Khalid Memood

عدم اعتماد

روایت ہے کہ دوران سفر عراق میں یونیورسٹی طالبہ کی تنہائی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے محکمہ ٹریفک کے دو اہلکاروں نے اس کے ساتھ انتہائی انسانیت سوز سلوک کیا۔
جس نے موصوفہ کو ذہنی خلش کا شکار کر دیا۔ غریب خاندان سے تعلق رکھنے کی بناء پر یہ اپنے آپ کو بے بس تصور کرنے لگی۔ باوجود اس کے کہ موصوفہ نے والدین کے ہمراہ انصاف کے ہر دورازے پر دستک دی لیکن مایوسی اور ناامیدی ہی اس کا مقدر ٹھہری۔ اسی لا چارگی میں مبتلا طالبہ نے اک روز اپنے ساتھ ہونے والی جنسی زیادتی کا تذکرہ اپنی سہیلی کے والد سے کیا انہوں نے صورت حال کا جائزہ لے کر مشورہ دیا کہ وہ صدام حسین کے محل جا کر عرض داشت پیش کرے انہیں کامل یقین ہے کہ عراقی صدر ان کی بھرپور مدد کریں گے۔ متاثرہ طالبہ نے اس پر عمل کرتے ہوئے صدارتی محل کی راہ لی اور انصاف کے لیے دستک دی۔ جس طرح ہر صدارتی محل کے باہردربان شاہ سے زیادہ شاہ کی وفاداری کا عملی مظاہرہ کرتے ہیں ایسی ہی صورت حال کا طالبہ کو بھی سامنا تھا۔ حسن اتفاق تھا کہ صدام حسین مرحوم کے کانوں کے پردہ سے طالبہ کی چیخ وپکار ٹکراگئی وہ فورا باہر نکل آئے اور صورت حال کا جائزہ لیا۔ موصوف نے طالبہ کو مہمان خانے میں آنے کی دعوت دی اور اسی موقع کو غنیمت جان کر طالبہ نے اپنی داستان غم سنا کر دل کا بوجھ ہلکا کیا۔ اس کا اثر صدام حسین کے دل پراتنا ہوا کہ انہوں نے بغیر پروٹوکول طالبہ کے ہمراہ جانے کا فیصلہ کیا۔ متعلقہ محکمہ سے ان ملزمان کے نام اور ایڈریس حاصل کیے طالبہ سے استفسار کیا کہ وہ ان کے چہرے پہچان لے گی، طالبہ کے مثبت جواب نے انہیں حوصلہ دیا۔ انہوں نے طالبہ کو جیپ میں سوار کیا اور اہلکار کے گھر پے دستک دی۔ دروازہ اہلکار نے ہی کھولا۔ طالبہ کی طرف سے شناخت کی تصدیق کے بعد موصوف نے جیب سے پسٹل نکالا اور سیدھا اس کے سینے میں فائر کردیا۔ اس کے بعد جیپ میں سوار ہوئے اور دوسرے محکمہ ٹریفک کے اہلکار کے گھر کی راہ لی۔یہی عمل وہاں بھی دہرایا۔ کہا جاتا ہے کہ اس کے بعد کسی فرد کو یہ جرأت نہیں ہوئی کہ وہ کسی طالبہ یا خاتون کی عزت پے ہاتھ ڈال سکے۔
قصور میں ہونے والے دلخراش واقعہ کے تناظر میں حالات اب اس کے متقاضی ہیں کہ اس طرز کے درندوں کو نشان عبرت بنانے میں معمولی تاخیر بھی ناانصافی کے مترادف ہوگی۔پھر وقت گزرنے اور گرد بیٹھنے کے ساتھ ہی انتظامیہ بھی سست روی کا شکار ہو جا تی ہے تا وقتیکہ خدانخواستہ نیا سانحہ وقوع پزیر ہو جائے۔ دکھائی تو یو دیتا ہے کہ انتظامیہ اسکی منتظر رہتی ہے۔
اب تو عوامی حلقوں کی جانب سے عبرت ناک سزا کا مطالبہ سامنے آ رہا ہے۔ دین اسلام میں سخت ترین سزاؤں کے اطلاق کا فلسفہ ہی پر امن معاشرے کا قیام ہے بد قسمتی سے امت مسلمہ کی پہلی خاتون وزیر اعظم ان سزاؤں کو ظالمانہ کہتی تھی۔ہمارے پاس سزاء اور جزاء کے بھی الگ الگ پیمانے ہیں۔ اس میں بڑا عمل دخل عدالتی نظام اور طریقہ تفتیش کا ہے جس پر ہماری عدالت عظمی بارہا تحفظات کا اظہار کرچکی ہے۔ اس کے باوجود کسی پولیس آفیسر کو کٹہرے میں لا کر سزدلوانے میں ناکام رہی ہے۔ قانونی موشگافیوں نے نہ صرف ناقص تفتیش کی بدولت مجرمان کو بچ نکلنے کا نادر موقع فراہم کیا بلکہ تفتیش کاروں کا بھی کوئی بال بیکا نہیں کرسکا دوسرا محکمہ پولیس میں سیاسی مداخلت انتہا کو پہنچ چکی ہے ان حالات میں ایماندار آفیسر بھی دیانتداری سے فرائض منصبی انجام دینے سے قاصر رہتے ہیں۔ محکمہ تعلیم کی طرح محکمہ پولیس بھی نت نئے تجربات سے گزر رہا ہے نئی نئی فورس وجود میں آرہی ہے لیکن نہ تو پولیس کلچر ہی تبدیل ہو پایا ہے نہ ہی عوام کا محکمہ پر اعتماد بحال ہوا ہے۔ محکمہ پولیس کا طرز عمل آج بھی سامراجی سوچ کا عکاس ہے۔مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی والا معاملہ ہے۔
یونین کونسل کے چیر مین سے لے کروزراء کرام تک سیاسی مخالفین کو زیر کرنے کے لیے پولیس بطور ہتھیار استعمال کرتے ہیں دونوں ایک دوسرے کے مفادات کا تحفظ کرتے ہیں۔ ہمہ قسم کے مافیاز کے ڈانڈے پولیس سے ملتے ہیں جرائم پیشہ افراد ان کی زیر نگرانی جلوہ افروز ہوتے ہیں۔ عام آدمی کی اس بات میں بڑا وزن ہے کہ اگر قصور میں پہلی اغواشدہ بچی کے ملزمان کو نشان عبرت بنایا جاتا توعوام کو سرکاری دفاتر تک مارچ کرنے کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوتی۔ قومی سطح پر جس طرح تمام شعبہ ہائے زندگی میں ایڈہاک ازم پالیسی روا رکھی جارہی ہے اسی طرح کے کسی سانحہ کے بعد پوری سرکاری مشینری متحرک ہو جاتی ہے اس بار نیا اضافہ آ رمی چیف کی جانب سے ملزمان کی گرفتاری اور عبرت ناک سزا کا عندیہ عوامی جذبات کو ٹھنڈا کرنے لیئے ہے جو اس بات کی جانب واضح اشارہ ہے کہ سول انتظامیہ عوام کے جان و مال کے تحفظ اور قیام امن میں ناکام دکھائی دیتے ہیں امن امان کے نام پر بھاری بھر فنڈز کی فراہمی بہت سے سوالات کو جنم دیتی ہے۔
ماہرین کا خیال ہے کہ محض طاقت کا استعمال جرائم کی روک تھام کے لیے کافی نہیں۔ سماج میں دیگر اقدامات بھی لازم ہیں دنیا میں ناروے ہی و ہ واحد ریاست جہاں کوئی قیدی نہیں اسکی جیلیں بڑے بڑے ریستوران میں بدل چکی ہیں۔ یہ ملک دنیا کے لئیے اک رول ماڈل ہے۔ ہمارے قانون ساز ادارے اس کے تجربات سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں
ضرورت اس امر کی ہے کہ جرائم کے خلاف سماجی سطح پر ایک تحریک بپا کی جائے جس میں سماج کے تمام طبقات کو اپنا حصہ ڈالنا چاہیے فی زمانہ میڈیا عوام پے اثر انداز ہونے والا سب سے بڑا ذریعہ ابلاغ ہے۔ اک طبقہ سماجی بے راہ روی کا ذمہ دار میڈیا ہی کو قرار دیتا ہے الیکٹرانک میڈیا نسل نو کو مافوق الفطرت ماحول اور خیالی دنیا کا باسی بنا رہا ہے۔ اک تخیل سسکی طرف راغب کر رہا ہے جسکا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ انفارمیشن ٹیکنالوجی نے اخلاق سوز مٹیریل تک رسائی اتنی آسان کردی ہے کہ نسل نو میں سے ہر ایک رسیا دکھائی دیتا ہے۔ایڈوینچر کی خیالاتی دنیا میں پرواز کرنے والا جرم کے ارتکاب کو اسی عینک سے دیکھتا ہے۔
گذشتہ چند سالوں میں سماجی سطح پر بڑے دلخراش واقعات پیش آئے ہیں۔ اس میں شامل ملزمان کو نشانہ عبرت بنانے کی بجائے انہیں سست عدالتی نظام کے رحم و کرم پے چھوڑ دیا جاتا ہے جس سے جرائم پیشہ افراد کے حوصلے بلند ہوتے ہیں۔ جبکہ متاثرین نظام عدل سے مایو س ہو کر خود انتقام کی راہ پر گامزن ہو کر قانون کو ہاتھ میں لینے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ اگرچہ بعض مجرمان زندان میں بھی ڈال دئیے جاتے ہیں مگر جیل کا ماحول انہیں بڑے مجرم بنا کر سماج کے حوالے کرتا ہے یہ جیل جا کر وہاں اپنی دنیا آپ پیدا کرلیتے ہیں۔
ارباب اختیار نے سیاسی مداخلت سے پاک پولیس کی تربیت خالصتاً پیشہ ورانہ بنیاد پر کی ہوتی تو ہمیں سکاٹ لینڈ یارڈ سے معروف مقدمات کی تفتیش کی ضرورت ہی پیش نہ آتی یہ رویہ اپنے سکیورٹی کے نظام پر عدم اعتماد کے مترادف ہے۔
ستر سال کی طویل مدت کے بعد محکمہ پولیس اور انتظامیہ کی اس سے بڑی نااہلی کیا ہوگی کہ کسی بھی شہر میں غیرمعمولی واقعہ کے ما بعد اثرات سے اس کے ہاتھ پاؤں پھول جائیں اور اسے امداد کے لیے فوج اور رینجرز کو طلب کرنا پڑے۔