yousaf Alamgirian

قصور میں دلخراش سانحہ!

جو معاشرے تعلیم اور شعور سے بہرہ ور ہوتے ہیں وہاں بھی بسا اوقات ایسے ایسے واقعات رونما ہو جاتے ہیں کہ انسان تڑپ اٹھتا ہے لیکن ہمارے ہاں کہ جہاں فہم و ادراک ابھی اس طرح سے نہیں ہے۔ اس قسم کی سوسائٹی میں زینب بیٹی کے ساتھ جو ہوا وہ ذہنی و اخلاقی گراوٹ، پست سوچ و فکر اور نسلوں کی مؤثر تربیت و پرورش نہ ہونے کی ایک مثال ہے۔ بیٹیاں سب کی سانجھی ہوتی ہیں اور کم عمر بچیاں تو اپنے والدین کے لئے ایسی ننھی منی کلیاں ہوتی ہیں جن کو ذرا سی ٹھیس بھی آئے تو والدین مضطرب ہو جاتے ہیں۔ زینب کے والدین بھی اسی سوچ اور خواہش کے تحت اُنہیں یہاں چھوڑ کر عمرے پر چلے گئے لیکن اُن کی غیر موجودگی میں جو کچھ اُن کی بیٹی کے ساتھ ہوا اُس پر ہر آنکھ اشکبار ہے۔ ظاہرہے ایسا نہیں کہا جاسکتا کہ وہ عمرے پر چلے گئے تو اُن کی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوگیا۔ اس طرح تو انہی دنوں میں پتوکی کے ایک نواحی گاؤں میں ایک اور بیٹی کے ساتھ بھی ہوگیا اور ملک کے دیگر علاقوں میں بھی ایسے گھناؤنے واقعات سامنے آجاتے ہیں اور وہ بھی تب کہ جب والدین اورتمام خاندان کے لوگ وہیں کہیں آس پاس ہی ہوتے ہیں۔ خدائے بزرگ و برتر کسی بھی والدین یا خاندان کو ایسے امتحان اور عذاب میں نہ ڈالے۔ اﷲ سب کی بیٹیوں کی عزتیں محفوظ رکھے۔ اب جو قصور میں واقعہ ہواہے وہ بہت شرمناک اس حوالے سے بھی ہے کہ وہاں پہلے بھی اس قسم کے متعدد واقعات ہو چکے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل قصور ہی میں بچوں کے ساتھ زیادتی کی ایک ڈاکومنٹری بھی سامنے آئی تھی۔ اُن حوالوں سے اگر کوئی اقدامات اٹھائے بھی گئے تو عوام الناس کو اُن سے آگاہ کیا جانا چاہئے تھاتاکہ انہیں اطمینان ہوتا کہ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنی جگہ پر فرائض انجام دے رہے ہیں۔ زینب جیسی بیٹیاں تو ہر گھر کی رونق ہوا کرتی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ زینب کے واقعے نے سارے معاشرے کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ یا یوں کہیں کہ سارا معاشرہ شرم سے ڈوب مرا ہے تو بے جا نہیں ہوگا۔ زینب کے ساتھ یہ سانحہ بلکہ قوم کے ساتھ یہ سانحہ اس وقت ہوا ہے جب قوم بین الاقوامی طاقتوں کے سامنے اس بات پر نبرد آزماہے کہ شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف اس کی 15 سالوں پر مبنی خدمات اور قربانیوں کا برملا اعتراف کیا جانا چاہئے۔ آئے روز پاکستان کے نوجوان وطن کے لئے شہادتیں دے رہے ہیں۔ مشرقی اور مغربی سرحدوں پر خطرات منڈلا رہے ہیں ۔ وطن کو اندرونی اور بیرونی محاذ پر چیلنجز کا سامنا ہے ہماری قوم کی یہ قربانیاں بلاشبہ دنیا کو یہ بتانے کے لئے کافی ہیں کہ یہ قوم ایک بہادر اور غیرت مند قوم ہے جو ہزاروں شہریوں کی قربانیاں دے کر بھی ڈٹ کر کھڑی ہوئی ہے۔ ایسے میں زینب جیسے واقعات ہماری قوم کے منہ پر ایک طمانچے کی صورت میں سامنے آتے ہیں۔ اور مغرب سمیت دنیا کے دیگر ممالک اپنے اس تھیم کو اور بھی فورس فُل طریقے سے پیش کرتے ہیں کہ پاکستانی قوم صرف شدت پسند قوم ہی نہیں بلکہ اخلاقی اعتبار سے بھی اس کا گراف کوئی بہتر نہیں ہے۔ ظاہر ہے قصور کے اُن لاچار والدین کو اُن کی بیٹی تو واپس نہیں آئے گی لیکن ہمارے قانون نافذ کرنے والے ادارے اورمتعلقہ حکام اس گھناؤنے جُرم کا ارتکاب کرنے والے ملزم کو تو سرِعام پانسی پرلٹکاسکتے ہیں اور اُسے دوسروں کے لئے باعث عبرت بناسکتے ہیں۔ بیٹی زینب کی ماں ایک چینل پر کہہ رہی تھیں کہ میں چاہتی ہوں جس نے میری بیٹی کے ساتھ ایسا کیا ہے اُسے ایسی سزا دی جائے کہ وہ خود موت مانگے۔ ظاہرہے جس ماں کی ننھی منی پری جیسی بیٹی کے ساتھ ایسا ہوا ہو اُس کا کلیجہ ٹھنڈا کیسے ہوسکتا ہے۔ بھلے اُس درندے کو قرار واقعی سزا دے بھی دی جائے تب بھی عمر بھر کے لئے اُن والدین کو چین نہیں آسکتا۔
اس دلخراش واقعے کے بعد جو قصور میں ہوا وہ ایک فطری عمل تھا۔ لوگ آئے روز اس قسم کے واقعات کے ہونے سے پریشان ہیں، عوام کے غصے کو ٹھنڈا کرنے کے لئے قانون نافذ کرنے والے اداروں کو ایسے اقدامات اٹھانے ہیں کہ آئندہ کے لئے ایسے واقعات کا قلع قمع ہو جائے۔ ضلع کے ڈی پی او کے حوالے سے زینب کے چچا بتا رہے تھے کہ وہ خود تو اس وجہ سے اپنی گاڑی سے نہیں نکلے کہ اُنہیں نعش سے بُو آرہی تھی اور وہ اُس کے خاندان والوں کو وہ کہہ رہے تھے کہ جس سپاہی نے نعش ڈھونڈی ہے اُس کے لئے دس ہزار روپے کے انعام کا اعلان کریں جبکہ سرٹیفیکیٹ میں دے دوں گا۔ اگر واقعتا ڈی پی او کی جانب سے یہ کہاگیاہے تو پھر ہماری پولیس کے سینئر لیول افسران کے لئے بھی خصوصی کورسز چلائے جائیں تاکہ اُن کی گرومنگ اور تربیت ہو سکے۔ ہمارے جو بچے سی ایس ایس کرکے پولیس سروس جوائن کرتے ہیں اگر اُن کا خیال ہے کہ یہ پھولوں کی سیج ہے اور اُن کو عطا کی گئی یہ کرسی طاقت کے استعمال کے لئے اورپیسے بنانے کی مشین ہے تو اُنہیں حضرت عمرؓ کا وہ واقعہ یاد کرنا چاہئے جنہوں نے خلافت قبول کرنے سے انکار کردیا تھا کہ اگر دریا کے کنارے کوئی کتا بھی بھوکا رہا تو اس کا حساب عمرؓ سے لیا جائے گا۔ کیا روزِ قیامت زینب ایسے واقعات کا حساب اُن لوگوں سے نہیں لیا جائے گا جن کو اُن کی حفاظت کی ذمہ داری سونپی جاتی ہے۔ یقیناًوہ افسران بھرپور کوشش بھی کریں توشاید اس طرح کے تمام واقعات کاخاتمہ نہ کرسکیں لیکن اس میں خاطر خواہ کمی ضرور لائی جاسکتی ہے۔ لہٰذا کُرسی پر بیٹھے ہر شخص کو اس امر کا ادراک ہونا چاہئے کہ کُرسی چند سالوں کے لئے دی جاتی ہے۔ لیکن حساب پوری عمر دینا پڑتا ہے اور پھر صرف اس دنیا ہی میں نہیں اگلے جہان بھی عدالت سجنی ہے وہاں بھی جوابدہ ہونا ہوگا۔ لہٰذا کوئی ایس پی، کوئی ڈپٹی کمشنر یا کوئی بھی ایسا عہدہ جس میں ذمہ داریاں عائد ہیں۔ اُن لوگوں کے لئے اپنی خود احتسابی کرنا بے حد ضروری ہے ۔ ڈیوٹی پر موجود سپاہی کو افسران جتنا بھی چیک کرلیں جب تک اُس سپاہی میں فرض کی ادائیگی کی لگن نہ ہو وہ صحیح کام نہیں کرے گا۔ یہی حال ایس پی، ڈی آئی جی اور دیگر عہدوں پر براجمان لوگوں کا ہے کوئی چیف منسٹر اُنہیں جتنا بھی ڈرا دھمکا لے اگر اُن کے اندر کوئی ٹیکنیکل فالٹ ہے تو وہ اپنے اپنے علاقوں میں فرائض تندہی سے انجام دینے میں ناکام رہیں گے۔ پبلک سرونٹ اور حاکم میں فرق ہوتا ہے۔ جو پبلک سرونٹ یہ فرق جان جائے وہ اپنے کام میں بھی فرق ڈالتا ہے۔ قدرت اﷲ شہاب جھنگ میں ڈپٹی کمشنر تھے تو انہوں نے شام کے وقت ایک ریڑھی والے سے ساری سبزی خرید لی کہ اس کا مال اُس روز نہیں بِکاتھا۔ جب وہ تھیلا اٹھاکر چلنے لگے توسامنے درخت کے نیچے بیٹھے ایک موچی نے کہا اگر آج تم اس کی خریداری نہ کرتے تو ہم تمہیں دیکھ لیتے۔ یہ بہت باریک معاملے ہیں جنہیں سمجھنے کی ضرورت ہے۔ افسران عوام کو دبکانے ، مارنے کے لئے نہیں بلکہ اُنہیں اپنے سینے سے لگانے کے لئے ہوتے ہیں۔ اُن کے مسائل سننے کے لئے وقت نکالیں۔ اپنے اپنے علاقے کے دورے کریں۔ دو تین سال کی پوسٹنگز، کھانوں اور پارٹیوں کی نذر نہ کریں۔ عوام کے ساتھ گھل مل جائیں۔ اُن کے معاشرتی اور سماجی معاملات کو سمجھنے کی کوشش کریں۔ افسران کو عوام کی خدمت کے ساتھ ساتھ آسانیاں پیدا کرنے اور آسانیاں تقسیم کرنے کے ہنر سے بھی آشنا ہونا چاہئے۔ اگر ایسا ہوجائے تو اُن کے تعیناتی کے علاقوں میں بھی امن بپا ہوگا بلکہ اُنہیں اپنے اندر بھی سکون اور اطمینان محسوس ہوگا۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ مختلف اضلاع، صوبوں اور ملک بھر میں جہاں جہاں جو لوگ جس کام کے لئے تعینات ہیں اُسے اپنے ایمان کا حصہ سمجھ کر انجام دیں۔ معاملات بہت جلد نہیں تو آہستہ آہستہ ضرور سدھرنا شروع ہوجائیں گے۔