tofeeq butt

عارف نواز، بندہ نواز!

کِسی پولیس افسر کے پاس جاتے ہوئے ڈر لگتا ہے کہیں وہ گرفتار ہی نہ کر لے۔ گرفتاری کئی طرح کی ہوتی ہے۔ کوئی اپنی محبت میں بھی تو گرفتار کر سکتا ہے۔ گزشتہ ہفتے نئے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز نے مجھے اپنی محبت میں گرفتار کر لیا، میرا خیال تھا اُن کی تقرری کی واحد وجہ شاید یہ ہو گی اُن کے نام میں ”نواز“ آتا ہے۔ جیسے صدر ممنون حسین کی تقرری پر میں نے لکھا تھا ”اُن کی تقرری کی واحد وجہ یہ ہو سکتی ہے اُن کے نام میں ”نون“ آتا ہے“۔ مگر آئی جی پنجاب کے بارے میں جو کچھ اب تک میں نے سنا مجھے یقین ہے اُن کی تقرری خالصتاً میرٹ اور اہلیت کی بنیاد پر ہی ہوئی ہے، جو کہ ایک حیران کن بات ہے۔ بے شمار پولیس افسران میرے ذاتی دوست ہیں۔ میں اُن کے دفاتر میں بہت کم جاتا ہوں۔ اُس کی ایک وجہ تو یہ ہے کہ وہ بہت مصروف ہوتے ہیں، دوسری وجہ یہ ہے کہ میں بہت مصروف ہوتا ہوں۔ ویسے ہمارے اکثر افسران مصروف نہ بھی ہوں خود کو مصروف ہی ظاہر کرتے ہیں۔ ایک بار میں اپنے دوست افسر سے ملنے گیا اُس کے دفتر کے دروازے پر ”میٹنگ“ کا بورڈ لٹکا ہوا تھا، چند لمحوں بعد میں نے ایک انتہائی خوبصورت ”میٹنگ“ کو اُس کے دفتر سے نکلتے دیکھا یوں لگا وہ افسر نہیں میں فارغ ہو گیا ہوں۔ بہرحال میرے دوست افسروں کے پاس جب بھی وقت ہو، یا جب بھی میرے پاس وقت ہو ہم ایک دوسرے کے گھروں میں چلے جاتے ہیں، جہاں خوب محفل جمتی ہے۔ کچھ افسران اتنے سڑیل مزاج ہوتے ہیں اُن سے بچہ یا دہی وغیرہ صحیح نہیں جمتا، محفل کہاں سے جمنی ہے؟ کچھ افسران نے دفتر کو ”نیند خانہ“ بنایا ہوتا ہے۔ سعادت اللہ خان ایک آئی جی پنجاب ہوتے تھے، خاصی ”ہومیوپیتھک شخصیت“ کے مالک تھے۔ نہ اُن سے کِسی کا کوئی فائدہ ہوتا تھا نہ نقصان۔ سیکرٹریٹ کے جِس برآمدے میں اُن کا دفتر تھا وہاں اور پولیس افسران بھی بیٹھے تھے۔ اُن کے برآمدے میں دوتین جگہ بورڈ لگے تھے جِن پر لکھا تھا ”یہاں شور مت کریں“۔ ایک بار میں نے اُن سے کہا ”سر یہ عبارت ادھوری ہے“ ۔وہ پوچھنے لگے، پوری کیسے ہو گی؟ عرض کیا ”یہاں شور مت کریں ورنہ افسر جاگ جائیں گے“….۔ ہمارے بے شمار افسر اپنے اپنے گھروں میں جب سونے لگتے ہیں اُن کی بیگمات کہیں نہ کہیں سے اُنہیں اٹھا دیتی ہیں۔ خواجہ خالد فاروق کچھ دِنوں کے لئے آئی جی پنجاب بنے تھے۔ شکر ہے وہ کچھ دِنوں کے لئے ہی بنے تھے ورنہ پولیس کا سارا فنڈ وہ بریانی اور سگریٹ سمجھ کر کھا پی جاتے۔ اُن کا دفتر کم باورچی خانہ زیادہ ہوتا تھا۔ ایسا ”کھابہ گیر“ آئی جی شاید ہی کوئی ہو گا۔ ایک بار اپنے اردلی کو اُنہوں نے حکم دیا ”سبز چائے کے ساتھ کھنڈ کلچے لے آﺅ“ بے چارے اردلی کو جرا¿ت نہ ہوئی اُن سے پوچھ لیتا ”سر کھنڈ کلچہ کیا ہوتا ہے؟“ وہ اپنی سمجھ کے مطابق کلچے پر کھنڈ (چینی) ڈال کر لے آیا۔ خواجہ صاحب نے کلچہ اُٹھا کے اُس کے منہ پرمارا۔ اب خیر سے وہ ریٹائر ہو گئے ہیں، کوئی اُن کا فون اور نام تک سننا تک گوارا نہیں کرتا…. یہی حال مشتاق سکھیرے کا ہے۔ اُن کی ریٹائرمنٹ کے بعد پنجاب بھر کے پولیس افسران نے شکرانے کے نوافل ادا کئے۔ میں ایک پولیس افسر سے ملنے گیا اُس کے گھر کھسرے ناچ رہے تھے۔ میں نے اُس سے پوچھا ”تمہارے گھر کاکا ہوا ہے“ وہ بولا ”نہیں،اصل میں آج آئی جی مشتاق سکھیرا ریٹائر ہوا ہے۔ وہ جب تک آئی جی رہا ایک نحوست اورسوگواری سی پی او پر چھائی رہی“۔ اُس وقت یوں محسوس ہوتا تھا یہ آئی جی پنجاب کا دفتر نہیں کوئی ”جنازگاہ“ ہے۔ اب اگلے روز نئے آئی جی پنجاب کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز کی خصوصی دعوت پر میں اُن سے مِلنے گیا سی پی او کا ماحول اتنا خوشگوار تھا جیسے کِسی پارک کا ہوتا ہے۔ اُس روز میں آئی جی کے علاوہ بہت سے اور دوست پولیس افسروں سے بھی مِلا۔ سب ایسے خوش اور ریلیکس تھے جیسے آئی جی کی سیٹ پر اُن کا ابا یا تایا آ کر بیٹھ گیا ہو۔ خوف کے عالم میں ہمیشہ کام خراب ہی ہوتے ہیں۔ جتنے دِن سکھیرا آئی جی رہا اُس کے ماتحت افسران کام خراب ہی کرتے رہے۔ زیادہ تر تو جان بوجھ کر کام خراب کر دیتے تھے۔ اب سب اپنا اپنا کام پوری لگن، محنت اور توجہ سے اِس لئے کرتے ہیں اُنہیں پتہ ہے اُن کا نیا باس دِل سے اُن کی عزت اور محبت کرتا ہے۔ محبت کا اپنا ایک خوف ہوتا ہے۔ اِس خوف میں ہر کام ہی ٹھیک ہو جاتا ہے۔ سو مجھے یقین ہے محکمہ پولیس پنجاب کے بہت عرصے سے بگڑے ہوئے کام آہستہ آہستہ اب ٹھیک ہونا شروع ہو جائیں گے…. یہ آئی جی کیپٹن (ر) عارف نواز سے میری پہلی ملاقات تھی۔ مجھے لگا وہ بار بار مِلنے کے قابل ہیں۔ تکبر اُنہیں چُھو کر نہیں گزرا، ورنہ آئی جی کے تو اردلی بھی خود کو ”زمینی خُدا“ سے کم نہیں سمجھتے۔ میرے ذہن میں مشتاق سکھیرے کی منحوسیت سمائی ہوئی تھی۔ میں سوچ رہا تھا نیا آئی جی اُس سے کتنا مختلف ہو گا؟ بہت عرصہ اُنہوں نے اُس کی ماتحتی میں کام کیا تھا تو میرا خیال تھا اُس کے کچھ نہ کچھ اثرات ضرور اُن کی شخصیت پر اثرانداز ہوئے ہوں گے۔ وہ میرے خیالوں اور سوچوں سے بالکل مختلف نکلے…. صِرف ایک آئی جی سے مِلنے کی خواہش دِل میں پیدا ہوئی تھی، وہ جاوید اقبال تھے۔ اُن کے غیر سیاسی اور اچھا ہونے کا اِس سے بڑھ کر ثبوت کیا ہو سکتا ہے ریٹائرمنٹ کے بعد اُنہیں کِسی عہدے سے نوازا یا شہبازا نہیں گیا۔ کِسی عہدے کے لئے اُن کی مِنت بھی
کی جاتی تووہ ہرگز قبول نہ کرتے۔ جِس نے ساری زندگی عزت آبرو سے گزاری ہو اُسے کیا ضرورت ہے ریٹائرمنٹ کے بعد بددیانت حکمرانوں کی خیرات یا بخشش وصول یا قبول کر کے اپنے بے داغ ماضی کو شکوک و شبہات کی نذر کر دے؟…. میری تو ڈی جی آئی بی آفتاب سلطان سے بھی گزارش ہے اب بس کر دیں۔ وہ ایک انتہائی ایماندار پولیس افسر کی شناخت رکھتے تھے۔ اُن کی ماتحتی کا اعزاز حاصل کرنے والے کچھ اہل اور دیانتدار پولیس افسران بشمول طارق عباس قریشی، سید باقررضا، اور ایس پی آپریشن سول لائن لاہور علی رضا اُن کے اعلیٰ کردار اورایمانداری کی قسمیں اُٹھاتے نہیں تھکتے۔ میری اپنی رائے اُن کے بارے میں اب تک نہیں بدلی۔ یہی وجہ ہے اُن کی کردار کشی پر میں حیران ہی نہیں پریشان بھی ہوں…. میری دعا ہے اللہ اُنہیں عزت کے ساتھ اُس مقام پر پہنچا دے جہاں ہر قسم کے عہدوں کی لالچ سے بالاتر ہو کر ایک خوبصورت اور آرام دہ زندگی وہ بسر کریں۔ یہ عمر اب صِرف اُن کے اللہ اللہ کرنے کی ہے۔ اِس سے بڑھ کر اعلیٰ و ارفع مصروفیت اِس عمر میں بھلا اور کیا ہو سکتی ہے؟…. جہاں تک نئے اور اچھے آئی جی کیپٹن ریٹائر عارف نواز کے ساتھ ملاقات کا تعلق ہے اُس پر مجھے ایک انتہائی شاندار اور دوستدار پولیس افسر عامر ذوالفقار نے مجبور کیا۔ نایاب حیدر مجھے گھر سے باقاعدہ ”اغوا“ کر کے لے گئے۔ حال ہی میں ریٹائرڈ ہونے والے ایک نفیس پولیس آفیسر جناب منیر چشتی، ایڈیشنل آئی جی جناب امجد جاوید سلیمی، سی سی پی او لاہور کیپٹن ریٹائرڈ امین وینس، ڈی آئی جی شارق کمال صدیقی، ڈی پی او گجرات جہاں زیب نذیر اور ایس ایس پی ایڈمن لاہور رانا ایاز سلیم نے نئے آئی جی کی اتنی تعریف کی یوں محسوس ہو رہا تھا میں اُن سے نہ ملا میری شاید میری بخشش ہی نہ ہو۔ ڈیڑھ گھنٹے کی اِس ملاقات میں پولیس کی وردی، پولیس ملازمین کے ویلفیئر فنڈ اور تنخواہوں میں اضافہ، اُن کے ڈیوٹی اوقات میں کمی اور پولیس عوام کے ساتھ روایتی سلوک سمیت کئی اہم موضوعات پر اُن سے تفصیلی گپ شپ ہوئی۔ اُن کی باتوں سے مجھے احساس ہوا وہ اپنی فورس کی فلاح کے لئے کِسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں۔ بلکہ دوچار کرنے کےلئے بھی تیار ہیں۔ اُنہوں نے بڑی خوبصورت بات کہی کہ ”ہم اپنی فورس کو عزت نہیں دیں گے تو وہ بھی عوام کو عزت نہیں دیں گے“ مشتاق سکھیرے سے میں نے کہا تھا ”اپنا ظفر اپنی سیٹ کے مطابق کر لیں“ اُس نے سیٹ کو اپنے ظرف کے مطابق کر لیا۔ پولیس افسران اور ماتحتوں کی جتنی گالیاں اور بددعائیں اُس نے لیں، شاید ہی کِسی اور آئی جی نے لی ہوں گی…. کیپٹن ریٹائرڈ عارف نواز اُس سے بالکل مختلف مزاج کے حامل ہیں۔ اُن سے مِل کر احساس ہوا وہ اتنے ”عارف نواز“ نہیں جتنے ”بندہ نواز“ اور ”ماتحت نواز“ ہیں۔ اُنہوں نے مجھے بہت عزت دی، دوسروں کو عزت وہی دیتا ہے جِس کے اپنے پاس ہوتی ہے۔ مشتاق سکھیرے کا رویہ اور کردار ”شدید حبس“ جیسا تھا، عارف نواز ٹھنڈی ہوا کا جھونکا ہیں، اللہ اُنہیں کامیاب فرمائے!