Hafeez Khan (Sarkashi)

قانون بدلنے سے تقدیر نہیں بدلتی

گزشتہ چالیس برسوں سے قانون اور قانون سازی کا طالب علم ہونے کے ناتے اگر کسی حقیقت نے مجھ پر اپنا آپ کُلی طور پر ظاہر کیا تو بس یہی کہ ہر دور کی قانون سازی اُس دور کے مقتدر کے مفادات کے گرد طواف کرتی دکھائی دیتی ہے۔میگنا کارٹا سے لے کر پاکستان میں ہونے والی حالیہ انتخابی اصلاحات کے ترمیمی قانون تک سبھی اپنے عہد کے حاکموں کی کرسی مضبوط کرنے کی کوششوں کا جزورہے ہیں۔مگر دیکھنا تویہ چاہئے کہ اِس قسم کی تَرشی اور تراشی گئی قانون سازی اُن کے اقتدار کے ڈولتے سنگھاسن کو بچا بھی پائی یا نہیں تو اِس کا جواب ہمیشہ نہیں میں ملے گا۔انسانی معاشرت میں قانون بنائے جانے کا جواز بظاہر تو سیدھا سادہ ہے کہ رعیت اور حاکمیت میں فلاحی نظم پیدا کیا جا سکے مگر وہ قانون جس کی بنیاد ہی بدنیتی ، بے اصولی اورعوام کی بد خواہی پر استوارہوتو اُس کسے طرح قبولیت عام کا شرف حاصل ہو سکتا ہے یا ایسی قانون سازی سے کس طرح اقتدار کے ٹمٹماتے دیے میں تیل ڈالا جا سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ملک عزیز میں ہونے والی قانون سازی کا ریکارڈ روم اِس قسم کے قوانین سے بھرا پڑا ہے کہ جو نہ تو اپنے بنانے والوں کو توقیر عطاکر پائے اور نہ ہی تحفظ۔بلکہ اپنے خالقوں کے ساتھ ہی فنا کے گھاٹ اترتے چلے گئے۔
پچھلے دنوں سوشل میڈیا پر ایک تصویر خاصی وائرل ہوئی۔اِس تصویر میں تین سابقہ امریکی صدور جارج بُش(جونیئر)، بِل کلنٹن اور باراک اوبامہ کسی ایک جگہ بیٹھے اپنی فرصت سے لطف اندوز ہو رہے ہیں۔تینوں کے چہروں پر فطری قہقہے اور آئین و قانون کی پاسداری کئے رکھنے کی طمانیت ہے۔اُن کے چہرے مہرے سے کسی طور اِس ممکنہ مہم جوئی کا تاسف ہویدا نہیں کہ کاش اپنی کرسی کو بچا رکھنے کے لیے وہ بھی اپنے ملک کا قانون بدل دیتے چاہے اُس کے نتیجے میں ملک کی سب سے بڑی عدالت کے فیصلوں کی تضحیک کا پہلو ہی کیوں نہ نکلتا ہوتا۔دنیا کی واحد سپر پاور کے کرتا دھرتا ہونے کے ناتے انہوں نے تو کبھی نہیں سوچا ہو گا کہ اُن کے آئین میں بھی تیسری بار صدارت کی گنجائش ہونی چاہئے۔لیکن ہمارے ہاں کا تو باوا آدم ہی نرالا ہے۔عدالت عظمی کا فیصلہ آیا تو پہلے اُس کی دھب اُڑائی گئی اور پھر بھی اگر دل نہیں بھرا توپلک جھپکنے میں ہونے والی من چاہی ترمیم کے ذریعے پارٹی صدارت کی نااہلیت کو اہلیت میں بدل لیا گیا۔ کیا ملک کے سب سے بڑے عہدے پر تین مرتبہ متمکن رہنے والی شخصیت کو اِس کا اندازہ نہیں کہ اگر وہ عدالتوں کی توقیر کو متنازعہ کرنے کے راستے پر چل نکلیں گے تو ملکی سلامتی کا کیا بنے گا۔نظامِ عدل کو کون پوچھے گا۔چور، لٹیرے ، ڈاکوؤں اور قاتلوں کو کس ادارے کے احکامات کے تحت سزائیں سنائی جائیں گی۔اگر ہماری عدالتوں کی حرمت نہ رہی تو گلی گلی محلے محلے ہر کوئی اپنی عدالت لگائے گا۔جو جتنا طاقتور اُتنا ہی معتبر۔کیا ہم چاہتے ہیں کہ دہشت گردی کے زخموں سے چور اِس ملک میں اب طوائف الملوکی (anarchy)ہو ،لا قانونیت اور خانہ جنگی کا راج ہو۔
چاہئے تو یہ تھا کہ دو دہائیاں قبل سپریم کورٹ پر یلغار کا داغ دھونے کے لیے عدالتوں کے ساتھ تعظیم کا راستہ اپنایا جاتامگر سرشت اور عمومی مزاج کا بدلنا اتنا بھی آسان نہیں ہوتا۔چشمِ فلک نے ایک بار پھر دیکھا کہ 13اکتوبر کو کیسے منظم طریقے سے احتساب عدالت پر
چڑھ مارکی گئی اور فر دِ جرم کے عائد کئے جانے کو ناممکن بنا دیا گیا۔عرصہ ہو ا محترمہ بینظیر بھٹو کی وزارتِ عظمیٰ کے دنوں میں میاں صاحب نے ایک بار فرمایا تھا کہ اُن کی پوری سیاست ٹکراؤ کے نتیجے میں آگے بڑھتی رہی ہے لہذا ٹکراؤ ہی اُن کی حکمت عملی اور تصادم ہی اُن کا سیاسی نظریہ ہے۔بے شک یہ ٹکراؤ کی پالیسی ہی تھی کہ جس نے انہیں پنجاب کی وزارتِ اعلیٰ سے اُٹھا کر تین بار وزارتِ عظمیٰ کی کرسی پر بٹھا دیا مگر سمجھنا چاہئے کہ وہ ٹکراؤ پہلے سیاسی مخالفین اور پھر عدالتِ عظمیٰ کے خلاف کامیابی سے برپا تو کر لیا گیا مگریہ اِسی شہ کا نتیجہ تھا کہ جونہی پہلی بار اسٹیبلشمنٹ سے تصادم کی راہ اپنائی گئی تو انہیں عازمِ جدہ ہونا پڑا۔لیکن کیا کیجئے، اقتدار کی راہداریوں میں دوبارہ مراجعت کے باوجود 12اکتوبر1999ء کی خلش چین سے بیٹھنے ہی نہیں دے رہی۔ پہلے بھی ملک میں بادشاہت کا ڈ ول ڈالنے کے لیے ’’خلافت‘‘ کے نام سے آئینی ترامیم کا مسودہ تیار کر لیا گیا تھا اور اب کے بھی شنید ہے کہ عساکرِ پاکستان اور عدالت ہائے بالا کے انتظامی معاملات کو کسی نہ کسی مبینہ قانون سازی کے ذریعے اپنے ہاتھوں میں رکھا جائے۔ گردشِ ایام کو لوٹانے کا ارادہ اگر صمیم ہے تو مرحوم ذوالفقار علی بھٹو کے دور اقتدار کے آخری دنوں میں کی گئی قانون سازی کی فہرست پر نگاہ دوڑا لینی چاہئے کہ جہاں جمعہ کی ہفتہ وار تعطیل اورشراب پرپابندی جیسی ترامیم بھی اُن کے اقتدار کی ڈوبتی ناؤ کو کنارہ نہ دکھا سکیں۔اب جس گرداب کا ہماری حکمران جماعت کو سامنا ہے اُس میں کیا ضرورت تھی ختم نبوتؐ سے متعلق حلف نامے میں رد و بدل کرنے کی کہ جسے پہلے نہ مانتے ہوئے بھی بعد میں ’’کلیریکل غلطی‘‘ قرار دے دیا گیا۔اب کون عرض کرے کہ حضور اکیسویں صدی کے دوسرے عشرے میں کہ جب مواصلاتی شعور اپنے عروج پر ہے، لفظ ’’حلف‘‘ کو’’اقرار‘‘ سے بدل دیے جانے کو کون لکھائی کی غلطی یاclericle mistake تسلیم کرے گا۔جس طرح ہر عمل کے پیچھے نیت دیکھی جاتی ہے اِسی طرح ہر قانون سازی کے پس منظر میں بھی نیت سمیت مخصوص عوامل کارفرما ہوتے ہیں جسے مجموعی طور پر intention behind legislationکہا جاتا ہے۔
ابھی چند دن قبل وفاقی سطح پر معلومات تک رسائی کا قانون بنایا گیا ہے۔ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ یہ قانون بنیادی انسانی حقوق کی اساس پر وضع کیا جاتا مگر حیرت ہوتی ہے کہ ہماری مقننہ کے اراکین نے کیسے کیسے انداز میں نوکر شاہی کے افعال و اعمال کو عام شہری کی رسائی سے بچا رکھنے کے لیے ہر اُس دستاویز کو’’مقدس گائے‘‘ بنا دیا ہے کہ جو کسی طور بھی لوٹ کھسوٹ پر مبنی اِس نظام کے لیے خطرہ ہو سکتی تھی۔کوئی انکوائری ہو یا دفتری کاروائی اُس میں سب سے اہم دستاویز وہ نوٹ شیٹ ہوتی ہے کہ جس پر فائل کی موومنٹ اور افسرانِ بالادست کی حرکات و سکنات درج ہوتی ہیں۔اِسی نوٹ شیٹ سے ہی اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ یہ کاروائی شفاف تھی یااِس کے برعکس کسی قسم کے تعصب پر مبنی تھی۔مگر اِس قانون سازی کی فلاحی حیثیت کا اندازہ محض اِس امر سے لگایا جا سکتا ہے کہ نوٹ شیٹ کو اُس ممنوعہ دستاویزات کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے کہ جن کی نقل حاصل نہیں کی جا سکتی۔اب بتلائیے بھلا کہ کیونکر کوئی اپنے خلاف صادر شدہ احکامات کو کسی عدالت میں ثابت کر پائے گا کہ یہ مبنی بر بد نیتی تھے۔کوئی تو پوچھے کہ ایسا قانون بنانے کا کس کو فائدہ ہوا۔
کاش کوئی سمجھا پاتا ہمارے حکمرانوں کو کہ حکومتیں عوامی مفاد کے خلاف ہونے والی قانونی جکڑبندیوں سے نہیں چلا کرتیں،حکومتیں تو دلوں پر راج کرنے سے چلا کرتی ہیں۔کہاں گئے وہ کوڑے جو ضیاالحق ٹکٹکی پر بندھے اجسام کی ننگی پیٹھوں پر مروایا کرتا تھا۔کہاں گئیں وہ سرعام دی جانے والی پھانسیاں کہ جن کے بعد موت کسی سانحے کی بجائے گلی گلی ہونے والا تماشہ بن گئی۔میری عمر کے لوگوں نے پہلی دفعہ جانا کہ لٹکی ہوئی لاشوں کے درمیان گول گپے اور دہی بڑے بھی کھائے جا سکتے ہیں۔حاکمیت تو فلاحی حساسیت کانام ہے کہ جس میں اگر کہیں کتا بھی مرجائے تو خلیفہ اپنے آپ کو ذمہ دار ٹھہراتا ہے مگر ہمارے ہاں یہ کیسی بے حسی ہے کہ بظاہر بچت کے زمرے میں مگر مبینہ طور پر لاہور میں چلائی جانے والی اورنج ٹرین کے واجبات ادا کرنے کے لیے چند دن قبل حکومتِ پنجاب نے پورے صوبے میں نئی ملازمتوں پر پابندی لگا دی ہے۔حتیٰ کہ پنجاب پبلک سروس کمیشن کو بھی بھرتیوں سے روک دیا گیا ہے۔یہ کیسی فلاحی حکومت ہے کہ جہاں محض اپنے انتخابی حلقے والے شہر کے لوگوں کو اعلیٰ ترین سفری سہولتیں مہیا کرنے کے لیے پورے صوبے کے نوجوانوں کو روزگار سے محروم کرتے ہوئے فرسٹریشن کے حوالے کر دیا جاتا ہے۔یہ کون سا آئین ہے جو اِس قسم کے احکامات جاری کرنے کی اجازت دیتا ہے اور یہ کیسے احکامات ہیں جو لوگوں سے اُن کے روزگار کی امید کے ساتھ ساتھ اُن کے خواب تک چھین لیتے ہیں۔کیا انقلاب کی باتیں کرنے والے ہمارے حاکموں کو علم بھی ہے کہ انقلاب کہتے کسے ہیں اور وہ آتے کیسے ہیں۔اِس سے پہلے کہ واقعی کسی انقلاب کی چاپ سنائی دے جان لیجئے کہ قانون بدلنے سے تقدیریں نہیں بدلا کرتیں۔