naeem-akhtar

عوام اچھی تعبیر کے منتظر

ستر برسوں سے ہم اسلامی جمہوریہ پاکستان کی اچھی تعبیر کے منتظر رہے اور اس دوران مارشل لائی اور جمہوری حکومتیں بھی رہیں مگر عوام کی حالت تو نہ بدلی مگر حکمرانوں نے اپنی حالت ضرور بدلی چاہے انہوں نے ٹیکس بچا کر قومی خزانے کو نقصان پہنچایا یا بیرون ملک ناجائز کاروبار کیا ہو یا غیر ملکی ایجنٹی کر کے ملک کے اہم راز بیچے ہوں جو کہ اب آہستہ آہستہ سامنے آ رہے ہیں، ہوتا یہ رہا ہے کہ ریٹائرمنٹ کے بعد سیاستدانوں نے ملک میں رہنے اور کاروبار کرنے کے بجائے بیرون ملک رہنا اور کاروبار کرنا پسند کیا۔ اور ایسے ہی لوگ محب وطن اور خود کو باضمیر کہتے ہیں۔ ابھی تو صرف پانامہ سکینڈل سے ایک ہی خاندان بے نقاب ہو رہا ہے اور بھی خاندانوں کے چہروں سے نقاب اترنے ہیں جن میں شریفوں اور زرداریوں کے کارنامے نمایاں ہیں جو ہر دور میں سازشوں کا گن گاتے رہے ہیں اور یہ جانتے ہوئے بھی کہ سازشی کون ہیں پردہ پوشی کر کے مجرموں یا ملزموں کے شریک کار رہے ہیں۔ زرداری اینڈ کو جو کہ ٹین پرسنٹ کی شہرت رکھتے ہیں اور بینظیر و مرتضیٰ بھٹو کے قاتلوں کو جانتے ہوئے قاتلوں کو سزا نہ دلوا سکے گویا انہوں نے بھی پردہ پوشی کر کے مجرموں کا ساتھ دیا۔ عوام احتساب کا مطالبہ کرتے رہے مگر کوئی راہ دکھائی نہ دیتی تھی مگر فرعونوں میں موسیٰ کے ظہور کے مصداق آج بھی کوئی معجزہ ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ کاش کہ منصف کے مسند پر بیٹھے لوگ یہ جان کر کہ ہم نے بھی کائنات کے محتسب اعلیٰ کے آگے اپنے اعمال کا جواب دینا ہے اب یہ کام اپنے ہی دور منصب میں رہتے کر جائیں اور عوام کو وہ مستقبل کی تعبیر جو قیام پاکستان کا نظریہ و مقصد تھا مل سکے۔ تعجب ہوتا ہے کہ دستاویزی ثبوت آنے پر بھی کہتے ہیں کہ ہم نے کرپشن یا بددیانتی نہیں کی بلکہ عدالتوں کا تمسخر اڑاتے ہیں کبھی کہتے ہیں ہمیں اعتماد ہے اور کبھی کہتے کیا جمعہ بازار لگا رکھا ہے اور تو اور صوبائی وزیر قانون بھی جے آئی ٹی کو ’’جن‘‘ کمیٹی کہتے ہیں۔ نو جلدیں آنے پر کہتے ہیں کہ یہ تو عمران کی زبان ہے دسویں جلد کیوں نہیں آئی ۔ مجھ جیسا ہو سکتا ہے کہ غلط ہو مگر یہ سمجھتا ہے کہ کمیٹی کی فائنڈنگ رپورٹ ہی تو نچوڑ ہے کیس کا جو سپریم کورٹ میں پیش ہوئی وہ کیسے فیصلے سے پہلے ظاہر کر دی جاتی۔ اب جبکہ جے آئی ٹی کی فائنڈنگ رپورٹ عدالت عظمیٰ میں پیش ہو چکی ہے اس پر فیصلہ آنے دیں اس وقت تک تمام سیاسی جماعتوں اور حکومتی حلقوں کو ایسی بیان بازی سے گریز کرنا چاہیے جو فیصلہ کو متنازع بنا دے۔ بار بار جس تیسری قوت کو آنے پر اصرار کیا جا رہا وہ بھی بڑے تحمل سے تمام حالات پر نظر رکھے ہے اگر یہی صورت حال رہی تو ملکی مفاد میں کوئی بھی آخری اقدام ہو سکتا ہے جس کی ذمہ داری حکمرانوں اور سیاسی جماعتوں پر عائد ہو گی۔ بعض سیاستدانوں اور حکومتی حلقوں میں ایسے بھی ہیں جو ملک سے فرار کی راہ دیکھ رہے ہیں کہ کہیں وہ لپیٹ میں نہ آجائیں۔ بہتر ہے کہ عدالت عظمیٰ سب سے پہلے تمام سیاستدانوں اور حکمرانوں کے باہر جانے پر پابندی لگائے۔ اس کے ساتھ نہ صرف فائنڈنگ کمیٹی کے ارکان کو تحفظ دیا جائے بلکہ جو جوان کے معاون ومددگار رہے انہیں بھی تحفظ دیا جائے۔ پانامہ فیصلے کے فوری بعد منظر میں آنے والے لوگوں کو بھی احتساب کے عمل سے گزارا جائے۔ اگر اب بھی ایسے لوگوں کا احتساب نہ ہوا تو پھر کبھی بھی نہ ہو سکے گا اور عوام میں جو خود رو انقلاب کا لاوا پک رہا ہے اگر وہ پھٹ پڑا تو سب کچھ بہا لے جائے گا۔ عدالت عظمیٰ ایک مثالی کردار ادا کرے تا کہ ذیلی عدالتیں بھی بے خوف ہو کر قانون کے مطابق زیر سماعت مقدمات کا جلد صحیح فیصلہ کر سکیں۔ یہ سمجھ سے بالاتر ہے کہ آزاد اور خود مختار ہونے کے باوجود بیرونی دباؤ کیوں قبول کیا جاتا ہے جبکہ ان کے مشاہرے بھی معقول ہیں۔ عوام تو مسائل کے حل کے لیے ایوانوں میں اپنے نمائندے بھیجتے ہیں مگر وہ عوام کو بھول کر اپنے مفادات کا تحفظ کرتے نظر آتے ہیں اوپر سے قانون و آئین کو کاغذ کا پلندہ اور ردی جان کر عوام کا تمسخر اڑاتے ہیں چونکہ وہ بھولے بھالے ہیں کہ ان کی باتوں میں آجاتے ہیں۔ اب عوام کو بھی ہوش آجانا چاہیے کہ صحیح و غلط کی تمیز کریں اور دیانت دار اور بردبار قیادت کا انتخاب کریں۔ بار بار کے آزمائے ہوؤں سے جان چھڑائیں۔ آثار دکھائی دیتے ہیں کہ انتخابات جلد نہ کرا دیے جائیں لہٰذا الیکشن کمیشن کو دیانتداری سے امیدواروں کے کاغذات کی پڑتال کرنی چاہیے، امیدوار کے ٹیکس گوشوارے، آمدن اور اثاثے جات کے علاوہ آمدن کے ذرائع کی معلومات حاصل کرنی چاہیے۔ یہی نہیں ان کے کردار کی بھی پرکھ ہونی چاہیے تا کہ 62 ، 63 کا بھی اطلاق ہو سکے۔