Khalid Bhatti

صدر ٹرمپ: اسرائیل اور مسئلہ فلسطین

صدر ٹرمپ نے امریکہ کی فلسطین کے حوالے سے پالیسی کو منافقت اور دوغلے پن سے نجات دلا کر اسے اصل حالت میں دنیا کے سامنے رکھ دیا ہے۔ مسئلہ صرف یروشلم کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی وہاں منتقلی کا نہیں ہے بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے یہ واضح کر دیا ہے کہ وہ اپنے وعدے اور معاہدے سے دستبردار ہو رہے ہیں جس کے تحت دو ریاستیں قائم ہونی تھیں۔ اسرائیل اور فلسطین کی ریاست۔ اسرائیلی ریاست تو 1948ء میں قائم ہو گئی جبکہ فلسطینی ابھی تک اپنی ریاست کے قیام کے منتظر ہیں۔ صدر ٹرمپ نے بیت المقدس (یروشلم) کو اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کرنے اور امریکی سفارت خانے کی منتقلی کے اعلان کے لیے انہی دنوں کا انتخاب کیا جب سقوط یروشلم کے 100 سال پورے ہو رہے تھے۔ دسمبر 1917ء میں برطانوی افواج نے بیت المقدس پر قبضہ کیا تھا۔ برطانوی افواج نے بیت المقدس کو عثمانی خلافت سے چھپنا تھا۔
برطانوی سامراج نے اعلان بالفور کے تحت فلسطین میں یہودیوں کی قومی ریاست کے قیام کا وعدہ کیا۔ امریکی کانگریس نے بھی یہودی ریاست کے قیام کی حمایت کی۔ مگر ان دونوں سامراجی طاقتوں نے فلسطینیوں کے قومی اور مذہبی حقوق کے تحفظ کی ضمانت بھی دی۔ برطانیہ، امریکہ اور روس نے باہمی اتفاق سے 1948ء میں اسرائیل کے قیام کا اعلان کر دیا۔ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی نے 29 نومبر 1947ء کو فلسطین کی تقسیم کا منصوبہ پیش کیا اور قرار داد 181 کی منظوری دی۔ اس منصوبے میں یروشلم اسرائیل کا حصہ نہیں تھا بلکہ اس منصوبے کے تحت یروشلم کو اقوام متحدہ کے انتظام میں دیا جانا تھا اور اس کی حیثیت ایک بین الاقوامی شہر کی تھی مگر اسرائیل نے غیر قانونی طور پر مغربی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا اسرائیل حکومت اور پارلیمنٹ نے 1949ء میں مغربی بیت المقدس کو اسرائیل کا دارالحکومت قرار دیا جسے دنیا نے تسلیم نہیں کیا۔ عملی طور پر تل ابیب ہی اسرائیل کا دارالحکومت رہا۔ 1967ء کی عرب اسرائیل جنگ کے دوران اسرائیل نے مشرقی بیت المقدس پر بھی قبضہ کر لیا۔ 1980ء میں اسرائیلی پارلیمنٹ نے پورے بیت المقدس کو اپنا دارالحکومت قرار دے دیا۔ امریکی کانگریس نے 1995ء میں قانون منظور کیا جس کے تحت 1999ء تک امریکی سفارت خانہ بیت المقدس منتقل ہونا تھا۔ اس قانون کی منظوری کے بعد تمام امریکی صدور پر 6 ماہ بعد صدارتی حکم نامے کے ذریعے اس پر عمل درآمد کو ٹالتے رہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے اختیارات استعمال کرتے ہوئے اس قانون پر عمل درآمد کرنے کا حکم نامہ جاری کر دیا۔ اب سوال یہ ہے کہ 22 سال سے امریکی کانگرس نے ایک قانون منظور کیا ہوا تھا تو اسے تبدیل کروانے اور ختم کروانے کی کوشش کیوں نہیں ہوئی۔ صدر کلنٹن، صدر بش اور باراک اوباما سے کتنے عرب اور دیگر مسلمان رہنماؤں نے اس قانون کے حوالے سے بات کی۔ سب لوگ جانتے تھے کہ صدر ٹرمپ نے اپنی انتخابی مہم کے دوران کھل کر یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی سفارت خانے کو بیت المقدس منتقل کرنے کا حکم جاری کریں گے اور اسے اسرائیل کا دارالحکومت تسلیم کریں گے۔ مگر اس سب کے باوجود سعودی قیادت نے صدر ٹرمپ کا والہانہ استقبال کیا۔ اربوں ڈالر دفاعی معاہدوں کی صور ت میں ان کی نذر کیے۔ ایران کو سبق سکھانے کے عہد کا اعادہ کیا گیا مگر اس دورے کے دوران ایسی کوئی خبر جاری نہیں ہوئی جس کے مطابق صدر ٹرمپ سے مطالبہ کیا گیا ہو کہ وہ سفارت خانے کو منتقل نہیں کریں گے اور امریکہ دو ریاستی حل سے پیچھے نہیں ہٹے گا۔ او آئی سی (OIC) نے سربراہی اجلاس میں جو کہ ترکی میں منعقد ہوا، امریکہ کے اس اقدام کی مذمت کی اور اسرائیل کے خلاف دھواں دار تقاریر کیں۔ فلسطینیوں کو تسلی دی گئی۔ مذمتی قرار داد منظور ہوئی اس طرح اسلامی ممالک کی تنظیم اور سربراہوں نے اپنا فرض پورا کر دیا۔ کیا امریکی اور اسرائیلی نہیں جانتے کہ مسلمان ممالک اور ان کے حکمران خود کس حد تک منقسم ہیں۔ مشرق وسطیٰ میں متحد ہو کر اسرائیل کے مفادات کے خلاف کام کرنے کی بجائے خود ایک دوسرے کو کمزور کرنے میں مصروف ہیں۔ سعودی عرب اور ایران کے درمیان جاری کشمکش اور محاذ آرائی کس سے پوشیدہ ہے۔ یہ 1974ء نہیں ہے کہ عرب ممالک تیل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر سکیں اور نہ ہی ذوالفقار علی بھٹو، کرنل قذافی، حافظ الاسد اور شاہ فیصل جیسے سامراج مخالف رہنما موجود ہیں جو سامراجی مفادات اور غلبے کو چیلنج کرنے کی جرأت کر سکیں۔ یہ عوامی انقلابی تحریکوں کا زمانہ بھی نہیں ہے کہ فلسطینی عوام کو عملی طو رپر دنیا بھر سے عوامی حمایت اور تائید ہوسکے۔ صدر ٹرمپ نے اپنی پالیسی واضح کر دی کہ وہ غیر مشروط طور پر اسرائیل کے ساتھ ہے اور اس کے مفادات کے تحفظ کے لیے ہر حد تک جانے کو تیار ہے جبکہ مسلمان حکمران منقسم اور ابہام کا شکار ہیں۔ وہ امریکہ سے وابستہ اپنے مفادات کو ترک کرنے اور کھل کر فلسطینی عوام کے ساتھ کھڑے ہونے کو تیار نہیں ہیں۔ ابھی تک یہ بھی واضح نہیں ہے کہ OIC نے کوئی ایسا لائحہ عمل اور حکمت عملی طے کی ہو کہ کس طرح چین، روس اور یورپی یونین کے ساتھ مل کر اس فیصلے کے سیاسی اثرات کو کم کرنے کی کوشش کی جائے۔
صدر ٹرمپ کا یہ فیصلہ واضح اعلان ہے کہ فلسطینی ریاست کا قیام اب امریکی پالیسی کا حصہ نہیں ہے۔ انہیں اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ انہوں نے بغیر ریاست کے زندگی گزارنی ہے یا پھر اسرائیل کا حصہ بننا ہے۔ یہ محض بیت المقدس کو اسرائیلی دارالحکومت تسلیم کرنے کا نہیں ہے بلکہ امریکہ کی طرف سے فلسطینی ریاست کے مسئلے کو ہمیشہ کے لیے دفن کرنے کی شعوری پالیسی ہے۔ مجھے اس بات پر حیرت ضرور ہوتی ہے کہ پالیسی اور مؤقف تو امریکہ نے تبدیل کیا ہے جبکہ ہم لوگ اب بھی اسرائیل کو برا بھلا کہہ کر اپنے ضمیر کو مطمئن کرنے کی کوشش کرر ہے ہیں۔ اسرائیلی حکومت کے صہیونی عزائم کی مذمت بھی ہونی چاہیے اور اس کے خلاف جدوجہد اور مزاحمت بھی مگر کیا اسرائیل امریکہ کی مدد، حمایت اور تائید کے بغیر یہ سب کچھ کر سکتا ہے جو وہ فلسطینیوں کے خلاف کر رہا ہے۔ مسلمان ممالک کے عرب اور غیر عرب حکمران اپنے عوام کی تسلی اور اپنے اطمینان کے لیے تھوڑی بہت حرکت کرتے ہیں مگر فلسطینی عوام کو عملی طور پر وہ ان کے حال پر چھوڑ چکے ہیں۔
اس بات کے امکانات بھی کم ہیں کہ مشرق وسطیٰ اور عرب دنیا میں کوئی بڑی عوامی انقلابی تحریک ابھر سکے کیونکہ ایسی تحریک کا نشانہ صرف اسرائیل اور امریکہ ہی نہیں ہوں گے بلکہ عرب حکمران بھی اس تحریک کا نشانہ ہوں گے۔ البتہ امریکہ اور اسرائیل کی غاصبانہ اور غیر منصفانہ پالیسیوں کے نتیجے میں القاعدہ اور داعش جیسی انتہا پسند متشدد تنظیموں کو پھلنے پھولنے کا موقع ملے گا۔ نوجوان کے مشتعل جذبات کو ایسی تنظیمیں اپنے مذہبی پروپیگنڈے اور شدت پسند بیانیے کے ذریعے متوجہ کریں گی اور ان کی حمایت میں اضافہ ہو سکتا ہے۔ امریکہ کی پالیسی بہت واضح ہے کہ اسرائیل کو مضبوط کیا جائے جبکہ عرب ممالک کو فرقہ واریت کی آگ میں جھونک کر مزید کمزور کیا جائے تا کہ اسرائیل کو در پیش خطرات کو ختم کیا جا سکے۔ یمن، شام، لیبیا اور عراق جنگ اور خانہ جنگی کے نتیجے میں یا تو مکمل طور پر تباہ ہو چکے یا پھر بہت کمزور ہو چکے ہیں۔ اگلا نشانہ ایران اور لبنان ہیں۔ حزب اللہ کا خاتمہ امریکی اور اسرائیلی ایجنڈے پر سرفہرست ہے۔ ایران کو کمزور کیے بغیر حزب اللہ کو ختم کرنا آسان کام نہیں۔ بشار الاسد کی موجودگی بھی دونوں کے لیے قابل قبول نہیں ہے۔ ان حالات میں فلسطینی عوام کو اپنے قومی، مذہبی اور ثقافتی حقوق کی جنگ خود ہی لڑنی ہو گی۔ ان کے لیے مزاحمت اور جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں بچا فلسطینی عوام کی موجودگی میں ان کی ریاست کے مطالبے کو دفن کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ فلسطینی عوام کی عظیم الشان انقلابی تحریک ہی دنیا کی طاقتوں کو مجبور کر سکتی ہے کہ وہ فلسطینی عوام کے دیرینہ مطالبات پر کان دھریں اور ان کو اپنے وعدوں کے مطابق حل کریں۔ برطانیہ ،امریکہ، سلامتی کونسل اور دیگر ممالک نے متعدد بار یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ فلسطینی ریاست کے وعدے کو پورا کریں گے۔ وہ اسرائیل کو اس کی اصل سرحدوں تک محدود کریں گے۔ تمام مقبوضہ فلسطینی علاقوں کو آزاد کروایا جائے گا تمام فلسطینی مہاجرین کی اپنے وطن میں واپسی کو یقینی بنایا جائے گا۔ اسرائیلی جارحیت اور توسیع پسندانہ پالیسی کو ختم کروایا جائے۔
فلسطین عالمی ضمیر پر ایک بڑا بوجھ ہے۔ وہ تمام اقوام جو اپنے آپ کو مہذب، جمہوری اور انسانی اقدار کی محافظ تصور کرتی ہیں انہیں یہ ثابت کرنا ہو گا کہ یہ محض ان کی منافقت اور دوغلا پن نہیں ہے اور نہ ہی محض کھوکھلے نعرے ہیں بلکہ وہ حقیقی معنوں میں ان انسانی اقدار جمہوری روایات پر عمل پیرا ہیں۔ فلسطین کے مسئلہ کو حل کیے بغیر محض طاقت، دھونس اور جبر کے ذریعے مشرق وسطیٰ میں امن قائم نہیں ہو سکتا۔ محض طاقت کے زور پر فلسطینی عوام کو ہمیشہ کے لیے غلامی اور محکومی کی زندگی گزارنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ فلسطینی عوام ایک کھلی جیل کے قیدی ہیں۔ یہ قیدی عالمی ضمیر اور شعور پر ایک بڑا بوجھ ہے۔