Amir-Mehmood-Khatk-copy-(Da

قومی دھارااور فاٹا

ہمارے ملک کی یہ بدقسمتی ہے کہ ہمارے حکمران وقت پر کسی مسئلے کا حل تلاش نہیں کرتے۔کیوں کہ ملکی سطح پر مسائل کو حل کرنے کے لیے بڑی سوچ کی ضرورت ہو تی ہے۔میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ ہما رے حکمرانوں کی بڑی سوچ نہیں ہے۔ ہمارے حکمرانوں کی سوچ بڑی ہے مگر مصلحت ہمارے حکمرانوں کے سوچ پراثر انداز ہو جاتی ہے۔جس کی وجہ سے ملکی مسائل التواء کا شکا ر ہو جاتے ہیں۔جب مسائل ملتوی ہوتے ہوتے گھمبیر صورت حال اختیار کر لیتے ہیں تو ان کا حل تلاش کرنے کے بجائے جمہوریت کا رونا روتے رہتے ہیں۔ایسا ہی مسئلہ فاٹا کے عوام کا ہے۔پاکستان کو بنے 70سال کے قریب ہو چکے ہیں۔مگر فاٹا کو ابھی تک قومی دھارے پر نہیں لایا گیا۔قیام پاکستان کے بعدسوات کو خیبر پختونخوا میں ضم کیا گیا۔بہاولپور کو پنجاب میں ضم کیا گیا۔گلگت بلتستان کو علیحدہ انتظا می یونٹ بنا دیا گیا۔سمجھ سے بالا تر ہے کہ حکومت فا ٹا کے معاملہ میں کیوں گھبراہٹ کا شکار ہے۔جب تک یہ علاقہ ٹرائبل رہے گاوہاں کے عوام بنیادی ضرورتوں سے محروم رہیں گے۔ابھی تک وہاں کوئی انفراسٹکچر نہیں ہے۔وہاں صحت کا کوئی انتظام نہیں ہے۔وہاں کے عوام اپنا علاج کروانے کے لیے پشاور کوہاٹ اورراولپنڈی کا رخ کرتے ہیں۔ تعلیم کے نعمت سے بھی محروم ہیں۔کیوں کہ تعلیم کا و ہاں کو ئی خاص انتظام نہیں ۔بدقسمتی کی بات تو یہ ہے کہ وہاں کوئی انتظامیہ نہیں ہے۔سا را کچھ پولیٹیکل ایجنٹوں کے سہارے چھوڑا ہوا ہے۔مزے کی بات تو یہ ہے۔فنڈ بھی ان کو ہی دیے جاتے ہیں۔کوئی چیک اینڈ بیلنس کا سسٹم نہیں۔آج کے اس جدید معاشرے میں ایک علاقہ کو محروم رکھ کر قومی دھارے سے دور رکھا جائے گاتو دشمن ان کی محرومیوں سے فائدہ اٹھائے گا۔جس طرح طالبان نے اٹھایا۔انتظامیہ نہ
ہونے کی وجہ سے طالبان وہاں منظم ہوئے۔ کیوں کہ ا ن کو چیک کر نے والا کوئی ادارہ نہیں تھا۔ اوردین کا لبادہ اوڑھے ہوئے طالبان نے وہاں کے عوام کو استعمال کیا۔اور پھر اس کا نقصان نہ صرف فاٹا کے عوام نے بلکہ پورے پا کستا ن نے اٹھایا۔آج بھی دہشت گرد فا ٹا کے راستے افغانستان سے آتے ہیں۔اور جہا ں چاہے بم دھماکے کر کے پاکستانیوں کے دل بڑی بے دردی سے چور چور کر دیتے ہیں۔اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود فاٹا کو قومی دھارے میں لانے کے لیے ہمارے حکمران مصلحت کا شکار ہیں۔جہا ں تک پختونخوا میں ضم کرنے کی بات ہیں ۔تو یہ فیصلہ فا ٹا کے عوام پر ہی چھوڑ دیا جائے۔صرف پولیٹیکل ایجنٹوں کے ذریعہ نہ کیا جائے۔ کیوں کہ فاٹا کے عوام کی اب تک کی محرومیاں پولیٹیکل ایجنٹوں کی ناکامی کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ویسے اگر دیکھا جائے تو فاٹا اور پختونخوا میں کافی مماثلت پائی جاتی ہے۔جیسا کہ دونوں کی زبان ایک ہے۔ رسم ورواج بھی ایک ہیں ۔دوسری بات یہ ہے۔اکثر فاٹاکے عوام پختونخوا میں بستے ہیں۔محنت مزدوری اور کاروبار بھی پختونخوا میں کرتے ہیں۔حتیٰ کہ تعلیم بھی یہیں سے حا صل کرتے ہیں۔ اگر دیکھا جائے تو پختونخوا کی معیشت پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔دوسرا گورنر خیبر پختونحوا انجینئر ظفر اقبال جھگڑانے چارسدہ میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قبائلی عوام کی اکثریت نے صوبے میں ضم ہونے پر اتفاق کیا ہے۔وزیر اعظم کے مشیر انجینئر امیر مقام نے بھی اسی قسم کی یقین دہانی کرائی ہے۔دوسری جانب پاکستان تحریک انصاف کے چیئر مین عمران خان نے بھی انضمام کے بارے میں بیانات دیے ہیں۔وزیر اعلیٰ پرویز خٹک نے بھی اسی طرح کی خواہش کا اظہار کیاہے۔عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفندیار ولی اور پارٹی نے بھی اسی قسم کا اظہار کیا ہے بلکہ عوامی نیشنل پارٹی نے انضمام نہ کرنے پر احتجاج کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔باجوڑ سے منتخب رکن قومی اسمبلی شہاب الدین خان نے اس سلسلے میں قومی اسمبلی، سینٹ میں آواز اٹھانے کا بھی عندیہ دیا ہے۔فاٹا کے منتخب نمائندے بھی اسی طرح کے مطالبات کر رہے ہیں۔بلکہ مطالبات کے لیے احتجاج پر بھی آ گئے ہیں۔صرف مولانا فضل ا لرحمن اور محمود خان اچکزئی کے تحفظات ہے۔محمود خان اچکزئی کے تحفظا ت سمجھ سے بالا تر ہیں۔مولانا فضل ا لرحمن کر بارے میں کہا جاتا ہے کہ صوبے میں اپنی پو زیشن مستحکم کرنے کے لیے ایسا قدم نہیں لے رہے۔ہاں ایک بات ہو سکتی ہے۔اکثر لوگوں کا یہ خیال ہے اگر فاٹا کے عوام مولانا صاحب کو یقین دہانی کروائیں کہ اگلی دفعہ جس کی بھی حکومت ہوہم اس سے مطالبہ کریں گے آپ کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنا ئیں اور آپ کی پارٹی کو ایک یا دو وزارت بھی دے تو اس پر شاید سوچ تبدیل ہو سکتی ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ فا ٹا کے عوام کا فیصلہ ان ہی دو شخصیات پر رکا ہوا ہے۔بات یہ ہے کہ فاٹا کے عوام نے بہت قربانیاں دی ہیں اور ابھی تک قربانیاں دے رہے ہیں۔اب فاٹا کے عوام کو قومی دھا رے پر لانے کاوقت آ گیا ہے۔قومی دھارے پر نہ لانے کی وجہ سے ریاست پاکستان نے آگے ہی جانی اور مالی نقصانات اٹھائے ہیں۔مزید نقصانات سے بچنے کے لیے حکمرانوں کو چاہیے ان کے حقوق دیں۔وہا ں پر انفراسٹرکچر بنائیں۔تعلیم اور صحت کی سہولیات دیں۔پاکستان کی بقاء کے لیے فاٹا کی سر زمین کو یا تو صوبے کی انتظامیہ کے حوالے کریں یا علیحدہ صوبہ نہ بنا ئیں۔حکمران سیاسی مصلحت کو بالا ئے طاق رکھتے ہوئے فا ٹا کے عوام کی خواہشات کے مطابق اس مسئلے کا حقیقی حل تلاش کریں تاکہ آنے والے دنوں میں مزید نقصا نا ت سے بچا جا سکے۔