tofeeq butt

قاضی واجد!

قاضی واجد بھی چلے گئے۔ وہ ایک بڑے فنکار تھے۔ ڈرامہ انڈسٹری کو دوام اور طاقت بخشنے میں اُن کا کردار بڑا اہم تھا۔ اُن کے بارے میں یہ کہنا ہرگز غلط نہ ہوگا وہ پیدائشی فنکار تھے۔ سین کے مطابق ایسے تاثرات اپنے چہرے پر وہ سجا لیتے تھے یوں محسوس ہوتا وہ ڈرامے میں نہیں حقیقت میں کام کررہے ہیں۔ ویسے یہ جو ”ڈرامہ“ ہوتا ہے کہیں نہ کہیں ”حقیقت“ بھی ہوتی ہے، بلکہ میں تو سمجھتا ہوں جو کچھ حقیقت میں ہم کررہے ہوتے ہیں وہ ”ڈرامہ“ ہوتا ہے، مرحوم قاضی واجد نے بے شمار ڈراموں میں کام کیا، مگر فرزانہ ندیم سید کی تحریر کردہ ڈرامہ سیریل میں فنکاری کے جو جوہر انہوں نے دکھائے پہلی بار میرے دِل میں اُن سے ملنے کی شدید ترین خواہش پیدا ہوئی، جو بعد میں پوری ہوگئی۔ فرزانہ ندیم سید ہمارے بھائی جان اصغر ندیم سید کی بیگم تھیں۔ وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں ہمارے شعبہ اردو کے اُستاد بھی تھے، وہ شاید برطانیہ میں کسی تقریب میں شرکت کے لیے گئے ،اُن کی عدم موجودگی میں فرزانہ بھابھی لاہور کے میوہسپتال میں ایک آپریشن کے دوران بے ہوشی کی دوا ضرورت سے زیادہ مقدار میں دینے کے باعث انتقال فرما گئیں۔ میں نے اپنی زندگی کا پہلا کالم ان کی وفات پر ہی لکھا تھا جو روزنامہ پاکستان میں جناب مجیب الرحمان شامی نے بڑے اہتمام سے نہ صرف شائع کیا بلکہ مزید کالم لکھنے پر اصرار بھی کیا۔ شامی صاحب نے مجھے یقین دلادیا تھا تم لکھ سکتے ہو۔ ورنہ مجھے ابھی تک یقین نہیں آرہا جو شخص صحیح طرح پڑھ نہ سکتا ہو لکھ کیسے سکتا ہے؟۔ فرزانہ بھابھی کا لکھا ہوا ڈرامہ اُن دنوں بڑا مقبول تھا۔ یہ بے نظیر بھٹو کا پہلا دورحکومت تھا، اِس ڈرامے میں بھٹو کی پھانسی کے واقعے یا سانحے کو بڑی خوبصورتی سے پیش کیا گیا تھا، ڈرامے کی کاسٹ بھی بڑی جاندار تھی۔ غزالہ کیفی اور طلعت حسین بھی شامل تھے، قاضی واجد کا رول اُس میں بڑا اہم تھا۔ فرزانہ بھابھی سے میں نے درخواست کی ”میں اِس ڈرامہ سیریل کے فنکاروں کے اعزاز میں لاہور میں ایک شاندار تقریب کا اہتمام کرنا چاہتا ہوں“۔ میں ادارہ ہم سخن ساتھی کا صدر تھا۔ ادبی و ثقافتی تقریبات کے اہتمام میں یہ ادارہ اتنا مقبول تھا مرحوم مزاح نگار و شاعر سید ضمیر جعفری نے اُن دنوں فیملی میگزین میں اپنے ایک کالم میں لکھا ” یوں محسوس ہوتا ہے پاکستان میں صرف تین قوتیں ہی رہ گئی ہیں۔ ایک محترمہ بے نظیر کی پیپلزپارٹی، دوسری نواز شریف کی مسلم لیگ اور تیسری توفیق بٹ کی ہم سخن ساتھی “۔ فرزانہ بھابھی سے میں نے کہا ڈرامہ سیریل ہوائیں کے فنکاروں کے اعزاز میں یہ تقریب ہم اپنے ادارے ہم سخن ساتھی کے زیراہتمام کریں گے۔وہ فرمانے لگیں اِس پر تو بڑا خرچا آئے گا، خصوصاً کراچی سے لاہور آنے کے لیے فنکاروں کی ایئرٹکٹیں اور لاہور میں اُن کے قیام وطعام کا بندوبست کیسے ہوگا؟ ۔ میں نے عرض کیا یہ سارے معاملات آپ مجھ پر چھوڑ دیں، یہ بات میں نے اِس لیے کہہ دی تھی اُن دِنوں مرحوم دلدار پرویز بھٹی کی بھرپور سرپرستی خصوصاً مالی سرپرستی ادارہ ہم سخن ساتھی کو حاصل ہوتی تھی۔ اصغر ندیم سید کے تعاون سے فرزانہ بھابھی کو ہم نے راضی کرلیا، پھر کچھ تجارتی اداروں اور افسر دوستوں کے خصوصی تعاون سے اِن فنکاروں کو بذریعہ شاہین ایئر لائن لاہور آنے کی ہم نے دعوت دی۔ بھائی جان دلدار پرویز بھٹی نے تمام فنکاروں کو آواری ہوٹل میں ٹھہرانے کا بندوبست کر دیا۔ آواری ہوٹل کا اُن دنوں بڑا نام ہوتا تھا، بلکہ سروس اوربعض دوسری سہولتوں کے اعتبار سے اِس ہوٹل میں قیام کو پی سی ہوٹل میں قیام پر لوگ ترجیح دیتے تھے۔ قاضی واجد کو ایئرپورٹ پر ریسیو کرنے کے بعد میںنے بتایا آپ کا قیام آواری ہوٹل میں ہے۔ وہ فرمانے لگے ”ارے ہم فقیروں کو کہاں آپ ٹھہرا رہے ہیں؟ آپ میرا کمرہ کینسل کروادیں، میں اپنے کزن کے گھر رہوں گا“…. میں نے سوچا ممکن ہے وہ تکلفاً ایسا کہہ رہے ہوںیا ا ُن کے کزن کا گھر آواری ہوٹل سے زیادہ شاندار ہو۔ میں جب لاہور کے علاقے کرشن نگر میں اُن کے کزن کے گھر اُنہیں چھوڑنے گیا تو مجھے بڑی حیرت ہوئی یہ پانچ مرلے کا معمولی سا گھر تھا۔ میرا خیال تھا قاضی واجد شاید پہلی بار یہاں آئے ہوں گے، خود انہیں بھی معلوم نہیں ہو گا ۔یہ گھر اُن کے شایان شان نہیں ہے۔ سو میں نے اُن سے
گزارش کی ”آپ اپنے کزن سے مِل لیں، میں باہر انتظار کرتا ہوں، پھر میں آپ کو آواری ہوٹل میں چھوڑ دوں گا“…. اُنہوں نے فرمایا ”نہیں میں ادھر ہی رہوں گا“…. اگلے روز آواری ہوٹل میں ہوائیں کے فنکاروں کی تقریب پذیرائی تھی۔ میں نے فون پر اُن سے پوچھا ”میں کتنے بجے آپ کو پِک کرنے آﺅں؟“۔ فرمانے لگے ”آپ تقریبات کے انتظامات میں مصروف ہوں گے اِس لئے میں خود ہی آ جاﺅں گا“…. میرے اصرار پر بھی وہ میرے قابو نہ آئے۔ میں جب آواری ہوٹل پہنچا میں نے دیکھا وہ ایک رکشے سے اتر رہے تھے جبکہ میں اپنے طور پر یہ سوچ رہا تھا وہ شاید اپنے کزن یا کسی اور دوست کی گاڑی میں آئیں گے…. میں نے گلہ کیا کہ ”میں جب آپ سے بار بار کہہ رہا تھا میں آپ کو پِک کر لیتا ہوں آپ رکشے پر کیوں آئے؟“…. فرمانے لگے ”ارے میاں چار پیسے رکشے والے کے مقدر میں اگر لکھے ہوئے تھے میں کیسے آپ کو کہہ دیتا مجھے پِک کر لیں“…. بہرحال تقریب کے اگلے روز ہوائیں کی ساری ٹیم واپس چلی گئی۔قاضی واجد اس ٹیم کے واحد فنکار تھے جن کے ساتھ بعد میں بھی میرا رابطہ برقرار رہا۔ ایک بار میں عبدالستار ایدھی صاحب کی عیادت کے لئے کراچی گیا اُنہیں پتہ چلا فوراً مجھ سے رابطہ کیا، پھر اپنے گھر پرمیرے اعزاز میں بڑے مزیدار کھانے کا اہتمام کیا جس میں میرے محترم قوی خان بھی شریک ہوئے۔ اُس روزرات گئے تک ہم گپیں لگاتے رہے، میں نے اُنہیں بتایا پچھلے برس میں آسٹریلیا میں عظمیٰ گیلانی سے مل کر آیا ہوں ۔پھر عظمیٰ آپا سے میں نے اُن کی بات بھی کروائی…. کچھ دنوں سے وہ ایسے ہی مجھے بڑے یاد آ رہے تھے ۔میں نے ارادہ کیا 25 فروری کو بیٹی کی شادی کی مصروفیات سے فارغ ہو کر کراچی جا کر نہ صرف خود اُن سے ملوں گا بلکہ کراچی میں اپنے عزیز چھوٹے بھائیوں عثمان راﺅ، شاہ فیصل خان، سید فیضان مہمند اورراحیل فدا کو بھی اُن سے ملواﺅں گا۔ افسوس میری یہ حسرت دل میں ہی رہ گئی۔ تقریباً دو برس قبل کراچی میں اُن کے ساتھ ہونے والی آخری ملاقات میں اُن کا قہقہہ ابھی تک میرے کانوں میں گونج رہا ہے۔میں نے انہیں بتایا ایک بار عمرشریف سے کسی نے پوچھا ”آپ قاضی واجد کو جانتے ہیں “۔وہ بولے ”انہیں کون نہیں جانتا، وہ حسینہ واجد کے بھائی ہیں“…. قوی خان بولے ”شکر ہے انہوں نے یہ نہیں کہہ دیا ”قاضی واجد اصل میں حسینہ واجد ہیں“….!