Roohi Tahir

سپنوں کے تعاقب میں

آج کا کالم اس دلدوز خبر سے کہ کوئٹہ میں پندرہ پنجاب کے جوان گولیاں مار کر ہلاک کر دیے گئے۔ اس پر کل کی ایک خبر کے تناظر میں سارے چینل گفتگو کر رہے ہیں کہ ہمارے ہمسایہ ملک نے بہت سا پیسہ ملک کے عدم استحکام کے لئے دیا ہے۔ وہ بات بھی ٹھیک ہوگی کہ مگر ایک بات اہم ہے کہ ملک میں دہشت گردی عرصہ سے ہو رہی ہے اور عرصہ سے ہی مختلف وجوہات کی بنا پر لوگ مارے جا رہے ہیں۔ افسوسناک بات ہے اور اس کا حکومتی سطح پر کچھ نا کچھ سدباب بھی ہوتا رہتا ہے۔ بلوچستان تو آج کل اس طرح کے واقعات سے کافی متاثر ہے مگر یہاں بات ان وجوہات کی ہے جن کی وجہ سے پندرہ نو جوان مارے گئے۔
سنا ہے کہ یہ نوجوان ایران کے راستے سے یورپ جانے کے لئے گھر سے نکلے تھے۔ گھر سے آنکھوں میں خواب سجا کر کوئی اپنی بہن کا جہیز جمع کرنے، کوئی اپنا گھر بنانے اور کوئی گھر کا خرچہ چلانے کے لئے ان خوابوں کا راستہ دیکھتے ہوئے غریب گھروں کے بڑے بڑے خواب دیکھنے والے وہ نوجوان جن کو اپنے ملک میں محنت کے بعد بھی کچھ نہیں ملا اس راہ پر نکلے۔
یہ آج کا دکھ نہیں ہے۔ سالہا سالسے ہمارا ملک اس ہجرت کا اسیر ہے۔ پہلے جب دبئی اور کویت میں ہماری محنت سے امارتوں کے جنگل اُگ رہے تھے، ہمارے نوجوان وہاں کی تپتی دھوپ میں بہن کے جہیز کے لئے کمبل، ٹیپ ریکارڈر اوراسی طرح کے خواب چننے وہاں جایا کرتے تھے اور اپنی جوانی اورہمت برباد کرکے مٹی کے گھروں کو بجلی کی چیزوں سے بھرتے تھے۔ مجھے یاد ہے بچپن میں والدہ نے فریج گاؤں کی اس ماں سے خریدا تھا جس کے گھر بجلی نہیں تھی اور فریج میں کھیس رکھے ہوئے تھے۔
پھر اس کے بعد یورپ جانے کی کہانی شروع ہوئی۔ برطانیہ میں زیادہ انڈیا جانے والے لوگوں نے ڈیرہ جمایا اور یورپ کے کافی ملکوں میں پاکستان،انڈیا اور بنگلہ دیش کے لوگ ہجرت کر کے گئے ہیں اور اگر کسی خاندان کا ایک فرد بھی گیا ہے تو اس نے اپنے خاندان، اپنے گھر والوں اور رشتہ داروں کو بلا لیا۔ وہاں محنت کی قدر ہے۔ سب کو ایک جیسی ہی اجرت ملتی ہے۔ عرب ممالک کی طرح آپ کی زندگی یا نوکری کفیل کے ہاتھ میں نہیں۔ کچھ عرصہ اگر آپ کام کرتے رہیں تو آپ کو وہاں کی لیگل رہائش بھی مل جاتی ہے۔ لوگ کام کرتے ہیں۔ ان کی طرح نہیں رہتے۔ایک ایک جگہ پر مل کر رہتے ہیں اور خواب خریدنے کو کچھ بچا لیتے ہیں۔ یہ تو وہ لوگ ہیں جو کسی نہ کسی جائز طریقہ سے ہجرت پذیر ہوئے مگر جو لوگ ناجائز طریقہ سے جاتے ہیں۔ وہ بہت مشکل طریقہ سے جاتے ہیں۔ بلوچستان سے ایران کسی طرح سے چلے جاتے ہیں۔ پیدل یا مختلف گاڑیوں وغیرہ پر وہاں سے ترکی اور ترکی سے بذریعہ سمندر چھوٹی چھوٹی کشتیوں کے ذریعے یونان اور وہاں سے یورپ، پھر یورپ میں کاغذات بننے تک کوئی محفوظ ٹھکانہ، اس تمام راستہ میں پکڑے جانے کا اور مرنے کا خطرہ قدم قدم پر رہتا ہے۔ یا تو ایران یا ترکی کے بارڈر پر یہ لوگ پکڑے جاتے ہیں اور مار دیئے جاتے ہیں یا پھر سمندری سفر میں کوسٹ گارڈ کے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں یا ڈوب کر مر جاتے ہیں اور پکڑے جانے پر کیمپوں میں رہ کر ڈی پورٹ ہو جاتے ہیں۔ آج کل اس ٹیکنالوجی کے دور میں اس طرح چھپ چھپا کرکسی ملک کی سرحد توڑ کر داخل ہونا کوئی آسان کام نہیں اور اس دفعہ تو اپنے ملک میں ہی بے یارومددگار مارے گئے۔
اب آتے ہیں ان وجوہات کی طرف کہ ہمارے نوجوان سپنے خریدنے کیوں جاتے ہیں؟ سب سے پہلی وجہ تو ملک میں روزگار کی کمی، دوسرے تعلیم کی کمی، تیسرے معلومات کی کمی۔ ہمارے ہاں ایک عجیب سی احساس کمتری ہے، جو کام باہر جا کر کرتے ہیں وہ یہاں کرتے ہوئے ہمیں شرمندگی ہوتی ہے۔ آج کل کچھ تبدیلی آئی ہے۔ آج کل پڑھے لکھے نوجوان ٹیکسی چلا کر کما رہے ہیں۔ ہم لنڈن یا پیرس میں تو کیب ڈرائیور بن سکتے ہیں تو یہاں کیوں نہیں۔ آج کل باہر کے ملکوں میں پڑھے لکھے نوجوانوں کو ویزا وغیرہ مل سکتا ہے کیونکہ وہاں پڑھے لکھوں کے لیے پھر بھی نوکریاں ہیں۔کینیڈا اور آسٹریلیا میں صرف ان لوگوں کو امیگریشن مل سکتا ہے جو پڑھے لکھے ہیں اوران کی مہارت کی ان ملکوں میں ضرورت ہے۔ بغیر پڑھے مزدوری کے لئے آج کل یورپ کے علاوہ اور کہیں بھی کام نہیں ملتا کیونکہ پاکستان کے بدلے فلپائن اور بنگلہ دیش کی لیبر پڑھی لکھی اور سستی ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاکستانیوں نے چھوٹے چھوٹے جرائم میں ملوث ہو اپنا اعتماد اور اپنی ساکھ بھی خراب کی ہے۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ہم لوگ ناکارہ ہیں اور ہم کسی کام کے نہیں۔ ہمارے نوجوان ہنر مند ہیں۔ ان کو صحیح تربیت کی ضرورت ہے۔ ہم ایک زرعی ملک ہیں۔
نوجوانوں کو ان پروڈکٹس میں مدد کی ضرورت ہے۔ سبزیاں کاشت کرکے خام مال سے چیزیں بنا کر فروخت کرنے سے، چھوٹے کاروبار کو فروغ دینے سے ہم ملک کی بے روزگاری پر قابو پا سکتے ہیں۔ ملک معدنی ذخائر سے مالا مال ہے۔ کان کنی کی صنعت کو جدید بنیادوں پر استوار کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم دوسروں کے غلام بننے کے بجائے اپنے مالک کیوں نہیں بنتے۔ چھوٹی صنعتیں لگا کر زراعت کو ترقی دے کر ،نئی منڈیوں کو ڈھونڈ کر ہم خود کفالت کی منزل پا سکتے ہیں؟ کیا ہماری ماؤں نے شہزادے اس لئے پیدا کئے تھے کہ وہ غریب الوطن بے یار ومددگاد انجان سرزمینوں پہ مارے جائیں۔ اور اس کے بعد ان کو دفنانے والا بھی کوئی نہ ہو۔بغیر کسی ہنر کے اورناجائز طریقہ استعمال کرکے جاتے سمے صرف ایک بار اپنی ماں کی آنکھیں دیکھ لیں، اپنے بچوں کا بوسہ یاد کرلیں، تو وہ اسی ملک میں اپنی جنت بنانے کی کوشش کریں گے اور دوسری طرف میں یہ دعا کرتی ہوں کہ ہمارے حکمران اپنی لالچ سے نکل کر ایک بار اس ملک کے عوام کے بارے میں بھی سوچ لیں جن کے سر پر وہ حکمرانی کر رہے ہیں۔