Atta ur Rehman copy

فیصلے کی گھڑی!

نوازشر یف کے سامنے دو راستے ہیں۔۔۔ دب جائے۔۔۔ سمجھوتہ کر لے اور باقی زندگی اندرون یا بیرون ملک عافیت کے ساتھ گزارے۔۔۔ یا ڈٹ جائے۔۔۔ مقابلے پر اتر آئے۔۔۔ مقدمات ،سزاؤں، جلاوطنی اور اولاد کے لیے پاکستان آ کر زندگی گزارنا محال ہونے کے ساتھ جائیداد کی ضبطی کے دریا ہیں ۔۔۔ خم ٹھونک کر عبور کرنے کی کوششیں کرتا رہے۔۔۔ آئینی و اصولی سیاست کا جھنڈا بلند رکھے۔۔۔ بیچ کا کوئی راستہ نظر نہیں آتا مقتدر قوتوں کا ماتحت بن کر شریک اقتدار یا حکومت ہونا اس کی سرشت میں شامل نہیں اور وقتی مصلحتوں کے تحت ایسا کر بھی لے تو ’’والیان ریاست‘‘ کے لیے اس پر مزید اعتبار کرنا مشکل ہو گا۔۔۔ چپقلش ختم نہیں ہو گی اس طرح کے کسی درمیانے سمجھوتے کی راہ پر چلنا دونوں فریقوں کے لیے آسان نہیں۔۔۔ ان حالات میں نواز شریف صاحب کونسے طرز عمل کو اپنے لیے بہتر سمجھتے ہیں ۔۔۔ ان کے خاندان کا مفاد کس میں ہے۔۔۔ مستقبل قریب کی سیاست میں بیٹی مریم نواز کے لیے کیسا کردار پسند ہوگا۔۔۔ ان دنوں لندن میں بیٹھ کر میاں صاحب اور ان کے بااعتماد ساتھیوں کے لیے غور و فکر کا سب سے بڑا موضوع یہی ہے۔۔۔ کل ہفتہ کے روز وزیراعظم شاہد خاقان عباسی، وزیر خزانہ اسحق ڈار، وزیر خارجہ خواجہ آصف، برادر خُرد اور وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف سمیت مریم نواز اور دیگر مشیروں کے ساتھ اجلاس منعقد ہوا ہے۔۔۔ کہا جاتا ہے شہبا زشریف خاص پیغام لے کر گئے ہیں۔۔۔ چند روز پہلے ان کی چودھری نثار علی کے ساتھ خصوصی ملاقات ہوئی تھی۔۔۔ انہوں نے بھی یار لوگوں کا کوئی سندیسہ پہنچایا ہو گا۔۔۔ اگر ایسا ہے تو وہ کیا پیغام ہے اور نواز شریف کی جانب سے کس قسم کا ردعمل ظاہر کیا جائے گا۔۔۔ اس پر ملک بھر میں قیاس آرائیاں ہو رہی ہیں۔۔۔ حتمی بات کا اسی صورت پتا چلے گا۔۔۔ اگر نوازشریف کی جانب سے قطعی بیان آئے، مریم نواز وضاحت کے ساتھ بات کرے یا باپ بیٹی کے رویوں سے ظاہر ہو وہ کس منزل کی جانب اور کون سے راستے پر گامزن ہونا چاہتے ہیں۔
میاں صاحب حالات کی سخت مجبوری اور غیر معمولی دباؤ کے آگے جھک جاتے ہیں ۔۔۔بڑی لچک دکھا دیتے ہیں تو ان کے ذاتی سیاسی کردار کا خاتمہ سمجھیے۔۔۔ تاریخ کے صفحات میں صرف نام رہ جائے گا۔۔۔ مستقبل کا مؤرخ دو مرتبہ پنجاب جیسے بڑے اور اہم صوبے کا وزیراعلیٰ اور تین بار پاکستان کا وزیراعظم رہنے والے کو کس طرح یاد کرے گا۔۔۔ یہ ہمارا موضوع نہیں سمجھوتہ خاموش ہوتا ہے یا علانیہ اس کی بنا پر مقدمات کے دباؤ میں کمی آ سکتی ہے۔۔۔ سخت سزاؤں کا امکان شاید نہ رہے۔۔۔ جائیداد بھی بڑی حد تک بچ سکتی ہے۔۔۔ پاکستان کے اندر یا باہر آرام سے بڑھاپے کے دن گزریں گے۔۔۔ دل مگر ان کا مضطرب رہے گا۔۔۔ دماغ کو بھی چین نصیب نہیں ہو گا۔۔۔ لیکن بچوں سمیت بڑی جسمانی یا مالی اذیت سے محفوظ رہیں گے۔۔۔ اگرچہ سینٹ میں انتخابی اصلاحات کے بل کی منظوری کے بعد میاں صاحب کے لیے اپنی جماعت کا صدر بنے رہنے کی راہ ہموار ہو گئی ہے۔۔۔ وہ سمجھوتہ کر لیتے ہیں تو بطور صدر مسلم لیگ (ن) ان کا رسمی سیاسی کردار برداشت کر لیا جائے گا۔۔۔ مقتدر قوتیں اتنی سی بات کو گوارا کر لیں گی چاہے آگے چل کر اس جماعت کے اندر توڑ پھوڑ کا عمل پیدا کرکے اس کی سیاسی قوت ختم کر دیں۔۔۔ لیکن اصل سوال یہ ہے سمجھوتے کی صورت میں کیا اگلے وزیراعظم لازماً شہباز شریف ہوں گے۔۔۔ بات سو فیصد یقینی نہیں ۔۔۔ مشرف کے دور عروج میں جب میاں صاحب کو جدہ میں پیغام بھیجا گیا تھا کہ سیاست سے دستبردار ہو جائیں شہباز شریف کے لیے جگہ خالی کر دیں اور خود مزے سے نیو یارک یا پیرس جا کر برگر کھائیں تب چھوٹے بھائی کے وزیراعظم بن جانے کے مقابلتاً زیادہ امکانات تھے۔۔۔ آج عمران خان کا گھوڑا تیار کھڑا ہے۔۔۔ بیتابی کے ساتھ باری کا انتظار کر رہا ہے۔۔۔ اپنے تیز مزاج کی وجہ سے اپوزیشن لیڈر کے طور پر مزید عرصہ نہیں گزار سکتا۔۔۔ اسٹیبلشمنت کے کچھ طاقتور عناصر بھی اسے آزمانا چاہتے ہیں دوسری بات یہ ہے اگر میاں نواز شریف نے 2018ء کے انتخابات میں ملک کے باہر یا اندر بیٹھ کر فعال اور قائدانہ کردار ادا نہ کیا تو مسلم لیگ (ن) کی جیت کے امکانات کم ہوں گے۔۔۔ وہ شاید قطعی اکثریت حاصل نہ کر پائے۔۔۔ حلقہ این اے 120 کے تجربے نے بتا دیا ہے اسٹیبلشمنٹ ووٹ بینک کی طاقت کو کمزور کرنا جانتی ہے۔۔۔ اگر نواز شریف 2018ء کے انتخابی اکھاڑے میں کھلاڑی بن کر یا باہر بیٹھ کر بھی حقیقی قائد کی شکل میں نہ اترے تو شہباز اور چودھری نثار مل کر بھی عام ووٹروں کے اندر نواز جیسا تحرک اور جذبہ نہیں پیدا کر سکتے۔۔۔ مولوی مدن کی سی بات نہ ہوگی۔۔۔ چودھری نثار کے لیے شہباز کے ساتھ جڑے رہنا اتنا ضروری بھی نہیں۔۔۔ عمران خان کے ساتھ موصوف کے تعلقات پرانے ہیں۔۔۔ کھلاڑی کی بھی خواہش ہے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ اتنے گہرے تعلقات رکھنے والا یہ سیاستدان اس کے ساتھ آن ملے۔۔۔ نواز کے اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ سیاست سے فارغ ہو جانے کے سمجھوتے کی صورت میں بھی شہباز کے وزیراعظم بننے کے امکانات ففٹی ففٹی ہیں۔۔۔ گھیرا اس کے گرد بھی تنگ کیا جا رہا ہے۔۔۔ اگر اس نے دونوں ہاتھوں کے انگوٹھے لگا کر مکمل وفاداری اور کامل اطاعت کا یقین نہ دلایا تو بہت زیادہ اعتماد کے قابل نہ سمجھا جائے گا۔
نوازشر یف دباؤ میں آ کر اپنے سیاسی کردار کو تقریباً ختم کر دیتے ہیں تو اس ملک کے اصل حکمرانوں انہیں مقتدر قوتیں کہہ لیجیے یا اسٹیبلشمنٹ کے لیے اچھے خاصے اطمینان بلکہ سکون قلب کا سامان پیدا ہو جائے گا۔۔۔ وہ اپنے حقیقی سیاسی ایجنڈے پر عمل پیرا ہو جائیں گے۔۔۔ وہ ایجنڈا جس کا تصور سب سے پہلے سکندر مرزا نے پیش کیا تھا۔۔۔ جس کے نفاذ کی خاطر پچھلے 65 سالوں میں کئی تجربات کیے گئے۔۔۔ ناکام رہے۔۔۔ لیکن صاحبان ذی وقار اپنے ارادوں پر قائم ہیں۔۔۔ یہ کنٹرولڈ ڈیموکریسی کا ایجنڈا ہے۔۔۔ یعنی حاضر سروس لوگوں کو دفاعی اور خارجہ سمیت تمام امور سلطنت پر بالادستی حاصل ہو۔۔۔ سیاستدانوں پر مشتمل سویلین ڈھانچہ ماتحت یا Subsidiary بن کر فرائض سر انجام دیتا رہے۔۔۔ خواہ ان الفاظ میں اس کا اعلان نہ کیا جائے کیونکہ آئینی اور دوسری مشکلات آڑے آئیں گی۔۔۔ مگر جوہری طور پر اس کا کردار نمبر 2 کا ہو گا۔۔۔ نواز شریف اس ایجنڈے کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔۔۔ ننگا مارشل لاء لگایا نہیں جا سکتا۔۔۔ لہٰذا ایک عدد وزیراعظم ہو گا اس کی کابینہ بھی! پروٹوکول کے رسمی تقاضے پورے ہوتے رہیں گے۔۔۔ پارلیمان نام کا ایوان اپنے اجلاس منعقد کرتا رہے گا صوبائی حکومتیں بھی اپنا وجود برقرار رکھیں گی۔۔۔ اپوزیشن کے آوازے بلند ہوا کریں گے۔۔۔ وزیراعظم آتے جاتے رہیں گے۔۔۔ سیاسی ڈرامے سٹیج کرنے اور اس بازار میں رونق پیدا کرنے کا اہتمام ہوتا رہے گا لیکن نواز شریف جیسا سرکش سیاستدان مقابلے پر نہیں ہو گا۔۔۔ دوسروں کے لیے نصیحت ہو گی اپنی اوقات میں رہیں۔۔۔ اس کے برعکس فرض کیجیے میاں صاحب مزاحمت پر اتر آتے ہیں۔۔۔ وزیراعظم تو وہ پہلی صورت میں بنیں گے نہ دوسری میں۔۔۔ لیکن افراد کنبہ اور کئی ایک جرأت مند سیاسی ساتھیوں سمیت بہت زیادہ خطرات مول لینے کے لیے تیار ہو جاتے ہیں۔۔۔ بالادست قوتوں کے لیے جو دستور مملکت کو پرکاہ کی اہمیت نہیں دیتیں اور سول سیاستدانوں کو ہمیشہ کے لیے تابع فرمان بنا کر اس ملک کی قسمت کے ساتھ کھیلنا چاہتی ہیں بڑا چیلنج بن سکتے ہیں۔۔۔ ایک شخص جس نے اقتدار کی بہاریں کسی بھی دوسرے سیاستدان کے مقابلے میں زیادہ دیکھی ہوں اب اس کے چھن جانے کے بعد تاریخ کے صفحات میں گم ہو جانا پسند کرے گا یا زندہ رہنے کو ترجیح دے گا۔۔۔ اس کے مزاج اور افتاد طبع سمیت پچھلی تین دہائیوں کا کردار گواہی دیتا ہے کہ ڈٹ کر رہنے میں وہ اپنی بقا محسوس کرتا ہے۔۔۔ تو کیا نواز شریف سابق اور برطرف وزیراعظم کی حیثیت سے ملک کے اندر یا باہر رہ کر اور تمام تکالیف و آلائم کا خندہ پیشانی کے ساتھ مقابلہ کرتے ہوئے آئین کی بالادستی، جمہوریت کے تسلسل اور عوام کے حق حکمرانی کی شمع کو روشن رکھیں گے۔۔۔ سویلین بالادستی کے تصور کو توانا رکھیں گے۔۔۔ یوں اپنی بساط کی حد تک سکندر مرزا کی بجائے قائداعظم کے نظریہ ریاست و سیاست کو تقویت پہنچاتے رہیں گے۔۔۔ یہ راستہ آسان نہیں۔۔۔ مشکلات کے پہاڑ کھڑے ہیں۔۔۔ اسٹیبلشمنٹ بہت طاقت ور ہے۔۔۔ غیر معمولی اثر و رسوخ رکھتی ہے۔۔۔ اسے استعمال کرنا بھی جانتی ہے۔۔۔ لیکن اگر آپ پامردی کے ساتھ قائداعظم کے راستے پر چل نکلیں۔۔۔ سیاسی یقین کی پوری قوت کے ساتھ اس پر ڈٹ جائیں تو شیر کے منہ سے نوالا چھینا بھی جا سکتا ہے۔۔۔ نواز شریف کے لیے امتحان کی گھڑی ہے۔۔۔ انہیں اپنے مستقبل کا تعین خود کرنا ہے۔۔۔ ذرّہ بن کر غبار راہ میں گم ہو جائیں گے یا جرأت مندانہ کردار اور اس انمٹ نقوش کی وجہ سے تادیر یاد رکھے جائیں گے۔۔۔ اس کا فیصلہ اس شخص نے جسے قدرت نے بے پناہ نعمتوں کے ساتھ سخت آزمائشوں سے بھی دوچار کیا ہے خود کرنا ہے فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔