tofeeq butt

شرافت اور سیاست!

سچی بات ہے ” جیسی قوم ہوگی ویسے حکمران اُس پر مسلط کردیئے جائیں گے “جیسے حکیمانہ قول کے مطابق میں خوفزدہ تھا اور مجھے پورا یقین تھا سپریم کورٹ سے تاحیات نااہلی کا ” اعزاز“ حاصل کرنے کے بعد ہمارے محترم سابق وزیر اعظم ایک بار پھر ”ہیرو“ بن جائیں گے۔ اور جب وہ بذریعہ جی ٹی روڈ اسلام آباد سے لاہور جائیں گے کم ازکم لاکھوں لوگ اُن کا استقبال کریں گے، کیونکہ وہ کروڑوں عوام کی حمایت اور نمائندگی کے دعوے فرماتے ہیں۔ میری طرح اُنہوں نے بھی یقینا یہی سوچا ہوگا کہ عوام کا ایک سیلاب اُن کی حمایت میں اُمڈ آئے گا۔ افسوس ایسا نہیں ہوسکا۔ اس کے بعد بھی جھوٹ بولنا اُنہوں نے نہیں چھوڑا۔ ابھی اگلے روز بھی بڑے فخر سے یہ جھوٹ وہ بول رہے تھے اُنہیں کروڑوں عوام کی حمایت حاصل ہے۔ کون اُن سے پوچھ سکتا ہے حضور چند لاکھ ووٹ لینے، یا چھیننے والا شخص کروڑوں عوام کی حمایت کے دعوے کیسے کرسکتا ہے ؟۔ ہاں کوئی جھوٹ بولنے کی حد پار کرجائے وہ یہ بھی کہہ سکتا ہے مجھے پوری دنیا کے عوام کی حمایت حاصل ہے۔ جبکہ حقیقت یہ ہے میں اس وقت بیرون ملک ہوں۔ گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں مجھے برطانیہ اور یورپ کے کئی ممالک اور شہروں میں جانے کا اتفاق ہوا ، کوئی ایک شخص مجھے ایسا نہیں ملا جس نے یہ کہا ہو سابق تاحیات نااہل وزیراعظم کے ساتھ سپریم کورٹ نے زیادتی کی ہے۔ البتہ چند لوگوں کی اس بات سے میں سو فی صدمتفق ہوں احتساب کا دائرہ مزید وسیع ہونا چاہیے۔ بیس کروڑ عوام کی حمایت حاصل ہونے کے دعویدار کے لیے چند ہزار لوگ بھی باہر نہیں نکلے۔ اُوپر سے سابق تاحیات نااہل وزیراعظم کی حکومت بھی اپنی تھی، ورنہ ایک اور جھوٹ بولنے میں وہ کوئی شرمندگی یا عار محسوس نہ کرتے کہ میرے استقبال کے لیے عوام کو باہر ہی نہیں نکلنے دیا گیا ، عوام کو باہر نکالنے کے لیے ایڑی چوٹی ودیگر اعضاءکا پورا زور اُنہوں نے لگایا، ہروزیر، ایم این اے اور ایم پی اے کو کم ازکم پچیس پچیس ہزار لوگوں کو سڑکوں پر لانے کی ہدایت کی گئی تھی۔ اُن کی جماعت سے وابستہ ایک ایم این اے مجھے بتارہے تھے جب اُنہیں سابق تاحیات نااہل وزیراعظم کی جانب سے پچیس ہزار لوگوں کو سڑک پر لانے کی ہدایت جاری کی گئی، میں نے سوچا اُن کی خدمت میں عرض کروں ”حضور میرے تو اپنے گھروالے آپ کے لیے سڑک پر آنے کو اب تیار نہیں ہورہے، میں باہر کے لوگوں کو کیسے لے کر آﺅں؟“ ۔ میرے خیال میں تو خود سابق تاحیات نااہل وزیراعظم کے اپنے گھروالے بھی اُن کی حمایت میں باہر نکلنے کے لیے تیار نہیں ہوئے ورنہ اسلام آباد سے بذریعہ جی ٹی روڈ لاہور آتے ہوئے اُن کی گاڑی اُن کے بھائی شہباز شریف یا اُن کے صاحبزادے حمزہ شہباز شریف ڈرائیوکررہے ہوتے۔ لاہو میں بھی اُن کا ویسا استقبال نہیں ہوسکا جیسا وہ چاہتے تھے ۔ اُن کے اپنے ایک وفاقی وزیر کی اس بات کو درست تسلیم کرلیں کہ لاہور میں ایک لاکھ لوگوں نے اُن کا استقبال کیا تو یہ بھی فخر کا مقام نہیں ۔اتنے لوگ تو قومی اسمبلی کے ایک حلقے کے بن جاتے ہیں، جبکہ لاہور میں اکثریتی ارکان قومی وصوبائی اسمبلی کاتعلق ان ہی کی جماعت سے ہے۔ ابھی حال ہی میں اپنی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک رکن قومی اسمبلی کو وفاقی وزیر بھی شاید اسی لیے ہی اُنہوں نے بنایا لاہور میں زیادہ سے زیادہ لوگ اُن کا استقبال کرسکیں۔ بہرحال سابق تاحیات نااہل وزیراعظم کو اب یہ احساس ضرور ہوگیا ہوگا ”عوام کی عدالت“ کا فیصلہ بھی وہی ہے جو سپریم کورٹ کا ہے۔ اپنی اوقات کا اب اُنہیں اچھی طرح پتا چل گیا ہوگا۔ شاید یہی وجہ ہے اپنی بحالی کے لیے دوبارہ عدالت عظمیٰ سے اُنہوں نے رجوع کیا ہے۔ تاحیات نااہلی کے بعد جس سپریم کورٹ کو وہ مسلسل تنقید کانشانہ بنارہے ہیں، مسلسل اُس پر عدم اعتماد کا اظہار کررہے ہیں، اللہ جانے کس منہ سے نظرثانی کی اپیل لے کر وہاں گئے ہیں؟ ۔ وہ اس یقین بلکہ اِس نشے میں مبتلا تھے وقت ہمیشہ ایک جیسا رہتا ہے۔ حقیقت مگر اس کے برعکس ہے جس سے ماضی میں اُنہوں نے کوئی سبق سیکھا نہ اب سیکھیں گے۔ اب عدلیہ سے اُنہیں ”اپیلیں“ کرنی پڑ رہی ہیں۔ ایک وقت تھا جب عدلیہ کو وہ ”حکم“ دیا کرتے تھے۔ اور شرم کا مقام یہ ہے اُن کے احکامات کی من وعن تعمیل بھی ہوجایا کرتی تھی۔ ایسے ایسے ججز بھی تھے جو فرمایا کرتے تھے ”نواز شریف کا دیدار کرنے کے بعد اللہ جانے کیوں میں اِس احساس میں مبتلا ہو جاتا ہوں جیسے میں نے عمرے کی سعادت حاصل کرلی ہے؟“ ۔ ایک بار میری موجودگی میں اُن کی جماعت سے تعلق رکھنے والے ایک ایم این اے نے اُس وقت کے لاہور ہائی کورٹ کے چیف جسٹس سے کہا ”فلاں سیشن جج کا تبادلہ فلاں جگہ کردیں“ تو اُنہوں نے فرمایا ”کردوں گا، بس ذرا میاں صاحب سے اِک فون کروادیں “ ….عدلیہ کو ساری زندگی کے لیے ایسے ہی وہ ”تھلے“ لگا کر رکھنا چاہتے تھے، اب عدلیہ اُن کے چنگل سے آزاد ہو گئی ہے، یا کسی حدتک آزاد ہوگئی ہے اس کا اُنہیں بڑا دُکھ ہے۔ اور اِس سے بھی بڑا دکھ یہ ہے اب ایسا ”سنہری دور“ دوبارہ آنے کی کوئی اُمید بھی اُنہیں نہیں ہے۔ ہماری عدلیہ کو بھی اب جاکر کہیں یقین ہوا ہے مطلب یا کام نکالنے کے بعد ”شریف برادران“ ججز کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے ہیں جو عموماً دوسروں کے ساتھ وہ کرتے ہیں۔ ایسا نہ ہوتا تو ملک کی صدارت پر سب سے زیادہ حق سابق چیف جسٹس آف پاکستان افتخار محمد چودھری کا تھا، جو شریف برادران کے اشاروں پر ناچتے رہے۔ ویسے جناب افتخار محمد چودھری خود بھی فطری طورپر اتنے ہی بے دید ہیں جتنے شریف برادران ہیں، لہٰذا محترم میاں محمد نواز شریف شکرکریں اس وقت افتخار محمد چودھری چیف جسٹس آف پاکستان نہیں، ورنہ میڈیا میں ہیرو بننے کے لیے پانامہ کیس میںوہ اُنہیں اندر بھی کردیتے ، جس کے بعد یہ پوچھنے کے بجائے کہ باہر کیوں نکالا وہ یہ پوچھتے پھرتے اندر کیوں کیا ؟۔ جیسے جنرل مشرف نے جب اُنہیں جیل میں ڈالا وہ اکثر پوچھتے تھے ”اندر کیوں کیا؟ “…. تکبر اور جھوٹ نے سابق تاحیات نااہل وزیراعظم کو اس مقام پر لاکر کھڑا کردیا ہے جہاں سے واپسی اب ناممکن ہے۔ اُصولی طورپر اب مع اہل وعیال سیاست اُنہیں چھوڑ دینی چاہیے، مگر اُنہیں تجربہ شاید صرف ”شرافت“ چھوڑنے کا ہے۔ دھٹائی کے معاملے میں اُن جیسا ” باہمت شخص“ آج تک میں نے نہیں دیکھا۔ نااہلی کا اعزاز حاصل کرنے کے بعد اسلام آباد سے لاہور آتے ہوئے اُن کے ”شاہی قافلے“ کی ایک گاڑی جو مبینہ طورپر اُنہی کی تھی کے نیچے آکر ایک بچہ کچلا گیا ۔ انسانیت کی ذراقدر اُن کے دل میں ہوتی جب اُنہیں پتہ چل گیا تھا اُس زخمی بچے کو اپنی گاڑی میں لے کر وہ ہسپتال جاتے ۔ پھر بچے کی موت کے بعد اس کے گھر جاتے۔ اس کے جنازے میں شریک ہوتے۔ اُس کے لواحقین سے معافی مانگتے۔ معافی مانگنا اُنہیں شاید آتا ہی نہیں۔ میرے خیال میں اللہ سے معافی مانگتے ہوئے بھی اب اُنہیں شرم آتی ہے۔ ورنہ اللہ مزید رسوا ہونے سے اُنہیں بچا لیتا۔ اللہ جب کسی کو عزت دینے پر آتا ہے نااہل ترین شخص کو وزیراعظم تک بنادیتا ہے۔ اور جب بے عزت کرنے پر آتا ہے اُس کی سوچ سمجھ کے سارے دروازے بند کردیتا ہے۔ ایسے نہ ہوتا سابق تاحیات نااہل وزیراعظم اُن کی یا اُن کے قافلے کی گاڑی تلے کچلے جانے والے بچے کے ساتھ وہی سلوک کرتے جس کا اُوپر میں نے ذکر کیا۔ ناروے میں ایک بار اوسلو کی ایک میئر کی سائیکل تلے آکر بلی کا ایک بچہ کچلا گیا تھا۔ اس نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ اپنے استعفے میں اُس نے لکھا تھا ”میری وجہ سے ایک جان چلی گئی ہے، میں اس پر اتنی غم زدہ ہوں ذہنی طورپر اب اپنے سرکاری فرائض ادا کرنے کے قابل نہیں رہی“ ۔”گوری دنیا“ جسے ہم ”کافرانہ دنیا“ قرار دیتے ہیں وہاں جان کی قدرہے، چاہے وہ کسی جانور کی کیوں نہ ہو، ….ہمارے ہاں حالت یہ ہے ” داماد شریف “ اور ”وزراءشریف“ ایک غریب بچے کے کچلے جانے کے عمل کو جمہوریت کے لیے اس کی قربانی قرار دیتے ہیں۔ ہزار بار لعنت اُن پر اور اُن کی اُس جمہوریت پر جو ہمارے بچے تک کھا جاتی ہے!