Ali Imran Junior

سیاسی بندر اور مداری۔۔۔

دوستو، بی بی سی نے سات نومبر کو ایک بڑی دلچسپ تحقیقی رپورٹ پیش کی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سیاست دانوں اور چیمپینزی میں حیران کن مشابہت ہے۔مضمون میں پوری کوشش کی گئی ہے کہ بندروں اور سیاست دانوں کو ایک ہی صف میں کھڑا کردیاجائے، اس رپورٹ کو پاکستانی میڈیا نے اتنی اہمیت نہیں دی، ہماری عادت ہے کہ جسے کوئی اہمیت نہ دے اس کا مطلب یہ نہیں ہوتا کہ وہ غیراہم ہے، اس لئے ہم نے کوشش کی ہے کہ اس تحقیقی رپورٹ کے حوالے سے مزید ’’عمرانی‘‘ تحقیق آپ کی خدمت میں پیش کی جائے۔اب اس میں کہاں تک کامیابی ملتی ہے اس کا کوئی اندازہ نہیں لیکن کوشش کرلینے میں کوئی حرج نہیں۔
سیاست کہیں کی بھی ہونرالی ہوتی ہے ،لازمی سی چیز ہے پھر سیاست کرنے والے یعنی سیاست دان ’’نرالے‘‘ ہی ہوتے ہوں گے۔ہماری ملک کا حال سب کے سامنے ہے لہسن ادرک چین سے منگائے جارہے ہیں، ٹماٹر ایران دے رہا ہے، پیاز اور کیلے بھارت سے آرہے ہیں اور پھر ہمارا دعویٰ ہے کہ ’’ زراعت ہماری ریڑھ کی ہڈی ہے۔‘‘۔۔۔ہم نے انسانی تاریخ کی سب سے لمبی جنگ پاکستان میں دیکھی ہے کیونکہ جب یہ ملک بنا ہے اسے ہم نے ’’حالت جنگ‘‘ میں دیکھا ہے۔ہمارے پیارے دوست کا کہنا ہے کہ ، جس ملک میں عوام کو گدھے، کتے اور مردار کھلائے جارہے ہوں وہاں کرپٹ لیڈرز منتخب نہیں ہوں گے تو اور کیا ہوگا ؟۔آپ جس طرح سانپوں سے یہ نہیں کہہ سکتے کہ وہ پھنکارنا اور ڈسنا چھوڑ دیں اسی طرح سیاست دانوں سے درخواست بھی نہیں کرسکتے کہ وہ جھوٹ بولنا اور کرپشن کرنا چھوڑ دیں۔ ہمارے یہاں گوالے اور ادارے پچھلے ستر برس سے عوام اور خالص دودھ اور اصلی احتساب کے نام پر مسلسل چونا لگارہے ہیں۔
آپ نے شاید نوٹ کیا ہوگا کہ زیادہ ترخاندانوں میں ’’ماموں‘‘ صدرممنون حسین کی طرح بے ضرر اور ’’پھوپھیاں‘‘ شیخ رشید کی طرح چراندی ہوتے ہیں،جو کسی حال میں خوش نہیں رہ سکتیں۔ہمارے پیارے دوست کہتے ہیں کہ ۔ شکر ہے نون لیگ نے سڑکیں بناڈالیں ورنہ بچے کہاں پیدا ہوتے؟۔ وہ مزید فرماتے ہیں کہ ۔ اچھا تو پی ایس پی والے مصطفی کمال وہی لڑکی ہے جس کے بھائیوں نے احمدنورانی کو دھویا تھا۔پی ایس پی اور ایم کیوایم پاکستان کے اتحاد کے حوالے سے ان کا مزید کہنا ہے کہ۔مفتیان کے سامنے یہ مسئلہ رکھنا چاہیے کہ کیاایک باپ کی اولادیں آپس میں نکاح کر سکتی ہیں۔انہی کا کہنا ہے کہ ، یہاں مذہبی جماعتوں کا اتحاد بھی ’’وضو‘‘ کی طرح ہوتا ہے، جو کسی بھی وقت ٹوٹ جاتا ہے۔سب سے ذیادہ سچے عاشقِ رسول، سب سے زیادہ مدرسے اور سب سے زیادہ حافظ قرآن ہونے کے باوجود بھی پاکستان ایمانداری میں 160 ویں نمبر پر ہے۔کپتان کو بھی سلام ہے ،عمران خان کم از کم کسی کرپٹ کو بھی نہیں چھوڑ رہا ، ہر کرپٹ کو ڈھونڈ ڈھونڈ کر اپنی پارٹی میں شامل کر رہا ہے ، کوئی بچ کر جانے نہ پائے۔ سردیوں کے باوجود لوڈشیڈنگ میں اضافے پر واپڈا والے کہتے ہیں کہ ۔دھند کے باعث بجلی کو صارفین تک پہنچنے کا راستہ نہیں مل رہا جس کی وجہ سے لوڈشیڈنگ کا سامنا ہے۔ویسے یہ بھی اپنی جگہ ایک تلخ حقیقت ہے کہ جس ملک میں کرنسی نوٹ کی اصلیت جانچنے کے لئے اسے تھوک لگا کر انگلیوں سے مسلا جاتا ہو ، وہاں اچھا رشتہ ڈھونڈنا کسی عذاب سے کم نہیں۔ایک شخص نے کسی بزرگ سے پوچھا،حضرت جی! کوئی ایسا طریقہ بتائیں کہ اپنی ہر خامی کے بارے میں جان سکوں تاکہ اس کی اصلاح ہوسکے۔ بزرگ بولے ایسا کرو کہ اپنی بیوی کے پاس جاؤ اس کی ایک خامی بتاؤ، وہ تمہاری ساری خامیاں بمع تمہارے خاندان کے بتادے گی۔سیاست میں صرف ہمارا ہی بیڑا غرق نہیں۔ پڑوسی ملک بھارت کا بھی کچھ ایسا ہی حال ہے، جہاں واش روم کلچر نہ ہونے کی وجہ سے اس کی آدھی سے زیادہ آبادی ہر صبح سرجیکل سٹرائیک کرنے کے لئے کھیتوں کا رخ کرتی ہے۔دوست ملک سعودی عرب کی بات کریں تو سعودیہ نے پہلے تیل دیکھا تھا،اب تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ہمارے پیارے دوست اپنی تشویش کااظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ ۔ معلوم ہوتا ہے کہ سعودی شاہی خاندان میں اب صرف سلیم شاہی اور بالوشاہی ہی بچیں گے۔
بات ہورہی تھی سیاسی بندروں اور مداری کی، مداری کے پاس کئی بندر ہوتے ہیں لیکن اس کا فیوریٹ وہی بندر ہوتا ہے جو ڈگڈگی پر اچھا ناچے۔خاوند جب بیرون ملک سے لوٹا توبیگم سے کہا، تمہارے لئے افریقہ سے بندرلایا تھا مگر وہ راستے میں ہی چھوٹ کر بھاگ گیا، بیوی نے بڑی معصومیت سے کہا، کوئی بات نہیں سرتاج، وہ نہ سہی آپ تو آگئے ناں۔کسی زمانے میں ایک بار جنگل میں الیکشن ہوئے،بندروں کی تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے بندر بادشاہ بن گیا۔ شیر کو اپنی ہار پر بہت افسوس ہوا، ایک دن اس نے راہ چلتے ہرنی کا بچہ پکڑ لیا، ہرنی دوڑی دوڑی بادشاہ (بندر) کے دربار میں پہنچی اور فریاد کی کہ شیر نے میرا بچہ پکڑ لیا ہے، بادشاہ سلامت انصاف کیجئے اور اسے چھڑائیے۔ بندر نے کہا ،تم فکر ہی نہ کرو ابھی چھڑا دیتا ہوں، یوں بندر نے اپنی دوڑیں لگا دیں، شیر کے پاس جانے یا کوئی مناسب حکم نامہ جاری کرنے کی بجائے، بڑی تیزی سے ایک درخت سے دوسرے اور دوسرے سے تیسرے درخت پر چھلانگیں لگاتے ہوئے پورے جنگل کا چکر لگایا پھر تھک ہار کر ہرنی کے پاس پہنچا اور کہنے لگا، دیکھو میں نے تو بہت بھاگ دوڑ کی،اب بھی اگر شیر تمہارا بچہ نہ چھوڑے تو بھلا میں کیا کر سکتا ہوں، شیر یقیناً دہشت گرد ہے۔ پھر بادشاہ بندر نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ یہ کام دہشت گرد شیر کا کیا دھرا ہے، جو میری حکومت گرانا چاہتا ہے۔ میں نے بہت دوڑ لگائی جو آپ کے سامنے ہے۔ اب ہم نے بندروں کی کمیٹی بنا دی ہے اور مجرموں کو جلد ہی کیفرکردار تک پہنچائیں گے۔۔۔ اسی کہانی کو حالات حاضرہ پر فٹ کریں تو ہمارا حال بھی بندروں سے کم نہیں، جس سمت میں دوڑ لگانی چاہئے اس طرف ذرہ برابر بھی نہیں جاتے بلکہ بندر کی طرح فضول دوڑ لگاتے ہوئے ڈبل سواری پر پابندی اور انٹرنیٹ، موبائل نیٹ ورک بند کر دیتے ہیں۔
سعودی دارالحکومت ریاض کے چڑیا گھر میں ایک شیر لایا گیا تو دوسرئے دن اسکے رکھوالے نے اسکو کھانے کو چنے دیے، شیر حیران تو ہوا مگر چپ چاپ کھاگیا کہ شاید رکھوالا غلطی سے گوشت کی جگہ چنے لے آیا ہے۔ اگلے دن رکھوالا پھر چنے لایا اور شیر نے چپ چاپ کھالیے مگر جب تیسرئے دن بھی ایسا ہی ہوا تو شیر پہلے تو غرایا پھر رکھوالے سے پوچھا ،یہ بتا میں کون ہوں؟ رکھوالے نے کہا، تو شیر ہے۔ شیر نے اگلا سوال کیا، کیا تجھ کو پتہ ہے شیر کیا کھاتا ہے؟رکھوالے نے جواب دیا، شیر گوشت کھاتا ہے۔ شیر نے پوچھا تو پھر تو مجھے گوشت کی جگہ چنے کھانے کوکیوں دیتاہے؟ یہ سنکر رکھوالا مسکرایا اور کہا، بیوقوف شیرتُو یہاں بندر کے ویزئے پر آیا ہے اور تیرا اقامہ بندر کاہے شیر کا نہیں، اس لیے تجھ کو کھانے کو چنے ملتے ہیں۔ پہلے اپنا اقامہ شیر کا کرا وْپھر تجھ کو گوشت ملے گا، اور ہاں جب تک تیرا اقامہ بندر کا ہے کبھی غرانامت ورنہ ہنٹر پڑیں گے، بس چپ چاپ بندر کی طرح اچھل کود کر اور چنے کھا۔نوٹ،یہ سب صرف تفریح کیلئے تحریر کیاگیا ہے،اسے قطعی طور پر سیاست سے منسلک نہ کیا جائے،اسے سیاسی سمجھنے والا اپنے کئے کا خود ذمہ دار ہوگا۔
اور اب چلتے چلتے آخری بات۔۔۔زندگی کی راہ میں آنے والے ہر پتھر کو ٹھوکر مارنے کی بجائے اس سے بچ کر نکل جانا کہیں بہتر ہے۔ پاوْں زخمی نہیں ہوتے ، سفر آسان ہو جاتا ہے۔