tofeeq butt

فاقی وزارتِ خارجہ اور دیانتدار پولیس افسران کا دُکھ

سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثارعلی خان کے سیاست میں فعال کردار کو ہم مس کررہے ہیں۔ اِس کے باوجود کہ وہ مسلم لیگ نون میں ہیں کرپشن کا کوئی داغ اُن کے دامن پر کم ازکم مجھے تو دکھائی نہیں دیتا۔ وہ جب بھی وفاقی کابینہ میں رہے اُن کی کارکردگی سیاسی لحاظ سے اور محکمانہ طورپر بھی دوسرے بے شمار وفاقی وزراءسے ہزار درجے بہتر رہی۔ پچھلے دنوں جب اُن کے سیاسی قائد نواز شریف کے خلاف سپریم کورٹ میں نااہلی کیس زیرسماعت تھا، بے شمار لوگوں کا خیال تھا اُن کی نااہلی کی صورت میں چودھری نثار علی خان کو وزیراعظم بنایا جائے گا۔ اُنہیں وزیراعظم شاید اِس لیے نہیں بنایا گیا کہیں وہ یہ ثابت نہ کردیں اہلیت کے اعتبار سے ، اور دیانتداری کے اعتبار سے بھی اپنے قائد نواز شریف سے وہ کئی گنا بہتر ہیں۔ نون لیگ کے ساتھ اُن کی وابستگی تقریباً اُتنی ہی پرانی ہے جتنی نواز شریف کی ہے۔ پاکستان کے کئی حاضر و ریٹائرڈ جرنیل اُن کے قریبی عزیز ہیں۔ اِس پس منظر میں 1999ءمیں جنرل مشرف نے نواز شریف کی حکومت کا تختہ اُلٹابے شمار لوگ یہ سوچ رہے تھے اور کوئی جرنیلی لیگ کا حصہ بنے نہ بنے، چودھری نثار علی خان ضرور بنیں گے۔ مگر ایسے نہیں ہوا۔ اس وجہ سے لوگوں کے دلوں میں اُن کی عزت میں اضافہ ہوا۔ اب بھی یہی سمجھا جارہا تھا نواز شریف کی نااہلی کی صورت میں اُنہیں وزیراعظم نہ بنایا گیا تواُن کی قیادت میں ممبران قومی اسمبلی کا ایک بڑا گروپ سامنے آئے گا۔ جو نون لیگ اور نواز شریف کی مشکلات میں مزید اضافہ کردے گا۔ معاملہ مگر اِس کے برعکس یہ ہوا اپنی ایک پریس کانفرنس میں اُنہوں نے نہ صرف وزارت سے مستعفی ہونے کا اعلان کردیا، یہ دعویٰ بھی فرما دیا وہ قومی اسمبلی کی رکنیت کے ساتھ ساتھ سیاست بھی چھوڑ رہے ہیں۔ یہ تو وہی بتاسکتے ہیں ایسا دعویٰ یا فیصلہ اُنہوں نے کیوں کیا جس کا کسی طرف سے کوئی تقاضا ہی نہیں ہورہا تھا؟ پہلی بات یہ ہے یہ فیصلہ اُنہیں کرنا ہی نہیں چاہیے تھا، بلکہ ایسا سوچنا ہی نہیں چاہیے تھا۔ اس ملک کی غلیظ سیاست میں چند اچھے اور دیانتدار سیاستدان موجود ہیں ان میں کمی نہیں ہونی چاہیے۔ سو اب اُنہوں نے قومی اسمبلی کی رکنیت اور سیاست نہیں چھوڑی تو یہ اچھی بات ہے، مگر اِس سے اُن کے اخلاقی کردار پر اس حوالے سے ایک اور سوالیہ نشان ضرور لگ گیا ہے وہ جو کہتے ہیں اس پر عمل نہیں کرتے ۔ ماضی میں بھی کچھ ایسے دعوے یا اعلانات وہ کرتے رہے ہیں جو بعد میں کسی نہ کسی مجبوری کے تحت وہ پورے نہیں کرسکے۔ خصوصاً اُن کے اس اعلان اور دعوے نے تو بہت ہی شہرت پائی ”نواز شریف کی موجودہ حکومت کوئی کارکردگی نہ دکھا سکی وہ ایک پل کے لیے اپنے عہدے پر نہیں رہیں گے“۔….نواز شریف کی حکومت نے اس بار نااہلی کے پچھلے سارے ریکارڈ توڑ دیئے، اس کے باوجود وہ اپنے عہدے سے چمٹے رہے۔ اِن حقائق کے باعث اُن کی شخصیت کا وہ اُجلا پن نہیں رہا جو ان کے دیانتدار ہونے کی وجہ سے بہت نمایاں تھا،…. آج وہ مجھے اس لیے بہت یاد آرہے ہیں وہ جب وزیر داخلہ تھے اُن کی وزارت یا محکمے کی کچھ کمیوں کوتاہیوں بارے جب بھی میں نے لکھا اُنہوں نے نہ صرف اُس کا فوری نوٹس لیا بلکہ جب تک یہ مسائل حل نہ ہوئے کسی نہ کسی طرح وہ میرے ساتھ رابطے میں رہے۔ وہ شاید واحد وزیر تھے جو سیاسی امور کے ساتھ ساتھ محکمانہ امور بھی بڑی محنت اور توجہ سے نمٹاتے تھے ورنہ بے شمار ایسے وزراءہیں اپنے محکموں کی بہتری میں جن کا کردار اور کارکردگی صفر ہے۔ ایک بار برازیل سے برادرم مشکوٰة مغل نے انکشاف کیا برازیل کے پاکستانی سفارتخانے میں ریڈایبل پاسپورٹ بنانے کی سہولت موجود نہیں۔ اس وجہ سے برازیل اور قریبی ممالک میں مقیم ہزاروں پاکستانی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اُنہیں اپنے پاسپورٹ وغیرہ کے مسائل حل کروانے کے لیے پاکستان آنا پڑتا ہے۔ اُن میں کئی پاکستانی ایسے ہیں جو مالی کمزوریوں کے باعث پاکستان جانا افورڈ نہیں کرسکتے۔ میں نے اُس پر تفصیلی کالم لکھا۔ چودھری نثارعلی خان نے فوراً اُس کا نوٹس لیا، فون پر فرمایا ” میں کوشش کروں گا یہ مسئلہ جلدازجلد حل ہو“۔کچھ دنوں بعد یہ مسئلہ حل ہوگیا۔ اسی طرح ایک بار کچھ انتہائی دیانتدار پولیس افسران میرے پاس آئے اور فرمایا ” وفاقی وزیر داخلہ نے پولیس افسران پر ناجائز طورپر پابندی عائد کررکھی ہے وہ یو این او مشن پر نہیں جاسکتے۔ جبکہ دیانتدار پولیس افسران کے پاس یہ واحد ذریعہ ہوتا ہے جس سے اپنی جائز آمدنی میں تھوڑا بہت وہ اضافہ کرلیتے ہیں“۔ میں اس ضمن میں ایک تفصیلی کالم لکھا، جس میں کچھ سخت باتیں بھی کیں۔ حتیٰ کہ اُنہیں ” چودھری وگ علی خان“ قرار دیا۔ میرا خیال تھا وہ ناراض ہوں گے ، مگر اُنہوں نے انتہائی اعلیٰ ظرفی دِکھائی ، مجھے فون کیا فرمانے لگے ” یہ پابندی میں نے وزارت داخلہ کی سفارشات پر اس لیے لگائی تھی ملک میں دہشت گردی روز بروز بڑھ رہی تھی اور ہمارے پاس پولیس افسران کم ہیں، اب
چونکہ دہشت گردی کچھ کنٹرول ہوئی ہے، میں یہ پابندی ختم کرنے پر غور کروں گا “،….کچھ روزبعد اُن کا دوبارہ فون آگیا پابندی ختم کردی گئی ہے۔ میں نے اُن کا شکریہ ادا کیا فرمانے لگے ”شکریہ تو مجھے آپ کا ادا کرنا چاہیے جو میرے محکمے سے متعلق مسائل میرے نوٹس میں لاتے ہیں“۔….اب مسئلہ یہ ہے پابندی تو ختم ہوچکی ہے مگر وزارت داخلہ کے کچھ ”کاریگروں “ نے اُس میں ”ڈنڈی“ یہ ماردی پابندی سے پہلے 2011ءمیں جن پولیس افسران کی باقاعدہ ایک سسٹم کے تحت سلیکشن ہوئی تھی، اُن میں آدھے چلے گئے تھے ، اور باقی بے چارے اچانک پابندی لگنے کی وجہ سے رہ گئے ، ان کے بارے میں انتہائی غیرمنصفانہ فیصلہ یہ کردیا وہ اب نہیں جاسکتے ۔ حالانکہ اصولی قانونی واخلاقی طورپر یہ حق بنتا ہے پہلے اُنہیں بھیجا جائے۔ یو این او کی ٹیم نے خودآکر ان کی سلیکشن کی تھی ، وہ میرٹ اور معیار پر بھی پورا اترتے ہیں۔ ….یہ پولیس افسران اب اپنا دُکھ لے کر ایک بار پھر میرے پاس آئے ہیں۔ میں نے اُن کی خدمت میں گزارش کی اب وہ وزیرداخلہ نہیں رہا جو کالموں وغیرہ میں لکھے گئے اپنے محکمے سے متعلق مسائل کا فوری نوٹس لیتا تھا۔ اِن پولیس افسران کا خیال ہے نئے وزیرداخلہ احسن اقبال بھی خاندنی طورپر بہت پڑھے لکھے ہیں۔ وفاقی سیکرٹری داخلہ ارشد مرزا کے بارے میں بھی اُن کا گمان یہی ہے وہ بہت مثبت ذہنیت کے مالک ہیں۔ اُنہیں یقین ہے یہ ناانصافی کسی طرح اُن کے نوٹس میں آگئی وہ ضرور اس کا ازالہ کریں گے۔ اِس ضمن میں اُن کی ”گزارشانہ فائل“ وزارتِ داخلہ کے جائنٹ سیکرٹری آرمڈ فورسز خورشید احمد کے پاس پڑی ہے، وہ بھی اچھی شہرت کے حامل افسر ہیں۔ اِن پولیس افسران سے میں کہہ رہا تھا اگر آپ کے مطابق سارے اچھے ہیں پھر آپ کا مسئلہ کسی کالم وغیرہ کا محتاج نہیں ہونا چاہیے ،….افسروں اور وزیروں کو اپنے اپنے محکموں میں ہونے والی ناانصافیوں کا ازخود ازالہ کرنا چاہیے۔ البتہ یہ ضرور ہے بعض بلکہ اکثر اوقات ”نچلا عملہ “ ایسی ناانصافیاں اعلیٰ افسروں اور وزیروں کے نوٹس میں ہی نہیں لاتا ۔ بہرحال ہم نے ایک بار پھر چراغ دیا ہے۔ ”اگے تیرے بھاگ لچھئے “۔ وزیرداخلہ احسن اقبال کی سیاست سے اختلاف ہوسکتا ہے مگر اُن کے بارے میں بھی عمومی تاثر یہی ہے وہ بددیانت نہیں ہیں، یہ الگ بات ہے کچھ بددیانتوں کی غیرضروری حمایت بھی ایک طرح کی بدیانتی ہی ہوتی ہے ۔ وزیر داخلہ بنتے ہی ایک اچھا کام انہوں نے یہ کیا ملک بھر کے ایئر پورٹس سے ہرطرح کا پروٹوکول ختم کردیا۔ اِس ضمن میں سخت ہدایات جاری کیں۔ اِس سے ہم جیسے قول وفعل میں تضاد رکھنے والے کچھ صحافیوں کو بھی نقصان ہوا۔ ہماری گزارش اور خواہش ہے یہ ”نقصان“حکمرانوں کے بال بچوں، اُن کے عزیزوں اور خود وزیر داخلہ کو بھی ہو۔ یہ نہیں تو سب دکھاوے ہیں۔ سب کہانیاں ہیں بابا !!