Aaghar-Nadeem-Sahar

سرسید احمد خان بین الاقوامی کانفرنس کراچی

جب بھی کراچی گیا بہت ساری یادیں اور محبتیں سمیٹ کر واپس آیا۔مجھے خوب یاد ہے جب گزشتہ برس انہی دنوں میں کراچی کا سفر کیا تھا ،تب بھی ایک سینئر دوست کے ساتھ آرٹس کونسل میں ادبی جشن کا اہتمام تھا اور ساتھ ہی ایک عالمی مشاعرہ بھی۔گزشتہ سفر یوں تو کئی حوالوں سے یادگار رہا مگر ضیا شاہد کی میزبانی نے بہت لطف دیا۔ایک ہفتے کے اس قیام میں جہاں کئی مشاعروں اور ادبی نشستوں میں شرکت کی وہاں بہت سے صحافی دوستوں سے بھی ملاقاتیں ہوئی تھیں۔آخری روز باکمال شاعر اجمل سراج نے ’’جسارت‘‘ کے یومِ تاسیس کے موقع پر کراچی پریس کلب میں ایک بہت خوبصورت مشاعرے کا اہتمام کیا تھا جس میں انورشعور‘رسا چغتائی‘تنظیم الفردوس‘حجاب عباسی‘وسعت اللہ خان اور کئی دیگر دوست شریک تھے۔ایک سال بیت گیا مگر اس سفر کی یادیں ابھی تک تازہ تھیں کہ کراچی سے دوبارہ بلا وا آگیا۔اب کی بار دعوت نامہ جامعہ کراچی کی طرف سے آیا ہے جہاں سرسید احمد خان کے حوالے سے بین الاقوامی سطح پر دوسوسالہ جشن کا اہتمام کیا جا رہا ہے جس میں پاکستان سمیت کئی ممالک سے مندوبین شریک ہو رہے ہیں۔
سرسید احمد خان کی اس سال خوب پذیرائی ہو رہی ہے۔کراچی اور اسلام آباد کی کئی یونی ورسٹیز سرسید احمد خان کے حوالے سے ادبی سیمینارز‘کانفرنسیں اور لیکچرز منعقد کروا رہی ہیں اور یہ یقیناًایک اہم کام ہے ۔ورنہ تو سرسید احمد خان کو ہمیشہ تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔میں اگر یہ کہوں تو بے جا نہ ہوگا کہ برصغیر میں غدر کے بعد تعلیمی اور سیاسی سطح پر جس شخص نے اس قوم کو سنبھالا دیا اور انقلا ب کی راہ ہموار کی وہ سرسید احمد خان ہی تھے۔پھر بھی سر سید احمد خان کے مذہبی نظریات کو سامنے رکھتے ہوئے ان پر تنقید کی گئی اور یہ کام ابھی تک جاری ہے۔گزشتہ کالم’’سر سید شناسی کی روایت‘‘میں راقم نے اس بات کا تفصیلی ذکر کیا تھا کہ سرسید احمد خان نے بہت سے نئے موضوعات اور نئی بحثو ں کو اٹھایا جس میں ہو سکتا ہے ان سے غلطیاں ہوئی ہوں مگر سرسید کبھی بھی برصغیر کے عوام کے خلاف نہیں رہے۔انہیں ہمیشہ یہ بات ستاتی رہی کہ کیسے اس یاسیت کی ماری ہوئی قوم کو دوبارہ سویلائزڈ معاشرے میں تبدیل کیا جائے۔یہی وجہ ہے کہ تعلیمی سطح پر ان کے نظریات میں دورہ انگلستان کے بعد حیرت ناک تبدیلی آئی اور یہ تبدیلی بھی اسی نوعیت کی تھی۔ہمارے ہاں نقادوں نے سرسید احمد خان کے تعلیمی نظریات پر تو قلم اٹھایا اور اس موضوع پربے تحاشا مضامین بھی پر لکھے مگر سرسید احمد خان کے مشرقی علوم و فنون اور مغربی علوم و فنون کے بارے نظریات بہت کم زیرِ بحث آئے۔ادب کے سنجیدہ قاری کی طرف سے آج تک یہ سوال اٹھایا جاتا رہا ہے کہ سرسید ایک زمانے تک بڑی شدومد سے اس بات کے قائل رہے کہ مشرقی باشندوں کو تعلیم ان کی دیسی(اردو)زبان میں ہی دی جانی چاہیے کیوں کہ قوموں کا عروج اسی میں ہے کہ ان کی مادری زبان ان سے نہ چھینی جائے۔مگر دورۂ انگلستان کے بعد سر سید احمد خان کے نظریات تبدیل کیوں ہوئے؟۔ کیمبرج اور آکسفورڈ کی تعلیمی پالیسیوں میں آخر ایسی کون سی بات چھپی تھی جس سے سرسید کو یہ لگا کہ مشرقی زبان تو مردہ زبان ہے اور اس زبان میں دی جانے والی تعلیم مردہ تعلیم ہے جس سے اس قوم کو کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا اور اس پر پھر وہ ڈٹ گئے۔حالاں کہ’’ ا نڈین ایسوسی ایشن ‘‘کے پلیٹ فارم سے سرسید احمد خان نے جو عرضی حکومتِ ہند کو بھیجی تھی اس میں وہ خود بھی کہہ چکے تھے کہ مشرقی زبان کے علاوہ ترقی مشکل ہی نہیں نا ممکن ہے۔ سرسید احمد خان دورۂ انگلستان سے قبل اس بات کے بھی خواہش مند تھے کہ یہاں کے عوام کے لیے ایک یونی ورسٹی قائم کی جانی چاہیے تاکہ جو طلبا کلکتہ یونی ورسٹی پر انحصار کرنے پر مجبور ہیں انہیں یہاں ایک یونی ورسٹی میسر آ سکے مگر جب اوری اینٹل کالج کو پنجاب یونیورسٹی کا درجہ دیا جانے لگا تو جس شخص نے اس بات کی شدید مخالفت کی وہ بھی سرسید احمد خان تھے ۔یہی وجہ ہے کہ سرسید نے یکے بعد دیگرے تین آرٹیکل پنجاب یونی ورسٹی کی مخالفت میں لکھے اور اس نقطہ نظر کا واضح اظہار کیا کہ پنجاب یونی ورسٹی’’مردہ علوم و فنون‘‘پرھا کر اس ملک کے باشندے کو کون سا ترقی کی راہ دکھائے گی؟۔اور اس(یونی ورسٹی)کو ’’آفت عظیم‘‘کہا اور بند کرنے کا مطالبہ کیا۔حالاں کہ پنجاب یونی ورسٹی کے قیام کے دوران جو مقاصد سامنے رکھے گئے تھے ان میں واضح لکھا تھا کہ اس دانش گاہ میں مشرقی علوم و فنون کے ساتھ انگریزی علوم و فنون بھی پڑھائے جائیں گے مگر نہ جانے کیوں سرسید کو ایسا لگا کہ جیسے مغربی علوم و فنون کا قلع قمع کیا جا رہا ہے اور مشرقی علوم و فنون کو ہی بنیادی اہمیت دی جا رہی ہے۔
راقم جامعہ کراچی میں ہونے والی اس کانفرنس میں اسی موضوع پر اپنا تحقیقی مقالہ پیش کرے گا جس کا عنوان’’جنوبی ایشیا میں مشرقی علوم‘سر سید احمد خان اور پنجاب یونی ورسٹی‘‘ہے۔ میری پوری کوشش رہی کہ سرسید احمد خان کے تعلیمی موضوعات پر لکھے جانے والے تما م مضامین جائزہ لیا جائے اور مجموعی طور پر سرسید احمد خان کی پنجاب یونی ورسٹی اور مشرقی علوم کے بارے نظریات کی وضات کی جائے۔یوں تو سرسید احمد خان نے پچیس کے قریب مضامین خاص اسی موضوع پر تحریر کیے مگر کچھ مضامین میں بہت شدت کے ساتھ ان موضوعات کو قلم بند کیا۔اس کانفرنس کا روحِ رواں جامعہ کراچی کا شعبہ اردو ہے جبکہ ہائر ایجوکیشن کمیشن اسلام آباد اور انجمن ترقی اردو کراچی نے اس عظیم کام میں جامعہ کراچی کا بھرپور ساتھ دیا۔میں سمجھتاہوں کہ سرسید احمد خان کے حوالے سے اسی طرح کام کرے کی بہت ضرورت ہے تاکہ ان کے حوالے سے پھیلی ہوئی غلط فہمیوں کا ازالہ ہو سکے۔