bushra ejaz copy

قائدؒ کی برسی!

تاریخِ پیدائش! 25 دسمبر 1876ء بروز پیر بمطابق 8 ذوالحجہ 1293ھ۔ برسی 11 ستمبر 1948ء
مقامِ پیدائش: وزیر مینشن نیو نہم روڈ کھارا در کراچی۔
نام! خاندانی روایات کے مطابق ان کے ماموں جناب قاسم موسیٰ نے محمد علی رکھا، والد کے نام کی وجہ سے محمد علی جناح بھائی ہو گیا۔ بیرسٹری کی ڈگری لینے سے پہلے لندن میں قائداعظم نے بھائی کا لفظ حذف کر دیا اور صرف محمد علی جناح رہنے دیا۔ (جناح کے لغوی معانی قوتِ بازو کے ہیں)۔
قائدؒ کی والدہ دراز قد اور خوبصورت خاتون تھیں، ان کا اصل نام شیریں بائی تھا، انہیں پیار سے مٹھی بائی کہتے تھے۔ ان کے جد امجد ایرانی امراء میں سے تھے جو آغا خان اول کے ساتھ ایران سے ہجرت کر کے ہندوستان آ گئے تھے۔ قائدؒ کے بچپن کے دوستوں میں سے صرف نانجی جعفر کا نام ریکارڈ پر ہے۔ قائداعظمؒ کا حلیہ کچھ یوں تھا۔ قد 5 فٹ ساڑھے 11 انچ، رنگ گورا، آنکھیں گہری بھوری، دائیں گال پر تل! انہیں کریون اے سگریٹ پسند تھا۔ کرکٹ ، بلیئرڈ اور شطرنج کے شوقین تھے۔ پھولوں میں گلاب اور کارنیشن پسند تھے۔ پسندیدہ درخت صنوبر تھا۔ پسندیدہ ڈرامہ نگار و شاعر شیکسپیئر اور شیلے تھے۔ انہیں انگریزی لباس پسند تھا۔ 1937ء میں آل انڈیا مسلم لیگ کے سالانہ اجلاس لکھنؤ میں پہلی بار چوڑی دار پاجامہ، شیروانی اور قراقلی ٹوپی پہنی۔ قیام پاکستان کے وقت سے عام طور پر مغربی لباس کم کر دیا اور قومی لباس، شیروانی، شلوار اور جناح کیپ استعمال کی۔ قائدؒ کے پسندیدہ ترین مشاغل میں اخبارات کا مطالعہ سرفہرست ہے، وہ ساری دنیا سے اخبارات منگواتے، ان میں سے اپنی دلچسپی کی چیزیں تراشتے اور پھر ان کٹنگز پر ضروری نوٹ لکھتے اور انہیں فائلوں میں چپکاتے، بعض اوقات گھنٹوں اس کام میں مصروف رہتے۔ منشی عبدالرحمن کی کتاب کردارِ قائداعظمؒ کا ایک ورق ملاحظہ کریں، اس میں قائدؒ کی زندگی کا نقشہ کچھ اس طرح دکھائی دیتا ہے۔ قائداعظمؒ نے 6 ماہ ریذیڈنسی مجسٹریٹ کے فرائض انجام دیئے۔ ایک سال مختلف بیرونی دوروں میں گزارا، دو سال میں بیرسٹری کا امتحان پاس کیا، تین سال کم و بیش بیروزگاری کا شکار رہے کہ پریکٹس کا ابتدائی دور تھا، گیارہ سال ازدواجی زندگی نصیب ہوئی، بارہ سال انگلستان میں قیام رہا، سولہ سال کانگریس سے وابستہ رہے، اکتیس سال مسلم لیگ کی قیادت کی، ایک سال اور 27 دن گورنر جنرل پاکستان رہے۔
71 سال 8 ماہ اور 16 دن زندہ رہ کر اس دنیا سے رخصت ہوئے!
آج ان کی رخصت کا نہیں، پیدائش کا دن ہے۔۔۔ اس دن کے حوالے سے ان کے متعلق متذکرہ بالا معلومات سے اس لئے پڑھنے والوں کو آگاہ کرنا چاہتی ہوں کہ قائدؒ کی حیات اور ان کے کارنامے تو ہم اکثر دہراتے رہتے ہیں، مگر ان کی پسند ناپسند، مشغلے اور وہ چھوٹی چھوٹی چیزیں، جو بڑی شخصیات کے ذکر میں اکثر ہم ضروری نہیں سمجھتے، ان کا علم بھی ہمارے بچوں کو ہو جائے تاکہ قائدؒ کی شخصیت کے وہ حصے جو ہم پر اجاگر نہیں، ہم انہیں بھی جا ن سکیں!
قائداعظمؒ کی زندگی پر نگاہ ڈالیں تو ان کا تحرک ان کے غیرمعمولی ہونے کا ثبوت فراہم کرتا ہے۔ وہ ہمہ وقت کام میں مشغول رہتے تھے۔۔۔ بیماری، کمزوری اور بے آرامی کو خاطر میں لائے بغیر۔۔۔ صرف کام! ایم اے ایچ اصفہانی اپنی کتاب ’’قائداعظم جناح‘‘ میں لکھتے ہیں۔ قائداعظمؒ کو شاذونادر ہی آرام کا موقع ملتا تھا، وہ بہت محنت کرتے تھے اور 1942ء کے بعد تو انہوں نے خود کو آرام کا موقع دیا ہی نہیں۔ اگر یہ کہا جائے کہ انہوں نے خود کو گھسیٹ گھسیٹ کر قیام پاکستان کی منزل تک پہنچایا تو صحیح ہو گا۔ 20 مئی 1944ء کو سری نگر سے انہوں نے مجھے ایک خط لکھا، جس میں کہا ’’اس تبدیلی اور آرام سے چند دنوں کے اندر ہی مجھے اپنی طبیعت بہتر محسوس ہو رہی ہے۔ سات برس کی سخت مشقت کے بعد یہ پہلی چھٹی ہے، جو میں لے رہا ہوں‘‘!
ہم سب جانتے ہیں، قائداعظمؒ کی سخت محنت، ریاضت اور جنون نے قیامِ پاکستان کو ممکن بنایا، جس کے بعد وہ جلد ہی ہم سے رخصت ہو گئے۔۔۔ اور ہم نے ان کی حیات کے روشن پہلوؤں کو سامنے رکھ کر، آگے چلنے کے بجائے تاریکیوں کا سفر شروع کر دیا۔۔۔ ہر سال ان کی پیدائش اور وفات کادن اہتمام سے منا کر ہم اپنے فرض سے سبکدوش ’’ہوتے‘‘ رہے، چندتقریریں، چند تحریریں۔۔۔ اور ایک چھٹی! اس کے اگلے ہی دن ’’کتابِ قاؒ ئد‘‘لپیٹ کر رکھ دینے اور تاریکیوں کے جانب چل دینے کا سفر دوبارہ شروع ہو جاتا۔! ایسا پچھلے 70 برسوں سے ہو رہا ہے۔۔۔ اگر اپنی سمتیں درست نہ کی گئیں۔۔۔ تو یونہی چلتا رہے گا۔۔۔ کہ جہاں بڑے لیڈروں کی یادیں نمائشی اور کردار علامتی بنا دیئے جاتے ہیں، وہاں یہی ہوتا ہے، جو آج قائدؒ کے پاکستان میں ہو رہا ہے۔ فرقہ واریت، دہشت گردی، عدم برداشت، کرپشن اور عدم مساوات سمیت ایسی کون سی بیماری ہے جو قائدؒ کے پاکستان کو لاحق نہیں! یہ ملک جو نظریۂ پاکستان کے نام سے وجود میں آیا تھا، اُس میں نظریے کو ہی مشکوک قرار دینے کی سازش زور پکڑ چکی ہے، آزادی، آزادی کے ہیرو اور خود قائدؒ کے کردار و عمل پر کھلم کھلا تنقید عام ہو چکی ہے، کہ جس پر محسوس ہوتا ہے یہ کوئی سیکولر ریاست ہے، جس کا اسلام اور اسلامی نظریے سے کوئی تعلق واسطہ ہی نہیں۔۔۔ ایسے میں محض قائدؒ کی برسی ’’منا‘‘ لینے سے، قائدؒ کی محبت کا حق ادا نہیں ہو سکتا، ہمیں قائداعظمؒ کے مقصد سے آگاہی کو بھی اتنا ہی ضروری سمجھنا چاہئے، تاکہ جس کشتی کو طوفانوں سے بچا کر قائدؒ نے کنارے تک پہنچایا تھا، اُس کی حفاظت کی جا سکے!
اس مقصد کا ایک پہلو سٹیٹ بینک کی افتتاحی تقریب میں قائدؒ کے خطاب سے واضح ہوتا ہے۔ جس میں آنے والے دور کے اقتصادی نظام اور معاشی ناانصافی کی کس درجہ فراست سے عکاسی کی گئی ہے ’’مغرب کے اقتصادی نظام نے ساری دنیا کے لئے ایسے پیچیدہ مسئلے پیدا کر دیئے ہیں، جن کا کوئی حل نظر نہیں آتا، مجھے لگتا ہے یہ مصیبتیں دنیا کو تیزی سے بربادی کی طرف لے جا رہی ہیں اور کوئی معجزہ ہی اسے اس تباہی سے بچا سکتا ہے۔ یہ نظام معاشی عدل کے تقاضے پورے کر سکا نہ ہی بین الاقوامی مخاصمت کا مداوا کر سکا، گزشتہ نصف صدی میں ہونے والی عالمی جنگوں کی ذمہ داری بھی زیادہ تر اسی اقتصادی نظام پر ہے۔ ہمارا اقتصادی نصب العین یہ ہے کہ ہمارے عوام ہر طرح مطمئن و خوش و خرم ہوں۔ مغرب کا اقتصادی نظریہ اور اس کا معاشی نظام ہمارے درد کا درما ں نہیں۔ ہمیں چاہئے اپنے مخصوص تصورات و مقاصد کے مطابق اپنے اپنے اقتصادی نظام کی تشکیل کریں‘‘۔ مگر قائدؒ کے اقتصادی نظام اور معاشی عدل کے تصورات کو بعد کے ادوار میں کبھی کسی نے قابلِ عمل نہ سمجھا۔ آئی ایم ایف، ورلڈ بینک اور سودی نظام میں جکڑی اس ملک کی معاشیات میں عدل نام کی کسی چیز کا عمل دخل کبھی کسی نے نہ دیکھا، بدترین طبقاتی تفریق اور معاشی استحصال کا پروردہ نظام، قائدؒ کی تعلیمات و تصورات کا ہمیشہ مذاق اڑاتا رہا۔ یہاں تک کہ یہ وقت بھی آ گیا کہ آج اس ملک کا سابق حکمران بدترین کرپشن کیسز کا سامنا کر رہا ہے، جس کے خلاف سپریم کورٹ کا فیصلہ آ چکا، مگر اس کے باوجود نیب جو خود کو احتساب کا ادارہ مانتا ہے، اس ضمن میں کسی ٹھوس کارروائی کے بجائے سابق وزیراعظم کے خلاف دائر کردہ ریفرنسز پر ٹال مٹول کر کے یہ ثابت کر رہا ہے، کہ اس ملک کے معاشی و اقتصادی نظام میں تبدیلی کا کوئی امکان نہیں۔ یہ ملک بانیِ پاکستان کی نمائشی برسیاں تو ضرور منائے گا، مگر قائدؒ کی تعلیمات کو باندھ کر اسی کونے میں رہنے دیا جائے گا، جہاں وہ ستر برس سے پڑی ہیں۔