Mazhar-Qadoos-But

شاباش جے آئی ٹی

پانامہ کے ہنگامے نے پاکستان کے سیاسی منظر کو تبدیل کرکے رکھ دیا ۔ کفر ٹوٹا خدا خدا کرکے۔ آخر وہ گھڑی آن پہنچی جس کا پوری قوم کو شدت سے انتظار تھا۔ دس جوالائی کو جے آئی ٹی کی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کر دی گئی ۔ جو کسی بم شیل سے کم نہیں تھی۔کیسے کیسے سربستہ رازکھل کر سامنے آگئے ۔ اشرافیہ ایسی ننگی ہوئی کہ کہیں منہ چھپانے کو جگہ نہیں مل رہی ۔ ایک چور کو پکڑنے نکلے تو پتا چلا کہ پوری بارات ہی چوروں کی ہے ۔ شریف خاندان کا جھوٹ روز روشن کی طرح واضح ہو چکا۔ پوری قوم جان چکی ہے کہ حکمران خاندان تمام کا تمام کرپٹ ہے۔ اب تو صفائی کی بھی کوئی گنجائش نظر نہیں آتی ۔ کس قدر شرمندگی کی بات ہے کہ جس قوم کا وزیر اعظم ہی جھوٹ کا پلندہ ہواس قوم کا پھر اللہ ہی حافظ ہے ۔ ڈھٹائی ایسی ہے کہ کسی بھی بات کو ماننے کیلئے شریف خاندان تیار ہی نہیں۔اقتدار کا نشہ ایسا ہے کہ استعفیٰ بھی انہیں قابل قبول نہیں ۔ ان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو فوراً اقتدار سے علیحدہ ہو جاتا اور اپنے آپ کو احتساب کے لئے پیش کرتا ۔ این او آر کی بہت کوشش کی گئی مگر سب بے سود۔حکمرانوں نے سیف راستہ مانگا مگر ان کو پلہ نہیں پکڑا یا۔ جے آئی ٹی میں جو کچھ بھی پیش کیا گیا وہ سب کا سب جھوٹ ثابت ہوا۔کرپٹ حکمرانوں نے پوری قوم کی دولت ہڑپ کرلی پھر بھی کہتے چلے جا رہے ہیں کہ ہم دودھ کے دھلے ہوئے ہیں۔ نواز شریف نے اپنے بچوں کا مستقبل بھی تباہ کر دیا ۔ مریم نواز وزیر اعظم بننے کے خواب دیکھ رہی تھی سب چکنا چور ہو گئے ۔ حکمران خاندان کے ساتھ ساتھ ان کے تمام ساتھی بھی کسی نہ کسی الزام میں ہیں۔ کسی پر زمین ہتھیانے کا تو کسی پر غیر قانونی سوسائٹیاں بنانے کا الزام ہے تو کوئی منی لانڈر ہے ۔ بڑی مچھلی جال میں آچکی چھوٹی مچھلیاں خود بخود ہی مرجا ئیں گی ۔ مہنگائی اور لوڈ شیڈنگ کی ستائی قوم جھولیاں اٹھا اٹھا کو حکمرانوں کے لئے ’’دعائیں‘‘ مانگ رہی ہے شاید اللہ تعالیٰ نے اس مظلوم قوم کی فریادیں سن لی ہیں۔ اقتدار کے نشے نے حکمرانوں کو انسانیت ہی بھلا دی ۔ ماڈل ٹاؤن میں لوگوں کے قتل پر ان حکمرانوں کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ بے گناہوں کا لہو کبھی بھی رائیگاں نہیں جائے گا۔ اللہ کی لاٹھی بے آواز ہے ظلم کو دوام نہیں۔ شاباش جے آئی ٹی کے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے سچ کی تلاش کی ۔جے آئی ٹی اراکین نے بڑی دلیری کے ساتھ صاف و شفاف اور غیر جانبداری سے سارا کام کیا۔جے آئی ٹی کے سربراہ واجد ضیا کی ایمانداری پر ان کے دشمن بھی انگلی نہیں اٹھا سکتے۔انہوں نے وہ کر دکھایا جو تاریخ میں ہمیشہ زندہ رہے گا۔ حکمرانوں نے بہت کوشش کی کہ جے آئی ٹی کے ارکان کو خرید لیا جائے مگر ابھی کچھ لوگ باقی ہیں جہاں میں۔ اس سے ایک چیز ثابت ہوگئی کہ ہمارے اداروں میں ابھی بھی ایماندار لوگ موجود ہیں برا ہو۔ اس طرز حکمرانی کا جس نے اداروں کو سیاسی بنا دیا ۔ یہ کرپٹ حکمران اپنی شرمندگی چھپانے کے لئے سرتوڑ کوشش کر رہے ہیں کہ کسی طرح سے کوئی آئے اور جمہوریت کی بساط کو لپیٹ لے اور یوں ہم سیاسی شہید بن جائیں ۔ ہزاروں خواہشیں ایسی کہ ہر خواہش پر دم نکلے ۔ اب کی بار یہ خواہش خواہش ہی رہے گی۔ اب جی کا جانا ٹھہر گیا ۔ حکمرانوں کی پوری کوشش ہے کہ کسی طور تصادم ہو جائے تو وہ مظلوم بن جائیں۔ لیکن اب ایسا ہوتا نظر نہیں آرہا ۔یہ وزراء کی فوج ظفر موج کانفرنسوں میں مصروف ہے ۔عدالت پر حملے کئے جا رہے ہیں۔ یہ منہ پھٹ لوگ عدلیہ اور معزز ججز پر جملے کس رہے ہیں۔ہر طرح سے اشتعال دلانے کی کوشش کی جا رہی ہے ۔ مگر ان کو مسلسل ناکامی ہو رہی ہے ۔ ان لوگوں نے یہ ارادہ کر رکھا ہے کہ پورے ملک میں افراتفری پھیلا دی جائے ۔ وزراء کو ٹاسک دے دیا گیا ہے کہ لوگوں کو جس قدر ہو سکے اکسایا جائے ۔ مگر اللہ تعالیٰ کے فضل سے ان کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑے گا۔ قوم اب سیانی ہو چکی، ان کی خاطر کوئی بھی سڑکوں پر نہیں نکلے گا۔ اب پوری قوم پاکستان کو بدلتا ہوا دیکھنا چاہتی ہے ۔ ان کو جلد اپنی طاقت کا اندازہ ہو جائے گا۔ شہباز شریف جو کہ بات بات پر کہتا ہے کہ میرا نام بدل دینا، وہ بھی حدیبیہ پیپر میں ملزم پائے گئے۔ جس نے جو بویا وہ کاٹے گا۔ سب کے سب انجام کو پہنچیں گے ۔ ماڈل ٹاؤن کے مظلوم مقتولوں کا حساب ان حکمرانوں کو دینا ہوگا۔ میرے اللہ کی پکڑ بڑی شدید ہے جب وہ پکڑتا ہے تو پھر کوئی چھڑا نہیں سکتا۔ غالب گمان ہے کہ یہ اللہ کی پکڑ میں آچکے ہیں۔اپنی بادشاہت قائم کرنے کے لئے انہوں نے پورے پاکستان کو داؤ پر لگا دیا۔ لیکن ہمیں ایک بات ہمیشہ یاد رکھنی چاہئے کہ یہ ملک لاا لٰہ کی بنیا د پر قائم ہوا تھا اور ہمیشہ قائم رہے گا۔ جو کوئی بھی اس کو نقصان پہنچائے گا خاک میں مل جائے گا۔ جو اس وطن کا برا سوچے گااس کی نسلوں کے نشان مٹ جائیں گے ۔ عدلیہ اور معزز ججز کا کردارہمیشہ یاد رکھا جائے گا جنہوں نے بڑی دلیری سے ان کرپٹ حکمرانوں کو کٹہرے میں لا کھڑا کیا۔ کرپٹ حکمرانوں کے چہرے سے نقاب اتر چکے ہیں۔ وزیراعظم کسی اچھی بات کو قبول کرنے کو تیار نہیں، تصادم کی طرف لے جانے والے ان کے قریب تر ہیں۔ کاش وزیر اعظم اس سوجھ بوجھ کے مالک ہوتے کیونکہ مشیر ان کو تباہی کی طرف دھکیل رہے ہیں۔کوئی ٹس سے مس ہونے کو تیار نہیں۔
اے خاک نشینو اٹھ بیٹھو وہ وقت قریب آپہنچا ہے ۔۔۔ جب تخت گرائے جائیں گے جب تاج اچھالے جائیں گے۔۔۔اب ٹوٹ گریں گی زنجیریں اب زندانوں کی خیر نہیں ۔۔۔جو دریا جھوم کے اٹھے ہیں تنکے سے نہ ٹالیں جائیں گے۔۔۔کٹتے بھی چلو بڑھتے بھی چلو بازو بھی بہت ہیں سر بھی بہت ہیں۔۔۔بڑھتے بھی چلو کہ اب یہ ڈیرے منزل ہی پر ڈالے جائیں گے
عدلیہ سے التجا ہے کہ تمام بدعنوانوں کے نام ای سی ایل میں ڈال دئیے جائیں اور ان کے پاسپورٹ ضبط کئے جائیں تاکہ ان کو ملک سے بھاگنے کی راہ نہ مل سکے ۔