Dr-ibrahim-mughal

ضمنی انتخابات کے خدوخال

اہل خرد کے نزدیک حلقہ این اے 120 میں ہونے والے ضمنی الیکشن کا مسئلہ یہ نہیں تھا کہ وہاں کون جیتے گا، کیونکہ وہاں مسلم لیگ (ن) کی جیت کو نوشتہ دیوار کے طور پر پڑھا جا سکتا تھا۔ ان کے نزدیک تو دراصل مسئلہ یہ تھا کہ سیاسی پارٹی مسلم لیگ (ن) کتنے ووٹوں سے جیتے گی ۔ ان کے نزدیک مسلم لیگ (ن) کی 30 ہزار ووٹ سے کم کی جیت اس کے لیے خطرے کی گھنٹی کے مترادف تھی۔ چہ جائیکہ وہ اس الیکشن میں دوسرے نمبر پہ آنے والی سیاسی پارٹی پاکستان تحریک انصاف سے صرف 13268 ووٹ زیادہ حاصل کرسکی۔ اہل خرد سمجھتے ہیں کہ گزشتہ 35 برس سے چلی آرہی مسلم لیگ (ن) کی اس سیٹ کے نتائج نے ملک بھر میں آئندہ ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ (ن) کی گرفت کمزور پڑ جانے سے خبردار کردیا ہے۔ بے شک ایک طرف موجودہ نتائج نے یہ بھی ثابت کرد یا ہے کہ اس مخصوص حلقے میں اگر مسلم لیگ کھمبا بھی کھڑا کردے تو وہ بھی جیت جائے گا۔ لہٰذا آپ دیکھ سکتے ہیں کہ بیگم کلثوم نواز نے بوجوہ اپنی شدید علالت کے حلقہ کا ایک بار بھی دورہ نہیں کیا، مگر جیت ان کے حق میں آکر رہی۔ حلقہ 120 کی نشست پہ ماضی میں مسلم لیگ (ن) کا اصل مقابلہ پیپلز پارٹی سے ہوا کرتا تھا۔ مگر اس بار تو پیپلز پارٹی کی حالت یہاں اس قدر ابتر تھی کہ ان کا امیدوار صرف 1414 ووٹ حاصل کر پایا۔ اس طرح یہاں یہ بھی ثابت ہوگیا کہ پیپلز پرٹی کو اس قدر نقصان جنرل ضیاء الحق نے نہیں پہنچایا جس قدر اسے نقصان آصف علی زرداری نے پہنچادیا۔ کہاں ہیں وہ دانشور اور اینکر جو کہا کرتے ہیں ایک زرداری سب پہ بھاری۔ ہاں آصف زرداری بھاری ہے مگر جہاز کے لنگر کی صورت میں۔ پیپلز پارٹی کے پیندے سے بندھا ہوا یہ بھاری لنگر آخر اس جہاز کو ہی لے ڈوبا۔ مگر باپ اور بیٹے کی ڈھٹائی ملاحظہ ہو کہ اب بھی یہی کہہ رہے ہیں کہ میاں صاحب کو حکومت کرنا نہیں آتا۔ اس جگہ پہ یہ نکتہ زیر بحث نہیں کہ میاں نواز شریف نے ٹھیک سے حکومت کی یا نہیں، یہاں تو یہ دیکھ کر ہنسی آرہی ہے کہ یہ طعنہ کون دے رہا ہے۔
حلقہ 120 کے انتخابات نے شریف خاندان کے درمیا ن پڑنے والی ان دراڑوں کو بھی آشکار کردیا ہے جو اب تک شک کا شکار تھیں۔ مسلم لیگ (ن) شاید کبھی بھی اس سوال کا تسلی بخش جواب نہ دے پائے گی کہ آخر کیوں حمزہ شہباز شریف نے حلقہ 120 کی الیکشن کمپین میں حصہ نہیں لیا۔ یہاں تک کہ وہ کسی قسم کا بہانہ تک نہیں گھڑ پائے۔ اللہ پاک انہیں صحت کاملہ سے نوازے، بیگم کلثوم نواز کی علالت پہ کوئی شک نہیں ہونا چاہیے۔ میاں نواز شریف اور ان کے بچوں کا تیمارداری کی غرض سے لندن میں موجود ہونا تو سمجھ میں آتا ہے، مگر پوری مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت کا لندن میں جا ڈیرے لگالینا کسی اور جانب اشارہ کرتا ہے۔ کیا یہ ملک یونہی چلے گا؟ لگتا ہے اس کے موجودہ لیڈروں کو انگریزوں سے حاصل کی گئی آزادی پسند نہیں آرہی۔ تب ہی تو اُٹھ اُٹھ کر انگلینڈ بھاگتے ہیں۔ پوچھنے والے تو یہ بھی پوچھ رہے ہیں کہ مسلم لیگ (ن) کی مرکزی قیادت اب وہاں سے واپس آئے گی بھی یا نہیں؟ حلقہ 120 ہی کے ضمنی الیکشن نے جماعت اسلامی کی اندرونی کمزوری کو بھی ظاہر کردیا۔ جماعت اسلامی اس الیکشن میں صرف 592 ووٹ حاصل کرسکی۔ جماعت اسلامی کے مرکزی رہنما سراج الحق کے اعلیٰ کردار سے کون واقف نہیں؟ گو وہ مدمقابل کے نقطہ نظر کو پوری توجہ اور عمل سے سنتے ہیں، مگر پھر بھی اپنے نقطہ نظر کو نفاست کے ساتھ دلائل کی روشنی میں ثابت کرتے ہیں۔ مگر اب ضرورت ہے کہ وہ پارٹی کے اندرونِ خانہ ان دراڑوں کا جائزہ لیں جس کی بناء پر جماعت اسلامی جیسی نظریاتی جماعت اس قدر کم ووٹ حاصل کر پائی۔ سراج الحق کو ملکی سیاست پر اپنی گرفت مضبوط کرنے کے لیے ازسرنو پارٹی کی تشکیل پر توجہ دینا ہوگی۔ جماعت اسلامی کی اس ضمنی الیکشن میں اس قدر کمزور پوزیشن ملکی سیاسی توازن میں بگاڑ کا باعث بن سکتی ہے۔
2013ء میں ہونے والے عام انتخابات میں مسلم لیگ (ن) نے حلقہ 120 میں 91683 ووٹ حاصل کیے تھے، جبکہ پاکستان تحریک انصاف جو مسلم لیگ (ن) کی پہلے نمبر پر مدمقابل ثابت ہوئی، نے 52321 ووٹ حاصل کیے تھے۔ یوں مسلم لیگ (ن) کو قریباً 40 ہزار ووٹ سے کامیابی نصیب ہوئی تھی۔ جبکہ اس مرتبہ مسلم لیگ (ن) نے 61745 ووٹ حاصل کیے ہیں اور اس کے مقابلے میں پاکستان تحریک انصاف نے 47099 ووٹ حاصل کیے ہیں۔ یوں یہ فرق گھٹ کرتیر ہ ہز ا ر کے لگ بھگ رہ گیا ہے۔ یہ کم فرق مسلم لیگ (ن) کے اندر کی خرابیوں کی کہانی سناتا ہے۔ کیا اب بھی مسلم لیگ (ن) میاں صاحب کی نااہلی کے خلاف سڑکوں پر آنے کا پروگرام رکھتی ہے؟ اہل خرد کے نزدیک ایسا کرنا اپنے اس پاؤں پہ کلہا ڑی مارنے کے مترادف ہوگا جو پہلے ہی زخمی ہے۔ ہاں اگر ووٹوں کا فرق پچاس ہزار کے لگ بھگ ہوتا تو بات دوسری تھی۔ مگر یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ مسلم لیگ (ن) کا سڑکوں پہ آنا کسی صورت میں درست نہ ہوگا۔ مسلم لیگ (ن) کی معمولی ووٹوں سے یہ جیت اس حقیقت سے بھی پردہ اٹھارہی ہے کہ عوام کسی صورت میاں نواز شریف کو نااہل قرار دیئے جانے کے بارے میں مظلوم نہیں سمجھ رہے۔ یہی وجہ ہے کہ خواجہ سعد رفیق مریم نواز کو بیانات دیتے وقت ہاتھ ہلکا رکھنے کا مشورہ دے رہے ہیں۔ پارٹی کے معاملات کی خرابی کی مثال یہ بھی ہے کہ سابق وفاقی وزیر خزانہ خواجہ اسحق ڈار کچھ فائلیں بغل میں دبائے وزیراعظم شاہد خاقان عباسی کے دفتر پہنچے کہ ان پہ اپنے حسب منشاء دستخط کراسکیں۔ مگر عباسی صاحب نے ان فائلوں کو پڑھے بغیر دستخط کرنے سے انکار کردیا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ میاں صاحب نے انہیں حکم دیا کہ نیویارک جاتے وقت مجھ سے لندن میں ملتے جائیں۔ دوسری طرف میاں شہباز شریف نے ایک ملاقات چودھری نثار سے کی ہے۔ مبصر اس ملاقات کو انتہائی اہم قرار دے رہے ہیں۔ میاں شہباز شریف ہمیشہ سے میاں نواز شریف کے انتہائی سعادت مند رہے ہیں۔ مگر ا س حلقہ کے ضمنی انتخاب میں انہوں نے مریم نواز کو یکسر تنہا چھوڑ دیا۔ اگر چھوٹے میاں صاحب یہ کہتے ہیں کہ ان کے فرائض منصبی انہیں ایسا کرنے کی اجازت نہیں دیتے تو ان سے پوچھا جاسکتاہے کہ اس سے پہلے وہ جو بھی امور سرانجام دیتے رہے ہیں، کیا وہ اپنے فرائض کی حدود کے اندر رہتے ہوئے سرانجام دیتے رہے ہیں۔ چاروں صوبوں کے وزرائے اعلیٰ میں سے وہ اکیلے تھے جو مسلسل چین اور ترکی کے دورے کرتے رہے۔ اس پہ ان صوبوں میں احتجاج بھی ہوا۔
بہرحال یہ شریف خاندان کے لیے انتہائی پیچیدہ صورت حال ہے۔ چودھری نثار کو میاں نواز شریف کی ذاتی فیملی ناپسندیدہ نظروں سے دیکھتی ہے، جبکہ میاں شہباز چودھری نثار سے اب بھی پینگیں بڑھاتے نظر آرہے ہیں۔ مگر اس وقت چین تو میاں شہباز شریف کو بھی نصیب نہیں۔ ہاں ان حالات میں اگر کوئی چین کی بنسی بجارہا ہے اور آرام سے اپنے گھر میں سکھ کی نیند سورہا ہے تو وہ چودھری نثار ہیں۔ شاید وہ کہہ رہے ہیں ’’ٹیڈ پیڑ انہاں دے جناں کھادیاں گاجراں‘‘۔ (پیٹ میں درد ان کے ہے جنہوں نے گاجریں کھائی ہیں)۔ چودھری نثار کی اپنے مہروں پہ پوری نظر ہے۔ انہوں نے موجودہ وزیر خارجہ خواجہ آصف کی اپنے گھر کو ٹھیک کرنے کے بیان پہ کلاس لے کر ثابت کردیا ہے کہ وہ بظاہر تو گوشہ نشین دکھائی دے رہے ہیں مگر ملک کی سیاست اور اس کے بین الاقوامی برادری کے ساتھ معاملات پہ نہ صرف پوری پوری نظر رکھے ہوئے ہیں بلکہ انہیں شتر بے مہار کی مانند آزاد چھوڑنے کی اجازت دینے پہ حسب توفیق رضامند نہیں۔