amira-ahsan

فی الحال صرف مادر پدر آزادی!

سرسبز پرچموں کی بہار لہلہا رہی ہے تا ہم دنیا کا سب سے بڑا جھنڈا واہگہ پر لہرا کر بھی۔۔۔ اس پرچم کے سائے تلے نہ ہم ایک ہیں نہ نیک ہیں۔ صرف ’’فیک‘‘ Fake (جعلی) ہیں! ایک ہڑبونگ، انتشار ، افراتفری ، کھینچاتانی کی دھواں دھار فضا ہے چہار جانب۔ ایسے ہر موقع پر جلتی پر تیل ڈالنے کینیڈا کی شہریت والے قادری صاحب بھی تشریف لا کر حسب توفیق شعلے بھڑکاتے ہیں۔ پاکستان سے محبت کے سبھی دعویدار ہیں۔ 70 سالوں میں ہر آنے والے نے بانیاں پاکستان کے خوابوں کو لوٹا ہے۔ جان و مال، عزت و آبرو تک کی قربانیاں سامنے لائیے تخلیق پاکستان کے مقاصد پر نگاہ دوڑایئے۔ قائد و اقبال کی تقاریر اور عزائم دیکھیے۔ برصغیر کے مسلمانوں کی جداگانہ حیثیت ، تشخص اور شناخت کے تحفظ کی خاطر ہجرت کے سفر ہوئے۔ نہ اقدار کی میوزیکل چیئرز (کرسی ، کرسی) کھیلنے ، کھلانے کے لئے خون جگر دے کر یہ تقسیم کی لکیر کھینچی گئی۔ نہ مربعوں ، رقبوں ، ہاؤسنگ سکیموں ، فارم ہاؤسز کے لئے گھر لٹا کر تہی داماں قافلے سرحد پار کر کے سربسجور ہوئے نہ لینڈ کروزروں کے قافلوں ، شان و شکوہ کے مظاہروں ، لامنتہا دھرنوں ، ریلیوں کے خواب آنکھوں میں بسا کر کٹتی ٹرینوں ، ریڑھوں پر لدے ، پیدل آبلہ پائی کرتے نئے وطن کی بنیاد رکھی تھی۔ نہ ہی خوش باش، عیش و طرب میں ڈوبی عائشہ گلالئی ، عائشہ احد ، ملالہ، ریحام خان اور سیمل جیسی لڑکیوں کی خاطر باپ بھائیوں نے اپنی بیٹیوں کی عصمت دری سے بچانے کو اپنے ہاتھوں گولیاں ماریں ، کنووں میں پھینکا تھا۔ یہ 200 سالہ تحریک آزادی تھی جس کے نتیجے میں بالآخر بابائے قوم محمد علی جناح نے محنتوں کا ثمر سبزہلالی پرچم آزاد فضاؤں میں لہرایا۔ ذرا اس منزل تک (انگریز ، سکھ راج اور ہندو سازشوں کے شکنجے سے نکل کر) پہنچنے کے لئے دی گئی قربانیاں اور رجال کار ملاحظہ ہوں۔ 1757ء میں سراج الدولہ کے خون سے لکھی جانے والی داستان کا آغاز ہوا۔ اس راہ میں ٹیپو سلطان (1799ء) بخت خان (1859ء) شہدائے جنگ آزادی 1857ء ، جہاد شاملی اور تھانہ بھون کا سنگ میل ، حاجی امداد اللہ مہاجر مکیؒ کے جلو میں شاندار قافلہ علمائے حق جہاد تا اسارت مالٹا۔ مولانا محمود الحسنؒ تک۔ دہلی میں درختوں سے لٹکی علماء کی خونچکاں لاشیں، 1831ء میں تحریک مجاہدین کے 300 مردان حق کی شہادت کے بعد مشہد بالا کوٹ میں بکھری لاشیں تاریخ کے دریچوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔ تحریک مجاہدین کا پرچم مولانا ولایت علی ، عنایت علی سے ہوتا ہوا مولانا عبدالرحیم ، مولانا یحییٰ علی ، مولوی محمد جعفر کو لئے جزائر انڈمان کی صعوبتوں میں جا اترا۔ آخر کار امیر المجاہدین مولوی فضل الٰہی 1943ء کے ادائل میں حرمین شریفین سے واپس لوٹے اور تحریک پاکستان کے لئے دینی حلقوں کی تائید حاصل کرنے اور مسلمانوں کو ہندؤں کے مقابلے میں منظم کرنے میں تگ و دو کرتے رہے۔ قائداعظم سے ملاقاتیں رہیں اور پورا وزن تحریک پاکستان کے پلڑے میں ڈالا۔ اسی دوران تحریک خلافت بھی (1919ء) اٹھی تھی۔دوسری جانب مولانا اشرف علی تھانویؒ کی تائید کا مظہر مولانا شبیر احمد عثمانیؒ ، مولانا ظفر احمد عثمانیؒ کا تحریک پاکستان میں حصہ تھا۔ طویل جدوجہد بے شمار قلم اور تلوار کے دھنی مسلمانان ہند نے خون پسینہ ایک کیا تو 70 سال قبل 27 رمضان المبارک بمطابق 14 اگست کو آزادی کی نوید ملی۔ اس بھاری بھر کم تحریک کے خونچکاں صفحات دیکھئے اور لوٹ آیئے آج کے پاکستان کے دعویداروں کی
جانب۔ ذرا موازنہ کیجئے۔ از سرنو پاکستان کو ٹوٹی کمر کے علیٰ الرغم مشرف بہ قیادت کرنے کے لئے بے تاب پرویز مشرف! چیئرمین پیپلز پارٹی بلاول میاں کے پس پردہ خطرات سے بچتے بچاتے آتے جاتے جیبیں سنبھالتے زرداری صاحب! عائشہ گلالئی اور ریحام خان کے حملوں میں گھرے عمران خان صاحب اور ان کے حواریین دیکھے جا سکتے ہیں۔ مسلم لیگ زبردست کنٹینر کے جلو میں ریلی کے ذریعے تحفظ پاکستان کا دعویٰ رکھتی ہے۔ ان جماعتوں کی صف اول کی قیادت ، ان کا علمی پایہ ، زبان و بیان ، اخلاق و کردار ، امانت و دیانت کا موازنہ قبل از پاکستان کے مذکورہ بے لوث کوہ گراں کرداروں سے کر دیکھئے! ابھی یہاں اقتدار کے دو اصل ستونوں کا تذکرہ باقی ہے۔ اس پر قلم کی سیاہی خشک ہونے کو آ جاتی ہے۔ کیونکہ اس میں کچھ پردہ نشینوں کے بھی نام آتے ہیں! جن سے پردہ نشین قلم کار کو احتراز ہی بھلا! لاپتگی اور توہین عدالت کے بھاری پتھر تو بڑے بڑے جغادری چھوڑ دیا کرتے ہیں۔ ہماشما کا کیا تذکرہ! سو یہ ہے آج کا پاکستان۔ تحریک پاکستان کے مذکورہ ان عظیم مجاہدوں کے ناموں کے ساتھ ساتھ ناموں کی ایک اور فہرست بھی تو ہے جو میر جعفر میر صادق سے شروع ہو کر انگریز کے نمک خواروں ، بہی خواہوں اور ان کے مفادات کی خاطر جانیں لڑانے والوں کی چلتی آئی ہے، سو آج بھی ہے! پاکستان بننے کے بعد ہمارے مقدر میں تاریکیاں بھرنے کو غلامی محمد جیسے گورنر جنرل اور سکندر مرزا جیسے صدور نے کیا کمی چھوڑی۔ مزید جنرل ایوب خان ، یحییٰ تا مشرف ، جسٹس منیر ، پی سی او ججز تا حالیہ جے آئی ٹی! آسمان سے گرا کھجور میں اٹکا۔ انگریز ہندو کی براہ راست غلامی سے نکل کر ہم ان کے پٹھوؤں کی غلام میں آن پھنسے۔ اب یہ ریموٹ کنٹرول غلامی کا دور ہے۔ ریموٹ امریکہ برطانیہ کے ہاتھ میں ہے۔ چینل وہیں سے بدلے جاتے ہیں۔ مناظر ہم وہی دیکھتے ہیں جو یہ آقا دکھانا چاہیں۔ اکبر الٰہ آبادی نے کہا تھا۔۔۔ یوں قتل سے بچوں کے وہ بدنام نہ ہوتا۔ افسوس کہ فرعون کو کالج کی نہ سوجھی! یہ شعر گورے نے (بدنصیبی سے) پڑھ سمجھ لیا۔ عمل پیرا بھی ہو گیا۔ اسے کالج ، میڈیا اور کھیل سب ہی کی سوجھ گئی۔ سو آج کے بچے گوروں کی طرح کتے پالتے اور ان کا نام ٹیپو رکھتے ہیں۔ سید احمد شہیدؒ علمائے حق ، مساجد مدارس سے تو دہشت گردی کی بو آتی ہے۔ جزائر انڈمان کو انگریز نے ذی شان مسلم قیادت کی سزا کے لئے منتخب کیا تھا۔ آج اس کا قائم مقام گوانتا موبے، پرویز مشرف کے دم قدم سے صحابہؓ کی اولاد اپنے آقا امریکہ کے ہاتھ بیچ کر (بہ عوض 5 ہزار امریکی ڈالر فی کس) آباد ہوا۔ فرعون کو تعلیم ، میڈیا اور کھیل کیا سوجھا۔ قحط الرجال کا دور دورہ ہو گیا۔ ہزاروں اونٹ اور سواری کے لائق ایک بھی نہیں۔ اس پاکستان کے مناظر تو بہت سے ہیں۔ ہوشربا! مگر یہ دیکھئے ۔ نئی گاڑی متعارف کروانے کی ایک تصویر ۔ تین مکمل بالباس ، سرتاپا باحجاب مہذب مرد ہیں۔ ساتھ ایک چیتھڑوں میں ملبوس ، لباس کے نام پر تہمت اٹھائے لڑکی کی تصویر ہے۔ ترقی یافتہ پاکستان! روشن خیال ! مرد بالباس وزن چیتھڑا بردوش ! کیا زنانہ کس مپرسی ہے۔ بے چارگی ہے۔ بے یارومدد گار کوئی پرسان حال نہیں کہ یہ پوچھے۔۔۔ بی بی، تم اچھی بھلی چمکتی دمکتی گاڑی اور تین مردوں کے ساتھ بے لباس سی یوں کیوں کھڑی ہو! سو یہ ان مناظر میں سے ہی ایک ہے جو ریموٹ ہاتھ میں لئے چینل بدلتے گورے ہمیں دکھا رہے ہیں اور سب ایک سحر (Spell) میں مبتلا مبہوت دیکھ رہے ہیں۔ کچھ نہیں کہتے ۔ اس کی آواز بھی وہی کنٹرول کرتے ہیں۔ ایک طویل عرصہ الطاف حسین کی آواز سماعتیں شل کرتی کان کے پردے پھاڑتی تھی۔ لندن میں سٹوڈیو قائم تھا۔ سپانسر ڈائریکٹر سب وہیں کے تھے۔ نہ منی لانڈرنگ مسئلہ تھی نہ حقوق انسانی کے واویلا کاروں کے ہاں ٹارگٹ کلنگ سے لگتے کشتوں کے پشتے مسئلہ بنے۔ کلیجہ شق کر دینے والے مضحکہ خیز طویل دورانیے کے تقریری ہنگامے سارے چینلوں پر قبضہ جمائے رہتے۔ بڑے بڑے زور آور اینکر دم سادھے رہتے! جناب ! کون سی آزادی ، کہاں کی آزادی ، بھلے پٹاخے پھاڑیے۔ آتش بازی پر ذاتی یا قومی خزانہ لٹایئے۔ لوڈشیڈنگ کے مارے ملک میں۔۔۔ بہا چوٹی سے ایڑی تک پسینہ کیفیت میں شرابور چراغاں کیجیے۔ ون ویلنگ، سائلنسر پھاڑ موٹر سائیکلوں پر جشن آزادی کے نام پر ہنگامہ اٹھایئے ۔ لہک لہک کر نوجوان لڑکے لڑکیاں مل جل کر گیت گائیں! کوئی ایک بھی مسلمان ملک آزاد نہیں۔ پاکستان کا کیا تذکرہ۔ رنگون میں مسلم ممالک کے سفیروں سے پوچھ دیکھیے۔ چھوٹے سے پسماندہ ملک برما میں مسلمانوں کی نسل کشی اور مساجد میں پناہ گزین بچیوں عورتوں کی آبرو ریزی کے ہولناک واقعات کے باوجود کیا وہ امت کے مسلمانوں کی نمائندگی جیتے جی کر رہے ہیں؟ (مردہ ہے ، مانگ کے لایا ہے فرنگی سے نفس) ڈیڑھ ارب بہت ، وسائل سے مالا مال مشرق وسطیٰ کے مسلم ممالک جن سے چین کے بے شمار اقتصادی و دیگر مفادات وابستہ ہیں۔ سنکیانگ کے مظلوم ترین مسلم اقلیت ، الغیور مسلمانوں کا بنیادی انسانی حق دلوانے سے قاصر؟ سلام تک کرنے کی اجازت نہ ہو۔ روزے نماز پر پابندی ۔ ڈاڑھی حجاب پر جیل۔ ہمالیہ سے اونچی، سمندر سے گہری دوستی والا پاکستان اپنے بھائیوں کو کشادگی آزادی دلانے کو دو حرف کہنے سے قاصر؟ آسام کے مسلمانوں کی ابتری ۔ ہم خود آزاد ہوں تو آواز اٹھائیں۔ فی الحال ہم صرف مادر پدر آزاد ہیں۔