bushra ejaz copy

قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ

میاں نواز شریف کی اسلام آباد سے مراجعت پر پچھلے چار روز سے بہت کچھ کہا جا چکا ہے۔ کوئی اس ریلی کو ن لیگ کا پاور شو قرار دے رہا ہے اور کسی کے نزدیک یہ ہارے ہوئے لشکری ہیں، جو جی ٹی روڈ پر جگہ جگہ بریکیں لگاتے، عوام الناس پر یہ جتاتے آگے بڑھ رہے ہیں کہ ان کے ساتھ زیادتی ہوئی ہے، وہ اس ملک کے مظلومانِ اول ہیں۔ جن کی سادگی، دیانت، صداقت اور امانت شک و شبہے سے بالاتر ہے۔ یہ دامن وہ دامن ہیں جن کو نچوڑیں تو فرشتے وضو کریں، پھر آزاد عدلیہ نے بیک جنبش قلم کیوں انہیں مجرم گردان دیا؟ ان کے اجلے دامنوں اور پیشانیوں کو یک لفظی فیصلے کی مہر سے کیوں داغدار کر دیا؟ یہ نا اہلی، جس کی تلوار نے ایک ہی وار سے شاہ کو سوار بنا کر اسے پاپیادہ گھر واپس بھیج دیا، آخر کیوں؟؟؟ یہ سوال جو بظاہر بہت سادہ اور دو حرفی ہے، حقیقت میں بھی کیا اتنا ہی سادہ اور دو حرفی ہے کہ جس کے معانی نہ نواز لیگ کے دانش وروں کو سمجھ آ رہے ہیں، نہ چرب زبان وزیروں اور مشیروں کو۔۔۔ اور نہ ہی قانونی معاونت فراہم کرنے والی وکلاء کی مہنگی ٹیم کو۔ جس نے پورے سولہ ماہ پانامہ کیس کی سماعتیں، اس ملک کی اعلیٰ عدالت میں نبٹائیں۔ اپریل میں دو جج صاحبان کا ان کے خلاف آنے والا حتمی اور دو ٹوک فیصلہ جیب میں بھرا، مٹھائی کی ڈلی زبان پر رکھی اور جے آئی ٹی کے قیام پر بغلیں بجاتی وہاں سے رخصت ہوئی۔۔۔ بعد ازاں 60 روزہ جے آئی ٹی کی پیشیاں، سوال اور ان کے من گھڑت جواب، عدلیہ کی گلی گلی رسوائی ، ظلم کی دہائی، مظلومیت کے بین۔ غرضیکہ کیا کیا سامان عبرت نہیں اس تمام کارروائی میں، جس کے بعد اعلیٰ عدلیہ کی جانب سے دو حرفی مگر تاریخی فیصلے کا اعلان ہوا۔ اور پاکستان میں حق و انصاف کے اس روشن باب کا آغاز ہو گیا۔ جس کو اس بدنصیب ملک کی ستر سالہ تاریخ دیکھنے کو ترستی تھی۔ احتساب بلا امتیاز احتساب۔ قانون امیر و غریب کے لیے یکساں۔ انصاف، جو بیچا جائے نہ خریدا جائے۔ یہ احتجاج جو پچھلے چار روز سے جرنیلی سڑک پر دکھائی دے رہا ہے۔اسی انصاف و قانون اور احتساب کے خلاف ہے۔ پوری نواز لیگ جس کا کردار اس ضمن میں ہمیشہ ہیر رانجھے کی کہانی کے ولن کیدو کا رہا ہے۔ جس نے قاضی کو خرید کر ہیر کو سیدھے کھیڑے کی ڈولی چاڑ دیا تھا اور ہیر وارث شاہ نے ان لفظوں میں بین لکھا تھا ’’مینوں لے چلے بابلا لے چلے وے‘‘۔۔۔ وقت اور تاریخ کے یہ کیدو، اس وقت ہمیں جن ہذیانی کیفیات میں مبتلا دکھائی دیتے ہیں، اس کے پیچھے قاضیوں کو خرید نہ سکنے کی حیرت ہی تو ہے، جو تلملاہٹ میں بدل چکی ہے۔ یہی تلملاہٹ اس ریلی کی آؤٹ لائن ہے۔ جسے کوئی سیاسی جنازہ قرار دے رہا ہے۔ کوئی ماتمی جلوس کہہ کر پکار رہا ہے۔ اور کوئی ہارے ہوئے لشکر کی آخری آواز سے اسے تعبیر کر رہا ہے۔مگر اس ضمن میں ایک اہم اور متفقہ رائے کے مطابق میاں نواز شریف لمیٹڈ کمپنی کا یہ احتجاج، دستور پاکستان کے خلاف ہے۔ جس کے آئین و قانون کو ’’میں نہیں مانتا‘‘۔ یہ نا اہلی مجھے قبول نہیں کہہ کر سابقہ وزیراعظم اور ان کی مسند پر بیٹھنے والا حکومتی ٹولہ، ان کے حواری اور ہمدرد مسترد کر رہے ہیں۔
کیا یہ توہین عدالت نہیں ؟توہین دستورِ پاکستان نہیں؟ آئین پاکستان کی نفی نہیں؟ اگر نہیں تو پھر کیا یہ سوال نہیں اٹھتا کہ وہ تمام قیدی اور مجرم جو اس ملک کی جیلوں اور حوالاتوں میں سزائیں بھگت رہے ہیں، اپنے کیسوں کی سماعتوں کے تکلیف دہ مراحل سے گزر رہے ہیں، انہیں بھی دستور کے انحراف اور اعلیٰ عدالتوں کے فیصلوں کو نہ ماننے کی اجازت دے دی جائے۔ لاقانونیت کو مزید آزاد کر دیاجائے۔ اور اس ملک کی اعلیٰ عدالت کے دروازے مقفل کر دیئے جائیں؟۔۔۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یہ کہنے کی اجازت دیجیے کہ یہ احتجاج نہیں، فساد ہے۔ اس ملک کے قوانین کے خلاف بغاوت ہے۔۔۔
کل جب ریلی کی گاڑی بے رحمی سے سڑک کنارے کھڑے چودہ سالہ بچے کو روندتی کچلتی گزر گئی تو ریلی کا لیڈر جوجی ٹی روڈ پر عوام کی عدالت میں اپنا مقدمہ لے کر نکلا ہوا تھا ، اس نے پیچھے مڑکر اس دم توڑتے بچے کی طرف دیکھنے کی زحمت بھی گوارا نہ کی اور ریلی رواں دواں رہی، یوں جیسے وہ انسان نہیں چڑیا کا بچہ تھا۔ بعد ازاں اس ’’چڑیا کے بچے‘‘ پر ن لیگی رہنماؤں کے تبصروں کی سفاکی نے عوامی لیڈر اور اس کے حواریوں کے دلوں میں عوام کے لیے ’’ابلتے‘‘ درد کو سب کے سامنے کھول کر رکھ دیا۔۔۔ کسی نے اسے سیاسی شہید قرار دیا، اور کسی نے ریلی کو جدوجہد آزادی سے ملانے کی بھونڈی کوشش کرتے ہوئے بچے کو ان لاکھوں مسلمانوں سے ملانے کی کوشش کی، جو قیام پاکستان کے وقت شہید ہوئے۔ میڈیا کے شور و غل مچانے پر بھی نوٹس نہ لیا گیا اور مظلوموں کی ایف آئی آر درج نہ ہو سکی۔ اس واقعے پر مزید تبصرے سے اجتناب کرتے ہوئے، صر ف کہنا یہ چاہتی ہوں، تاریخ کو مسخ کرنے، اسے توڑنے مروڑنے کے بجائے اگر اپنے جرائم کو قبول کرنے اور حقائق کی سنگینی کو تسلیم کرنے کی زحمت اٹھالی جاتی، تو شاید معاملات اس نہج تک نہ جاتے، جہاں اس وقت پہنچ چکے ہیں۔ اعلیٰ عدلیہ کا فیصلہ، جسے نہایت باریک بینی سے ٹھوک بجا کر پیش کیا گیا، اس سے انحراف، قانون و انصاف کے ادارے سے ہی نہیں ، آئین پاکستان سے بھی انحراف ہے۔ جسے کوئی بھی محب وطن شہری پسند نہیں کر سکتا۔ میاں نواز شریف چاہے جتنا بھی واویلا کریں، جتنا بھی شور مچائیں، اس کا حاصل وصول صرف یہ ہو گا، ریلی کا اختتام، اور دی اینڈ کی تالیاں! تھکے ہارے لشکری تتر بتر ہو کر گھروں کو لوٹیں گے، اور میاں صاحب عوام کی ناکام عدالت سے واپسی کے بعد، اب ان سنگین حقائق کو دیکھنے پر بالآخر مجبور ہو جائیں گے، جن سے آنکھیں چرا کر اسلام آباد سے نکلے تھے۔ بقول علامہ صاحب
قافلے دیکھ اور ان کی برق رفتاری بھی دیکھ
زہد و درماندہ کی منزل سے بے زاری بھی دیکھ