sind nama

سندھ: تمام محکموں کی صحت مشکوک

یوں تو سندھ کے تمام محکموں کی صحت مشکوک ہے لیکن صحت کے بیمار محکمے کی بات ہی کچھ اور ہے۔ عام لوگوں کی صحت اس بیمار محکمے کے ذمہ ہے۔ سندھ کے ہسپتال شفا خانوں کے بجائے گھوس گھر کا تعارف رکھتے ہیں۔ ڈاکٹر عوام کے پیسے سے تنخواہیں لیتے ہیں لیکن ان کی اکثریت ڈیوٹی دینے کے لئے تیار نہیں۔ مریضوں کو سرکاری ہسپتالوں میں دوائیاں نہیں ملتیں ۔ اگر ملتی ہیں تو نقلی اور غیر معیاری ہوتی ہیں۔ اس صورت حال کو نوٹس لیتے ہوئے ہسپتالوں پر عدالتی چھاپوں کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے۔ اطلاعات ہیں کہ ایڈیشنل سیشن جج کراچی نے ابراہیم حیدری میں سرکاری ہسپتال پر چھاپہ مارا۔ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ، پانچ ڈاکٹرز اور عملہ غائب تھا۔ چھاپے کے دوران یہ بات بھی سامنے آئی کہ مریض کو ایک روز کی دوائی دے کر پانچ روز کا ریکارڈ بنایا جاتا ہے۔ قمبر ہسپتال میں بھی چھاپے کے وقت ڈاکٹر، لیڈی ڈاکٹر اور ماتحت عملہ غیر حاضر تھا۔ ہیپاٹائٹس کے مریضوں نے علاج نہ
ہونے کی شکایات کیں۔ اس موقع پر ہیپاٹائٹس پروگرام کے غیر حاضر فوکل پرسن کے خالد پر مقدمہ درج کردیا گیا۔ اسی طرح مکلی ہسپتال پر چھاپے کے دوران سہولیات کی کمی اور مشینیں خراب حالت میں ملیں۔ صوبے میں دیگر ہسپتالوں کی حالت بھی ان سے مختلف نہیں۔ صوبے کے دو محکمے جن کی ذمہ داری عوام کی جسمانی اور ذہنی صحت کو درست رکھنا ہے، یعنی محکمہ صحت اور محکمہ تعلیم، ان دونوں کی صورت حال نہایت ہی خراب ہے۔ وہی گھوسٹ ملازم، ویزا سسٹم اور کرپشن کلچر ان محکموں کی پہچان بنا ہوا ہے۔ صوبے میں صحت اور صفائی سے متعلق خود سرکاری محکموں کی رپورٹس خراب کارکردگی کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔ انسانوں کو غلاظت بھرا اور آلودہ پانی پینے کے لئے فراہم کیا جارہا ہے۔ انتظامی کوتاہی اور نااہلی کے باعث لوگ بیمار ہوتے ہیں تو انہیں علاج کی بہتر سہولیات میسر نہیں ہوتی۔ سرکاری ہسپتالوں میں ادویات کے لئے ہر سال بجٹ آتا ہے جس کا بڑا حصۃ کرپشن میں چلا جاتا ہے۔ باقی جو تھوڑا حصہ رہتا ہے اس کی نقلی اور غیر معیاری ادویات خرید کر کے مریضوں کو دی جاتی ہیں۔ یہ غیر معیاری ادویات مرض کے علاج کے بجائے اسے مزید بڑھا دیتی ہیں یا اس کو پیچیدہ بنا دیتی ہیں۔ بسااوقات یہ ادویات ڈاکٹرز کے پرائیویٹ کلینکس پر پہنچا دی جاتی ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں موجود مشینیں جان بوجھ کر خراب کی جاتی ہیں تاکہ نجی شعبے کے ڈائگنوسٹکس سینٹرز اور لیبارٹریز کو منافع کے بے تحاشا مواقع فراہم ہو سکیں۔ یہاں پر بھی ڈاکٹرز کا کمیشن مقرر ہے۔ میڈیکل سٹورز پر سرکاری مہر لگی ہوئی ادویات کی فروخت عام سی بات ہے۔ ان میڈیکل سٹورز پر کام کرنے والوں کے پاس مطلوبہ سرٹیفکیٹ بھی نہیں ہوتے۔ جعلی ادویات کا کاروبار زور شور سے جاری ہے۔ افسوس ہے کہ ڈرگ انسپکٹرز کو یہ سب نظر نہیں آتا۔ تھر میں علاج کی مطلوبہ سہولیات کی عدم موجودگی میں معصوم بچوں کی اموات کی خبریں گزشتہ تین سال سے آرہی ہیں۔ کیا حکومت سندھ اس کارکردگی پر فخر کرسکتی ہے؟ محکمہ صحت کے وزیر اور سیکرٹری دونوں صاحبان ڈاکٹر ہیں۔ لیکن وہ محکمہ کی صحت سے لاعلم ہیں یا جان بوجھ کر آنکھیں بند کی ہوئی ہیں۔ وزیر صحت کا دفتر برمودا ٹرائی اینگل بنا ہوا ہے۔ جہاں ہر درخواست شکایت یا کسی مرض کے بارے میں رپورٹ اسی طرح گم ہو جاتی ہے جس طرح سے مختلف جہاز اور چیزیں برمودا ٹرائی اینگل میں گم ہو جاتی ہیں۔
صحت کی بنیادی سہولیات ریاست کی اور حکومت کی ذمہ داری ہیں۔ ریاست یہ ذمہ داری کس طرح سے پوری کر رہی ہے؟ اس کا اندازہ روز مرہ کی رپورٹس اور خبروں سے لگایا جاسکتا ہے۔ محکمہ صحت کی بیمار ذہن بیوروکریسی سندھ کے لوگوں کو صحت کی سہولیات فراہم کرنے کے بجائے مزید امراض پھیلانے کا سبب بن رہی ہے۔ ہسپتالوں میں علاج کے لئے نہ ادویات ہیں نہ ڈاکٹرز، یہ طبی دہشتگردی نہیں تو اور کیا ہے؟
روز نامہ عبرت لکھتا ہے کہ سپریم کورٹ کی جانب سے میڈیکل کالجز کی رجسٹریشن پر پابندی عائد کرنے، سرکاری ڈاکٹروں کی نجی ہسپتالیں بند کرنے اور صوبے میں غیر سند یافتہ ڈاکٹروں کے خلاف حکم کے بعد حکومت سندھ نے کارروائی کا فیصلہ کیا ہے۔ صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سکندر مندھرو کا کہنا ہے کہ جن سرکاری ڈاکٹرز نے نجی کلینکس کھولے ہوئے ہیں ان کے خلاف کارروائی کی جا ئے گی۔ ان کا کہنا ہے کہ نجی کلینکس کی وجہ سے ڈاکٹرز سرکاری ہسپتالوں پر توجہ نہیں دیتے۔ اور سرکاری ہسپتال پہنچنے والے مریضوں کو نجی کلینک پرلانے کا مشورہ دیتے ہیں۔
کسی بھی معاشرے میں اگر امن و امان، صحت اور تعلیم کی سہولیات میسر نہ ہوں ، تو یہ معاشرہ اپنے طور پر آگے بڑھنے لگتا ہے۔ یہ تینوں اسم معاشرے کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتے ہیں۔ معاشرتی طور پر آج ہم جس توڑپھوڑ کا شکار ہیں اس کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ہمارے حکمرانوں نے ان تین شعبوں پر توجہ کم دی ہے۔ امن وامان جس بدتری کا شکار ہے اس میں ہمارا اپنا ہاتھ ہے۔ ضیاء الحق کے سیاہ دور میں ہاتھوں سے حالات خراب کئے گئے تاکہ لوگ اپنے ہی مسائل میں الجھے رہیں۔ قبائلی اور برادری کے جھگڑے چلتے ہوں یا، ڈاکے یا تعلیمی اداروں میں تعصب یہ سب کچھ ایک خاص سوچ اور ذہنیت کے ساتھ کیا گیا۔ بعد میں آنے والی حکومتوں نے بھی اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی۔ بلکہ ڈاکوؤں کے خلاف آپریشن کے نام پر جنگلات کاٹ دیئے گئے۔ کاپی کلچر کی حوصلہ افزائی کر کے تعلیم کو تباہ کیا گیا۔ محکمہ صحت پر بھی مطلوبہ توجہ نہیں دی جاسکی۔