Dr-ibrahim-mughal

سولہ دسمبر کے صد مے

2017ء کا سو لہ د سمبر آیا ا و ر ہما ر ے قو می د و ہر ے صد مو ں کی یا د تا ز ہ کر تا ہو ا گذ ر گیا۔ پہلا صد مہ ہمیں 1971ء میں مشر قی پاکستا ن کی علیحدگی کی صو ر ت میں سہنا پڑا ا و ر د و سر 2014ء میں آر می پبلک سکو ل پشا و ر کے بچو ں کے قتل عا م کی صورت میں۔ کالم کی طوا لت کو پیش نظر ر کھتے ہو ئے مشر قی پا کستا ن کی علیحدگی کا ذکر پہلے کر لیتے ہیں۔
شیخ مجیب الرحمن کو پاکستان کا آئندہ وزیر اعظم نامزد کر نے کے بعد 13 فروری 1971ء کو یحییٰ خان نے قومی اسمبلی کا اجلاس 3 مارچ کو ڈھاکہ میں طلب کرنے کا سرکاری سطح پر اعلان کردیا۔ ذوالفقار علی بھٹو نے اس موقع پر مؤقف اختیار کیا کہ اکثریتی جماعتوں کو اجلاس میں شرکت سے قبل آئینی مسائل پر معاہدہ کرنا ہوگا۔ اس نئے مسئلے کو حل کرنے کے لیے یحییٰ خان نے شیخ مجیب الرحمن کو اسلام آباد بلوایا مگر شیخ مجیب الرحمن نے یہ کہہ کر انکار کردیا کہ میرے ماہرین میری نگرانی میں آئینی مسودے کی تیاری میں مصروف ہیں اور چونکہ 3 مارچ کو ڈھاکہ میں قومی اسمبلی کا اجلاس منعقد ہونے جارہا ہے، لہٰذا میرے پاس بہت کم وقت بچا ہے۔ اس کے بعد 20 فروری کو شیخ مجیب نے اسلام آباد آنے سے قطعی طور پر انکار کردیا۔ اس کے چند روز بعد ہی یحییٰ خان نے 3 مارچ کو ڈھاکہ میں ہونے والے قومی اسمبلی کا اجلاس غیر معینہ مدت کے لیے ملتوی کردیا۔ اس کے بعد 10 مارچ کے ر و ز یحییٰ خان نے 16 مارچ کو ڈھاکہ میں 16 منتخب سیاسی جماعتوں کی کانفرنس طلب کی۔ اس کانفرنس کو شیخ مجیب الرحمن نے مسترد کردیا اور اسے عوامی لیگ کے خلاف سازش قرار دیا۔ شیخ مجیب کے جذباتی بیانات کے نتیجے میں مشرقی پاکستان میں کشیدگی پھیل گئی اور پُرتشدد مظاہرے شروع ہوگئے۔ 25 مارچ کو فوج نے نوٹس لیتے ہوئے 26 مارچ کو شیخ مجیب الرحمن کو گرفتار کرلیا۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا شیخ مجیب کا باغیانہ رویہ محض اس کی اپنی سوچ کا نتیجہ تھا؟ نہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ بھارت کی شیخ مجیب کے ساتھ مل کر بدنام زمانہ اگرتلہ سازش کیس کا نتیجہ تھا۔ چنانچہ شیخ مجیب الرحمن کی گرفتاری کے بعد مشرقی پاکستان میں شورش کی کمانڈ بھارت نے مکتی باہنی کے پردے میں خود سنبھال لی۔ ان دگرگوں حالات میں جنرل یحییٰ خان کا فرض بنتا تھا کہ ایک پیشہ ور سپاہی ہونے کے ناطے وہ وطن کی سلامتی کے لیے سر دھڑ کی بازی لگادیتے۔ وائے افسوس ان کا کردار اس کے بالکل برعکس رہا۔ شراب اور ناچ گانے کی محفلوں کے رسیا یحییٰ خان ے تو یہ بھی نہیں ہوسکا کہ وہ اپنی اس طرح کی پُرتعیش محفلوں کو کچھ عرصے کے لیے ہی مؤخر کردیتے۔ اندھا کیا چاہے دو آنکھیں کے مصداق بالآخر بھارت نے اپنا ہدف 16 دسمبر 1971ء کو مشرقی پاکستان کو تاراج کرنے کی صورت میں حاصل کرلیا۔ اپنے وطن کے دامن پہ اس سیاہ دھبے کو آج تاریخ میں سقوطِ ڈھاکہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
یہاں یہ کہنا ضروری ہے کہ جنرل یحییٰ اور جنرل نیازی کو سقوطِ ڈھاکہ کا کلی طور پر ذمہ دار ٹھہرایا جانا زیادتی ہوگی۔ حقیقت یہ ہے کہ مشرقی پاکستان میں حالات کی خرابی قائد اعظم کی رحلت کے فوراً بعد شروع ہوگئی تھی۔ ان حالات کی خرابی کا ذمہ مشرقی پاکستان کے عوام کے سر تھوپنا بھی عین زیادتی ہوگی۔ مشرقی پاکستان کے لوگ ہرگز علیحدگی پسند نہیں تھے۔ انہوں نے آخری وقت تک متحد رہنے کی کوشش کی۔ لیکن جن سازشی رہنماؤں کی نیت میں فتور تھا انہوں نے بات بننے نہ دی۔ کیا یہ درست نہیں کہ مسلم لیگ کی بنیاد ڈھاکہ میں پڑی؟ مشرقی پاکستان کے عوام تحریک پاکستان کے ہراول دستے میں شریک رہے؟ لاہور میں 23 مارچ 1940ء کو ہونے والے اجلاس میں پاکستان ریزولیشن شیر بنگال مولوی فضل الحق نے پیش کی۔ پاکستان کے معرض وجود میں آنے کے بعد بھی ان زیادیتوں کے باوجود جو مشرقی پاکستان کے لوگوں کے ساتھ روا رکھے گئے وہ مادر ملت فاطمہ جناح کے حق میں پورے جذبے کے ساتھ اس وقت سڑکوں پر آگئے، جب وہ صدر ایوب کے خلاف اٹھ کھڑی ہوئی۔ تب ڈھاکہ میں 36 میل لمبا جلوس مادر ملت کے حق میں نکالا گیا۔ بڑھاپے اور کمزوری کے باوجود خواجہ ناظم الدین بذات خود مادر ملت کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہیں صدارت کے لیے آمادہ کیا۔ یہ وہی خواجہ ناظم الدین تھے جنہیں قائد ملت نوابزادہ لیاقت علی خان کی شہادت کے بعد گورنر جنرل کے عہدے سے ہٹا کر غلام محمد جیسے مفلوج بیوروکریٹ کو ملک کی سربراہی سونپ دی گئی۔ غلام محمد نے آتے ہی مولوی تمیز الدین کی اسمبلی پر تالے ڈلوادیئے۔ جب سندھ ہائی کورٹ نے سپیکر مولوی تمیزالدین کے حق میں گورنر جنرل غلام محمد کے خلاف فیصلہ صادر کیا تو غلام محمد نے جسٹس منیر کے ذریعے فیڈرل کورٹ سے فیصلے کو کالعدم کرایا۔ یہی وہ وقت تھا جب وطن عزیز میں نظریہ ضرورت کی بنیاد پڑی۔ خواجہ ناظم الدین کو اسمبلی میں اکثریت حاصل تھی۔ کچھ ہی عرصہ پہلے بجٹ پیش ہوکر منظور ہوا تھا۔ جب سردار عبدالرب نشتر نے غلام محمد کی توجہ ان حقائق کی جانب مبذول کرائی تو غلام محمد نے طیش میں آکر کیبنٹ ہی کو توڑ دیا۔ یہی نہیں، مشرقی پاکستان کے لوگوں پہ ظلم روا رکھتے ہوئے ان کی عددی اکثریت کی اہمیت کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے ون یونٹ کا قیام عمل میں لایا گیا۔اگر مشرقی پاکستان کے عوام کو مغربی پاکستان سے نفرت برائے نفرت ہوتی تو وہ جنرل اعظم کو کبھی پسند نہ کرتے۔ مغربی پاکستان کے باسی جنرل اعظم مشرقی پاکستان میں اپنے رفاہی کاموں کی بناء پر انتہائی مقبول تھے۔ مگر صدر ایوب کو جنرل اعظم کی مقبولیت ایک آنکھ نہ بھائی۔ چنانچہ صدر ایوب نے جنرل اعظم کو مغربی پاکستان واپس بلالیا۔ مشرقی پاکستان کے عوام یہ سب اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے۔ کوئی گھرانہ بیرونی عناصر کے بہکاوے میں آکر اس وقت تک تباہی کا شکار نہیں ہوسکتا ، جب تک اس میں خود سے ایک دوسرے کے خلاف شکوے شکایات موجود نہ ہوں۔ بے شک مشرقی پاکستان کی علیحدگی میں بھارت کے کلیدی کردار کے ساتھ ساتھ اسرائیل کا بھی گہرا ہاتھ ہے، لیکن ان میں مشرقی پاکستان کے عوام پہ روا رکھی جانے والی زیادتیاں کبھی نظرانداز نہیں کی جاسکتیں۔
16 دسمبر 1971 ء کے سانحہ مشرقی پاکستان سے کیا ہم نے کچھ سبق سیکھا؟ اگر سیکھ لیا ہوتا تو یقین اغلب ہے کہ 16 دسمبر 2014ء کو آرمی پبلک سکول پشاور اس سانحہ سے دوچار نہ ہوتا جس میں ان کے اساتذہ سمیت 144 نونہال شہید نہ کردیئے جاتے۔ بظاہر مشرقی پاکستان کے سانحہ اور آرمی پبلک سکول پشاور کے سانحات میں کوئی رشتہ نظر نہیں آتا مگر کیا یہ کہنا غلط ہوگا کہ آرمی پبلک سکول کا واقعہ ہماری غلط پالیسیوں کا نتیجہ ہے؟ سانحہ مشرقی پاکستان بپا کرنے کے لیے ہمارے مشرقی پاکستان کے شیخ مجیب الرحمن جیسے سازشی رہنما بیرونی طاقتوں کے ہاتھوں میں کھیلے۔ مشرقی پاکستان کی علیحدگی کے بعد بھی ہمارے کچھ سیاسی رہنما بیرونی طاقتوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی بننے سے باز نہ آئے۔ انہوں نے دہشت گرد تنظیموں کو اپنا مظلوم بھائی کہہ کر پیش کیا۔ ان کے ہر قصور کے بعد ان سے مذاکرات کی اپیل کی۔ دہشت گردوں کو انسانی حقوق کی بنیاد کا بہانہ بناتے ہوئے پھانسی چڑھائے جانے سے روکے رکھا۔ سانحہ پشاور کا ایک مثبت اثر یہ ضرور ہوا کہ اس کے بعد فوری طور پر دہشت گردوں کو پھانسی دیئے جانے پہ پابندی اٹھالی گئی ۔ ضربِ عضب کے نتیجے میں دہشت گردوں پہ کاری وار کیے گئے۔ تاہم یہ تسلیم کیے بغیر کوئی چارہ نہیں کہ دہشت گردی کی جڑیں ابھی ختم نہیں ہوئیں۔