farrukh sohail goindi copy

فیض احمد فیض کارپوریٹ فیسٹیول

17سے19نومبر تک لاہور میں فیض انٹرنیشنل فیسٹیول منعقد ہوا۔ یہ ایک منظم ایونٹ تھا جس میں رنگارنگ تقریبات کا اہتمام کیا گیا تھا۔ مختلف علمی، سیاسی، ادبی اور سماجی موضوعات پر گفتگو کے سیشنز، فنکاروں کے فن کے مظاہرے، متعدد سرگرمیاں ایک ہی وقت میں برپا تھیں۔ فیض احمد فیض کا شمار پاکستان کے اُن اشتراکی لوگوں میں ہوتا ہے جنہوں نے اشتراکیت کے کارواں میں اس وقت اپنا حصہ ڈالا جب سوشلزم کا پرچم بلند کرنا غداری کے زمرے میں آتا تھا۔ اسی لیے وہ چند سال بیروت میں بھی قیام پذیر رہے، جہاں انہوں نے بیروت کے پسماندہ علاقے ’’داھیئے‘‘ میں فلسطین کی آزادی کی نمایاں تنظیم ’’پی ایل او‘‘ کے رسالے لوٹس کی ادارت کی۔ وہ برسوں تک پاکستان میں ممنوع رہے۔ جنرل ضیا کے دَور میں سرکاری ٹیلی ویژن کے دروازے اُن کے لیے بند کردئیے گئے۔ اسی جلاوطنی میں وہ اس جہانِ فانی سے رخصت ہوئے اور جنرل ضیا کی آمریت کے عروج میں جب اُن کا جسدخاکی وطن آیا تو پاکستان ٹیلی ویژن کے کیمرے کو دیکھ کر اُن کے اہل خانہ نے احتجاجاً یہ کہا کہ ’’اگر ان کی زندگی میں سرکارکا ٹیلی ویژن فیض احمد فیض کو دکھانے کی اجازت نہیں رکھتا تھا، تو اب آپ اُن کے جنازے کو کیوں Cover کرنے آئے ہیں۔ ‘‘
1985ء میں جنرل ضیا کے مارشل لاء میں جونیجو حکومت بنی۔ فوجی آمریت نے مجبوراً سول حکمرانی کا ایک در کھولا، جسے محمد خان جونیجو نے تدبر کے ساتھ مزید عوامی آزادی کے لیے کھولنے کی کوشش کی۔ بعد میں وہ اسی جرأت پر برطرف کردئیے گئے۔ لیکن اُن کے اعزاز میں یہ بات آتی ہے اور اسے بھلایا اور جھٹلایا نہیں جاسکتا کہ انہوں نے آمرانہ پابندیوں اور نگرانیوں کے باوجود سیاسی آزادی کے در کھولنے کی کوششیں کیں۔ اس میں انہوں نے سیاسی قیدیوں کی رہائی کا آغاز بھی کیا اور بولنے، لکھنے اور سیاسی موقف پیش کرنے کا حق بھی تسلیم کیا۔ اسی لیے 1986ء میں محترمہ بے نظیر بھٹو شہید وطن واپس لوٹیں۔ اسی دوران 1987ء میں لاہور میں پہلا فیض امن میلہ منعقد ہوا۔ یہ میلہ پاکستان کی سیاسی جدوجہد میں ایک سنگ میل کی حیثیت رکھتا ہے۔ اس کے بعد فیض میلوں کی روایت جاری تو رہی لیکن اُن میں تسلسل نہ رہا۔ کبھی فیض کا دن، فیض احمد فیض کے خاندان والوں نے منعقد کیا اور کبھی دیگر ترقی پسند لوگوں نے، جن لوگوں نے وسائل میسر نہ ہونے کے باوجود اس سلسلے کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھا، اس کا سہرا معروف ترقی پسند اور انقلابی رہنما جناب فاروق طارق کے سر ہے۔ وہ ہر سال 5فروری کو دیگر مزدور تنظیموں اور ساتھیوں کے ہمراہ فیض امن میلہ منعقد کرتے ہیں اور آئندہ سال 5فروری کو بھی منعقد کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔
17سے19نومبر تک برپا ’’فیض انٹرنیشنل فیسٹیول ‘‘ ایک منفرد فیض میلہ تھا۔ فیض انٹرنیشنل فیسٹیول کو دیکھ کر بالکل یہی احساس ہوا کہ ہم ایک عالمی اشاعتی ادارے کے لٹریری فیسٹیول میں شرکت کررہے ہیں۔ یہ فیض فیسٹیول بالکل Replicaتھا اس کارپوریٹ پبلشنگ ادارے کا، جو ہر سال لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں ادب کے حوالے سے لٹریری فیسٹیول منعقد کرتا ہے۔ یہ عالمی اشاعتی ادارہ حقیقت میں پاکستان میں چند ایک ہی کتب کی اشاعت کرنے کی سعی کرتا ہے، اُن کا اصل کاروبار امیر طبقات کے بچوں کے سکولوں کی اعلیٰ اور مہنگی نصابی کتابیں چھاپنا ہے۔ یہ عالمی اشاعتی ادارہ، پاکستان میں منعقد کیے جانے والے لٹریری فیسٹیولز میں زیادہ سیشن میں ایسے مقررین کو دعوتِ گفتگو دیتا ہے جو پاکستانی سماج سے تعلق ہی نہیں رکھتے۔ خانہ پُری کے لیے چند ایک مقامی دانشوروں کو Engage کر کے اس کی Legitimacy تو حاصل کرلیتے ہیں لیکن عملاً اِن لٹریری فیسٹیولز کی Indigenous شکل نظر نہیں آتی۔ بے پناہ کارپوریٹ وسائل کی بنیاد پر منظم اور پُر رونق ضرور ہوتا ہے۔ اس طرح حالیہ ’’فیض انٹرنیشنل فیسٹیول‘‘ راقم کو اسی عالمی اشاعتی ادارے کی فوٹوکاپی لگا اور میرے جیسے ’’مقامی عقل‘‘ رکھنے والے کے دل میں یہ سوال اٹھا کہ آخر فیض فیسٹیول کو ’’انٹرنیشنل‘‘ قرار دینے کی ضرورت کیوں محسوس ہوئی۔ بالکل اسی طرح جیسے ہمارے ہاں ’’عالمی اردو مشاعرہ چیچہ وطنی‘‘ یا ’’عالمی اردو مشاعرہ لالہ موسیٰ‘‘ ہونا لازمی ہے۔ آخر اس فیسٹیول میں کیا تھا جس نے اس کو عالمی بنا دیا۔ ہاں، اس فیسٹیول کا ڈیزائن عالمی کارپوریٹ کی طرز پر ضرور تھا۔ وسائل کی بنیاد پر یہ ایک بھرپور فیسٹول تھا۔ لیکن اگر فیض صاحب کی تصاویر کو اس سارے فیسٹیول سے ہٹا کر دیکھا جائے تو فیض احمد فیض کم کم ہی محسوس ہوئے۔ اس فیسٹیول میں فیض احمد فیض کے کاروان میں شامل لوگ اِکا دُکا ہی کسی سٹیج پر نظر آئے۔ مختلف سیشنز میں زیادہ تو وہ لوگ سٹیجوں پر بیٹھائے گئے جن کے خلاف فیض احمد فیض جدوجہد کرتے رہے۔ یقیناًفیض کے اہل خانہ کا جذبہ شہرت یا دولت کمانا نہیں، مگر بہتر ہوتا کہ وہ ان وسائل کو فیض احمد فیض کے کاروان میں شامل لوگوں کے ہاتھوں میں دے دیتے، تو پھر دیکھتے کہ یہ فیض فیسٹیول کیسی شکل اختیار کرتا۔
یہ ایک لبرل میلہ ضرور تھا، لیکن ترقی پسند اور اس فکر کی آواز نہیں تھا جس کا پرچم فیض احمد فیض نے تاعمر سربلند رکھا۔ یہ فیسٹیول نہ تو انٹرنہشنل تھا اور نہ ہی ترقی پسند۔ ہاں کارپوریٹ فیسٹیول ضرور تھا۔ اس کارپوریٹ مڈل کلاس کا میلہ تھا جو ہمارے بڑے شہروں میں جنم لے چکی ہے۔ جو ’’گڈ گورننس‘‘ اور ’’کرپشن سے پاک‘‘ نیا پاکستان بنانے کا خواب دیکھتی ہے۔ کوئی نیا پاکستان بن ہی نہیں سکتا جس میں پاکستان کے محنت کش طبقات شامل نہ ہوں۔ یہ وہ مڈل کلاس ہے جو اپنا اتحاد نچلے، محکوم، کسان، مزدور اور محنت کش طبقات کی بجائے اوپری طبقات سے بنانے میں کوشاں ہے۔ جبکہ فیض احمد فیض اُس مڈل کلاس سے تعلق رکھتے تھے جو محنت کش، مزدور، کسان اور محکوم طبقات سے اتحاد کرتی ہے۔ ایسے لبرل لوگوں، گروہ، تنظیموں کو ترقی پسند سمجھ لینا ایک بڑا مغالطہ ہے۔ جنرل پرویز مشرف لبرل تھا، ڈکٹیٹر تھا، ترقی پسند نہیں۔ ایسے لبرل ازم کا Backlash جو ہوتا ہے، اس کو آج ہم سارے ملک میں دیکھ رہے ہیں۔ لٹھ بردار گروہ عقیدوں کی بنیاد پر قتل کرتے گروہ۔ ترقی پسند فکر اور لبرل فکر میں بہت فرق ہے۔ ترقی پسند فکر اپنی سرزمین، ثقافت، طبقاتی اور سامراج مخالف ہوتی ہے، جبکہ لبرل ازم سامراج کا آلہ کار۔ فیض احمد فیض لبرل نہیں، ترقی پسند تھے۔ اُن کی فکر کارپوریٹ ثقافت، کارپوریٹ فکر اور سامراج مخالف تھی۔ اُن کی شاعری طبقاتی تھی۔ اُن کی جدوجہد عوامی تھی۔ اُن کا اوڑھنا بچھونا سامراج دشمنی تھی۔ وہ عالمی کارپوریشن کے نقاد تھے۔ انہوں نے اپنی ثقافت میں گندھی ترقی پسندی کا پرچم بلند رکھا۔ حالیہ فیسٹیول کا فیض احمد فیض سے اتنا ہی تعلق تھا کہ ان کے منتظمین ان کے اہل خانہ تھے۔ فیض احمد فیض کی فکر اور کاروان کے لوگ اس فیسٹیول میں زیادہ سے زیادہ ’’ناظرین‘‘ کے طو رپر نظر آئے۔گم صم، چُپ چُپ۔ سٹیج زیادہ تر اُن لوگوں سے سجائے گئے جو اس کاروانِ فیض کو غدار، ملک دشمن، کافر اور روسی اور چینی ایجنٹ قرار دیتے رہے۔ فیض احمد فیض کا پیغام امن بھی ہے اور انقلاب۔ ایک عوامی، جمہوری، سامراج مخالف انقلاب۔ مزدور اور محنت کش کا انقلاب۔ پاکستان کا انقلاب۔ زمین و ثقافت سے جڑا انقلاب۔ CocaCola کی بوتل سے فیض احمد فیض کا انقلاب جنم نہیں لیتا۔ فیض احمد فیض کا انقلاب محنت کش اور مقامی ہونے سے پھوٹ سکتا ہے، اپنی سرزمین سے جڑے رہنے سے۔