mr malik new diary

شوگر ملز کی بندش اور کرائے کے کسانوں کا احتجاج

جنوبی پنجاب میں وقاص حسیب اور چوہدری شوگر ملز کو ایک عدالتی حکم نامے کے تحت بند کر دیا گیا کیونکہ یہ سابقہ جائے تعیناتی پر مقامی کسانوں کی ڈیفالٹر تھیں علاوہ ازیں جنوبی پنجاب کا خطہ کپاس کی پیداوار کے حوالے سے ایک مشہور خطہ ہے مگر ایک عرصہ سے یہاں صنعتکار ملیں لگار کسانوں کو گنے کی کاشت کی طرف راغب کرنے میں مصروف ہیں پاکستان تحریک انصاف کے رہنما جہانگیر خان ترین کی رٹ پر عدلیہ کا فیصلہ آیا اور ان شوگر ملز کو غیر آئینی قرار دیکر بند کر دیا گیا مگر یہ شوگر ملز چونکہ حکمرانوں کی تھیں اس لئے انہوں نے یہاں کے باسیوں کو حکومتی فیصلہ کے خلاف رقوم دیکر اکسایا اور کسانوں کی نمائندگی کے نام پر بسیں بھر بھر احتجاج کیلئے کرایہ کے افراد لاہور پہنچ گئے یہی نہیں جنوبی پنجاب سے بہت سے افراد سے ان شوگر ملز کی بندش کے خلاف اخبارات میں اشتہارات بھی چھپوائے گئے بالآخر چیف جسٹس آف پاکستان ثاقب نثار نے اس خود ساختہ احتجاج پر نوٹس لیا اور یہ ریمارکس دئے کہ میں کان اور آنکھیں کھلی رکھتا ہوں اور مجھے خبر ہے کہ آپ کو کون پیسے دیکر احتجاج کیلئے اکسا رہا ہے ان کے ان ریمارکس پر کرائے کے سراپا احتجاج کسانوں نے وہاں سے کھسکنے میں ہی عافیت سمجھی۔
روزنامہ ’داور‘ نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ جنوبی پنجاب جہاں سیاسی ،تاریخی لحاظ سے نہایت اہمیت کا خطہ ہے وہاں زرعی حوالے سے اس خطہ کا کوئی ثانی نہیں یہاں کا غریب کاشتکار دن رات محنت کرکے ملکی معیشت میں اپنا کردار ادا کر رہا ہے اس کے باوجود بھی وہ معاشی بد حالی کا شکار ہے اور حکومتی ثمرات سے یکسر محروم چلا آرہا ہے جنوبی پنجاب کا کسان جب یہاں قائم زرعی ترقیاتی بنکوں سے اپنے ٹریکٹرز ،زرعی آلات کی خریداری کیلئے رجوع کرتا ہے تو انہیں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور بالآخر وہ سود خوروں کے چنگل میں پھنس جاتے ہیں حکومت کی طرح یہاں کی ضلعی انتظامیہ بھی کسانوں کے مسائل حل کرنے کے بجائے مزید مشکلات میں مبتلا کرنے کا سبب ہے اخبار لکھتا ہے کہ یہان کا غریب کسان خوشحال ہو گا تو ملکی معیشت مضبوط ہو گی۔
تونسہ سے شائع ہونے والے اخبار ’وائس آف تونسہ‘ نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ حکومت نے وعدہ کیا تھا کہ تونسہ میں 15ارب روپے کی لاگت سے 172واٹر فلٹر پلانٹ لگائے جائیں گے لیکن یہ اگر آدھے سے بھی کم لگے تو ان کا پیسہ کمیشن مافیا کے ہاتھ میں دے دیا گیا جس کی وجہ بعض جگہوں پر من پسند افراد ہی مستفید ہو رہے ہیں اخبار لکھتا ہے کہ 70برسوں سے عوام کو سبز باغ دکھائے جارہے ہیں نالیاں ،گلیان اور ناقص سڑکیں بنوا کر یہ ہر دفعہ عوام سے ووٹ لے جاتے ہیں اور عوام کو زندگی کی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھتے ہیں یہاں کے جاگیرادارانہ سسٹم کے باعث عوام اپنے حقوق کیلئے آواز اٹھانے سے ڈرتے ہیں ڈیرہ غازیخان سے شائع ہونے والے اخبار روزنامہ غازی نے اپنی اشاعت میں لکھا ہے کہ یہان کی عورت ظلم کی چکی میں پس رہی ہے وہ کسی مسیحا کے انتظار میں ہے وہ فریاد کر رہی ہے کہ کوئی ہے جو اس کی مدد کرے اور انصاف دلائے ہمارے حکمران اور انسانی حقوق پر کام کرنے والے تنظیمیں اور افسران گونگے ،بہرے ہیں اگر آج بھی حکمرانوں نے عقل سے کام نہ لیا اور فرضی کارروائیاں کرنے والوں نے یہ کارروائیاں ختم نہ کیں تو یہاں کی مظلوم عورت یہ سوچنے پر مجبور ہو جائے گی کہ اس کا کوئی پرسان حال نہیں ۔
بھکر سے شائع ہونے والے اخبار فخر تھل بے اپنے اداریہ میں لکھا ہے کہ وزارت پانی و بجلی نے پیداوار میں کمی کا سارا بوجھ جنوبی پنجاب کی صنعتوں پر ڈال کر ایک اور استحصا ل کی راہ ہموار کی ہے حالانکہ بجلی پیدا کرنے کے میگا پراجیکٹس جنوبی پنجاب میں ہیں لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ چھ گھنٹے سے بڑھا کر 8گھنٹے اور پھر 10گھنٹے کر دیا گیا ٹیکسٹائل ،سپننگ ،ویونگ ،سائزنگ ،جیننگ ،سالونٹ ،آئل ،سیمنٹ ،سٹیل انڈسٹری نے ایک شفٹ بند کر دی ہے مذکورہ ملز کے مالکان نے ڈاؤن سائزنگ شروع کر دی ہے ویلیو ایڈڈ مصنوعات ایکسپورٹ کرنے والی صنعتوں نے لوڈ شیڈنگ کا دورانیہ 10گھنٹے کرنے پر شدید احتجاج کیا ہے ملتان الیکٹرک پاور کمپنی (میپکو)کے بورڈ آف ڈائریکٹرز نے بھی وزارت پانی و بجلی سے لوڈ شیڈنگ دورانیہ بڑھانے پر شدید احتجاج کیا ہے اس وقت جنوبی پنجاب میں ایک محتاط اندازے کے مطابق 25ہزار صنعتی ملازمین کو فارغ کیا گیا ہے جبکہ بحران جاری رہنے کی صورت میں مزید ملازمین کی فراغت کا امکان ہے میپکو بجلی کی واحد تقسیم کار کمپنی ہے جو بجلی کی خریداری پر سنٹرل پاور پرچیز ایجنسی (سی پی پی اے )کو ماہانہ بنیادوں پر 100فیصد ادائیگی کرتی ہے جنوبی پنجاب کی صنعتوں کو بجلی کی مجموعی طلب 300میگا واٹ ہے اور صنعتی صارفین کی کل تعداد صارفین کی مجموعی تعداد کا صرف 1.9فیصد ہے اخبار مزید لکھتا ہے کہ میپکو ریجن کی موسم گرما میں بجلی کی کل طلب 4000میگا واٹ ہے جبکہ شدید سرد موسم میں مجموعی طلب 2000میگا واٹ ہے خطے کی بد قسمتی ہے کہ موسم گرما اور موسم سرما دونوں میں صنعتوں کو طلب کے مقابلے میں بجلی فراہم نہیں کی جاتی ہے میپکو کو سال 2003ء میں منظور کئے
گئے کوٹہ کے مطابق بجلی فراہم کی جارہی ہے اُس وقت صارفین کی کل تعداد 18لاکھ تھی جو سال 2014ء کے اختتام پر 50لاکھ تک پہنچ چکی ہے میپکو ریجن میں ریکوری کی شرح 100فیصد صنعتی صارفین کی جانب سے ادائیگیوں کا تناسب 100فیصد اور لائن لاسز کی شرح صرف 2سے 3فیصد ہے انڈسٹریل صارفین کی بجلی کی مجموعی طلب میپکو کی کل طلب کا 10فیصد سے بھی کم ہے اس کے باوجود بجلی کی ترسیل میں سوتیلی ماں جیسا سلوک کیا جارہا ہے اُدھر پٹرول کی بڑتی ہوئی قیمتوں کے خلاف سرائیکی پارٹی کے چیف کوارڈینیٹر حاجی احمد نواز سومرو ملک جاوید چنڑ ایڈووکیٹ نے کی ھاجی احمد نواز سومرو نے کہا کہ ملک میں بے تحاشا مہنگائی اور بے روز گاری نے لوگوں کی زندگیاں اجیرن بنا دی ہیں لوگ مہنگائی اور بے روز گاری کی وجہ سے خود کشیاں کرنے پر مجبور ہیں گیس بالکل بند ہو چکی ہے اور پٹرول نایاب ہو چکا ہے ۔