل کریں۔آپر یشن ضرب عضب کی وجہ سے جو لوگ بے گھر ہوئے ہیں،خاص کر جو افغانستان میں مو جو د ہے ،وزیر اعظم کو چاہئے کہ اس اہم معاملے پر خود توجہ دیں ۔ اگر وہ اس اہم قومی مسئلے کو نظر انداز کر رہے ہیں تو اپوزیشن کی ذمہ داری ہے کہ اس کی نشاندہی کر یں۔مہنگا ئی کو قابو کرنا حکومت کی ذمہ داری ہے ،اگر حکو مت فرائض میں غفلت کی مرتکب ہو رہی ہے تو اپوزیشن ان کو متو جہ کریں۔اپوزیشن کو چاہئے کہ وہ پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے اور مہنگا ئی کے خلاف پارلیمنٹ میں آواز اٹھا ئیں۔اگر حکومت مسئلے کے حل میں سنجیدہ نہیں تو ان کے خلاف بھر پور احتجاج کا اعلان کریں۔اس لئے کہ پارلیمنٹ میں مو جود تما م سیاسی جماعتیں عوام کی منتخب کر دہ ہیں،چا ہئے وہ حکومت میں ہیں یا حزب اختلاف کا حصہ ۔لہذا ان تمام سیاسی جماعتوں کا فرض ہے کہ وہ ملکی اور قومی مفاد میں اپنا کردار ادا کریں۔جب تک اپوزیشن مضبوط کردار ادا نہیں کریگی اسی وقت تک حکومت کو ملکی اور قومی مفاد کی طرف راغب نہیں کیا جا سکتا ۔یہ درست ہے کہ حکمران جماعت اس وقت مسائل کا شکار ہے۔لیکن حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ سیاسی مفادات کے ساتھ ساتھ ملکی اور قومی مفادات پر بھی تو جہ دیں۔