Sattar-Choudhary

غیرسیاسی کالم

قصور سے آگے دیپالپور روڑ پچیس کلومیٹر بعد کھڈیاں خاص ایک قصبہ آتا ہے ،وہاں سے مغرب کی جانب جائیں،پورے قصبے کو عبور کریں تو ریلوے لائن آتی ہے ، اسے کراس کریں۔ آگے ایک سڑک نکلتی ہے مرالی ہٹھاڑ کو۔ وہاں سے دائیں طرف جائیں ،تھوڑے سے فاصلے پر دو اور سڑکیں نکلتی ہیں۔ ایک ہری کے نول کو جاتی ہے۔۔۔ بات کرنی ہے دوسری سڑک کی۔ چار کلومیٹر دور گاؤں آتا ہے محمود پورہ، جو میرا گاؤں ہے۔ وہاں بچپن گزارا ، میٹرک بھی وہیں سے کیا۔ میرے گاؤں سے دو کلومیٹر آگے دوسرا گاؤں آتا ہے ” چور کوٹ”۔۔ بہت ہی پرانا گاؤں ہے۔ بڑا عجیب اور شرمناک سا نام ہے۔ اس گاؤں کے سارے لڑکے ہمارے گاؤں کے ہائی سکول میں پڑھتے تھے۔ کہا کرتے تھے ، یار کوئی ہم سے پوچھ لے کس گاؤں کے رہنے والے ہو ؟ تو نام بتاتے ہوئے شرم آتی ہے۔ اگر نام بتاتے ہیں ” چورکوٹ ”۔۔۔ تو پوچھنے والا پہلے تو ہمارے چہرے کو دیکھتا ہے ،پھر سوال کرتا ہے۔۔۔ چورکوٹ ہمارے ” ہٹھاڑ” کے علاقے کا آخری گاؤں ہے ، اس سے آگے ”ماجھے ” کا علاقہ شروع ہوجاتا ہے۔ دونوں علاقوں کا بہت فرق ہے۔ ماجھے کا علاقہ بہت اونچا ہے ،ہٹھاڑ کی سطح بہت نیچی ہے۔دونوں کے درمیان پہاڑی سلسلہ ہے۔ چورکوٹ سے آگے نہر آتی ہے اور وہاں سے ویران ،بنجر زمینیں شروع ہوجاتی ہیں۔ یہ ویران علاقہ حد نظر سے دور تک پھیلا ہوا ہے۔ جھاڑیاں ہیں۔ شور ہے۔ اور اس سے آگے جاکر پہاڑی سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ جو مشرق سے مغرب کے طرف جاتا ہے۔ کہتے ہیں اس پہاڑی سلسلے کے ساتھ کسی وقت میں دریا بہتا تھا۔ اور وہ دریا آہستہ آہستہ ندی بن گیا، ندی تو اب خشک ہوچکی لیکن اس کے آثار ابھی باقی ہیں۔ چورکوٹ کییمعرض وجود میں آیا ؟تاریخ بتاتی ہے۔ چور ماجھے کے علاقوں میں چوریاں کرتے ،ڈاکے ڈالتے ،وارداتیں ہوتیں اور وہ بھاگ کر پہاڑی سلسلہ اور دریا عبور کرکے ہٹھاڑ کے علاقے میں چھپ جاتے۔ زیادہ تر تو نہر کے کنارے ٹھہرتے۔ آہستہ آہستہ نہر کے کنارے چوروں کی آماجگاہ بن گئے۔ اور اس طرح ہی آبادی بڑھتی رہی اور اس گاؤں کا نام چور کوٹ پڑ گیا۔۔ جو صدیوں سے اسی نام سے جانا پہچانا جاتا ہے ،کسی نے آج تک اس کا نام تبدیل کرنے کی کوشش نہیں کی۔ اب تو وہ بنجر زمین آباد ہونے لگی ہے۔لاہور کے نئے امیر ہونے والے خاندان جنہیں ” جاگیردار” بننے کا شوق ہے وہاں بنجر زمینیں خرید کر آباد کررہے ہیں۔کافی رونق ہوچکی ہے اس ویرانے میں۔ جھاڑیوں کے بجائے فصلیں اور درخت نظر آنے لگے ہیں۔ حالات کے مدنظر چورکوٹ کے رہائشی بھی کافی ترقی کرچکے ہیں۔ ہر خاندان کے پاس اچھی خاصی زمین ہے اور بہت اچھی فصلیں ہورہی ہیں ،خوشحال ہیں سب لوگ۔ گاؤں کا نام تو چور کوٹ ہے لیکن اب وہاں چور نہیں ہیں۔ معزز لوگ ہیں۔گاؤں میں مقامی طور پر سخت قوانین بھی ہیں۔ جن پر عملدرآمد پنچایت میں کیا جاتا ہے۔ چھوٹی موٹی آخر چوری چکاری تو ہوہی جاتی ہے۔ظاہر ہے وہاں انسان ہی بستے ہیں ،فرشتے تو نہیں۔ عادی مجرم کہاں نہیں رہتے۔ کعبے کا طواف کرتے وقت بھی عازمین کی جیبیں کاٹ لیتے ہیں۔ مقدس مقامات پر حاجیوں کے بیگ چوری ہوجاتے ہیں۔ بات ہورہی تھی چور کوٹ کی۔ گاؤں میں اگر کوئی بھی واردات ہوجائے فیصلہ پنچایت میں ہوتا ہے۔ اور سخت سزا دی جاتی ہے۔ گزشتہ دنوں ایک واقعہ ہوا۔ بات تو عام سی تھی ،سزا بھی روٹین کی۔ لیکن جو سزا ملنے کے بعد ملزم نے الفاظ ادا کئے ،وہ ” تاریخی ” تھے۔۔۔ کمال کے۔ ان الفاظ کی وجہ سے ہی مجھے پورے گاؤں کی تاریخ لکھنا پڑ گئی۔ ہوا کچھ یوں کہ سڑک کنارے پرچون کی دکان تھی۔ گاؤں کا میراثی رات گئے وہاں چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا۔ ہلکی پھلکی چھترول تو ہوئی لیکن چھوڑ دیا گیا تاکہ صبح پنچایت میں فیصلہ ہو۔ اور اس کو اس کے جرم کی سزا دی جائے تاکہ آئندہ کوئی ایسی حرکت نہ کرے۔ صبح سردار صاحب کو اطلاع دی گئی ، رات کو اللہ دتہ میراثی پرچون کی دکان پر چوری کرتے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا ہے۔ سردار صاحب نے شام کو پنچایت بلا لی۔ پورے گاؤں میں شور برپا تھا۔ شام کو پنچایت ہونے کا۔ آخر شام ہوئی۔ سردار صاحب کے ڈیرے پر تمام لوگ اکٹھے ہوگئے۔ کافی تعداد تھی لوگوں کی۔ حتیٰ کہ پورا گاؤں ہی تھا۔ سامنے والی نشستوں پر سردار صاحب اور گاؤں کے دیگر معززین بیٹھے تھے۔دکان دار اور اللہ دتہ میراثی بھی ساتھ بیٹھے تھے۔ اللہ دتہ سے پوچھا گیا۔ ہاں بھئی بتاؤ تم نے چوری کی ؟ اللہ دتہ مکر گیا۔ کہنے لگا میں نے چوری نہیں کی۔ وہ تو ویسے ہی میں دکان کے سامنے بیٹھا تھا۔ رشید آگیا اور کہنے لگا تو چوری کرنے لگا ہے اور ساتھ مجھے مارنا شروع کردیا۔ میری بات سنتا ہی نہیں تھا۔ میں نے کافی کوشش کی کہ میری بات تو سنی جائے ،لیکن یہ مارنے پر تلا ہوا تھا۔ میں نے زندگی میں کبھی چوری کی ؟ اسی گاؤں میں رہتا ہوں۔ کوئی شخص بتائے کبھی میں نے کسی کی کوئی چیز چرائی ہو۔ میرا تو ماضی پاک ہے ۔ حق حلال کی کھاتا ہوں۔ ماں ،باپ کا دیا ہوا کافی کچھ ہے۔ خود بھی کافی محنت کرتا ہوں۔
پنچایت دکاندار رشید کی جانب متوجہ ہوئی ، ہاں بھئی رشید تم بھی بتاؤ ؟ رشید کہنے لگا میں نے اسے رنگے ہاتھوں پکڑا ہے۔ یہ ساری چیزیں سمیٹ رہا تھا ،میں نے اسے پکڑ لیا۔۔۔ دونوں میں سچا کون ؟ پنچایت پریشان۔ پنچایت نے چھ افراد کے ذمے کام لگا دیا کہ تم انکوائری کرو۔ کوئی گواہ وغیرہ ہے تو اس سے پوچھو ، گاؤں کے دوسرے لوگوں سے پوچھو۔ قسم لے لو۔۔ ”انکوائری کمیٹی ” کو تین دن دیئے گئے۔۔۔ کمیٹی کے ایک رکن نے اللہ دتہ کی بیوی سے جاکر پوچھا۔ کل رات کو اللہ دتہ کہاں تھا ؟ وہ کہنے لگی وہ زمین پر پانی لگانے کیلئے گیا ہوا تھا۔۔۔ ایک رکن نے اس کے بیٹے سے پوچھا جو شہر میں دکان کرتا تھا۔ کل رات کو تمہارے ابو کہاں تھے ؟ وہ کہنے لگا رات کو تو وہ شہر میں تھے۔ دوسرے بیٹے سے پوچھا گیا تو اس کا بیان کچھ اور تھا۔ ”انکوائری کمیٹی ” کو سوفیصد شک ہوگیا ،اللہ دتہ مجرم ہے۔کیونکہ اس نے خود کہا تھا وہ دکان کے سامنے بیٹھا تھا۔ بیٹوں نے کچھ اور۔۔۔اور بیوی نے کچھ بیان دیا۔ ان کے بیان ہی الگ الگ تھے۔ دکاندار رشید نے تو قسم اٹھا لی کہ اس نے چوری کرتے پکڑا ہے۔۔۔ چھ ارکان نے پنچایت کو رپورٹ دے دی کہ اللہ دتہ چور ہے۔ پھر پنچایت لگی اور سردار صاحب نے فیصلہ سنا دیا۔ اللہ دتہ کا سر،مونچھیں مونڈ کرمنہ کالا کرکے گدھے پر بٹھا کر گاؤں کا چکر لگوایا جائے۔ لڑکوں نے اللہ دتہ کو پکڑا ،سر،مونچھیں مونڈدیں اور گدھے پر بٹھا کر گاؤں کا چکر لگوایا گیا ، سے نیچے اتر کر میراثی نے تکبر سے گردن ہلائی اور غصے سے ادھر ادھر دیکھا اور کہنے لگا۔ کیا بگاڑ لیا میرا ؟ کیا کرلیا ؟ کونسی میری بے عزتی ہوئی ؟ بڑی کوشش کی انہوں نے مجھے گدھے سے گرانے کی ، مجال ہے میں گرا ہوں۔ کون مجھے گدھے سے گرا سکتا ہے ؟ آئے تھے بے عزتی کرنے۔۔۔
نوٹ : یہ کالم غیر سیاسی ہے۔ کوئی اسے پاناما کیس سے نہ جوڑ لے۔ شکریہ