Muneeb-haqq

قومی حکومت! وقت کااہم تقاضا

سابق وزیر اعظم نواز شریف کے ستارے آج کل گردش میں نظر آتے ہیں۔ انہوں نے 1993 ء اور بعد ازاں 1999ء میں اقتدار سے بیدخل کئے جانے کے بعد وہ طرز عمل اختیار نہیں کیا جو انہوں نے گزشتہ 20 دنوں میں سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد اختیار کیا ہوا ہے۔ موصوف ووٹ کی اہمیت اور قدرو منزلت کے جو بھاشن آج اقتدار سے نا اہل قرار دئیے جانے کے بعد دے رہے ہیں۔ پتا نہیں یہ سب کچھ انہیں گزشتہ چار سالوں میں یاد کیوں نہیں آیا۔
نواز شریف کا گزشتہ ہفتے جی ٹی پر مارچ نہ صرف ناکام تھا بلکہ انہوں نے اس دوران عدلیہ کے متفقہ فیصلے کی جس طرح سر عام تضحیک کی وہ کم از کم تین بار وزیر اعظم رہنے والے شخص کو زیب نہیں دیتا تھا۔ وہ ایک طرف عدلیہ کے متفقہ فیصلے کو متنازع بنانے پر تلے ہوئے ہیں تو دوسری طرف اسی فاضل بنچ سے نظر ثانی کی اپیل میں انصاف کی تمنا دل میں لئے ہوئے ہیں۔ سابق وزیر اعظم بڑے بھولے بادشاہ ہیں وہ آج کل جہاں جاتے ہیں عوام سے معصوم سا منہ بنا کر پوچھتے ہیں کہ انہیں کیوں نکالا گیا؟ گویا میاں صاحب کی مرضی کا ہجوم انہیں بتائے گا کہ انہیں نا اہل ہونے پر نکالا گیا ہے۔ میاں صاحب کو میں یاد دلاتا چلوں کہ پانامہ کیس کی سماعت مسلسل 273 دن ہوتی رہی ہے۔ اس دوران ان کی اہلیہ اور بوڑھی ضعیف والدہ کوچھوڑ کر خاندان کے ہر رکن کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہونا پڑا۔ لیکن اتنے طویل مقدمہ میں کسی نے بھی اپنے ذمے منی ٹریل عدالت عظمیٰ کونہیں دی۔ سابق وزیر اعظم نے اپنی حالیہ جی ٹی روڈ یاترا میں انقلاب انقلاب کی بہت بات کی ہے۔ نواز شریف نے اسلام آباد سے لاہور پہنچنے تک چار سے پانچ دنوں میں جو کھانے کھائے ہیں ان کھانوں سے تیس سے چالیس معصوم بچیوں کی شادی کا کھانا براتیوں کو بآسانی کھلایا جا سکتا تھا۔ چونکہ کشمیری وزیر اعظم کیلئے یہ کھانا تیار کیا گیا تھا اس لئے اس کے اعلیٰ، عمدہ اور لذیز ہونے کے بارے میں کوئی دو رائے نہیں ہو سکتی۔ میں نے 1959ء میں کیوبا میں فیدرل کاسترو انقلابی رہنما اور چی گویرا کے مارکسسٹ انقلاب کی تمام جزویات بغور پڑھی ہیں۔ میں نے 1934ء میں چین کے بانی رہنما ماؤزے تنگ کے لانگ مارچ کی تفصیلات کا بھی بغور جائزہ لیا ہے۔ ان دونوں تاریخی انقلابوں میں مجھے کہیں ان قائدین کی طرف سے بٹیرے، چڑے،آلو گوشت، مٹن قورمے اور بھاری بھرکم مرغن غذائیں کھانے کا کوئی ثبوت نہیں ملتا جو حالیہ جی ٹی روڈ یاترا میں نواز شریف کھاتے نظر آ رہے تھے۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ انقلاب کا راستہ کھابوں سے کھلتا ہے یا سیاسی اصلاحات سے کھلتا ہے؟ نواز شریف نے اپنے تینوں ادوار میں حکومت کے کسی شعبے میں کوئی اصلاحات متعارف نہیں کروائیں۔ ان کا زور تینوں ادوار میں موٹر وے، جنگلا بس سروس اور اورنج لائن میٹرو پر مرکوز رہا۔ حکومت کو اصلاحات کی ایسے ضرورت ہوتی ہے جیسے عام آدمی کو نیند اور غذا کی۔ ریاست اور حکومت میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اصلاحات نہ لائی جائیں تو گورننس مشکل ہو جاتی ہے۔ لیکن اصلاحات لانے والی شکلیں اور ہوتی ہیں اور کھابے کھانے والی شکلیں اور ہوتی ہیں۔ میں نے اپنی زندگی میں جتنے بٹوں کو دیکھا ہے ان کی اکثریت کھانا سامنے آنے کے بعد اپنا ہاتھ نہیں روک سکتی۔ دوسرے کسی بٹ بہادر کو میں نے آزمائش، مصیبت اور بحرانی لمحات میں صبر و تحمل اور ٹھہراؤ والی کیفیت میں نہیں دیکھا۔ نواز شریف بھی اصلی، نسلی اور خالص بٹ ہیں لہٰذا وہ کیسے ان اوصاف سے مبرا ہو سکتے ہیں۔ میری زندگی کا مشاہدہ ہے کہ آپ کسی بھی بٹ بہادر کو ٹیسٹ کرنا چاہیں تو اسے کھانے کی میز پر یا بحران کے وقت دیکھ لیں نتائج وہی نکلیں گے جس کی طرف میں نے اوپر کھل کر بتایا ہے۔
نواز شریف کی سیاسی خودکشی کا اندازہ اس بات سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ جن ججوں نے ان کی نظر ثانی کی اپیل کی سماعت کرنی ہے انہی کے خلاف پچھلے بیس دن سے تبرے تولے جا رہے ہیں۔ انہیں اس امر کا احساس نہیں کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کو میڈیا یا عوام میں سرعام تنقید کا نشانہ بنانا توہین عدالت کے زمرے میں آتا ہے۔ نواز شریف عدلیہ کے ساتھ ساتھ ریاست کے دیگر تمام اداروں کو بھی دبے لفظوں میں حرف تنقید بنا رہے ہیں۔ جس کا نقصان انہیں آئندہ آنے والے دنوں میں پہنچے گا۔ سابق وزیر اعظم کو تلخ سیاسی حقائق ہمیشہ اس وقت یاد آتے ہیں جب انہیں پرائم منسٹر ہاؤس سے نکال دیا جاتا ہے۔ نواز شریف نے اب بھی اپنے “خواجگان وزراء” کی شہ میں آ کر اپنے مؤقف پر نظر ثانی نہ کی تو آئندہ سال سینٹ انتخابات سے قبل ان کے خاندان کے تمام افراد یا تو جیلوں میں ہونگے یا پھر ضمانت قبل از گرفتاری کروا کے ادھر ادھر چھپنے کی کوشش کر رہے ہونگے۔ سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے کے بعد تین روز قبل لاہور ہائیکورٹ میں اظہر صدیق ایڈووکیٹ کے توسط سے درخواست دائر کی گئی ہے کہ نواز شریف کی میڈیا پر سرگرمیوں کا مکمل بلیک آؤٹ کیا جائے جیسا کہ عدلیہ کی طرف سے الطاف حسین کا گزشتہ برس کیا گیا تھا۔ نواز شریف اگر عدلیہ کے احترام میں یقین رکھتے ہیں تو طویل عرصے کیلئے خاموشی اختیار کرنی چاہیے۔ بصورت دیگر وہ عدلیہ کے خلاف اپنے مذموم پراپیگنڈے سے باز نہیں آتے توان کی سیاسی سرگرمیوں پر فوراً پابندی عائد کر دینی چاہیے۔
اندرون ملک انتشار اور طالبان و فرقہ پرست تنظیموں کی بغاوت کے پیش نظر ضرورت اس امر کی ہے کہ پارلیمنٹ میں موجود چودہ سیاسی جماعتوں کے نمائندوں پر مشتمل قومی حکومت بنائی جائے جو ملک میں جاری موجودہ سیاسی ڈیڈ لاک کو ختم کرے۔ یہ حکومت نئی حلقہ بندیاں بنائے اور آئندہ انتخابات کیلئے نئی ووٹر لسٹ تیار کرے تاکہ موجودہ ووٹر لسٹ میں بوگس ووٹروں کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔ اس قومی حکومت کا دورانیہ دو سال رکھا جائے۔ میری ناقص رائے میں ان دو برسوں میں تمام تیاریاں مکمل کرنے کے بعد پھر آئندہ انتخابات کا ڈول ڈالا جائے۔