Rana-Zahid-Iqball

سقوطِ ڈھاکہ اور نااہلی کے اسباب

میاں نواز شریف پانامہ کیس میں سپریم کورٹ کی جانب سے نااہلی کے بعد سے بار بار سقوطِ ڈھاکہ کا ذکر رہے ہیں جب کہ سقوطِ ڈھاکہ کے اسباب مختلف ہیں۔ لیکن اس کا اپنی تقریروں میں ذکر کر کے کس کو خوش کرنا مقصود ہے۔ وہ لوگ جو جاتی امراء بھارت میں ہندو اور سکھ زمینداروں کو چھوٹے چھوٹے آلاتِ زراعت پیش کرتے تھے ان کی متشکرانہ نظریں اب بھی بھارت کی طرف لگی رہتی ہیں۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی خود پاکستان توڑنے کی سازش میں بھارت کی شمولیت کا اعتراف کر چکے ہیں،ویسے بھی یہ حقیقت کوئی ڈھکی چھپی نہیں ہے کہ متحدہ پاکستان کے ٹکڑے اندرا گاندھی کے ہاتھوں ہوئے ہیں۔ 1970ء کے انتخابات ہوئے تو مشرقی پاکستان میں شیخ مجیب الرحمان کو اکثریت حاصل ہوئی اور مغربی پاکستان میں ذوالفقار علی بھٹو کو زیادہ ووٹ ملے لیکن وزارتِ عظمیٰ کے لئے دونوں پارٹیوں میں اختلافات بڑھتے جا رہے تھے۔ اندرا گاندھی موقع سے فائدہ اٹھا کر بن بنائے ثالث بن گئیں اور انہوں نے شیخ مجیب الرحمان کی حمایت شروع کر دی۔ پانچ چھ لڑکیوں کے مسلمان ہونے کو مسئلہ بنا کر اندرا گاندھی اور مشرقی پاکستان کے ہندوؤں نے باہمی سازش کے تحت ہندوؤں کو بھارت میں ویزے کے بغیر آنے کی اجازت دے دی اس طرح ایک کروڑ ہندو کلکتہ اور دوسرے شہروں میں آ گئے، جن کی خوب خاطر مدارت کی گئی اور ساتھ ہی بھارتی حکومت نے ساری دنیا کے سامنے رونا پیٹنا بھی شروع کر دیا کہ ان کو کہاں سے کھلائے۔ بیرونی دنیا نے یہ پوچھنے کی زحمت گوارا نہیں کی کہ دوسرے ملک کی ایک کروڑ آبادی کو تم نے ویزے کے بغیر اپنے ملک میں آنے کیوں دیا۔ وہ سب کے سب مسلم دشمنی میں ہندوؤں کے ساتھ ہو گئے۔
ادھر بھارت نے اپنے فوجی مکتی باہنی کی شکل میں بنگلہ دیش بھیج دئے، جنہوں نے وہا ں کی انتظامیہ کے خلاف کارروائیاں شروع کر دیں، خانہ جنگی کی کیفیت پیدا کر دی گئی، جب اندرا گاندھی نے حالات کو سازگار پایا تو اپنی فوجیں داخل کر کے مغربی پاکستان اور مشرقی پاکستان کا رابطہ منقطع کر دیا اور مشرقی پاکستان کو بنگلہ دیش بنوا دیا۔ اندرا گاندھی کا مقصد نہ مجیب الرحمان کو وزیراعظم بنوانا تھا، نہ بنگالیوں کے حقوق سے کوئی غرض تھی، نہ مشرقی پاکستان کے ہندوؤں کی حفاظت کرنا تھا بلکہ انہیں وہ کرناتھا جو ان کے باپ نے پاکستان کا مطالبہ مان تو لیا تھا مگر ماؤنٹ بیٹن اور لیڈی ماؤنٹ بیٹن کو شیشے میں اتار کر اتنا اپنا بنا لیا تھا کہ انہیں کٹا پھٹا پاکستان دینے پر راضی کر لیا جو چند برسوں کے اندر بھارت کے سامنے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے گا۔ بھارت کے لئے یہی بات باعثِ تکلیف تھی کہ اب تک دو قومی نظریہ پر قائم ہونے والے پاکستان نے ان کے سامنے گھٹنے کیوں نہیں ٹیکے اور اپنے پاؤں پر کیوں کھڑا ہے، بھارت نے دوٹکڑے کروا دئے تا کہ جب آدھا رہ جائے گا تو تب یقیناً جھک جائے گا۔
بھارت عالمی طاقتوں کی مدد سے ہمارے اندر سے حملہ آور ہوا، بھارتی فوجیوں اور مکتی باہنی نے بنگالیوں کا نہ صرف قتلِ عام کیا بلکہ عزتیں لوٹیں، سازو سامان سب کچھ لوٹا اور اندرا گاندھی کا وفادار شیخ مجیب بالکل خاموشی سے یہ سب کچھ دیکھتا رہا اور اپنے ساتھیوں کو مداخلت سے منع کرتا رہا جب کہ اس وحشیانہ پن کا پروپیگنڈا پاکستانی افواج کے خلاف ہوتا رہا ۔ بھارتی مصنفہ شرمیلا بوس اور کئی اہم مغربی مصنفین کی تحقیقی کتب اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ مشرقی پاکستان میں غیر بنگالیوں کو ٹھکانے لگانے کا کام فوجی آپریشن سے پہلے ہی شروع ہو چکا تھا۔ ڈھاکہ یونیورسٹی کے وائس چانسلر سید سجاد حسین نے اپنی کتاب شکستِ آرزو میں لکھا کہ پاکستانی فوج کے ایکشن سے پہلے ہی بنگلہ دیشی سر زمین غیر بنگالیوں کی لاشوں سے اٹی پڑی تھی اور یہ کام کسی اور نے نہیں بلکہ بھارتی افواج نے کیا۔ اب کوئی ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ یہ سب عالمی سازشوں کی بناء پر ہوا جو مسلم امہ کو کمزور دیکھنا چاہتی ہیں، ان کو اتنی بڑی اسلامی مملکت کسی طور قبول نہیں تھی۔ تین دفعہ وزارتِ عظمیٰ ، تین دفعہ ہی ملک کے سب سے بڑے صوبے کی وزارتِ اعلیٰ کا لطف اٹھانے اور دولت کے انبار سمیٹنے کے بعد کوئی شخص دشمن کے بیانیے کو کھلم کھلا فروغ دینے لگے اور پھر بھی قومی رہنما کہلائے تو اس سے بڑی بدقسمتی کیا ہو سکتی ہے۔ جب کہ سقوطِ ڈھاکہ اور آپ کی نااہلی کے فیصلے کے اسباب بالکل مختلف ہیں۔ آپ کی نااہلی تو آپ کے اثاثے آپ کے ذرائع آمدن سے میچ نہ ہونے کی بناء پر ہوئی جس کے لئے آپ عدالتوں میں ٹریل پیش کر کے اپنے آپ کو بری الذمہ کروا سکتے ہیں۔ آپ الٹا نااہلیت کو بدلوانے کے لئے ، کرپشن اور چوری کو تحفظ دینے کے لئے عدالتوں پر اثر انداز ہونے کی کوشش لاؤ لشکر سے کر رہے ہیں۔ یہی تباہی کا سفر ہے، ایسی باتوں سے نظام خراب ہوتا ہے، ایسی حرکتوں کے باعث بڑی بڑی سلطنتیں برباد ہو گئیں، سلطنتیں اور حکومتیں وہاں قائم رہیں جہاں قانون کی حکمرانی رہی اور قانون کی نظر میں حاکم اور محکوم کا فرق نہ ہوا۔ عدالت نے ایک جرأت مندانہ اقدام کیا تو حالات نے پلٹا کھایا اور ایک نیا راستہ کھلا کہ اب قوم کے لٹیروں سے حساب لینے کی امید بندھی ہے جن کا نظریہ زندگی اور نظریہ سیاست بہت گھناؤنا ہے ۔ لیکن اس کا توڑ اس طرح کیا جا رہا ہے کہ ملکی آئین میں اس لئے تبدیلی کر دی گئی کہ ایک نااہل شخص دوبارہ پارٹی کا صدر بنوایا جا سکے، یہ ساری قانون سازیاں چوری اور سینہ زوری کے لئے ہیں۔ جب کوئی ڈکٹیٹر آئین سے چھیڑ چھاڑ کرتا ہے تو جمہوریت پسند بڑی لے دے کرتے ہیں تو اب اسے کیا کہا جائے؟ اپنے سرمائے کو بچانے کے لئے پاکستان کے ٹوٹنے کی دھکمیاں دی جا رہی ہیں، عجیب فلسفہ ہے کہ آپ وزارتِ عظمیٰ سے فارغ ہو گئے تو کرۂ ارض کی عظیم ایٹمی قوت کی حامل اسلامی ریاست خدا نخواستہ ٹوٹ جائے گی۔ افراد کے آنے جانے سے قوموں کو فرق نہیں پڑتا یہ ایک تاریخی سچائی ہے۔ مسلم لیگ (ن) قوم کو بیو قوف بنانے کے لئے دل فریب عنوانات، قومی عصبیت اور انسانی نفسیات کے ساتھ ساتھ مظلومیت، لاچارگی، غریب پروری اور خدمت کے نعروں کا سہارا لے رہی ہے۔اپنی کرپشن اور نااہلی کی خفت کو مٹانے کے لئے اس حد تک آ گئے ہیں کہ ملکی سلامتی کو داؤ پر لگا رہے ہیں۔