Khalid Memood

قائد کا پاکستان

آپ واہگہ بارڈر پر کھڑے ہو کر دور بین سے گردوپیش کا جائزہ لیتے ہیں تو سرحد پار آپ کو لہلاتے کھیت نظرآتے ہیں جس طرح آپ کے یہاں موجود ہیں۔اسی شکل و صورت کے انسان دکھائی دیتے ہیں جن کی جسامت اور رنگ قریباً ایک جیسا ہے۔ آپ سوچ میں پڑ جاتے ہیں کہ سرحد پار لوگوں کو تاریخ کی بڑی ہجرت کرنے کی ضرورت کیوں پیش آئی کیا۔ کھیت کھلیان اس دہقان کو دو وقت کی روٹی بھی نہیں کھلا سکتے تھے۔ آپ تاریخ کے اوراق میں گم ہو جاتے ہیں۔ ہجرت کا سارا منظر آپ کی آنکھوں کے سامنے گھوم جاتا ہے۔خوراک پوشاک سے محروم مہاجرین خوف، کرب اور دکھ کی فضاء میں سفر کرتے دکھائی دیتے ہیں۔آگ اور خون کا دریا پار کرنے والوں کی آہیں، سسکیاںآپ کے کانوں سے ٹکراتی ہیں۔ خون آلود برچھے، نیزے، کلہاڑیاں، ٹوکے آپ کی آنکھوں کے سامنے آتے ہیں اس تخلیاتی منظر سے آپ بھی غم میں ڈوب جاتے ہیں،اس جذبے کے متلاشی ہوتے ہیں جس نے لاکھوں انسانوں، بچوں، خواتین، بوڑھوں مردوں کو
اک نئے وطن کی خاطر گھر بار، مال اور اولاد چھوڑنے پر مجبور کردیا۔ آپ اس قیادت کے اخلاص کو جانچتے ہیں جس کی اک آواز پر بلا امتیاز لوگ دیوانہ وار سرحد پار کرنے کو دوڑ پڑتے ہیں۔ جس سرزمین پے آپ کھڑے ہو کر حالات کو تاریخ کے جھروکوں سے دیکھتے ہیں اگر اسے گویائی کی قوت عطاہو تو یہ ظلم، جبر،ناانصافی، لا قانونیت، عیاری اور سازش کی ایسی ایسی داستانیں سنائے کہ دل دہل دہل جائیں، ان مکروہ چہرے کو بے نقاب کر ے کہ انسانوں سے نفرت ہو جائے، ان سازشوں کو بے نقاب کر ے کہ لبادے میں موجود قیادتیں عریاں ہو جائیں۔ یہ دھرتی پکارپکار کر کہے میں بھی پاکستان ہوں، میں ہی وہ خطہ ہوں جسے اک نظریہ کی بنیاد پر حاصل کیا گیا تھا ۔اس کی بنیاد کلمہ پر رکھی گئی تھی جو تحریک پاکستان کا مقبول نعرہ تھا۔ اس سے مرغوب ہو کر لاکھوں انسا ن تمام مشکلات، دکھوں، جدائیوں کو بالائے طاق رکھ کر نئی سرزمین پے آسودہ زندگی گزارنے کے خواہاں ہی نہیں تھے، نہ ہی ان کی یہ ہجرت کسی معاشی ترقی کے لیے تھی۔ یہ اپنے طرز زندگی کو ان آفاقی اصولوں کے تحت ڈھالنے اور اپنی نسل نو اس کے سائے میں پروان چڑھانے کے آرزو مند تھے۔ یہ بانئ پاکستان کے ساتھ مل کر اس سرزمین کو نئی تجربہ گاہ بنا کر اک اسلامی مثالی معاشرہ کے قیام کو ہی منزل قرار دے رہے تھے۔ اس لیے جانوں کا نذرانہ ان کے سامنے گھاٹے کا سودا نہیں تھا۔ ان کا جذبہ اس وقت ماند پڑ گیا جب ان کے محسن کی بے وقت موت ہوگئی۔ اک نئی مملکت خداد اد وہ تسکین کے ساتھ ساتھیوں کے حوالے کر کے ملک عدم روانہ ہو ئے کہ انہوں نے ان کی رہنمائی کے لیے اک مکمل نظام حیات پر مبنی خاکہ ریڈیا ئی آواز کے ذریعے سید مودودی کی زبان سے قوم کو سنا کر تصور پاکستان پیش کر دیاتھا۔ اسے کیا خبر تھی کہ کراچی کودارالحکومت بنائے جانے کی کھوڑ و رنجش کے سفر کا آغاز شہید ملت پاکستان کے قتل سے ہو گا۔ ایسی شخصیت جس نے اپنا من دھن اور تن اس نوزائیدہ سرزمین کے نام کیا تھا۔ صد افسوس ! قتل پے کراچی میں کوئی بڑا اضطراب نہیں تھا، کوئی احتجاجی تحریک یہاں سے نہیں اٹھی تھی۔ کہا جاتا ہے کہ مقتول جاگیرداری نظام کے خاتمے کے حوالے سے اک بڑا اعلان کرنے والے تھے۔ بعض مصنفین اس سازش کے ڈانڈے اس وقت کے صاحب اقتدار جاگیرداروں سے ملاتے ہیں۔ پہلے سیاسی قتل کے بعد سازشوں کی برسات کا آغاز ہوا۔ یکے بعد دیگرے حکومتوں کی تیدیلی اورآئین کی تدوین میں تاخیر نے انہیں منزل فراہم کی جو شریک سفر نہ تھے۔
دھرتی کی گویائی قوت اس وقت گم ہوگئی جب اک قائد عوام نے شکر بجا لاتے ہوئے کہا ’’ہم نے پاکستان بچالیا‘‘۔ آدھے وطن کو کھو دینے کے بعد اس سرزمین کے محب وطن لوگوں کی حالت دیدنی تھی جو دیواروں سے سر ٹکراتے تھے، جو نااہل قیادت اور بدکردار سپہ سالار کی بصیرت پر نوحہ کناں تھے جنہیں آج اس جرم کی پاداش میں تختہ دار تک لایا جاتا ہے کہ یہ متحدہ پاکستان کے حامی تھے۔ یہ وہی پاکستان دیکھنا چاہتے تھے جو بانئ پاکستان کی کاوشوں سے وجود میں آیا۔ جس سرزمین سے تحریک پاکستان کی آبیاری ہوئی وہی خطہ سازشوں کا شکار ہو ا۔ اک طرف نوحہ کناں لوگ تھے ا ور دوسری طرف قیادت دو لخت ہونے پر شکر فر مارہی تھی۔
ایسی ہی بونی قیادتوں نے اس سیاسی سفر کو کھوٹا کردیااور بچے، نوجوان، بوڑھے، مرد اور خواتین کے خواب کو توڑ دیا جنہوں نے اپنے لخت جگروں کو نیزوں پے دیکھا۔ ان بھائیوں کے خواب کو چکنا چور کردیا جنہوں نے اس وطن کی خاطر اپنی بہنوں کی عصمت کی قربانی دی۔ان بوڑھوں کو مایوس کیا جو سہانے مستقبل کی خاطر اپنی نوزائیدہ نسل کو اس سرزمین پے لائے تھے۔ آج ستر سال کے بعد یہ تاسف کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ قائد کا پاکستان نہیں۔ یہ جاگیرداروں، وڈیروں، نوابوں، رسہ گیروں، گدی نشینوں، سرداروں اور قبضہ مافیا کا پاکستان ہے یہاں قانون کی نہیں مافیا کی حکمرانی ہے۔ جو بھیس بدل کر ہر نئی سرکار کے ساتھ کھڑا ہو جاتا ہے۔ اور ہر محب وطن طبقہ اس کے سامنے بے بس دکھائی دیتا ہے۔
ہجرت کا دکھ اٹھانے والا بوڑھا دالان میں بیٹھے خاندان پر نگاہ دوڑاتا ہے، اپنی معمولی آمدنی کا جائزہ لیتا ہے۔ بے روزگار اولاد کی آنکھوں میں مایوسی دیکھتا ہے تو نئی فکر میں گم ہو جاتا ہے۔ اگر قائد زندہ ہوتے تو ان کی جنم بھومی لسانی سازشوں کا شکار ہوتی؟ جاگیرداروں، سرداروں کو حق حکمرانی حاصل ہوتا؟ موروثی سیاسی جماعتیں پروان چڑھتیں؟ قومی دولت کو اس انداز میں لوٹا جاتا ۔بد کردار افراد منصب اقتدار حاصل کرتے؟ لاکھوں بچے تعلیم سے محروم ہوتے؟ قانون کا کوڑا صرف بے بس افراد پے برستا؟ مقروض ریاست وزارتوں کا بھاری بھر کم بوجھ اٹھا سکتی؟ بے روزگاری کا اژدہا یوں منہ کھولے کھڑا ہوتا؟ یہ سرزمین غیر ملکی قوتوں کے لیے شاہراہ عام ہوتی؟ کسی آمر کو اقتدارپر شب خون مارنے کی جرأ ت ہوتی؟ مشرقی پاکستان علیحدگی کا دکھ برداشت کرلیتا؟ اک عام شخص کے ذہن کے نہاں خانے میں ان سوالات کا جواب نفی ملتا ہے۔ تو ثانی قائد، جمہوری اقدار کی دعوے دار قیادتیں اس ناگہانی صورت حال پر کیوں خاموش ہیں ؟
اس وقت بڑی سیاسی قیادت الزام تراشی کے اس حمام میں موجود ہے جہاں سب کے جسم اک دوسرے کے سامنے عریاں ہیں۔ اخلاق بافتگی کا یہ عالم ہے کہ اپنے اپنے مفادات اور مقاصد کے لیے سیاسی خواتین تک کو زیر بحث لا کر اپنے ’’ سیاسی وژن‘‘ کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ کارکنان صدائے احتجاج بلند کرنے کی بجائے شادیانے بجا جا رہے ہیں۔
یوم آزادی کی مناسبت سے ہونا تو یہ چاہیے کہ پارلیمنٹ اپنا احتساب کرتی اور نسل نو کو بتاتی کہ قائد کیسا پاکستان چاہتے تھے، ہم سے کیا کیا غلطیاں ہوہیں اور ہم کن مقاصد میں کامیاب ہوئے ۔ ناکامی کیوں ہمارا مقدر ٹھہری، ان غلطیوں کے اعتراف کی اخلاقی جرأ ت کا اظہار کر کے سیاسی قد کو بڑھانا چا ہیے تھا لیکن ستر سال کے بعد بھی قیادت ’’ سیاسی بلوغت‘‘ سے محروم ہے جو محب وطن، مخلص، درویش صفت قیادت کا خاصہ ہوا کرتی ہے۔ اس رویہ ہی نے قائد کے پاکستان میں مقیم عام شہری کو مایوس کیا ہے۔