شہباز شریف ہی قصور وار ہیں

میاں عمران احمد
وزیراعظم پاکستان، نہیں نہیں وزیراعلیٰ پنجاب، نہیں نہیں وزیر قانون پنجاب، نہیں وہ نہیں، شاید ڈی پی او قصور، نہیں شاید آئی جی پنجاب، نہیں نہیں چیف جسٹس پاکستان، نہیں شاید وہ بھی نہیں۔ شاید میری پھپھو، نہیں نہیں وہ بھی نہیں، شاید میری ماں اور میرا باپ، نہیں نہیں وہ بھی نہیں ہیں،شایددو سال پہلے تین سو بچوں کی پورن فلمیں بنا کر بیچنے والا ن لیگ کا ایم پی اے، شاید کراچی میں زیادتی کا نشانہ بننے والی طوبہ کا واقعہ، نہیں شاید فیصل آباد کے مدرسے میں اجتماعی زیادتی کا نشانہ بننے والا طالب علم کا واقعہ، نہیں نہیں شاید قصور میں مجھ سے پہلے گیارہ بچیوں کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کے واقعات، نہیں نہیں میرا خیال ہے کہ آپ میں سے کوئی بھی مجھے نوچے جانے کا، میری بے حرمتی کا، میری کھلنے سے پہلے مرجھا جانے کا، مجھے ذلت اور رسوائی کی علامت بنانے کا، مجھے معصوم سے منحوس بنانے کا اور سب سے بڑھ کر مجھے بے قصور موت دینے کا ذمہ دار نہیں ہے۔ میں کنفیوز ہو گئی ہوں کہ میری موت کا ذمہ دار کون ہے۔ لہٰذا میں نے اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے۔ اب وہی انصاف کرے گا اور بے شک وہ انصاف کرنے والا ہے۔ زینب امین۔
زینب نے تو اپنا معاملہ اللہ پر چھوڑ دیا ہے لیکن اس طرح کے واقعات کا راستہ روکنے کے لیے عوام کو ذمہ داروں کو تعین کرنا ہو گا۔ذمہ داروں کا تعین کرنے کے لیے آپ کو اگست 2015ء میں جانا ہو گا۔ اگست 2015 ء میں ضلع قصور کے گاؤں حسین خان والا میں پاکستانی تاریخ کا سب سے بڑا چائلڈ سیکس سکینڈل سامنے آیا۔اس سکینڈل نے پاکستانی عوام کو ہلا کر رکھ دیا۔ ملزم بچوں کو ایک حویلی میں لے جاتے۔ انہیں نیم بے ہوشی کے انجکشن لگاتے۔ ان کے ساتھ زیادتی کرتے۔ ان کی ویڈیو بناتے اور بعد ازاں ان ویڈیوز کو دکھا کر بچوں کو بلیک میل کرتے تھے۔ یہ سلسلہ سالوں تک چلتا رہا۔بشیراں بی بی کا بیٹا بھی متاثرہ بچوں میں شامل تھا۔اس نے پولیس کورپورٹ کیا۔ دن رات کی محنت کے بعد ایف آئی آر درج ہوئی لیکن پولیس اور مجرموں کے گٹھ جوڑ کے باعث ملزم گرفتار نہ ہو سکے۔بشیراں بی بی کو دیکھ کر دیگر والدین نے بھی ہمت کی اور پولیس کے خلاف مین روڈ پر احتجاج شروع کر دیا۔ بات میڈیا تک پہنچی اور دیکھتے ہی دیکھتے ایک اور بدنامی کا ٹیکا پاکستان کے جھومر میں سج گیا۔ وزیراعلیٰ نے حسب معمول نوٹس لیا،ڈی پی او اور ایس ایچ اور کو معطل کیا اور ملزموں کو فوری گرفتار کرنے کا حکم دے دیا۔ تحقیقات کے دوران پتا چلا کہ اس گھناؤنے عمل کے پیچھے ن لیگ کے ایم پی اے ملک احمد سعید کی سرپرستی ہے۔اس واقعے کی تحقیقات سے معلوم ہوا کہ وہ فلمیں بلیک ورلڈ میں بیچی جاتی تھیں اور ان کے عوض لاکھوں ڈالر کمائے جاتے تھے۔ یہاں میں اس بات کو واضح کر دوں کہ نارمل پورن ویب سائیٹس اور بلیک ورلڈ میں فرق ہوتا ہے۔ نارمل پورن ویب سائٹ پر عام شخص کی رسائی آسان ہے لیکن بلیک ورلڈ تک رسائی با اثر
اور طاقتور افراد کے بغیر ممکن نہیں ہے۔پوری دنیا میں پورن ویب سائیٹس بچوں کے سیکس کی ویڈیوز جاری نہیں کر سکتیں اور ایسا کرنے والے کو جیل اور جرمانے کی سزا دی جاتی ہے۔ لہٰذا یہ ویڈیوز صرف بلیک ورلڈ میں ہی بکتی ہیں ۔ پولیس سمیت حسین خان والا گاوں کا بچہ بچہ بھی جانتا ہے کہ ن لیگ کے یم پی اے ملک احمد سعید کی آشرباد کے بغیر گاؤں میں یہ ویڈیوز بننا اور بکنا نا ممکن ہے۔ لیکن وزیراعلیٰ صاحب نے اس کیس کے ساتھ کیا کیا؟ انہوں نے انسانی سفاکی کے کیس کو سیاسی کیس کا رنگ دے دیا۔ انسانی بے حرمتی کے کیس کو زمین کے جھگڑے کا کیس بنا دیا۔پنجاب حکومت اور پولیس کے گٹھ جوڑ نے سیکس سکینڈل کو پراپرٹی سکینڈل میں بدل دیا۔ جبکہ اس معاملے کا پراپرٹی سے کچھ واسطہ نہیں تھا۔ آج بھی کیس عدالتوں میں چل رہا ہے۔ ملزم سر عام آزاد گھوم رہے ہیں اور مظلوموں کو جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہے ہیں لیکن نہ تو وزیراعلی صاحب نے اس کا نوٹس لیا ہے اور نہ ہی لینے کاارادہ رکھتے ہیں لیکن جس دن یہ کیس دوبارہ میڈیا پر آ گیا اس دن شہباز شریف صاحب کا ضمیر بھی جاگ جائے گا وہ انگلی ہلا ہلا کر ڈی پی او کو ایک مرتبہ بھی معطل کر دیں گے لیکن انصاف کی فراہمی میں کوئی دلچسپی نہیں لیں گے۔
قصور میں تین سوبچوں کا سیکس سکینڈل کا واقعہ الٹی میٹم تھا لیکن وزیراعلیٰ پنجاب نے اس الٹی میٹم پر کان نہیں دھرا۔ انہوں نے ماضی سے کچھ نہیں سیکھا۔انہوں نے اس کیس میں ملوث ن لیگ کے ایم پی اے سعید احمد خان کی پشت پناہی کی ہے اور اسی پشت پناہی نے زینب کی کہانی کو جنم دیا ہے۔ وہ واقعہ زینب اور اس سمیت بارہ لڑکیوں کے ساتھ ہونے والے حادثات کی ماں ہے۔ اگر اس واقعے کے ملزموں کو کیفر کردار تک پہنچا دیا جا تا تو آج زینب اور کائنات سمیت بارہ بچیاں اس ظلم کا شکار نہ ہوتیں۔ عوام ان حقائق کو سامنے رکھیں اور فیصلہ کریں کہ زینب کی موت کا ذمہ دار کون ہے۔ یقیناًآپ اس نتیجے پر پہنچ جائیں گے کہ شہباز شریف ہی قصور وار ہیں۔
وزیراعلیٰ صاحب !انصاف کاوجود جزا اور سزا کے نظام کے ساتھ جڑا ہوا ہے۔ انسان کی اصلاح بھی اسی نظام کی ہی محتاج ہے۔ اگر جزا اور سزا کے نظام کے بغیر اصلاح آ سکتی تو انسان جیسی پیچیدہ مشین بنانے والا اللہ اسے کامیاب طریقے سے چلانے کے لیے کبھی بھی جزا اور سزا کا نظام متعارف نہ کرواتا۔ آپ ہزاروں سالوں کی انسانی تاریخ اٹھا کر دیکھ لیں آپ اس نتیجے پر پہنچیں جائیں گے کہ جو معاشرے جزا اور سزا کا منصفانہ نظام قائم کرنے میں کامیاب ہو گئے وہی معاشرے مثالی معاشرے کہلائے ہیں اور جن معاشروں نے انصاف کے نام پر صرف گو نگلوؤں پر سے مٹی جھاڑی ہے وہاں تین سو بچوں کی ننگی فلمیں اور زینب جیسے واقعات انصاف کے نام پر سوالیہ نشان بنتے رہے ہیں۔
اگر آپ زینب جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے سنجیدہ ہیں تو میری آپ سے گزارش ہے کہ آپ زینب کیس کی انکوائری کے ساتھ ساتھ تین سو بچوں کی پورن فلمیں بنانے والے کیس کو بھی سنجیدہ لیں۔ اگرمظلوموں کو انصاف دلانے کے لیے آپ کو اپنے ایم پی اے کی قربانی بھی دینا پڑتی ہے تو دے دیں۔ اس سے نہ صرف ملک میں انصاف فراہم کرنے کی نئی مثال پیدا ہو گی بلکہ زینب جیسے واقعات رک جا ئیں گے اور آپ کا وقار بھی عوام کی نظروں میں بلند ہو جائے گا۔ اور اگر آپ نے ایسا نہ کیا تو آنے والی نسلیں آپ کو غیر منصف حکمران کے نام سے یاد رکھیں گی اور مورخ آپ کو زینب کی کہانی کاقصور وار لکھتے رہیں گے۔