Hafeez Khan (Sarkashi)

ظہور ندیم کا امریکہ

ظہور ندیم ہمارے اُن خوش قسمت دوستوں میں سے ہیں کہ ’’لاٹڑیاں‘‘ جن کے جلو میں یوں سراپا عجز ونیاز چلتی ہیں کہ کب’’ابروئے طلب‘‘ میں جنبش ہو اور وہ من چاہی مرادیں اُن پر نچھاور کرتی چلی جائیں۔اُ ردو ادب میں ماسٹرز کیا توسرکاری لیکچرر شپ کی ملازمت اُن کی منتظر تھی۔یوں تقریباًدَس برس تک میاں چنوں کے ڈگری کالج کے طالب علموں کی علمی آشنائی میر و غالب سے کراتے رہے۔اِس دوران وہاں خواتین کے کالج میں شعبہ اُردو تدریسی عملہ سے تہی ہوا تو یہ فریضہ بھی اپنے ندیم صاحب کو سونپا گیا ۔چنانچہ انہوں نے رموزِ اُردوطالبات پر اِس طرح منکشف کئے کہ اُ نہیں یہ زبان ’’آتے آتے ‘‘ آنے کی بجائے ’’آتی ‘‘ ہی چلی گئی کیونکہ ظہور ندیم اپنی ظاہری وضع اور لب ولہجہ سے اہلِ زبان دکھائی اور سنائی دیتے ہیں مگر یہ اور بات کہ ’’حلقہ ء یاراں‘‘ میں بیٹھے ہوں تو پاکستان کے کون سے علاقے کی کون سی بولی اور لہجہ ہے کہ جو اُن کی نقالی (mimmicry) کی دستبرد سے بچ رہے۔ میاں چنوں اور ملتان کے ادبی منظر نامے پریکساں چھائے رہنے والے ظہور ندیم نے شریکِ حیات کا انتخاب بھی ’’وکھرے‘‘ طریقے سے کیا کہ اُردو ادب پڑھانے کے باوجود جم پَل تو ملتان کے مضافات کے ہی تھے۔ سو شادی کو بھی لاٹری کی طرح نکالا اور ظہور ندیم کی بجائے ’’مہر ظہور ندیم‘‘ بن کر ایک جہان سے پنگا لے بیٹھے مگر سرخرو رہے کیونکہ آخر کو بیٹی ملہار میراں اور بیٹے احمد شوال نے بھی تو اپنی اپنی کامیابیوں کے جھنڈے گاڑنے تھے۔
اِن کا میابیوں کا سفر بھی ایک لاٹری سے شروع ہوا۔شاید کسی کو یاد ہو کہ بیسویں صدی کے آخری عشرے میں امریکہ بہادر نے دنیا جہان سے ’’مستقبل کے امریکی‘‘ امپورٹ کرنے کے لیے ’’لاٹری ویزے‘‘ عطا کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا ۔مگر پاکستان کی حد تک یہ کرم فرمائی بوجوہ جلد ہی اپنے انجام کو پہنچی لیکن جاتے جاتے اپنے آخری پنچ(punch) میں ظہور ندیم اور اُن کی مختصر سی فیملی کو میاں چنوں سے اُٹھا کر امریکہ پہنچا گئی۔اب کہاں کالج کے تدریسی معاملات میں خوش خصالوں سے مکالمہ اور کہاں ایک خوش سخن شاعر منڈی کی معیشت میں سود و زیاں کے تخمینے لگانے پر مامور۔کئی بار واپسی کی کوشش کی مگر اب ایک ’’مہر صاحب‘‘ کی انا کے ساتھ ایک ایسی شریک حیات کا عزمِ صمیم بھی قفل بند ہو چکا تھا کہ جو ظہور ندیم کے ساتھ شادی کا پلو بندھوانے سے پہلے ہی اپنی کشتیاں جلا چکی تھی۔لہذا واپسی کی بھاگم بھاگ ممکن نہ رہی۔گھر کا محاذ مضبوط ہوا تو باہر کے نامساعد حالات بھی مہربان ہونا شروع ہوگئے۔ایک ملٹی نیشنل فوڈ چین میں ملازمت ملی تو جلد ہی محنت، ایمانداری اور قانون کی
پاسداری کے سبب ترقی کے زینے پھلانگنے کو ملتے چلے گئے۔اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا کہ ظہور ندیم اپنی کمپنی کی ملازمت چھوڑ کر اُسی کمپنی کی ایک خوردنی فروخت گاہ مع پٹرول پمپ کا فرنچائزی مالک ہو گیا۔
’’اپنا گھر اور اپنا بزنس‘‘ کے اِس سفر میں ظہور ندیم کی شریک حیات ، زندگی کے تمام امور کی عملی شریک ہو کر ساتھ چلیں۔بچوں کی تعلیم و تربیت کا اعلیٰ معیار برقرار رکھتے ہوئے بھی دن رات شوہر کے ساتھ اِس طرح گزارے کہ اب سارا کاروبار اکیلے سنبھال کروہ ظہور کو اِس قابل بنا چکی ہیں کہ وہ فعال ادبی اور سماجی سرگرمیوں کے ساتھ ساتھ کوئی بھی اور بڑا کاروبار شروع کر سکے۔یہ ہنر بھی ظہور ندیم کی بیگم صاحبہ کے پاس رہا کہ اُن کی بیٹی ملہار میراں اور بیٹے احمد شوال نے تعلیمی میدان میں پاکستانی نژاد امریکیوں کا سر فخر سے بلند کر دیا۔ملہار میراں نے ہائی اسکول مکمل کرنے پر چار ایوارڈ وصول کئے۔ یعنی صدارتی ایوارڈ برائے آؤٹ سٹینڈنگ ایکسیلنس، صدارتی ایوارڈ برائے ایکڈمک اچیومنٹ، ڈیکا (DECA)صدارتی اور ڈیکا سٹوڈنٹ آف دی ایئر ایوارڈ2016-17 اور Optimest Student of the month اور اِس کے ساتھ ساتھ یونیورسٹی آف میری واشنگٹن کی طرف سے 32ہزار ڈالر کا ایوارڈ محض تعلیمی اخراجات کے لیے۔جب کہ اِس سے قبل احمد شوال نے ہائی اسکول کی سطح پرطلباء کی ’’آل امریکہ‘‘ قومی نمائندگی کے لیے صدارتی انتخاب جیت کر پاکستانیوں کی ٹوپی میں ایک اور پھندناٹانک دیا ۔بہترین مقرر کے طور امریکی پالیسی ساز اداروں میں اپنے خطاب کے ذریعے حیران کن افکار کا بیانیہ رکھنے والا یہ نوجوان اب یونیورسٹی کی سطح پر متاثر کن کارکردگی دکھائے چلا جا رہا ہے۔اُس نے یونیورسٹی کے سالِ اول اور سال دوم میں بھی طلباء کا صدراتی انتخاب جیتا اور اب تیسرے کے ’’درپے‘‘ ہے۔ صرف اِسی پر بس نہیں بلکہ تھوڑی سی بھی فرصت ملنے پر یہ دونوں بہن بھائی اپنے والدین کے کاروبار میں ایک عام ورکر کی طرح خدمات انجام دیتے دکھائی دیتے ہیں۔
ظہور ندیم کا گھر ریاست ورجینیا کے خوبصورت ترین شہر فریڈرکس برگ (Fredericksburg) میں ہے جو کہ واشنگٹن ڈی سی سے کبھی ڈیڑھ گھنٹے اور کبھی دو گھنٹے کی دوری پر ہو جاتا ہے۔آدھے گھنٹے کی یہ ’’ڈنڈی‘‘ بہ سبب فاصلہ نہیں بوجہ ٹریفک جام ہو تی ہے کہ جو مخصوص اوقات میں یہاں کا معمول ہے۔ واشنگٹن ڈی سی اور فریڈرکس برگ کے درمیان پینٹا گان، بروک اور سپرنگ فیلڈ جیسی جنت نظیر آبادیاں آتی ہیں۔واشنگٹن ڈی سی سے ایک جانب میری لینڈ کا سبزے میں گھرا ہوا قصبہ ہے کہ جہاں اردو کی معروف شاعرہ اور دانشور بینا گوئندی اپنی ذات میں ایک انجمن کی طرح قیام پزیر ہیں۔ فریڈرکس برگ کے نواح میں واقع ظہور ندیم کا گھراُس کا ہوتے ہوئے بھی اب اُس کا اپنا نہیں رہا بلکہ پاکستان سے جانے والے دوستوں کی ’’قبضہ گیری‘‘ کی نذر ہو چکا ہے اور موصوف اِس دراندازی سے اس قدرمانوس ہو چکے ہیں کہ’’جائے مہمان خالی‘‘ ہونے کی صورت میں یہ دونوں میاں بیوی مقامی سطح پر ہی مہمان ’’درامد‘‘کرنے کی تگ ودو میں لگ جاتے ہیں کہ خالی گھر کا سکون انہیں اچھا نہیں لگتااور نہ ہی اکیلے بیٹھ کر کھانااِن سے ہضم ہوتا ہے۔لہذااِس طور کے مزاجِ شاہاں کے ہوتے ہوئے گھر میں کسی نہ کسی سماجی یا ادبی’’ کھابا گیری‘‘کا موقع عمداً تلاش ہی لیا جاتاہے۔
اِس پس منظر میں تصور کیجئے کہ ظہور ندیم ایسے دوست کو کہ جس سے دوستانہ قربتوں کو لگ بھگ تیس برس کا عرصہ گذر چکا ہو، میری نیو جرسی میں آمد کی اطلاع پا کر کس قدر اشتیاق کا سامنا رہا ہو گا۔اُس نے خود ہی یعنی ’’سو وموٹو‘‘ میرے بارہ روزہ قیام کے شیڈول میں سے تین دن اپنے نام کئے اور مجھے نیو جرسی بذریعہ روڈ لے جانے کے ارادے پر اصرار کرنے لگا۔ میں نے بمشکل اُسے اِس چار گھنٹے آنے اور چار گھنٹے جانے کی خجالت سے باز رکھا اور نیویارک کے بورو مین ہٹن میں واقع ’’نیو یارک ٹائمز‘‘ کے سر بہ فلک دفتر کے سامنے وسیع عمارت میں پھیلے ہوئے بس اسٹیشن سے دوپہر کے ایک بجے گرے ہاؤنڈ بس کے ذریعے 13جولائی 2017ء کو واشنگٹن ڈی سی کے لیے روانہ ہو گیا کہ جس کی پیشگی ٹکٹ میری بیٹی ڈاکٹر صبا نے پہلے سے کرا رکھی تھی۔
بس میں سوار ہونے سے پہلے ٹکٹ نمبر کی ترتیب سے چار قطاریں بنوا لی گئی تھیں کہ جن میں مسافر بورڈنگ شروع ہونے کا انتظار کر رہے تھے۔ میری قطار میں اگرچہ مجھ سے پہلے ایک سمارٹ سیاہ فام نوجوان کھڑا تھا مگر اُس کے سامنے ایک تین نشستی بینچ پر انتہائی فربہ سیاہ فام خاتون نہایت بے دردی سے تھوپے ہوئے سرخ میک اپ کے ساتھ اِس طرح بیٹھی تھی کہ اُس کا باقی ماندہ جسم بینچ کے دونوں اطراف سے نیچے لڑھکا ہوا تھا۔میں نے بیٹی سے اپنے خدشات کا اظہار کیا کہ اگر سیٹ نمبر کے لحاظ سے یہ خاتون میری ہم نشست ہوئی تو میرا کیا بنے گا۔ بیٹی مسکرائی اور کہا کہ اللہ اتنا بھی نامہربان نہیں ہوگا اور اگر ایسا ہو بھی جائے تو آپ یہ بس چھوڑ دیجئے گا۔چنانچہ میں مسلسل اِسی خوف میں مبتلا بس میں سوار ہوا تو معلوم ہوا کہ یہاں تو جس جگہ ’’سینگ سمائیں‘‘ بیٹھ جائیں والا اصول رائج تھا اور وہ بے حد فربہ خاتون دو نشستوں پر پھیلی ہوئی برگر اپنے اندر انڈیلنے میں مصروف تھی۔میں نے خدا کا شکر اد اکیا اور بس کے عقبی وسط میں کھڑکی کی جانب بیٹھے ہوئے آسٹروی نوجوان کے ساتھ بیٹھ گیاکہ جس کی دو بہنیں برابر کی نشست پر اور والدین ہمارے عقب میں بیٹھے ہوئے تھے۔ اِس نشست پر بیٹھنے کے بعد احساس ہوا کہ میں نے ’’جلد بازی‘‘ میں بس کے پہلے وسط میں واقع ایسی کئی نشستیں خود ہی ’’شرمو شرمی‘‘میں چھوڑدیں کہ جہاں چار گھنٹے کا سفر بہ آسانی’’ چار منٹوں‘‘ میں طے ہو سکتا تھا۔