Zaman-Khan

سوویت انقلاب کے سو سال

 

جب سے انسان نے سوچنا شروع کیا ہے اس وقت سے آج تک یہ کشمکش جاری ہے کہ معاشرہ کس طرح کا ہونا چاہئے۔یہ بحث بہت ہی پرانی ہے کہ معاشرے میں تفریق اور امتیاز قدرت کا پیدا کردہ اورفطری ہے۔ جو بھی انسان کی برابری کی بات کرتا ہے وہ فطرت کے خلاف بات کرتا ہے۔دوسری طرف ایسے انسان اور نظریات نے جنم لیا جن کے مطابق تفریق اور امتیاز انسان کا خود پیدا کردہ ہے۔سارے انسان برابر ہیں اور ہر انسان کو بنیادی سہولیات زندگی، روٹی،کپڑا،مکان ،صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر ہونی چاہئیں۔آپ اسے Utopia بھی کہہ سکتے ہیں مگر انسان نے یہ خواب ہمیشہ دیکھاہے اور ایسا معاشرہ تشکیل دینے کی کوشش اور جدوجہد کی ہے جہاں سب لوگ برابر ہوں، مہذب، رنگ، نسل، علاقہ کی بنیاد پر کوئی امتیاز اور سماج میں کوئی طبقات نہ ہوں۔سب برابر ہوں ۔
انیسویں صدی میں یورپ میں کارل مارکس نے کمیونزم کا نظریہ پیش کیا۔اس نظریہ نے بھی دراصل سرمایہ داری کی کوکھ سے جنم لیا۔کارل مارکس اور اینگلز نے مل کر اس پر بہت سارا نظریاتی مواد فراہم کیا۔یورپ میں اس فلسفہ اور نظریہ پر یقین رکھنے والی پارٹیاں وجود میں آئیں اور انہوں نے اپنے اپنے ملکوں میں کمونزم کے فلسفہ پر حکومتیں قائم کرنے کی کوششیں کیں۔ آخر اکتوبر 1917کو پہلی جنگ عظیم کے دوران روس میں لینن کی قیادت میں بالشوک پارٹی روس میں بادشاہت کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کرنے میں کامیاب ہو گئی۔ بالشوک پارٹی نے نہ صرف روس سے بادشاہت کا خاتمہ کیا بلکہ جاگیرداری کا بھی خاتمہ کردیا۔اور سارے ذرائع پیداوار ریاست کی ملکیت قرار دے کر ہر شہری کو روٹی، کپڑا، مکان، صحت اور روزگار فراہم کیا۔ سوویت انقلابیوں نے زار روس کے تحت سنڑل ایشیا کے جن ممالک پر بزور طاقت قبضہ کیا ہوا تھا سب کو آزاد ی دے دی۔اس کے ساتھ ساتھ انہوں نے نہ صرف سوویت یونین میں ہر قسم کی غلامی کا خاتمہ کیا بلکہ انہوں نے قوموں کی غلامی کے خلاف بھی آواز بلند کی اور سارے ملکوں اور قوموں کی برابری اور آزادی اور خود مختاری حمائیت کی۔ ہم دیکھتے ہیں کہ سوویت یونین کے سوشلسٹ انقلاب نے محکوم قوموں میں آزادی کا زبردست ولولہ پیدا کیا اور بہت سارے لوگوں نے سوشلزم کے فلسفہ کو اپناتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں ایسی پارٹیاں بنائیں جنہوں نے اپنے اپنے ملکوں کی آزادی اور خودمختاری کے لئے جنگ لڑی۔جس کے نتیجہ میں آج دنیا کے سیکڑوں ملکوں کو آزادی اور خود مختاری حاصل کی۔ قوموں کی آزادی،برابری اور خود مختاری کے ساتھ انہوں نے انسانی تاریخ میں پہلی دفعہ عورتوں اور مردوں کی برابری کا فلسفہ بھی پیش کیا۔سب سے پہلے دنیا میں سوویت یونین نے عورتوں کو ووٹ کا حق دیا اور عورتوں کے خلاف ہر قسم کے امتیازی سلوک کا خاتمہ بھی کیا۔
برصغیر ہندوستان کے لوگوں نے بھی انگریزوں سے آزادی حاصل کرنے کے لئے جہاں اور پارٹیاں بنائیں وہاں انہوں نے تاشقند میں بیسویں صدی کے شروع میں ہندوستان کی کمونسٹ پارٹی بھی بنائی۔چونکہ برطانوی سامراج کمیونزم کے خلاف تھا اس لئے اس نے کمیونسٹ پارٹی کو خلاف قانون قرار دے دیا ۔ دوسری جنگ عظیم کے وسط میں اس پر سے پابندی اٹھائی۔جب سوویت یونین ہٹلر کے فاشزم کے خلاف جنگ میں شامل ہو گیا۔ یہاں اس بات کا ذکر بھی ضروری ہے کہ ہندوستا ن کی کمونسٹ پارٹی نے قیام پاکستان کی بھر پور حمایت کی تھی۔مگر یہ بات ناقابل فہم ہے کہ پاکستان میں سجاد ظہیر ،جو کہ پاکستان کی کمو نسٹ پارٹی کے سیکریڑی جنرل تھے ،کی آمد سے پہلے ہی ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے گئے اور جتنا بھی عرصہ وہ پاکستان میں رہے وہ یا تو زیر زمین رہے یا جیل میں۔آخر کار جب پاکستان امریکی اور مغربی سامراج کا اتحادی بن گیا تو کمیونسٹ پارٹی آف پاکستان پر پابندی لگا دی گئی۔
آج ساری دینا میں لوگ سوویت انقلاب کا صد سالانہ دن منا رہے ہیں۔مجھے یہ بات تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ لینن کا سوویت یونین آخر ختم ہو گیا اور وہاں سوشلز م کی جگہ ایک اور طرح کا سرمایہ داری نظام لاگو ہے۔اس کی ناکامی کے اسباب پر کتابیں لکھی جا چکی ہیں اور لکھی جائیں گی۔ یہاں اس ناکامی کا تجزیہ مقصود نہیں۔ سوویت یونین کے بعد مشرقی یورپ،چین،کیوبا،ویت نام اور افریقہ کے کئے ممالک نے اسی فلسفہ کو اپناتے ہوئے اپنے اپنے ملکوں میں آزادی کی کامیاب جنگیں لڑیں۔ گو سامراج نے دنیا پر اپنا تسلط جمانے کے لئے نئے حربے اور فلسفہ اپنا لیا ہے مگر اس بات سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ ساری غلام قوموں کو آزادی دلانے میں سوویت انقلاب کا بنیادی کردار ہے۔
آخر میں صرف اتنا عرض ہے کہ سوویت یونین کا دنیا کی تاریخ میں ایک نیا تجربہ تھا ۔کمیونسٹ حکومت روس میں 70 سال تک قائم رہی۔اس سے پہلے چند ماہ تک فرانس میں انقلابیوں نے حکومت قائم کی جسے ’پیرس کمیون‘ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔ جب سوویت یونین میں انقلاب آیا تو سارے یورپ نے سوویت یونین پر مل کر حملہ کردیا۔کہتے ہیں کہ جب سوویت انقلاب کو سو دن ہو گئے تو لینن نے خوشی سے ناچنا شروع کردیاکہ کیوں کہ ’روسی انقلاب، پیرس کمیون ‘ سے زیادہ دن قائم رہا۔ سوویت یونین کے خاتمہ کے بعد آج امریکہ دنیا کی واحد سپر طاقت ہے اور اسے کوئی روکنے والا نہیں، آج پھر دنیا میں سرمایہ داری اور طبقاتی نظام کے ماننے والے دندناتے پھر رہے ہیں کہ طبقاتی نظام ہی فطری نظام ہے۔ اب انسانیت کے لئے یہ بنیادی سوال ہے کہ کیا یہ استحصالی نظام ہمیشہ قائم رہے گا؟ نہیں قومیں اور ملک اپنے حقوق کے لئے لڑ رہے ہیں اور لڑتے رہیں گے۔جب تک سرمایہ داری اور سامراج کا استحصالی نظام کا خاتمہ نہ ہو۔