riaz ch

صحت کے مسائل اور صحت عامہ کی پالیسی

پاکستان میں شعبہ صحت نے قابل فخر پیشرفت کی ہے اور اس کے ہسپتالوں میں مہیا کی گئی سہولتیں کسی طور یورپی یا امریکی ہسپتالوں سے کم نہیں۔شعبہ صحت کیلئے دوسرے ممالک سے بہترین ماہرین صحت کی خدمات مستعار لی گئی ہیں۔ طبی میدان میں بے مثال تحقیقی کام بھی ہورہا ہے۔پاکستان میں عوامی صحت کے شعبے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ملک میں 74 طبی کالج اور 32 دندانسازی کے کالج موجود ہیں۔ ان سے ہر سال 9000 ڈاکٹر اور 2000 ڈینٹسٹ فارغ التحصیل ہوتے ہیں۔
حقیقت یہ ہے کہ کسی حکومت نے بھی اب تک صحت عامہ کے متعلق کوئی سائنٹیفک پالیسی نہیں بنائی۔ ہمارے ہاں ہسپتالوں کی جو قابل رحم حالت ہے وہ کسی سے پوشیدہ نہیں۔ بیڈز کی کمی، ادویات کا نہ ملنا ، ڈاکٹروں کی توجہ نہ ہونا تو عام سی شکایات ہیں۔ اگر نئے ہسپتال نہیں بنائے تو پرانے ہسپتالوں میں سہولیات دیں۔کیا نئی مشینری منگائی اور چالو کی ۔ کیا ایمرجنسی بیڈز کا اضافہ کیا۔ کیا ہر بڑے ہسپتال میں دل کے امراض کے شعبے قائم کئے۔ کیا نئے بلاک بنائے۔
حال ہی میں صحت کے حوالے سے ایک اہم ترین تقریب اسلام آبادمیں منعقد ہوئی ۔ وفاقی وزیر برائے نیشنل ہیلتھ سروسز ریگولیشن اینڈ کوآرڈینیشن سائرہ افضل تارڑ نے عالمی ادارہ صحت کی مشرقی بحیرہ روم خطہ کے لیے علاقائی کمیٹی کے افتتاحی اجلاس سے خطاب میں کہا کہ پاکستان میں باوقار ترین بین الاقوامی کانفرنس کا انعقاد بڑے اعزاز کی بات ہے اور یہ خطہ بھر میں صحت کے شعبہ کی اعلیٰ ترین تقریب ہے۔ پاکستان میں مشرقی بحیرہ روم خطہ کے ممالک کی علاقائی کمیٹی کے اجلاس کے انعقاد سے برادر ممالک کے مابین تعلقات مضبوط ہوں گے اور اقوام ایک دوسرے کے قریب آئیں گی۔
وفاقی وزیر نے بتایا کہ مشرقی بحیرہ روم خطہ کی آبادی تقریباً 583ملین ہے۔ ہمیں صحت کے پوری دنیا میں ہونے والے اخراجات کے مقابلہ میں اس خطہ میں صحت کے اخراجات میں فرق کو دور کرنا ہوگا۔ہمیں وسائل مختص کرتے ہوئے صحت عامہ کو ترجیح دیتے ہوئے انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنی چاہئے۔ ہمیں ایک جیسے مسائل درپیش ہیں خطہ میں مقامی علم اور دْنیا بھر کی دولت ہے۔اس خطہ میں عوام کو صحت کی خدمات تک رسائی کا چیلنج درپیش ہے۔ہمیں لازمی طورپر صحت کی خدمات تک رسائی میں برابری کو یقینی بنانے کے لیے جدت اپنانا ہوگی۔ ہمارے مشترکہ عقیدے ، تاریخ، ثقافت اور ملتے جلتے اقتصادی وسماجی حالات کا تقاضا ہے کہ ہم صحت کے گوناگوں مسائل کو حل کریں اور اس سلسلہ میں یہ کانفرنس سنگ میل ہوسکتی ہے۔ ہمارا قومی صحت کا وژن صحت سے متعلق پائیدار ترقی کے اہداف کے عین مطابق ہے۔
پاکستان نے تاریخی ہیلتھ انشورنس پروگرام شروع کرکے سماجی تحفظ اور صحت کی یکساں سہولیات کی فراہمی جیسا بڑا اقدام کیا ہے۔وزیراعظم کا قومی صحت پروگرام غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزارنے والے غریبوں کی صحت کی ضروریات کو پورا کرتا ہے جن کو سرکاری اور نجی شعبہ میں صحت کی معیاری خدمات مفت فراہم کی جاتی ہیں۔ملک بھر میں تمام خاندانوں کو ایک شفاف نظام کے ذریعے ہیلتھ کارڈ جاری کیے جارہے ہیں۔
سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ ہمیں یقین ہے کہ بڑے پیمانے پر خدمات کی فراہمی کا یہ ماڈل مثالی ہے جس کو خطہ کے دیگر ممالک بھی متعارف کرواسکتے ہیں۔پاکستان اینٹی مائیکروبائل ریز سٹینس (اے ایم آر)کے عالمی صحت کے اثرات سے مکمل طورپر آگاہ ہے اور اے ایم آر کی جامع قومی پالیسی میں اے ایم آر کے عالمی ادارہ صحت کے عالمی لائحہ عمل کے 5تزویراتی اغراض ومقاصد پر زوردیا گیاہے۔
ہم انسانی صحت کے شعبہ میں اینٹی مائیکروبائل ادویات کا استعمال زیادہ سے زیادہ کرنے کے سلسلہ میں کام کررہے ہیں اور ہم نے قومی اے ایم آر پالیسی کے مطابق کئی جہتی شعبہ جات کے لیے حکمت عملی پر عملدرآمد کیا ہے۔ پاکستان کے عالمی ہیلتھ سکیورٹی ایجنڈے اور جوائنٹ ایکسٹرنل ہیلتھ ریگولیشنز کو سراہا گیا ہے۔جسے دوسروں کے لیے ماڈل کے طورپر دیکھا جارہا ہے۔
وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان پولیو کے خاتمہ میں بڑی کامیابیوں کے بعد اب پولیو کے خاتمہ کی آخری مراحل کی جدوجہد میں مصروف ہے اور پاکستان کی پولیو کے خاتمہ میں پیشرفت کو عالمی سطح پر سراہا گیا ہے۔ سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ صدر پاکستان اور وزیراعظم کی سرپرستی میں ہم انشاء اللہ پولیو کے خلاف حتمی طورپر کامیاب ہوجائیں گے۔ حفاظتی ٹیکہ جات کے توسیعی پروگرام کے تحت زچہ بچہ کو حفاظتی ٹیکہ جات لگانے کا عمل بھی بہتر اور مضبوط بنانے پر خصوصی توجہ دی گئی ہے۔
پاکستان نے گاوی کی مدد سے مرحلہ وار طورپر روٹاوائرس کی ویکسین بھی متعارف کروائی ہے اور حفاظتی ٹیکہ جات اور ویکسینیشن تک سب کی برابر رسائی کو یقینی بنانے کے لیے پسماندہ طبقات تک پہنچنے پر خصوصی توجہ دی جائے گی اور ان علاقوں میں سول سوسائٹی کی تنظیموں اور کمیونٹی کارکنوں کو متحرک کیا جائے گا تاکہ وہ مشکل رسائی والے علاقوں میں طلب کے مطابق ویکسینیشن کرسکیں۔
عوام الناس کو سستی اور معیاری ادویات کی فراہمی کے لیے بڑے پیمانے پر اصلاحات کی جاری ہیں۔مثال کے طورپر ہم نے پاکستان میں پہلی مرتبہ ادویات کی قیمتوں بارے جامع پالیسی متعارف کروائی ہے اور ہم نے ادویات کی قیمتوں کے بارے میں ہر قسم کے صوابدیدی اختیارات ختم کردئیے ہیں۔ جعلی اور گھٹیا ادویات کی لعنت پر قابو پانے کے لیے جینرک اور اصل ادویات کی وافر دستیابی کو یقینی بنایا جارہا ہے جوکہ غریبوں اور کم آمدن والے افراد کو بھی سستے داموں دستیاب ہیں۔
سائرہ افضل تارڑ نے کہا کہ پاکستان نے سگریٹ نوشی پر قابو پانے کے فریم ورک پر عمل درآمد کا عزم کررکھا ہے۔ اس ضمن میں ہم مناسب قانون سازی کرنے کے ساتھ ساتھ انتظامی اور رابطہ کاری کے اقدامات کررہے ہیں۔
ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن نے صحت عامہ کے حوالے سے دنیا کو تنظیمی تقسیم کی ڈوری میں باندھ دیا ہے تاکہ ایک دوسرے کے تجربات اور مہارت سے استفادہ کر کے اور اجتماعی کوششوں کے ذریعے ان ممالک کے شہریوں کو مختلف امراض سے محفوظ رکھنے یا نجات دِلانے کی سبیل تلاش کی جائے۔اسلام آباد میں ہونے والے اہم اجلاس میں صحت عامہ کے حوالے سے جو تجاویز منظور ہوئیں اور جن ترجیحات کا تعین کیا گیا ان سے نہ صرف علاقے،بلکہ پاکستان میں صحت مند زندگی یقینی بنائی جا سکے گی۔