Khalid Bhatti

عوامی مسائل پر سیاست نہ کریں

پاکستان کے حکمران طبقات چاہتے ہیں کہ سیاسی جماعتیں، میڈیا اور عوام صرف ان مسائل پر سیاست کریں جن کو وہ اہم سمجھتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عوام کی توجہ صرف ان مسائل کی طرف مرکوز رہے جو دراصل عوام کے مسائل نہیں ہیں۔ حکمران چاہتے ہیں کہ سیاست، میڈیا اور عوام کی بحثوں میں ان کے فروعی اختلافات اور مصنوعی مسائل چھائے رہیں۔ حکمران چاہتے ہیں کہ عوام اس بحث میں الجھے رہیں کہ عمران خان کی تیسری شادی ہوئی ہے یا نہیں۔ عمران خان اور شہباز شریف میں سے کون اگلا وزیراعظم بنے گا۔ اگلے انتخابات وقت پر ہوں گے یا نہیں۔ سینٹ الیکشن میں مسلم لیگ (ن) اکثریتی جماعت کے طورپر ابھرے گی یا نہیں۔ شریف خاندان کے آپسی خاندانی تعلقات بہتر ہوں گے یا پھر بداعتمادی بڑھے گی۔ ملک کی اصل طاقتیں کس کو نیا وزیراعظم بنوانا چاہتی ہیں۔
مگر حکمران طبقات یہ نہیں چاہتے کہ عوام کے اصل مسائل زیر بحث آئیں۔ محنت کش عوام کے حقیقی مسائل اور مشکلات سیاست کا محور اور مرکز نہ بنیں۔ پنجاب کے حکمران چاہتے ہیں کہ ان سے یہ نہ پوچھا جائے کہ زینب کے قاتل کب گرفتار ہوں گے؟ ان سے یہ سوال نہ کیا جائے کہ قصور کی پولیس نے بچوں کے ساتھ زیادتی اور قتل کے پے درپے واقعات کو سنجیدگی سے کیوں نہ لیا اور بروقت کارروائی کیوں نہ کی۔ سندھ کے حکمران چاہتے ہیں کہ کسان شوگرملوں کی بندش اور گنے کی کم قیمت کے خلاف احتجاج نہ کریں بلکہ موجودہ صورت حال کو اپنی قسمت کا لکھا سمجھ کر قبول کرلیں۔ بلوچستان کے حکمران نہیں چاہتے کہ ان سے پوچھا جائے یا اس بات پر بحث ہو کہ 18ویں ترمیم کے بعد بلوچستان کو ملنے والی اضافی رقم اور اختیارات کے باوجود بلوچستان کی پسماندگی ، غربت ، بے روزگاری اور جہالت میں کمی کیوں نہیں ہورہی۔ KPK کے حکمران یہ نہیں سننا چاہتے کہ ان کی اور باقی صوبوں کی معاشی، سماجی اور سیاسی پالیسیوں میں کیا فرق ہے۔ کیا KPK کے عوام کے معاشی اور سماجی مسائل حل ہو گئے ہیں؟
پاکستان کے اصل حکمران یہ پسند نہیں کرتے ان کی افغان پالیسی پر بات کی جائے۔ ان کی امریکہ پر انحصار کی پالیسی کو زیر بحث لایا جائے۔ بار بار کی فوجی مداخلتوں کے اثرات پر بات کی جائے۔ لوگوں کی زبانیں بند کروانے اور ان کو سبق سکھانے کے غیرقانونی ہتھکنڈوں کو زیربحث لایا جائے۔ قومی سلامتی پالیسی اور داخلی پالیسی پر سوالات کھڑے کئے جائیں۔
بحیثیت مجموعی پاکستانی حکمرانوں کی خواہش ہے کہ بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے اور انہیں قتل کرنے کے خلاف احتجاج نہ کیا جائے۔ لوگ اپنے مشتعل جذبات اور غصے کا اظہار کرنے کی بجائے اپنے گھروں میں بند ہوکر ان واقعات پر افسوس کریں یا پھر رولیں مگر سڑکوں پر احتجاج نہ کریں۔ حکمرانوں کی ان معاشی پالیسیوں کے خلاف آواز نہ اٹھائیں جو عوام کی غربت، بے روزگاری ، جہالت، پسماندگی اور معاشی بدحالی کا باعث بن رہی ہیں۔ بڑھتی ہوئی مہنگائی، بے روزگاری ، معاشی ابتری طبقاتی تفریق اور انصاف کی عدم فراہمی کے خلاف احتجاج نہ کریں۔ اس پر بحث نہ کریں اگر کسانوں کو فصلوں کی اچھی قیمت نہ ملے، شوگر ملیں ان سے گنا نہ خریدیں تو وہ اسے تقدیر کا لکھا سمجھ کر برداشت کریں صبر کریں اور اچھے دنوں کا انتظار کریں۔ مگر احتجاج نہ کریں آواز نہ اٹھائیں۔ پولیس کے ظلم ،ناانصافی اور جبر کے سامنے سرجھکائے رکھیں، اس کے خلاف مزاحمت نہ کریں اور نہ ہی آواز بلند کریں۔
ریاستی مسائل پر مٹھی بھر اشرافیہ کا مکمل اختیار اور قبضہ تسلیم کریں اور اس پر نہ تو کوئی سوال اٹھائیں اور نہ ہی اعتراض کریں۔ برطانوی سامراج کے بنائے ہوئے فرسودہ گلے سڑے عدم فعالیت کا شکار اور جدید تقاضوں سے ہم آہنگی نہ رکھنے والے استحصالی اور ظالمانہ نظام کو سینے سے لگائے رکھیں اور اس کو بدلنے کا مطالبہ اور کوشش نہ کریں۔ اپنے مادی حالات اور معیار زندگی کو بدلنے کی اجتماعی کوشش اور جدوجہد ترک کردیں۔ غربت، افلاس، لاچارگی اور ذلت کی زندگی کو اپنی قسمت، تقدیر اور قدرت کا لکھا سمجھ کر تسلیم کرلیں۔ موجودہ معاشی، ریاستی، سماجی اور سیاسی ڈھانچے کو حتمی حقیقت اور آخری سچ مان لیں اور خاموشی سے سرجھکا کر کولہو کے بیل کی طرح زندگی کے دن پورے کریں۔ عدالتیں انصاف نہ دیں تو بھی ان کی عظمت کے گیت گائیں۔ حکمران امیر سے امیر تر عوام غریب سے غریب ترین ہوتے جائیں۔ پڑھے لکھے نوجوان ڈگریاں ہاتھوں میں لئے سڑکوں پر جوتے چٹخاتے پھریں ، کارخانے اور فیکٹریاں بند ہورہی ہوں تو بھی حکمرانوں کے قصیدے گائیں اور ان کی معاشی پالیسیوں کو خراج تحسین پیش کریں۔ ہرطرف طبقاتی جبر اور ناانصافی کا دور دورہ ہو تو بھی حکمرانوں کے عدل، انصاف اور انسان دوستی کے قصے سناؤ اور ان پر واہ واہ کرو تو پھر آپ حب الوطنی کی تعریف پر پورا اترتے ہیں۔ یہی حکمرانوں کے نزدیک عوام کے جمہوریت پسند ہونے کا معیار اور اصول ہے۔ اگر آپ ان اصولوں اور معیاروں پر پورا نہیں اترتے تو پھر آپ جمہوریت، آئین اور قانون کے خلاف سازشوں میں مصروف ہیں۔
ہمارے حکمران دراصل چاہتے ہیں کہ عوام رعایا بن کر رہیں جن کے کوئی متعین حقوق نہیں ہوتے۔ وہ حکمرانوں کے رحم وکرم پر ہوتے ہیں جبکہ شہریوں کے متعین حقوق ہوتے ہیں ، حکمرانوں کے آئینی فرائض اور بنیادی ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ہمارے حکمرانوں نے سیاست کو گالی اور کاروبار بنادیا ہے۔ پاکستان کے غریب اور محنت کش عوام کو سیاسی عمل سے باہر نکال دیا گیا ہے۔ کئی دہائیوں کے عمل، پروپیگنڈے، طاقت اور سرمائے کے زور پر سیاست کے فروغ نے اس سوچ اور فکر کو عام اور راسخ کیا ہے کہ سیاست توصرف سرمایہ داروں، جاگیرداروں، مخصوص خاندانوں اور طاقتور افراد کے کرنے کا کام ہے لہٰذا مزدوروں، کسانوں، غریبوں، درمیانے طبقے اور عام لوگوں کا اس سارے معاملے سے کیا تعلق ہے۔ ان کا کام تو محض ووٹ ڈالنا یا پھر زیادہ سے زیادہ اپنے پسندیدہ رہنما یا پارٹی کے حق میں نعرے لگانا ہے۔
ہمارے حکمرانوں کی سب سے بڑی سیاست ہی یہ ہے کہ عوام سیاست سے لاتعلق رہیں تاکہ حکمرانوں کا سیاسی غلبہ اور تسلط قائم رہے ۔ کیونکہ جب عوام کی واضح اور غالب اکثریت سیاسی طورپر متحرک ہوتی ہے تو پھر سیاست صرف حکمرانوں کے مسائل یا ترجیحات کے گرد نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اصل مسائل مشکلات اور تکالیف ایجنڈے کا حصہ ہوتی ہیں۔ عوام سیاسی جماعتوں سے پوچھتے ہیں کہ ان کے پاس عوام کے مسائل کے حل کا کونسا پروگرام اور منشور ہے ۔ وہ کس طرح بے روزگاری، مہنگائی بدعنوانی ، لوٹ مار، طبقاتی تقسیم، ناانصافی، استحصال اور جبر کا خاتمہ کریں گے۔ اور ملک میں مساوات ، حقیقی جمہوریت، سماجی و معاشی انصاف اور عوام کی بنیادی ضروریات زندگی اور سہولیات کو یقینی بنائیں گے۔ حکمرانوں نے یہ وتیرہ بنالیا ہے کہ جیسے ہی محنت کش عوام کا کوئی حصہ مزدور کسان ، طالب علم یا خواتین کسی بھی زیادتی، ظلم یا ناانصافی کے خلاف آواز اٹھاتے ہیں اور حزب مخالف کی کوئی جماعت
اور میڈیا اس مسئلے کو اجاگر کرتی ہے تو وہ شورمچا دیتے ہیں کہ دیکھیں یہ اس مسئلے پر سیاست کررہے ہیں۔ کوئی ان سے پوچھے کہ عوامی مسائل پر سیاست نہیں ہوگی تو پھر کیا ان کی شادیوں، بدعنوانیوں اور بری حکمرانی کی کہانیوں اور مقابلے کی سیاست ہوگی۔
پنجاب حکومت کے وزیروں اور ترجمانوں نے اس وقت یہی طرز عمل اختیار کیا ہوا ہے۔ زینب کے بہیمانہ قتل اور جنسی درندگی کے خلاف احتجاج ہوتو یہ فرماتے ہیں کہ سیاست ہورہی ہے۔ اسی طرح جب ان سے یہ پوچھا جائے کہ زینب کے قاتل کب گرفتار ہوں گے اور وہ جنسی درندہ کب اپنے انجام کو پہنچے گا جو کئی معصوم بچیوں کے قتل اور درندگی کا ذمہ دار ہے تو جواب ملتا ہے کہ سیاست ہورہی ہے۔ اس حوالے سے پیپلزپارٹی پنجاب کے صوبائی جنرل سیکرٹری، سینئر مرکزی رہنما اور عوامی دانشور چوہدری منظور نے بالکل درست جواب دیا ہے۔ انہوں نے ایک نجی ٹی وی کے پروگرام میں اظہار خیال کرتے ہوئے فرمایا کہ وہ ایسی سیاست پر لعنت بھیجتے ہیں جو لوگوں کو خاموش کرواتی ہے۔ لوگوں کو بے بسی کا درس دیتی ہے اور بے غیرت بناتی ہے۔ انہوں نے یہ بھی فرمایا کہ پہلے واقعات پر وہ صرف اس لیے خاموش رہے کہ وہ نہیں چاہتے تھے کہ کسی کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ وہ منفی سیاست کررہے ہیں مگر جب لوگ احتجاج کررہے ہوں اور وہ پولیس کی نالائقی اور نااہلی کے خلاف پھٹ پڑے ہیں تو ان کے ساتھ کھڑے ہونا اور ظلم و ناانصافی کے خلاف آواز اٹھانا ان کی ذمہ داری ہے۔
ایسی سیاست پر لعنت بھیجنے کی ضرورت ہے جو اشرافیہ کے مفادات کے گرد گھومتی ہے اور عوام کو سیاسی عمل سے دوررکھنے کی کوشش کرتی ہے۔ پاکستانی سیاست کو چوہدری منظور جیسے نظریاتی رہنماؤں اور دانشوروں کی ضرورت ہے جو عوامی مسائل کو اپنی سیاست کا محور اور مرکز بنائے ہوئے ہیں۔