tariq mehmood ch

عاصمہ جہانگیر مزاحمت کا استعارہ

گاڑی چلاتے ہوئے اچانک واٹس ایپ میسج کی بیپ سنی عادتاََ دیکھا تو عاصمہ جہانگیر کے انتقال کی خبر تھی۔میسج بھیجنے والے نے تصدیق چاہی تھی۔اچانک صدمہ کی کیفیت میں گاڑی سائیڈ پرروکی۔سوشل میڈیا سائیٹس، ٹوئیٹر،فیس بک ان کی تصاویر اور دل کے دورے کے سبب انتقال کی خبروں سے بھرا ہوا تھا۔ تصدیق کی ضرورت ہی محسوس نہ ہوئی۔موت سے بڑی کوئی ہونی نہیں اس سے تلخ اور کوئی حقیقت نہیں لیکن پھر بھی یہ انہونی لگتی ہے۔اور پھر عاصمہ جہانگیر کی موت کی خبر وہ کسی کے ساتھ نہ تھیں لیکن ہر مظلوم کی ساتھی تھیں۔وہ کسی کی مخالف نہ تھیں لیکن وہ ظلم کی ہر شکل کیلئے تازیانہ تھیں۔ذاتی زندگی میں حلیم طبع، کم گو، منکسر المزاج، بناوٹ سے پاک عام لوگوں کے درمیان گھل مل کر رہنے والی۔لیکن ظلم کو بے نقاب کرتے ہوئے، ظالم کو للکارتے وقت اس دھان پان منحنی سی عورت میں نہ جانے اتنی طاقت کہاں سے آ جاتی،ان کی زبان لب و لہجہ شرارے اگلتا، ظالم تھر تھرا کر رہ جاتا۔اْن کی پشت پر کو ئی سیاسی جماعت تھی نہ کوئی پریشر گروپ۔وہ کسی لشکر کی کماندار تھی نہ کوئی پرائیویٹ ملیشیا ان کے کنٹرول میں تھا لیکن پھر بھی ان کی بات کو رد کرنا آسان نہ تھا۔ انہیں کئی دفعہ سینیٹر شپ کی پیش کش ہوئی۔خواتین کی ریزرو سیٹ سے ممبری دینے کی کوشش کی گئی۔انہوں نے ہمیشہ شکریے کے ساتھ ایسی آفر مسترد کر دیں۔ایک دفعہ پوچھا تو کہنے لگیں پارلیمنٹ کی رکنیت میرے لیے اعزاز کی بات ہے لیکن کسی ایک پارٹی کے ڈسپلن کے تحت آ جانے سے میرے کاز کو نقصان پہنچے گا۔ساری زندگی پارلیمنٹ کی با لا دستی کیلئے چومکھی لڑائی لڑنے والی مجاہدہ کی جانب سے رکنیت سے انکار اس بات کا غمازہے کہ اس فقیرمنش عورت کو جاہ و جلال سے کوئی غرض نہ تھی۔عہدے ان کیلئے بے معنی تھے۔اگر کبھی کسی عہدے کیلئے انہوں نے الیکشن لڑا تو وہ سپریم کورٹ بار کے صدر کا تھا۔اس الیکشن کو انہوں نے تن دہی سے لڑا تھا۔ملک کے نامور وکیل ان کے ساتھ کھڑے ہوئے۔ ایسی شخصیت جس کی جوانی سے لے کر پیرانہ سالی تک،آخری لمحہ بھی جہد مسلسل میں گزرا ہو۔اس متحرک سیماب صفت خاتون کی اچانک موت کی خبر پر کیسے یقین آتا۔ انہوں نے تو مارشل لاؤں کے سامنے ہتھیار نہیں ڈالے۔ہارماننا تو انہوں نے سیکھا ہی نہ تھا۔لیکن موت بہت وکھری ٹائپ کی چیز ہے۔یہ ہمیشہ فاتح رہتی ہے۔ لیکن قلم کار کا دل تھا۔جس کو سنبھالنا مشکل تھا۔ ابھی چند روز پہلے تو ہم نیشنل پریس کلب میں ان کے منتظر تھے۔ان کی جانب سے پیغام آیا کہ وہ نو منتخب عہدیداروں کو مبارکباد دینے آئیں گی۔کچھ غرض ہماری بھی تھی۔چند روز پہلے ایک چھاتا بردار اینکر نے بے بنیاد بے سروپا خبر دے کرساری کمیونٹی کو عدالت کے
کٹہرے میں کھڑا کر دیا۔وہ تو سال کی سب سے بڑی ’’فیک نیوز‘‘ داغ کر فی الحال گوشہ عافیت میں ہیں۔لیکن کمیونٹی کے سرکردہ کو عدالتِ عظمیٰ نے طلب کیا تو صحافی برادری میں بے چینی پیدا ہو گئی۔پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس کی مرکزی مجلس عاملہ نے حیدرآباد میں فیصلہ کیا کہ تنظیم کو اس معاملہ میں فریق بنایا جائے۔سوال پیدا ہوا کہ وکیل کون ہو، پہلا اور آخری چوائس عاصمہ جہانگیر ہی تھیں۔ان کے سوا اور کون تھا جو بخوشی ہمارے ساتھ کھڑا ہوتا۔ رابطہ کیا گیا تو معلوم ہوا کہ وہ بیرون ملک ہیں۔انہوں نے ہمیشہ کی طرح فوری طور پر وکالت کی ہامی بھر لی طے ہوا کہ وہ پریس کلب آئیں گی۔کیس تیار کریں گی اور گپ شپ بھی لگے گی۔وطن واپسی پر وہ نا اہلی مدت کیس کے حوالے سے مصروف ہو گئیں، اس کیس میں 62۔F1 کے تحت نہ اہلی کے حوالے سے دلائل دیے۔ اور نجی مصروفیات کے سبب لاہور چلی گئیں۔ یہ ان کا آخری مقدمہ ثابت ہوا ہم ہمیشہ کے ممنون صحافی ان کے منتظر ہی رہے لیکن وہ پریس کلب کا وزٹ کرنے کی بجائے اس فانی دنیا سے کوچ کر گئیں۔
ہم پاکستانی ابھی تک ایک قوم بن سکے نہ ایک منظم معاشرہ۔ ہم گروہوں طبقوں میں بٹاہوا بے سمت ہجوم ہیں۔دو انتہاؤں کے درمیان کچے دھاگے سے لٹکتا معاشرہ۔یہ دھاگا کسی بھی وقت ٹوٹ سکتا ہے۔جو لبرل خیالات کے مالک ہیں۔ ان کے نزدیک اپنے ہم خیالوں کا جھوٹ بھی سچ ہے۔ اور جو قدامت پسند یا رْجعت پسند ہیں۔ ان کی دانست میں اکابرین کی کہی ہوئی ہر بات حلف آخر ہے۔ہم افراد کو ان کے کردار یا نظریات کی وجہ سے نہیں دھڑے بندی کے حوالے سے شناخت کرتے ہیں۔جو نظر یاتی طور پر مخالف ہیں اس کی خوبی قابل اعتراف ہے،نہ معاشرے میں اس کا کنٹری بیوشن وہ افراد جو بین الاقوامی سطح پر ہمارا تعارف ہیں ان کو اپنے ملک میں ذرہ برابر عزت دینے کیلئے تیار نہیں بلکہ ان کی تضحیک و ہرزہ سرائی پر ہم فخر کرتے ہیں۔ وہ بے نظیر بھٹو ہو یا عبدالستار ایدھی۔ملالہ یو سفزئی ہو یا پھر عاصمہ جہانگیر ہم ہر وقت ہاتھوں میں رسہ لے کر ان کا پیچھا کرتے ہیں۔تاکہ موقع ملے تو پھندا گلے میں ڈال کر ان کو لٹکایا جا سکے۔عاصمہ جہانگیر کی کہانی محترمہ بے نظیر بھٹو سے مماثلت رکھتی ہے۔ دونوں کے والد صاحبان کو مارشل لائی جبر کا سامنا کرنا پڑا۔دونوں نے کم عمری میں عدالتوں کے دھکے کھائے دونوں کو حصول انصاف کیلئے شہر شہر کی خاک چھانٹنی پڑی۔ بے نظیر بھٹو کا باپ عدالتی قتل کی گھاٹ اترا۔ عاصمہ جیلانی کو عدالتی فیصلہ اس وقت ملاجب وقت گزر چکا تھا۔ یہ فیصلہ عدالتی نظیر قائم کر گیا۔ حصول انصاف کی جد و جہد نے بے نظیر بھٹو کی شکل میں دنیا کی پہلی مسلم خاتون بنا دیا جبکہ اپنے والد ملک غلام جیلانی کی رہائی کی جدو جہد نے عاصمہ جہانگیر کو انسانی حقوق کا بے بدل علمبردار بنا دیا۔ انہوں نے ایوب خان یحییٰ خان، ضیا ء الحق اور پرویز مشرف چار آمروں کے سامنے کلمہ حق کہا۔ عاصمہ جہانگیر افراد کے نہیں نظریات کے ساتھ تھیں۔پاک بھارت تعلقات کے حوالے سے ان کی اپنی رائے تھی جس سے اختلاف کیا جا سکتا ہے۔ان کو بھارت نواز ہونے کے طعنے سننے پڑے۔عاصمہ جہانگیر نے مقبوضہ کشمیر میں انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں پر صدائے احتجاج بلند کی۔مظفر برہان وانی کو شہید قرار دیا۔وہ طالبان کی سخت مخالف تھیں۔ لیکن جب بی بی سی سے ایک انٹرویو میں ان سے سوال پوچھا گیا انہوں نے دو ٹوک جواب دیا اگر کسی طالبان کا ماورائے عدالت قتل ہوا تو اس کی مذمت کریں گی۔ ایک اینکر نے ان پر غداری کا الزام لگایا۔اس اینکر کے خلاف مقدمہ بنا وہ سب سے پہلے بطور وکیل آگے آئیں کیوں کہ وہ فرد کے نہیں نظریے کے ساتھ تھیں۔
عاصمہ جہانگیر انسانی حقوق کی پامالی اور آئین شکنی کے خلاف مزاحمت کا استعارہ تھیں۔ویج ایوارڈ کی جدو جہد ہو یا جبری بر ترفیوں کا ایشو۔ وہ رضا کارانہ طور پر صحافیوں کے شانہ بشانہ کھڑی رہیں۔ان کی وفات کے سوگ میں نیشنل پریس کلب کا پرچم سر نگوں ہے۔ ہم اہل صحافت اس سادہ اطوارنڈر خاتون کو ہمیشہ یاد رکھیں گے۔