hafiz muzafar mohsin copy

عائشہ نذیرجٹ، ڈاکٹر لابراور احمد سہیل کی باتیں

آج صبح سویرے کالم کے حوالے سے اک فون آگیا۔ میری تحریر کہیں بھی چھپے، صبح ساڑھے چھ اور سات بجے کے درمیان ڈاکٹر عقیل حسین لابر آف ملتان کا فون آجاتا ہے۔
’’سائیں اے کی لکھ چھوڑیا جے‘‘ ۔۔۔سمجھ لیں کہ اب مجھے اپنی ہی تحریر کا آپ ہی تجزیہ کرنا پڑے گا ۔’’سرکار کیا ہوگیا‘‘۔ ؟!۔۔۔’’اتنی سادہ سی تحریر۔۔۔ مگر رلا دیا ‘‘۔؟!۔۔۔ڈاکٹر عقیل حسین لابرڈاکٹر تو ہیں ہی۔۔۔میں انہیں ایک تنقید نگار بھی کہہ لوں تو غلط نہ ہوگا۔ ۔۔۔میں نے مزید پوچھنا چاہا تو میری ہی اِک آزاد نظم ’’سوال‘‘ ۔۔۔سنانے لگے۔۔۔’’دلوں میں پلتی نفرت کو ۔۔۔بڑھانے والو ۔۔۔اِک دن میں جو۔۔۔نفرت کا مینار بنے گا ۔۔۔ ’’صدیاں‘‘ ۔۔۔ اُس مینار کو ۔۔۔ لاکھوں انسان مل کر ۔۔۔ چاہیں بھی تو لگ جائیں گی ؟۔۔۔گرنہ سکے گا ۔۔۔۔۔۔کئی نسلیں۔۔۔ پوچھیں گی ۔۔۔۔۔۔کس نے بیج یہ بویا ۔۔۔اور ۔۔۔اور کس نے دیوار اٹھائی تھی ’’نفرت ‘‘ کی؟ ‘‘۔۔۔ایک بڑی گہری بات کہہ ڈالی۔۔۔ حافظ مظفر محسن مگر اسے سمجھے گا کون ؟!۔۔۔ڈاکٹر صاحب ضرورت سے زیادہ سنجیدہ تھے اس لیے میں ہنس دیا اور محبت سے بولا۔۔۔ ’’ڈاکٹر صاحب ۔۔۔وہ شادی کی تقریب میں اک جن آگھسا۔۔۔؟‘‘لڑکیاں ڈر کے مارے ادھر اُدھر بھاگنے لگیں ۔’’جن۔۔۔ جن۔۔۔ بچاؤ۔۔۔ بچاؤ۔۔۔؟اک بابا جی تقریب میں موجود تھے۔ اُنہوں نے سنجیدگی سے لڑکیوں کو اکٹھا کرکے مشورہ دیا۔۔۔’’لڑکیو۔۔۔ تم سب جلدی سے وضو کرکے آؤ‘‘۔۔۔بابا جی کے مشورہ پر جب لڑکیاں وضو کرکے آئیں تو ’’جن‘‘ یہ کہتے ہوئے بھاگ اٹھا۔۔۔’’بچاؤ ۔ بچاؤ۔۔۔؟!ڈاکٹر عقیل حسین لابر کی ہنسی چھوٹ گئی اور انہوں نے یہ کہتے ہوئے فون بند کردیا۔۔۔’’سائیں ہسدے وسدے رہو۔۔۔ جنوبی پنجاب دی پسماندگی دے حوالے نال وی کچھ کدی لکھ چھوڑو ‘‘؟!
بات شروع ہوئی تھی صبح سویرے آنے والی فون کالز سے جو میری تحریریں پڑھ کے۔۔۔ دوست کرتے ہیں۔۔۔ جب پناما کیس شروع ہوا تو اک ’’Un Known‘‘ نمبر سے کال آئی۔۔۔ ’’حافظ صاحب اچھا لکھتے ہیں میرے والد صاحب بھی بچپن میں ’’جگنو‘‘ اور ’’کھلونا‘‘ میں آپ کی نظمیں پڑھا کرتے تھے۔ کہنا یہ ہے کہ ہم بھی آپ کے فین ہیں۔ بس ذرا عدلیہ کے حوالے سے لکھتے ہوئے نام نہ لکھا کریں تو بہتر رہے۔ ویسے ہم آپ جیسے محب وطن لوگوں کو نصیحت کرتے اچھے نہیں لگتے ‘‘؟
اب یہ صاحب کون ہیں جن کے والد بھی میری 1984ء میں جگنو ۔ کھلونا اور ماہنامہ ’’نونہال‘‘ ہمدرد میں چھپنے والی 1976ء کی نظموں کا تذکرہ کررہے تھے اور کالم کے منفی پہلو پر تنقید بھی کررہے تھے۔؟
ہم لکھنے والے اگر ان ’’باریک‘‘ باتوں یا ہمارے کالموں کے ساتھ ہم پر تنقید کرنے والوں کی جائز و ناجائز شکایتوں پر غورکرنا شروع کردیں تو بھلا ’’سچ‘‘ کون بولے گا۔۔۔ ’’عوام کی ترجمانی ‘‘ کیسے ہوگی ؟ یہ تو میری رائے ہے آپ کی رائے ہوسکتا ہے اس سے مختلف ہو۔
UMTپریس کے احمد سہیل نصراللہ لاہور کی ادبی دنیا کی جان ہیں، میں محترمہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق صاحبہ کا ذکر اس لیے نہیں کروں گا کہ وہ آج کل گلف کی ریاستوں کے ادبی دورے پر ہیں اور خوب دھڑا دھڑ مشاعرے پہ مشاعرے پڑھتی چلی جارہی ہیں۔ ساتھ ان کی بیٹی محترمہ فاطمہ صاحبہ بھی ہیں جو خود بھی اچھی شاعرہ اور صاحب کتاب بھی ہیں۔ مجھے پچھلی ملاقات میں محترمہ ڈاکٹر عمرانہ مشتاق نے بتایا کہ انہوں نے اب تک سو کے قریب بچوں کے لیے نظمیں بھی لکھی ہیں۔ یہ میرا پسندیدہ موضوع ہے۔ میں نے فرمائش کی تو حیرت ہوئی ڈاکٹر عمرانہ مشتاق صاحبہ اتنے پیارے انداز میں اتنی خوبصورت بچوں کے انداز میں بچوں کے لیے نظمیں لکھتی ہیں۔ میں تو ان کو شاعری اور اکادمی ادبیات کے زیراہتمام مشاعروں اور دیگر ادبی محفلیں بپا کروانے پر ان کی اہلیت سے متاثر تھا۔ جو وہ اور اکادمی کے جناب جمیل بھائی اور ممتاز راشد لاہوری کے ساتھ مل کر ہر ہفتہ دس دن بعد منعقد کرواتی ہیں۔ فیس بک پر ایک مہینہ سے ڈاکٹر عمرانہ مشتاق اور فاطمہ کی مشاعروں میں تصویریں دیکھتا چلا آرہا ہوں۔ وہ کئی معاصرین سے بیرونی مشاعروں کے سلسلہ میں آگے نکل چکی ہیں۔ ڈاکٹر صاحبہ کا ذکر اصل میں احمد سہیل نصراللہ سے مل کر ادبی تقریبات منعقد کروانے سے چلا تھا۔ جن لوگوں کو دیکھنے کی خواہش تھی ان سے احمد سہیل نصراللہ اور ڈاکٹرعمرانہ مشتاق نے نہ صرف ملوایا بلکہ ان کے لیکچر بھی سنوائے اور لاہور کی ادبی فضاء کو معتبر بنادیا۔ جگمگا دیا۔ جناب وسعت اللہ خان بھی سندھ سے تشریف لائے جنہوں نے ایسی ہی ایک محفل میں کہا تھا اپنے اس خطاب میں جو انہوں نے پنجابی زبان میں تقریر کرتے ہوکیا کہ ۔ ’’چالیس سال بعد شاید پنجابی زبان بہت کم بولی جانے والی زبانوں میں شمار ہونے لگے ؟‘‘!
ہم سب نے حیرت سے دیکھا تو وسعت اللہ خان نے سنجیدگی سے پنجابی خطاب میں کہا ۔ جس طرح تم لوگ اب گھروں میں محفلوں میں پنجابی بولتے ہوئے شرماتے ہو۔ ہچکچاتے ہو۔ میری بات پر غور کرنا تمہیں یہ بات سچ لگے گی۔
احمد سہیل نصراللہ نے بھی اک دن مجھے ملے تو میرے آگے جھک کر میرے گھٹنے چھو لیے۔ میں گھبرا گیا۔ احمد سہیل نصراللہ بھائی ہوش کریں۔ تو سنجیدہ ہوکر گلے لگا لیا اور محبت سے بولے۔۔۔
حافظ صاحب میرے ماں باپ نے بھی آپ کی 1975ء میں بچوں کے رسالوں میں چھپی نظمیں پڑھی ہیں۔ جن کے ماں باپ کی آپ کی تحریروں کے ذریعے تربیت ہوئی ہو۔۔۔ ہم پر تو واجب ہے احترام۔
میں پھر بھی شرمندہ ہوگیا۔ اب جب بھی احمد سہیل نصراللہ مجھ سے اختلاف بھی کرے تو میسج میں تنقید کرنے سے پہلے محبت سے لکھتا ہے۔ ’’حافظ مظفر محسن میرے تو ماں باپ بھی آپ کی تحریریں پڑھ کر بڑے ہوئے ۔ وغیرہ۔ وغیرہ ۔ وغیرہ۔
بات کالم پڑھنے والوں کی فون کالز سے شروع ہوئی تھی۔ آج صبح جناب چوہدری نذیر احمد جٹ آف بوریوالہ کے حوالے سے کالم ’’نئی بات‘‘ میں چھپا تو۔ اک غصے والی فون کال آگئی۔حافظ صاحب یہ آپ نے ہمارے چوہدری نذیر احمد جٹ آف بوریوالہ کے حوالے سے کالم لکھ دیا وہ تو تحریک انصاف سے ہیں اور دوبار ایم این اے بن چکے ہیں۔ آپ ان کی جدوجہد اور سیاسی بصیرت پر بھی لکھیں تو پڑھنے والوں کو پتا چلے کہ یہ سچا اور کھراآدمی عوام میں کیوں مقبول ہے۔ فون کرنے والے نے غصے میں ہی مجھے ڈانٹتے ہوئے کہا۔
’’مظفر محسن ۔۔۔مزید سن ۔ چوہدری صاحب کی بیٹی بھی سیاستدان ہے اور بوریوالہ کی سب سے بڑی سیاسی شخصیت ہے ان کا نام عائشہ نذیر جٹ ہے۔ انہوں نے پچھلے الیکشن میں سازش کے باوجود 55ہزار ووٹ لیے۔ وہ لندن سے اعلیٰ تعلیم حاصل کرکے آئی ہیں اور ان کا شمار بھی صاحب بصیرت سیاستدانوں میں ہوتا ہے۔‘‘
فون بند ہوگیا۔ میں منہ میں انگلی ڈالے سوچتا رہا کہ۔۔۔ ہمیں تو پتا ہے کہ بڑے سیاستدان مصطفی جتوئی تھے، آصف زرداری ہیں ، بلاول زرداری ہوگا، آصفہ بھٹو ہوسکتی ہیں یا نواز شریف ہیں، مریم نواز یا حمزہ شہباز ہوسکتے ہیں وغیرہ وغیرہ۔ ہمیں تو ان بڑے ’’جن‘‘ ٹائپ سیاستدانوں کی موجودگی میں عرصہ چالیس سال میں یہ ہی پتہ نہیں چلا کہ ہمارے قصبوں، چھوٹے شہروں، دیہات گراں گوٹھ اور گاؤں میں کیسے کیسے قابل اور صحیح معنوں میں عوامی سیاسی نمائندے بھی موجود ہیں؟ کاش زرداری، عمران اور نواز شہباز۔۔۔ نئی سیاسی کونپلوں کو بھی پھلنے پھولنے دیں کہ وہ بھی خوشبودار تن آور سیاسی درخت بن کے عوام میں مقبول ہوسکیں۔