M-Imran-ul-Haq

طلبہ کیلئے لائبریری کی اہمیت

کتب خانے کو ذہنی تفریخ کا تعمیری ذریعہ کہا جاتا ہے ۔مطالعہ کی دنیا میں ذہنی تناؤ کم ہونے کے ساتھ انسانی سوچ میں بھی وسعت آتی ہے ۔اس اعتبار سے کتب خانوں کی اہمیت بڑھ جاتی ہے جہاں انسان ناصرف آسانی کے ساتھ تصنیف سے فائدہ اٹھا سکتا ہے بلکہ سال ہا سال ان علمی سرچشموں سے اپنی فکری سوچ کو بھی پروان چڑھا سکتا ہے ۔بلاشبہ آج کا دور آئی ٹی کا دور کہلاتا ہے ۔کمپیوٹر نے جہاں سوچنے کی صلاحیت کو جلا بخشی ہے وہاں کام کرنے کے حوالے سے زندگی کو بہت ہی آسان بنا دیا ہے۔ اس فکری سوچ نے ترقی کے نئے راستے متعین کئے ہیں۔مگر اس ترقی کا فکر انگیز پہلو یہ بھی سامنے آیا ہے کہ افراتفری کے عالم میں انسانی رابطوں پر گہرے اثرات بھی مرتب ہو ئے ہیں ۔ایک وقت تھا جب لائبریری اور اس میں محفوظ رکھی کتاب کی بڑی اہمیت ہوا کرتی تھی ۔انسان کا کتاب کے ساتھ رشتہ مضبوط ہوا کرتا تھا۔اس سے شغف اور مطالعہ کا شوچ رکھنے والے افراد میلوں پیدل چل کر اپنی علمی پیاس بجھانے کے لئے سفر طے کیا کرتے تھے ۔بڑ ے شہروں میں باقاعدہ لائبریریوں کا ایک منظم نظام موجود ہوتا جہاں ہر وقت رش نظر آیا کرتا تھا۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ ہمارے بچپن میں ہمارے گھر کے ساتھ ہی ایک لائبریری ہوا کرتی تھی جہاں سے نہایت ہی کم قیمت پر ہم کتب حاصل کر کے پڑھا کرتے تھے ۔جب کبھی جیب میں پیسے نہ بھی ہوا کرتے تو بھی کتاب ہمارے نام پر ایشو ہوجایا کرتی تھی۔
اسی طرح سکول میں بھی لائبریری کی یہ سہولت میسر تھی ۔جہاں اکثر و بیشتر اساتذہ کے ساتھ ساتھ سنجیدہ طلبہ فارغ اوقات میں مطالعہ کرتے نظر آتے تھے۔ گزشتہ دنوں مجھے ایک تحقیقی مضمون کے حوالے سے لائبریری جانے کا اتفاق ہوا ۔ انتہائی دکھ سے کہنا پڑتا ہے کہ وہ رش جو کبھی لائبریریوں میں ہوا کرتا تھا۔اب کہیں آئی ٹی کے دور نے غائب کر دیا ہے ۔لائبریریاں غیر آباد اور انٹرنیٹ کیفے آباد ہو چکے ہیں۔جیسا کہ اوپر میں تذکرہ کر چکا ہوں کہ لائبریری کی اہمیت سے کسی ذی شعور انسان کو انکار ممکن نہیں ہے ۔ یہ وہ جگہ ہوتی ہے جہاں علمی ذوق و شوق رکھنے والے طلبہ ۔۔کچھ حاصل کرنے کی جستجو میں مگن نظر آتے ہیں۔وہ ریسرچ کے ذریعے شعوری پردوں میں پوشیدہ حقائق جاننے کی کوشش کرتے ہیں۔ فکر و سوچ کے ذریعے تجربات سے احذ کردہ نتائج پر رائے قائم کر کے ایک نیا انداز فکر دیتے ہیں۔آج کے دور میں لائبریری کا اپنی افادیت کو قائم رکھنا یقیناًمشکل ہو چکا ہے مگر خوش آئند بات یہ ہے کہ آئی ٹی جتنی مرضی ترقی کر لے کتاب بینی کی روایت مکمل طور پر ناپید نہیں ہوئی۔ بہر کیف کتاب کے ساتھ انسانی رشتہ قائم رکھنے کے لئے ضروری ہے کہ طلبہ کو شروع سے ہی لائبریری کی عادت ڈالی جائے ۔اور یہ اس وقت ہی ممکن ہو سکتا ہے جب سکولوں میں لائبریریوں کا قیام ہو گا۔ اس حوالے سے سنجیدہ اقداما ت وقت کی اہم ضرورت ہے ۔
مطالعے کا شوق طلبہ کے اند ر مثبت تبدیلی کو پیدا کرتا ہے ۔کوئی شخص کتب سے رجوع کئے بغیر علم حاصل نہیں کر سکتا ۔مطالعے کی عادت ہی قوم کی اصل رہنمائی اور کامیابی کا واحد راستہ ہے ۔اگر ہم یہ کہیں کہ اس کو ترک کرکے ترقی کی منازل طے کر لیں گئے تو یہ محض خام خیالی ہو گئی۔سکول ،کالجز کے بعد لائبریریاں علم حاصل کرنے کے بڑے مراکز ہیں۔ تدریسی نظام میں لائبریری کی اہمیت سے کسی طور پر انکار ممکن نہیں۔سکولوں اور مدارس طلبہ و طالبات کے لائبریری کا نظام کسی نعمت سے کم نہیں۔ اس سے طالب علموں میں مطالعے کا شوق پیدا ہوتا ہے جس سے طلبہ کے علم و دانش میں بھی نمایاں بہتری ممکن ہوتی ہے ۔یہ ہمارے لئے المیہ ہے کہ1947ء سے حکومت پاکستان کی طرف سے لائبریریوں کی تعدا د بڑھانے کی بجائے بے حسی کا مظاہر ہ کرتے ہوئے اس جانب کو ئی خاص توجہ نہیں دی گئی۔موجودہ لائبریریوں کا انفراسٹرکیچر اپنی مدت پوری کر چکا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ پبلک لائبریریوں کا سسٹم افادیت کے باوجود نوجوانوں کے لئے پر کشش نہیں رہا۔ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت لائبریریوں کے انفراسٹرکیچر کو بہتر بنائے ۔اور نوجوان نسل میں اس حوالے سے رغبت پیدا کی جائے۔ لاہور کی چند بڑی لائبریریوں پر روشنی ڈالیں تو سب سے پہلے نظر جس لائبریری پر مرکوز ہوتی ہے وہ پنجاب پبلک لائبریری ہے۔ پنجاب پبلک لائبریری 1884ء میں قائم کی گئی تھی ۔یہ لاہور کی سب سے بڑی اور سب سے قدیم لائبریری گردانی جاتی ہے ۔اس لائبریری کی کلیکشن میں کتب،رسائل ،تاریخی نوعیت کے میگزین شامل ہیں ۔ اس لائبریری کو شاہ جہان دور کے نواب وزیر خان نے اس وقت تعمیر کروایا تھا جب وہ لاہور کا گورنر تھا۔ دیگر لائبریریوں میں قابل ذکر جو ہے اس کا نام قائد اعظم لائبریری ہے ۔یہ انتہائی منظم انداز میں ترتیب دی گئی ہے۔ جدید طرز تعمیر اپنی مثال آپ ہے ۔یہ باغ جناح لاہور میں واقع ہے ۔اس لائبریری میں ایک لاکھ پچیس ہزار انگریزی ،اردو، عربی اور فارسی میں لکھی کتابیں رکھی گئیں ہیں۔اس لائبریری میں ڈھائی لاکھ افراد کے بڑھنے کی جگہ ہے ۔لاہور کی پرانی لائبریریوں میں دیال سنگھ ٹرسٹ لائبریری کا نام بھی سر فہرست ہے۔ دیال سنگھ لائبریری دلکشی میں اپنا ثانی نہیں رکھتی ۔یہ 1908ء میں قائم کی گی تھی جبکہ 1947ء سے 1964 ء ہجرت کت باعث تک بند کردی گئی۔ اس لائبریری نے مختلف موضوعات پر اپنی بھی 108کتب کو شائع کیا ۔
ڈیفنس پبلک لائبریری 2000ء میں قائم کی گئی۔یہ لائبریری ہائر ایجوکیشن ، نیشنل ڈیجیٹل لائبریری،امریکن لائبریری ایسوسی ایشن کے ساتھ رجسٹرڈ ہے۔اس میں پچاس ہزار سے زائد کتب اور پانچ ہزار سے زائد ممبرز ہیں۔اس لائبریری میں 25کمپیوٹر وں پر مشتمل لیب بھی موجود ہے۔پنجاب یونیورسٹی لائبریری کو 1873ء میں قائم کیا گیا ۔لائبریری کتب کی extensive collection رکھتی ہے۔ جسے ریگولر بنیادوں پر اپ ڈیٹ کیا جاتا ہے ۔ہر سال ہزاروں طالب علم اس لائبریری سے مستفید ہوتے ہیں۔ دی ایونگ مموریل لائبریری کو 1943ء میں قائم کیا گیا تھا ۔ لائبریری کا نام ڈاکٹر سر جے سی آر ایونگ جو کہ اس کے دوسرے پرنسپل تھے کے نام پر رکھا گیا تھا۔یہ ایک پرانی لائبریری ہے جو جدید سہولیا ت ست آراستہ ہے۔