Yahya Mujahid

سعودی عرب کا قومی دن اوراسلامی نوادرات کی نمائش

سعودی عرب کے قومی دن کی تقریبات کا سلسلہ دنیا بھر میں جاری ہے۔سعودی یوم الوطنی کے حوالہ سے اسلام آباد میں بین الاقوامی تجارتی مرکزسینٹورس میں بھی پروقار تقریب ہوئی جس میں سیاسی و مذہبی رہنماؤں سمیت دیگر شعبہ جات سے تعلق رکھنے والی اہم شخصیات نے شرکت کی۔ اسی تناظر میں خادم الحرمین شریفین شاہ سلمان بن عبدالعزیز کے حکم پر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں غلاف کعبہ، باب الکعبہ کے پردہ مبارک اور دیگر اسلامی نوادرات کی نمائش کا بھی انعقاد کیا گیا ہے جس میں کراچی سے پشاور اور کوئٹہ سے گلگت بلتستان تک پاکستانی شہریوں کی بہت بڑی تعداد شریک ہو رہی ہے۔ خاص طور پر اسلام آباد، راولپنڈی اور قرب و جوار کے شہریوں کا ذوق، شوق اور دینی جذبہ دیدنی ہے۔ اسلامی نوادرات میں خانہ کعبہ کے دروازے کی نئی و پرانی کنجیاں اور روضہ رسولؐ کے غلاف سمیت ڈیڑھ سو سے زائد مقدس اشیاء شامل ہیں۔ اسلام آباد کے سب سے بڑے تجارتی مرکز میں ہونے والی اس تقریب کا افتتاح رابطہ عالم اسلامی کے سیکرٹری جنرل راجہ ظفر الحق، سعودی عرب کے قائم مقام سفیر حبیب اللہ البخاری و دیگر رہنماؤں نے کیا۔اس دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اسلامی نوادرات سے متعلق خصوصی بریفنگ دی گئی۔ یہ نمائش چودہ اکتوبر تک جاری رہے گی۔مذکورہ تقریب میں مختلف سفراء ، میڈیا کی نمایاں شخصیات ،اسلام آباد انتظامیہ کے عہدیداران اور دیگر اہم شخصیات نے شرکت کی۔ زندگی کے تمام شعبہ جات سے تعلق رکھنے والے افراد کی جانب سے اس نمائش میں گہری دلچسپی دیکھنے میں آرہی ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ حج بیت اللہ کیلئے جانے والوں کو بھی شاید اتنے قریب سے غلاف کعبہ اور دیگر اسلامی نوادرات کو دیکھنے کا موقع نہ ملتا ہوجتنایہاں دیکھنے کیلئے مل رہا ہے۔یہ پاکستانی قوم کی خوش قسمتی ہے کہ خادم الحرمین شریفین نے ملک سے باہر پہلی مرتبہ غلاف کعبہ، پردہ باب الکعبہ، خانہ کعبہ کے دروازے کی کنجیاں، غلاف کعبہ کے وسیع و عریض حصہ کعبہ کے چاروں طرف سونے کی تاروں سے کندہ کی ہوئی قرانی آیات، سونے کے پانی کے حاشیہ والے قرآن پاک کے نادر نسخہ جات اور خانہ کعبہ کے اندر 9 سال بعد تبدیل ہونے والے سبز رنگ کے قرآنی آیات والے پردے برادر اسلامی ملک پاکستان میں نمائش کے لئے بھجوائے ہیں۔
پاکستان میں بسنے والے وہ شہری جو استطاعت نہ ہونے کی وجہ سے حج و عمرہ کیلئے نہیں جاسکتے وہ اس نمائش میں شریک ہو کر غلاف کعبہ ، غلاف روضۃ رسولؐ اور باب الکعبہ کے اوپر موجود سونے کی تاروں سے لکھی ہوئی قرآنی آیات کو بالکل قریب سے دیکھتے رہے۔پاکستانی شہریوں کی بڑی تعداد ہر سال حج و عمرہ کیلئے جاتی ہے لیکن وہاں پہنچ کر بھی عازمین کو باب الکعبہ کو ہاتھ لگانا ممکن نہیں ہوتا تاہم وفاقی دارالحکومت اسلام آبادکے تجارتی مرکز میں لگائی گئی اس نمائش میں غلاف کعبہ اور اس پر فریم شدہ سونے کی تاروں والی آیات اور دیگر مختلف تبرکات کو صرف چند دن میں ڈیڑھ لاکھ سے زائد مردوخواتین نے دیکھا اور اس نمائش کا اہتمام کرنے پر سفارہ خادم الحرمین شریفین کا شکریہ ادا کیا۔ سلامی نوادرات کی نمائش کے دوران لوگوں کی سب سے زیادہ دلچسپی غلاف کعبہ کو دیکھنے میں آئی۔ اسلامی تاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو حقیقت یہ ہے کہ بیت اللہ کے تقدس کی طرح اس کے غلاف کی تاریخی حیثیت بھی مسلمہ ہے اور ظہور اسلام سے قبل دور جاہلیت میں بھی غلاف کعبہ ’’کسوہ‘‘ نہایت توجہ اور انہماک سے تیار کیا جاتا تھا۔ غلاف کعبہ کی تیاری کا آغاز کب ہوا اس کی درست تاریخ کا تو شاید معلوم نہ ہو سکے تاہم معلوم تاریخ اور مصادر سے پتہ چلتا ہے کہ پہلا غلاف یمن کے”تبع الحمیری” نامی ایک بادشاہ نے تیار کیا تھا۔ بعد ازاں اسی بادشاہ نے “المعافیریہ” کپڑے سے غلاف تیار کیا۔ تبع بادشاہوں کے بعد دور جاہلیت کے دوسرے فرمانرواؤں نے بھی غلاف کعبہ میں دلچسپی کا مظاہرہ کیا۔ بعد میں آنے والوں نے چمڑے کا غلاف بھی تیار کیا۔ تاریخی مصادر سے معلوم ہوتا ہے کہ غلاف کعبہ کی تیاری میں ہر آنے والا حکمران پہلے سے بڑھ کر اس پر محنت کرواتا۔ یوں اللہ کے گھر کے غلاف کے معاملے میں بادشاہوں میں بھی ایک مقابلے کی کیفیت تھی۔ آل سعودکی جانب سے بھی غلاف کعبہ کی تیاری کا بہت زیادہ اہتمام کیا جاتا رہاہے اور آج تک کیا جارہا ہے۔ عرب ذرائع ابلاغ میں شائع ہونے والی مختلف رپورٹوں کے مطابق عصر حاضر میں جس حکمران خاندان نے غلاف کعبہ کی تیاری اور جدت میں زیادہ توجہ سے کام کیا وہ عبدالعزیز آل سعود ہیں جنہوں نے حقیقی معنوں میں حرمین الشریفین اور ضیوف الرحمن کی خدمت کا حق ادا کیا ہے۔ آل سعود سے قبل کئی صدیوں تک غٍلاف کعبہ کی تیاری یا تبدیلی کی تصدیق نہیں ہوتی۔ شاید اس کی بنیادی وجہ عالم اسلام میں جاری سیاسی تنازعات تھے جن کی وجہ سے کسی مسلمان حکمران کو اس طرف توجہ دینے کا موقع نہیں مل سکا، تا آنکہ 1344 ھجری میں غلاف کعبہ کو تبدیل کیا گیا۔ سعودی حکمران خاندان نے نہ صرف غلاف کعبہ کی منفرد انداز میں تیاری کا بیڑا اٹھایا بلکہ اس مقصد کے لیے خصوصی بجٹ مقرر کرنے کے ساتھ 1346ھ میں ایک محکمہ بھی قائم کیا گیا جو غلاف کعبہ کے لیے نہایت عمدہ کپڑے کے دھاگے سے غلاف کی تیاری تک تمام مراحل کی بذات خود نگرانی کرتا ہے۔ اب ہر سال خانہ کعبہ کے غلاف کو نئے انداز اور ایک منفرد جدت کے ساتھ تیا کیا جاتا اور خانہ خدا کی زینت بنایا جاتا ہے۔ خادم الحرمین شریفین کے حکم پرغلاف کعبہ کی تیاری کے لیے الگ سے محکمہ قائم کرنے کے بعد 1397 ھجری میں ام الجود بندرگاہ پر اس مقصد کے لیے ایک خصوصی کارخانہ قائم کیا۔ اس کارخانے میں غلاف کعبہ کی جدید ترین تکنیک کے مطابق تیاری کے لیے تمام ضروری انتظامات کئے گئے۔ یوں ہر سال یہاں بیت اللہ شریف کا ایک نیا غلاف تیار ہوتا ہے جسے پورے تزک واحتشام کے ساتھ خانہ کعبہ کی زینت بنایا جاتا ہے۔غلاف کعبہ کی تیاری کے مختلف مراحل ہیں۔ ام الجود میں قائم کارخانے میں غلاف کعبہ کی تیاری کا کام سال بھر جاری رہتا ہے۔ غلاف کعبہ کی یہ وہ تاریخی اہمیت ہے کہ اسے دیکھنے کیلئے ہر شخص بے چین نظر آتا ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں اس نمائش کے دوران لوگوں کا شدید رش دیکھنے میں آرہا ہے۔سعودی سفارت خانہ کی طرف سے منعقدہ تقریب کے دوران سعودی عرب کے قائمقام سفیر حبیب اللہ البخاری نے راجہ ظفر الحق کو خانہ کعبہ کے اندر رکھے گئے نادر اسلامی نوادرات اور خانہ کعبہ کے دروازے کے غلاف و دیگر تبرکات کے بارے میں تفصیل سے بریفنگ دی ۔اسلامی نوادرات دیکھنے کے بعد راجہ ظفر الحق نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح مضبوط تعلقات پاکستان کے سعودی عرب کے ساتھ ہیں کسی دوسرے ملک کے ساتھ نہیں ہیں اور ان اسلامی نوادرات کی پاکستان میں نمائش اس کی واضح مثال ہے۔پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار اس طرح کی نمائش کا انعقاد کیا گیا ہے جس پر ہم سعودی حکمرانوں کا جتنا شکریہ ادا کریں کم ہے۔ جو نوادرات نمائش میں رکھی گئی ہیں ان کی زیارت حجاج کرام کو حج میں بھی نصیب نہیں ہوتی۔ سعودی عرب سے ہمارا ایمانی تعلق ہے کیونکہ وہاں پر خانہ کعبہ اور روضہ رسولؐ ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پاکستان کے لیے یہ شرف کی بات ہے کہ سعودی بادشاہ کی منظوری سے سعودی عرب کی حکومت کی جانب سے غلاف کعبہ ، بیت اللہ شریف ، روزہ رسولؐ کے مبارکات کی زیارات پاکستانی عوام کو کروائی جارہی ہے۔ ان مبارکات کی نمائش سے
ہماراسعودی عرب سے دینی رشتہ مزید مستحکم ہوگا۔راجہ ظفر الحق نے کہا کہ بلا شبہ مقامات مقدسہ بیت اللہ اور روزہ رسولؐ سے منسلک مقدس مبارکات کی قریب سے زیارت کا موقع ملنا بہت بڑی سعادت ہے جس سے دنیا بھر کے اوربالخصوص پاکستانی مسلمانوں کا قلبی اور ایمانی تعلق اور زیادہ مضبوط ہوگا۔ انہوں نے کہاکہ پاکستان اور مملکت سعودی عرب کے درمیان غیر معمولی تعلقات میں استحکام کا نتیجہ ہے کہ مبارکات کی زیارت مجھے اور میرے ملک پاکستان کے شہریوں کو نصیب ہورہی ہے۔قائمقام سعودی سفیر حبیب اللہ البخاری نے کہا کہ اسلامی نوادرات کی پاکستان میں نمائش سے پاک سعودی تعلقات مزید مضبوط ہوں گے۔پاکستان اور سعودی عرب یک جان دو قالب ہیں۔ پاکستان کا استحکام ترقی و خوشحالی سعودی عرب کا استحکام ترقی و خوشحالی ہے۔ قائمقام سعودی سفیر کی جانب سے کی گئی باتیں درست ہیں۔ سعودی یوم الوطنی کے سلسلہ میں اسلام آباد میں اسلامی نوادرات کی نمائش سے پاکستانی شہریوں کے دلوں میں برادر اسلامی ملک سعودی عرب کیلئے اور زیادہ محبت و مودت کے جذبات پیدا ہوئے ہیں۔میری رائے ہے کہ اسلام آباد کی طرح اس نمائش کا اہتمام لاہور، کراچی اور پشاور سمیت دیگر بڑے شہروں میں بھی کرنا چاہیے۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ دونوں ملکوں کے عوام اور حکومتی سطح پر تعلقات میں مزید مضبوطی و استحکام پیدا ہو اور اللہ تعالیٰ اسلامی بنیادوں پر قائم ان رشتوں کو دشمنان اسلام کی سازشوں اور نظربد سے محفوظ رکھے۔ آمین۔