hafiz-zohaib-tayyab

صحت کا شعبہ اور خادم اعلیٰ کی قابل تحسین کاوشیں!

ویسے تو پورے ملک میں ہی صحت کے شعبے کی صورت حال ابتر ہے جس کی وجہ سے سر کاری ہسپتالوں میں عام آدمی، جس کے پاس پینا ڈول خریدنے کے پیسے نہیں ، اپنے علاج کی خاطر ذلیل و خوار ہو تا دکھائی دیتا ہے ۔اس میں جہاں حکمرانوں اور محکمہ صحت کے افسروں کا قصور ہے وہاں ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر بھی اس جرم میں اتنے ہی ذمہ دار ہیں ۔ پچھلے دنوں میں نے لاہور کے سر کاری ہسپتالوں کے حوالے سے ایک ذاتی سر وے کیا جس کے نتائج کی روشنی میں ، میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ مریض کو ذلیل و خوار کر نے میں حکمرانوں اور صحت کے شعبے کے افسروں کا ذمہ 60فیصد ہے تو ڈیوٹی پر مو جود ڈاکٹر40فیصد کے حصہ دار ہیں۔ جس کا تا زہ ترین ثبوت حالیہ دنوں میں پیش آنے والامیو ہسپتال کا واقعہ ہے ۔
مریض کے لواحقین اسے معمولی سے فالج اٹیک کی وجہ سے یہاں لائے ۔ ایمرجنسی میں تو اسے فی الفور ڈرپ لگا کر اور ایک دو ٹیسٹ کر اکے آدھ گھنٹے بعد وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔ وارڈ میں تقریباً تین روز تک مریض اور اس کے لواحقین سینئر ڈاکٹروں کی راہ تکتے رہے لیکن سینئر تو دور کی بات کسی جونئیر ڈاکٹر بھی یہ زحمت گوارا نہ کی کہ تسلی کے ساتھ مریض کو چیک کر لیاجاتا ۔جہاں اس کی بیماری کی وجوہات اور بیماری سے صحت یاب ہونے کے لئے کچھ تجویز کیا جاتا وہاں کئی کئی دفعہ ڈاکٹروں کے بند کمروں کے چکر لگانے کے باوجود بھی ڈاکٹرز حضرات کم از کم مریض کاچیک اپ کرنے کے بجائے لواحقین کو ہی تسلی دے دیتے۔لہٰذا نرس کی جانب سے ہر ایک گھنٹے بعد ڈرپ ٹھوکنے کی وجہ سے معمولی سے مرض میں مبتلا مریض ، نمونیا، سینے کے انفکشن اور اس جیسی مختلف بیماریوں میں شکارہو جا تا ہے اور بالآخر ڈاکٹروں کا انتظاراپنی آنکھوں میں سجائے ، مسیحاؤں کی غفلت اور لاپروائی کی وجہ سے موت کے منہ میں چلا جا تا ہے ۔ یہ صرف ایک کہانی نہیں بلکہ تما م سر کاری ہسپتالوں میں تقریباًایسی ہی صورت حال ہے ۔صرف میو ہسپتال میں روزانہ ڈاکٹروں کی سستی اور لاپرواہی کی وجہ سے کئی اموات ہوتی ہیں۔ قارئین !اگر مریضوں کی خواری میں ملوث شعبہ صحت کے ذمہ داروں کی لاپرواہی اور غفلت کا ذکر کیا جائے تو اس سے بڑی غفلت اور لاپروائی کی مثال اور کیا ہو سکتی ہے کہ لاہور کے سب سے قدیم میو ہسپتال میں ابھی تک ایم ۔آر۔ آئی کی سہولت ہی نہیں ہے اور جو مشینری ہے اس میں سے زیادہ تشخیصی مشینوں کا خراب رہنا معمول بن چکا ہے۔با وثوق ذرائع کے مطابق ایمرجنسی کی دونوں سی،ٹی سکین مشینیں پچھلے کئی ماہ سے خراب پڑی ہیں ۔ایمرجنسی وارڈ میں مین ایکسرے مشین کا ہیڈ خراب پڑا ہے جبکہ چھاتی کے کینسرکی تشخیص کے لئے کئے جانے والا ٹیسٹ میمو گرافی بھی نہیں کیا جا رہا اور اونکولوجی وارڈ میں کینسر کے مریضوں کو شعاعیں دینے وال مشین بالٹ 60 بھی کافی عرصے سے خراب پڑی ہے ۔یورالوجی جیسے اہم شعبے میں گردوں کی پتھری توڑنے والی مشین لیتھو ٹرپسی بھی ایک طویل عرصے سے ناکارہ حالت میں موجود ہے ۔باقی اہم شعبہ جات کی مشینری کا حال بھی اس سے مختلف نہیں ہے جس کی وجہ سے ٹیسٹوں کی تشخیص میں بہت زیادہ Erorپائے جاتے ہیں ۔ مجھے یہ بات لکھتے ہوئے از حد خوشی ہو رہی ہے کہ میرے ذاتی سروے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ ڈاکٹروں اور شعبہ صحت کے افسروں کی حرام خوری اور کرپشن کے باوجود کارڈیالوجی ، جنرل ، جناح، چلڈرن اور سروسز ہسپتال میں پچھلے کچھ ماہ میں انقلابی تبدیلیاں نظر آئی ہیں ۔ جنرل ہسپتال کا شمار علا ج کے حوالے سے بہترین ہسپتالوں میں کیا جا رہا ہے جہاں سٹیٹ آف دی آرٹ سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ جس کے لئے خا دم اعلیٰ میاں شہباز شریف کی کاوشیں قابل تعریف اور لائق تحسین ہیں ۔ محکمہ پرائمری ہیلتھ کے ہاتھوں سے نکلنے والے ٹی۔ایچ ۔کیو ہسپتالوں کو انڈس فاؤنڈیشن کے سپرد کر نا یقیناًیہ بھی ایک احسن اقدام ہے اور سب سے بڑھ کر ہیپا ٹا ٹئٹس اور کینسر میں مبتلا مریضوں کو ان کے گھروں تک مفت ادویات کی فراہمی کا آغاز اور اب شوگر، دل اور سانس کے 3لاکھ 50ہزار مریضوں کو 6ارب روپے کی لاگت سے مفت ادویات کا منصوبہ، ایک ایسا کار خیر ہے جس کا کریڈٹ بھی شہباز شریف کو ہی جاتا ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ جس طرح پنجاب اور بالخصوص لاہور کے سر کاری ہسپتالوں کی حالت زار کو بہتر بنا نے میں شہباز شریف نے کوئی کسر نہیں چھوڑی ، اُسی طرح میو ہسپتال کے تباہ ہوتے حالات پر نظر ثانی کرتے ہوئے یہاں بھی حالات کو بہتر بنا یا جا ئے گا اور ڈاکٹروں کی سالہا سال سے جاری سستی اور کاہلی کو ختم کر نے کے لئے بھی کسی ایسے منصوبے کا آغاز کیا جائے گا جہاں ڈاکٹر بھی جوابدہ ہو گا اور صحت کے شعبے کے ذمہ دار جنہیں حرام خوری کی اتنی عادت ہو چکی ہے کہ حلال کی کمائی انہیں ہضم نہیں ہوتی۔ایسے گھناؤنے کرداروں کے خلاف بھی حقیقی معنوں میں سخت کارروائی کرتے ہوئے محکمے کو ایسی جونکوں سے پاک کرنے کی اشد ضرورت ہے ۔