tariq mehmood ch

عجلت، نہ تاخیر

فراہمی انصاف صرف ایک پراسس کا نام نہیں بلکہ یہ فیصلہ سازی میں توازن کا نام ہے۔ کسی ماہر قانون نے کبھی بتایا تھا کہ نظام انصاف کا بنیادی فلسفہ یہ ہے کہ ہو سکتا ہے کہ بہت سے گناہ گار قانون کے شکنجہ سے بچ نکلنے میں کامیاب ہو جائیں۔ لیکن کسی بے گناہ کو سزا نہیں ملنی چاہئے۔ لہٰذا انصاف کی فراہمی سے منسلک اداروں اور افراد کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ نظام کو اتنا فول پروف بنائیں کہ کوئی بے گناہ شخص سزا نہ پائے۔ قانون اور انصاف کا ایک اور فلسفہ بھی ہے۔ ایک طرف کہا جاتا ہے کہ انصاف میں تاخیر، اس سے محرومی کا باعث بن جاتی ہے۔ دوسری جانب یہ بھی کہا گیا ہے کہ فراہمی انصاف کے عمل میں عجلت، انصاف کو دفن کرنے کا موجب بھی بن سکتی ہے۔ اب بظاہر یہ دونوں فلسفے ایک دوسرے کی ضد، دو انتہاؤں پر گھڑے نظریئے۔ ایک دوسرے سے متصادم نظر آتے ہیں۔ لیکن نہیں۔ ایسا ہر گز نہیں۔ یہ دونوں ایک دوسرے کے متضاد نہیں بلکہ ایک ہی تصویر کے دو مختلف رخ ہیں۔ دراصل نظام کی اساس ہی اس فلسفہ پر ہے جس کا بنیادی مقصد ہی یہ ہے کہ نہ تو انصاف کرتے وقت اتنی تاخیر ہو جائے کہ سائل بے بنیاد ہوچکا ہو اور نہ ہی اتنی عجلت کر دی جائے کہ انصاف کے حصول کی امنگیں ہی دفن ہو جائیں اور متاثرہ فریق کو یہ کہنے کا موقع ملے کہ اس کے ساتھ ناانصافی ہو گئی ہے۔ قارئین کے ذہن میں یہ سوال پیدا ہوا ہوگا کہ حالات حاضرہ، سیاست، پارلیمانی امور، خارجہ پالیسی، دفاع، ادب، موسیقی اور عام آدمی کی زندگی سے جڑے مسائل پر قلم گھیسٹنے کا عادی قلمکار اچانک یہ کس شعبہ کی طرف جا نکلا۔ شعبہ اور موضوع بھی ایسا جہاں ذرا سی لغزش کسی قانونی کڑکی میں پھنسا دینے کیلئے کافی ہے۔ کوئی ذرا سی غلطی ہوئی تو، توہین عدالت کی تلوار سر پر لٹکتی نظر آتی ہے۔ ادھر اس کا ارتکاب ہوا۔ ادھر وہ تیز دھار تلوار کٹ سے گردن پر۔ یہاں تو حالت یہ ہے کہ وکیل کو دینے کے لئے فالتو پیسے بھی موجود نہیں۔ اجداد کا تعلق تو خیر ایسے مشاغل سے تھا کہ زیادہ تر وقت تھانے کچہری میں ہی گزرتا تھا۔ وہ واحد جگہ تھی جہاں عدالتی اکھاڑوں میں مریضوں سے برسرپیکار ہوتے ہیں وہ نہایت دل جمعی سے حصہ لیا کرتے تھے۔ لیکن یہ سب ایک نسل پہلے تک تھا۔ شہری آب و ہوا اور بابو گیری نے کہیں کا نہ چھوڑا۔ البتہ تھانے کچہری کے معاملات، عدالتوں میں دیوانی و فوجداری مقدمات کا سامنا۔ تاریخوں پر جانا، یہ سب کچھ بہت قریب سے بچشم خود مشاہدہ کار کی حیثیت سے دیکھا ہے۔ لہٰذا اب بزدلی کو اپنا شعار بنا رکھا ہے۔ لہٰذا ایک مشاہدہ کار کی حیثیت سے معلوم ہے کہ حصول انصاف کس قدر طویل، پیچیدہ اور مہنگا عمل ہے۔ بقول کسی گھاک مقدمہ باز کے، اپنا گھر پھونک کر تماشہ دیکھنے والی بات ہے۔ زمین، زیور، مال مویشی تک بک جاتا ہے۔ سر کے بالوں میں سفیدی اتر آتی ہے۔ لیکن انصاف کی فراہمی پھر بھی یقینی نہیں۔ سیکڑوں نہیں ہزاروں ایسے ہیں جو پلاسٹک کے لفافوں میں میلے کچیلے کاغذات ہاتھوں میں اٹھائے وکیلوں کے پھٹوں پر مایوس بیٹھے نظر آتے ہیں۔ لیکن یہ عشروں سے آئے روز کا معمول ہے۔ وہ تمام ممالک جو کبھی ملکہ برطانیہ کے زیرنگین، غلاموں کی منڈی بن کر رہے جو آج کامن ویلتھ کہلاتے ہیں۔ ویلتھ تو جانے سے بہت پہلے گھاک، عیار، تاجر پیشہ انگریز لے گئے۔ لیکن اپنی سابق کالونیوں کو جو مسائل و مشکلات وہ دے کر گئے، وہ سب کے سب کامن ہیں۔ ہندوستان، پاکستان، بنگلہ دیش، سری لنکا اور وہ تمام افریقی ممالک الگ۔ ایسے قانون اور جوڈیشل سسٹم کو آزادی کے بعد بھی لے کر چل رہے ہیں۔ البتہ خیروبرکت کیلئے نام اور ٹائٹل ضرور بدل گئے ہیں۔ انگریزوں کا بنایا ہوا قانون اس حد تک بدلا؟ اس کا متبادل کیا ہو سکتا ہے۔ کوئی متبادل موجود بھی ہے یا نہیں۔ یہ ایک لمبی بحث ہے۔ انسانوں کا بنایا ہوا کوئی ضابطہ، قانون پرفیکٹ نہیں ہوتا۔ اس میں تبدیلی کی جا سکتی ہے۔ اس کو بہتر بنایا جا سکتا ہے۔ کیونکہ سارے قاعدے، ضابطے قانون، تعزیریں انسانوں کی بہتری اور معاشرہ کو جنگل میں تبدیل ہونے سے بچانے کیلئے ہیں۔ سپریم کورٹ کے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار کا لاہور میں خواتین ججوں کی تقریب سے خطاب، گزشتہ کئی روز سے موضوع بحث ہے۔ ہمارا سیاسی ماحول ایسا ہے کہ لوگ ایسی چشم کشا باتوں کو بھی خاص تناظر میں دیکھتے اور سمجھتے ہیں۔ خاص معنی و مفہوم بہت نئے اور بین السطور، کچھ اخذ کرتے ہیں شاید وہ درست بھی ہوں کیونکہ اداروں اور شخصیات کے حوالے سے ہمارا ماضی بھی ہے۔ یہ ماضی واحد چیز ہے جو تبدیل نہیں ہو سکتا۔ عدالتی تاریخ کے وہ سارے فیصلے ہمارا ماضی ہیں۔ ماضی کا یہ بوجھ ہم اپنے کندھوں سے اتار کر پھینک تو سکتے ہیں لیکن پھر بھی یہ بوجھ کسی نہ کسی گٹھری کی صورت میں پڑا اچانک نظر آ جاتا ہے۔ خاص طور پر کسی ایسے نئے فیصلے کی شکل میں۔ گڑے مردے پھر سانس لیتے نظر آتے ہیں۔ جو نئے مباحثے کا ایک خاص تناظر ہوا کرتا ہے۔ لیکن میرے خیال میں چیف جسٹس صاحب کی تقریر کو کسی خاص واقعہ کے تناظر میں دیکھنے کی بجائے اسے انصاف سے محرومی کا شکار عام آدمی کے نقطۂ نظر سے پرکھا جائے۔ اس قلمکار کے خیال میں منصف، منصف ہوتا ہے۔ وہ عورت یا مرد نہیں ہوتا۔ اس کا کام انصاف فراہم کرنا ہے۔ لہٰذا اس موقع پر اصل اہم بات منصف اعلیٰ کی تقریر ہے۔ بھارت کی طرح پاکستان میں بھی سپریم کورٹ لیول پر ہزاروں مقدمات تاخیر اور عدم تکمیل کا شکار ہیں۔ بھارت بڑا ملک ہے۔ اس میں زیر التواء مقدمات کی تعداد لاکھوں میں ہے۔ سائل کو شکایت ہے کہ وقت، پیسہ اور صحت سب کچھ برباد کر کے بھی فراہمی انصاف یقینی نہیں۔ لیکن چیف جسٹس میاں ثاقب نثار درست کہتے ہیں۔ جج کا کام صرف مقدمات کو نمٹانا ہی نہیں بلکہ ان مقدمات کا درست ترین فیصلہ کرنا ہوتا ہے۔ درست ترین فیصلہ۔ لیکن ایسا فیصلہ جو قانون کے مطابق ہو۔ کسی جج کو وہ ضلع لیول کی عدالت ہو یا اعلیٰ ترین عدالت میں تعینات ہو۔ اس کو حق نہیں پہنچتا کہ وہ اپنی مرضی سے فیصلہ کرے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ جج پر لازم ہے کہ وہ فیصلہ کرتے وقت اپنے ذاتی مفادات، نظریات اور تعصبات کی عینک اتار پھینکے۔ فیصلہ قانون کے مطابق کرے۔ منصف اعلیٰ نے یہ نہیں بتایا کہ اگر کوئی جج ایسا کرے تو پھر اس پر گرفت کیسے ہو؟ قانون کے مطابق فیصلہ کرنے کیلئے ضروری ہے کہ جج کو قانون پر قابلیت کے ساتھ دسترس حاصل ہو۔ ان کی تقریر کا زور سب سے زیادہ لوئر جوڈیشری کی پرفارمنس پر رہا۔ ان کی بات درست ہے کہ اگر ضلعی لیول کی عدالتیں فعال ہوں۔ اگر ان میں تعینات جج فیصلے قانونی تقاضوں کے مطابق کریں۔ اگر وہ فیصلے قانون شہادت کے تقاضوں پر مبنی ہوں۔ ایسے میں اعلیٰ عدالتوں کو اپیلیں نمٹاتے وقت آسانی ہوگی اور فیصلہ بھی فریق متاثرہ کیلئے قابل قبول ہوگا۔ کوئی مقدمہ چھوٹا یا بڑا نہیں ہوتا۔ جس کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے اس کیلئے وہ مدعا ہی سب سے اہم ہوتا ہے۔ دنیا بھر میں جدید معاشرے اپنے نظام انصاف میں بہتری کیلئے کوشاں رہتے ہیں۔ ہمیں بھی نظام انصاف اور فیصلہ سازی کے عمل کو بہتر بنانا ہوگا۔ مصالحتی عدالتیں، شام کی عدالتیں اور ایسے ہی نئے آئیڈیاز، اس ضمن میں مددگار ثابت ہو سکتے ہیں۔ نظام انصاف میں جدت پیدا نہ کی گئی تو متاثرہ فریق کو یہ کہنے کا موقع ملتا رہے گا کہ مجھے کیوں نکالا؟ پارلیمان کو چاہئے کہ وہ ایسے قوانین بنائے جس کے نتیجہ میں انصاف کی فراہمی میں عجلت ہو نہ تاخیر۔ بلکہ توازن ہو۔