wakeel-anjum

سرد موسم۔۔۔ اور گرم سیاست

جو لوگ کہہ رہے تھے کہ ستر جا رہے ہیں مگر آج کی تاریخ تک کوئی نہیں گیا۔ 2018ء کے انتخاب سے پہلے جو جانے کا ارادہ رکھتے ہیں وہ بے وفا کہلائیں گے۔ ایک سیاست دان نے تو دھرنے میں کہا تھا کہ اگر اگست 2014ء کے دھرنے میں ناکام ہو گئے تو ان کی سیاست ختم ہو جائے گی۔ نوازشریف نے نہ تو استعفیٰ دیا اور نہ جمہوریت ڈی ریل ہوئی۔ شکست کھانے کے باوجود عمران خان، ڈاکٹر طاہرالقادری اور شیخ رشید آج تک اپنی ڈیوٹی پر کھڑے ہیں۔ جب سے نوازشریف کا کیس شروع ہوا ہے۔ ہلچل سی مچ گئی ہے۔ خواجہ سعد رفیق نے انکشاف کیا ہے کہ لوگوں کو فون کئے جا رہے ہیں پارٹی چھوڑنے کے لئے۔ جن دنوں ’’پانامہ مقدمہ‘‘ چل رہا تھا خواجہ سعد رفیق نے کپتان سے کہا تھا یاد رکھئے تمہارے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔ اب کپتان نوازشریف کو نکالتے نکالتے بند گلی میں داخل تو ہو چکے ہیں اُن کا مقدمہ تقریباً مماثلت رکھتا ہے۔ اگر اس کے باوجود کچھ لوگوں کی دعاؤں اور مہربانیوں سے نکل بھی جاتے ہیں تو سپریم کورٹ پر سوالیہ نشان ضرور لگے گا اور انگلیاں بھی ضرور اٹھیں گی۔ سرد ہوتا ہوا سیاسی منظرنامہ اچانک یوٹرن لے چکا ہے۔ ایبٹ آباد میں نوازشریف کا جلسہ تھا، انہوں نے باؤنڈری لائن کے چاروں طرف جارحانہ بیٹنگ کرتے ہوئے چوکے چھکے لگائے اور کسی فیلڈر کو نہ چھوڑا۔ اندازہ لگانا مشکل نہیں سیاست ایک اور رخ لینے لگی ہے۔ ایبٹ آباد میں نوازشریف نے پوچھ ہی لیا ہے رہزنوں کو۔ پوچھا مشرف کو کٹہرے میں کیوں نہیں لایا جاتا۔ مشرف نے دو مرتبہ آئین توڑا اور ججوں نے بڑی تعداد میں دونوں مرتبہ حلف لیا۔
رہزن تو اس وقت پرویز مشرف تھا اگر یقین نہیں آتا تو ایک جرنیل جو نوازشریف کو ہٹانے کا اہم کردار تھا جنرل شاہد عزیز اس کی کتاب میں یہ ساری کہانی لکھی ہے۔ جب جاتی امراء کے محل میں جہاں کلثوم نواز اور دیگر خواتین نظربند تھیں۔ چادر اور چار دیواری کے تقدس کا یہ عالم تھا پہرے دار کچن سے کھانے پینے کی چیزیں تک اٹھا کر لے جاتے تھے۔ پھر مشرف کے پی سی او ججوں نے مشرف کے ریفرنڈم کو (یہ کامیابی کیسے مکمل ہوئی۔ یہ الگ کہانی ہے) درست اور جائز قرار دیا۔ نوازشریف کا یہ گلہ کافی حد تک درست ہے۔ اب نوازشریف عدالتوں سے مایوس ہو گئے ہیں۔ مقدمہ کا فیصلہ اور بہتر ہو سکتا تھا مگر نہیں ہوا۔ نوازشریف تفصیلی فیصلے پر ججوں کے بارے میں کافی کچھ کہہ چکے ہیں۔ عوامی رابطہ مہم جو انہوں نے جی ٹی روڈ سے ختم کی تھی اب اس سلسلہ میں انہوں نے 2 دسمبر کو محمود اچکزئی کی دعوت پر کوئٹہ میں خطاب کرنا ہے۔ ایبٹ آباد جلسے میں مخاطب عوام ہی تھے ان سے اپنی محبت کا تذکرہ کھل کر کیا ہے۔ کرتے بھی کیوں نہ۔ یہاں سے نوازشریف 1993ء اور 1997ء میں کامیاب ہوتے رہے اور بڑی اکثریت سے کامیاب ہوئے۔ یہ اچھا اور کامیاب شو رہا۔ خطاب کرتے ہوئے خوشگوار موڈ میں تھے۔ نوازشریف اپنے جملوں کی عوام سے تائید لیتے رہے۔ زرداری صدر کی حیثیت کا اپنے رواں عہد سے موازنہ کیا۔ پھر مائنس نوازشریف کا تذکرہ ہوا۔ انہوں نے عوام کو بتایا نوازشریف نظریہ ہے، پانامہ مقدمے کی کارروائی عوام کو یادددلائی۔ جے آئی ٹی اور خاص طور پر ’’وٹس ایپ‘‘ کا ذکر کیا۔ ٹی آئی ٹی کے ہیروں اور اقامہ کا ذکر چھڑا۔ یہ ساری کہانی ایک ترتیب سے آگے بڑھائی۔ عوام کو اپنے ساتھ رکھا اور بتایا 4 یا 5 افراد 20 کروڑ عوام کی قسمت کا فیصلہ نہیں کر سکتے۔ انہوں نے پھر بتایا قافلے اس لئے لٹتے رہے کہ آئین کو بے توقیر کیا گیا۔ اور تان یہاں پر ٹوٹی ۔ موت یا جیل سے نہیں ڈرتا ۔ جن لوگوں کے ذہنوں میں ابہام تھا پارٹی تقسیم ہو رہی ہے۔ ایبٹ آباد کی تقریر کے بعد تو تقسیم ہو چکی ہے۔ اینکرز کو دیکھ لینا چاہئے جو 70 ارکان کا روزانہ تماشا لگاتے ہیں۔ نوازشریف مائنس نہیں ہوا پوری قوت سے للکار رہا ہے۔ اپنے آئندہ پروگرام کا اعلان کر رہا ہے۔ انصاف کے لئے اپنی اپیل عوام کے پاس لے جا رہا ہے۔ ایک اور مسئلہ کچھ لوگ مذہب کے نام پر اسلام آباد کو گھیرے ہوئے ہیں۔ احسن اقبال نے آزمائش کی اور بحران کی گھڑی میں ایسے آپشن تلاش کرنے میں مصروف رہے جس سے معاملہ اور نہ بگڑے کیونکہ ایک ایسی فرقہ پرست جماعت جو حقیقت میں سیاسی جماعت بن گئی ہے ان کے مطالبات اور سوشل میڈیا پر گالی گلوچ سے بھرے خطاب سن کر کلیجہ منہ کو آتا ہے۔ الٰہی قائداعظمؒ کے پاکستان میں ہو کیا رہا ہے۔ عوام کی زندگیوں کو عذاب بنانے والا دھرنا تو 126 دن تک جاری رہا تھا جس میں بڑے بڑے تماشے ہوئے۔ یہی وہ دھرنا تھا جس کی وجہ سے چین کے صدر پاکستان کے لئے اربوں ڈالر سی پیک کی صورت میں پاکستان لا رہے تھے۔ کرین کے ذریعے پارلیمنٹ اور وزیراعظم ہاؤس کو گرانے والا تماشا ہوا۔ وہاں سول نافرمانی یعنی ریاست سے بغاوت کا اعلان ہوا، کفن منگوا لئے گئے اور قبریں کھودی جا چکی تھیں۔ کیا عجب تماشا تھا پہلے کینیڈا والا مایوس ہوا۔ کچھ نہیں ملے گا نہ نوازشریف کا استعفیٰ آئے گا اور نہ ان کی تحریک کی کامیابی کے امکان ہیں۔ دوسرا بھی 126 دن کے بعد نامراد ہوا بلکہ جوڈیشل کمیشن کے سامنے الیکشن کمیشن سے سپریم کورٹ کے چیف جسٹس تک یہاں تک نجم سیٹھی جو 2013ء میں پنجاب کے وزیراعلیٰ تھے ان پر 35 پنکچر کا الزام ، اس وقت بھی کوئی ثبوت نہیں تھا۔ ممتاز قانون دان اور عمران خان کے وکیل مرحوم عبدالحفیظ پیرزادہ نے کپتان کو کہہ دیا تھا کہ وہ کوئی ایسا معاملہ نہیں اٹھائیں گے جس کا ثبوت نہ ہو، پورا مقدمہ زمین بوس ہو گیا۔ خود کو ناقابل شکست سمجھنے والا کپتان ابھی زندگی کا سب سے بڑا مقدمہ ہار گیا، جھوٹ مل جائے تو شکست نہیں ہوتی اشاروں اور مہرے کی حیثیت سے کام کرنے والے کبھی کامیاب و کامران نہیں ہوتے۔ اور ہونا بھی نہیں چاہئے۔ البتہ کپتان نے سیاست میں دھرنا سیاست کو مثال بنا دیا۔ جس کی سزا آج اسلام آباد والے بھگت رہے ہیں۔ کپتان کو اشارے کرنے والوں کو خود بھی بھگتنا پڑے گا۔ اچھی خاصی معیشت کو ترقی کے پر لگ رہے تھے سماجی اور اقتصادی زندگی کے اشاریے بلند ہو رہے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ خان عبدالولی خان کے جانشین اسفند یار ولی نے کہا ہے کہ روایتی سیاست کا اسلوب کپتان نے تباہ کر دیا ہے۔ درست ہے ان کو دیکھ کر اینکر بھی گالی گلوچ کرنے لگے ہیں۔ ایسے ایجنڈے پر بات کر رہے ہیں جو ان کو نہیں کرنی چاہئے۔ کھیل کا دوسرا ایکٹ دونوں طرف سے شروع ہو چکا ہے۔ بندے توڑے اور اسلام آباد کو بند کرنے۔۔۔ اب پردے کی بات تو رہی نہیں۔