Dr Fareed Ahmad copy

سرخیاں ان کی۔۔۔؟

*۔۔۔ سپہ سالار کا ایک تاریخی خطاب۔۔۔؟
*۔۔۔ ہر دم چوکس اور امڈتے مسائل کو پرکھنے والے پاک فوج کے سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ نے اسلام آباد میں یوم دفاع کی ایک جذبہ ایمانی سے سرشمار روح پرور تقریب سے خطاب کرتے ہوئے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا کے حال اور مستقبل پر اثر انداز ہونے والے چند بنیادی نکات اٹھائے ہیں۔ ان کی تاریخی تقریر میں اپنے کرب کے ساتھ ساتھ بلاکی قوت ارادی بھی جھلک رہی تھی۔ یوں محسوس ہو رہا تھا کہ جیسے وہ بہت کچھ کہنا چاہتے ہیں مگر قومی سالمیت ، ملکی معیشت ، عالمی امن کی خاطر درگزر کر رہے ہیں۔ یوں بھی کوئی مانے نہ مانے ، یہ حقیقت ہے کہ دنیا وہ نہیں رہی جو نائن الیون سے پہلے تھی۔ گزشتہ شب ایک امریکی فلم ’’فاربڈن پلینٹ‘‘ دیکھنے کا اتفاق ہوا۔ پوری فلم ’’روبوٹس‘‘ پر مشتمل تھی جس میں ایک روبی ’’Robbie‘‘ نامی روبوٹ انسانوں کے مختلف کرداروں میں مختلف کام کاج کرتا ہے۔ 1954ء کی اس فلم میں یقیناًیہ ایک حیران کن تصور تھا مگر آج نہیں کیونکہ آج ماضی کے انوکھے تصور نے حقیقت کا روپ دھار لیا ہے۔ جدید روبوٹ ایسے ایسے کام کر رہے ہیں کہ عشروں پہلے بننے والی امریکی فلم Forbiden Planet کے روبوٹ مات کھا گئے ہیں۔ اب صاحب بصیرت سوچ رہے ہیں دنیا سے دہشت گردی کا خاتمہ ممکن ہے؟ جبکہ ان ’’روبوٹس‘‘ کے مالک و خالق بھی وہ خود ہیں جو دوسروں کو ’’Do More ‘‘ کا درس دے رہے ہیں۔ اس لئے بدلتے حالات کا تقاضا ہے کہ ’’United States Think More Carefully‘‘ یہ اس لئے بھی ضروری ہے کہ پاکستان اب وہ پاکستان نہیں رہا جسے ’’Simply Punish‘‘ کیا جا سکے۔ ویسے بھی دونوں ممالک کے مفادات ایک دوسرے سے جڑے ہیں۔ پھر گرمی سردی کیسی؟۔ ہٹلر نے کہا تھا کہ ہر شخص سچا دوست ڈھونڈتا ہے لیکن خود دوست بننے کی زحمت گوارا نہیں کرتا۔ اس نے یہ بھی کہا تھا کہ ناقابل اعتبار دوست سے تنہائی بہتر ہے۔
*۔۔۔ روہنگیا مسلمانوں پر مظالم
*۔۔۔ آج برما کے مسلم اکثریتی صوبہ راکھائن میں خونِ مسلم کی ارزانی اور بے توقیری تاحال رکنے، تھمنے میں نہیں آ رہی۔ ایک ایک دھاوے اور گھات میں کئی کئی مسلمان لقمہ اجل بنائے جا رہے ہیں۔ ظلم کی انمٹ اور ناقابل فراموش اور ناقابل برداشت کہانیاں اور ڈرامے برما کی سرزمین پر سٹیج کئے جا رہے ہیں جیسے یہ واقعی فرضی و قیاسی ، من گھڑت اور مافوق الفطرت و مصنوعی ہیں۔ لیکن ایسا ہرگز نہیں ہے۔ انگریزی سسپنس ، ماردھاڑ ، غارت گری اور تباہی و ہلاکت پر مبنی و منحصر فلمیں جو سینماؤں میں دکھائی جاتی ہیں تو پبلسٹی اور تشہیر میں کہا جاتا ہے کہ فلم دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔ ایسا ہی بلکہ اس سے کہیں ہولناک اور کرب ناک مناظر و واقعات برما کے جغرافیائی حدود اربعہ و سرزمین میں فلمائے جا رہے ہیں جیسے یہ تباہی فرضی ہے۔ مرنے والے سین کے بعد ازسرنو حیات پذیر ہو جائیں گے لیکن ایسا قطعی نہیں ہے۔ ظالم درندے برمی مسلمانوں کے جسموں کو جب مختلف جگہوں سے کاٹتے ہیں تو ان سے بہنے والا خون مصنوعی نہیں ہے بلکہ گوشت پوست کے مسلمانوں کو ذبح کرنے سے بہنے اور رسنے والا لہو ہے جو گرتا ہے تو جم جاتا ہے۔ انسانیت سوز واقعات اور ایذا رسانی کے لرزہ خیز حقائق کی طویل فہرست افسانوی معلوم ہوتی ہے۔ لیکن برمی افواج کی درندگی و بہیمیت ، پتھر ضمیری اور چنگیزیت و نازیت اور ہٹلرریت و فسطائیت کا جیتا جاگتا اور حائق و صدائق کا مظہر و نمونہ بن چکا ہے جس پر نہ شمعیں روشن کرنے والے نہ جانوروں کے مرنے پر احتجاج کرنے والے نہ انسانیت کا دن رات درس دینے والے اور نہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل شرمساری و خجالت محسوس کرتی ہے۔ اور نہ یورپی ملکوں کے انسانیت نواز جذبات میں ارتعاش و ہلچل پیدا ہو رہی ہے۔ حالانکہ لندن مونسٹ منسٹر میں ایک دہشت گرد کی فائرنگ سے پانچ افراد ہلاک اور پچاس زخمی ہو گئے تھے مگر اس افسوسناک سانحے کے ردعمل کے نتیجے میں پوری دنیا بشمول مسلم دنیا ماتم کدہ بن گئی تھی۔ ایفل ٹاور بجھا دیا گیا تھا۔ بہرحال عالمی طاقتوں کا فرض ہے کہ وہ اس انسانی مسئلے پر مجرمانہ خاموشی اختیار نہ کریں اور جلد سے جلد ظلم کی اس بدترین داستان کے خاتمے میں اپنا کردار ادا کریں۔ اسلامی دنیا کا بھی فرض ہے کہ وہ خواب خرگوش سے بیدار ہو کیونکہ رسولؐ اللہ کے مطابق مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں۔ جبکہ دنیا میں ’’مسلم مکاؤ‘‘ مہمات میں تیزی لائی جا رہی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ مسلمان جاگتے میں سو رہے ہیں جبکہ اللہ کا فرمان ہے ۔
’’دل شکستہ نہ ہو ، غم نہ کرو، تم ہی غالب رہو گے۔ اگر تم مومن ہو‘‘۔
*۔۔۔ زرداری کی بریت چیلنج
*۔۔۔ نیب نے پیپلز پارٹی کے شریک چیئرمین جناب آصف زرداری کو اثاثہ جات کیس میں بری کرنے کا فیصلہ لاہور ہائیکورٹ میں چیلنج کر دیا ہے کیونکہ نیب کا دعویٰ ہے کہ اس کے پاس آصف زرداری کے خلاف 22 ہزار تصدیق شدہ دستاویزات ہیں جو ان کی آف شور کمپنیوں ، سرے محل اور بینک اکاؤنٹس کے متعلق ہیں۔ اس کا مطلب ہے وہ جو کہتے تھے کہ اگلی باری ، آصف زرداری ؟ صحیح کہتے تھے سچ کہتے تھے۔ مقام افسوس کہ آج مسلمان حکمران شاہ خرچیوں اور عیاشیوں میں گھرے ہوئے ہیں اور اپنی اپنی لوٹی ہوئی دولت دیار غیر میں چھپانے میں لگے ہوئے ہیں اگرچہ ان کی پکڑ دھکڑ بھی ہو رہی ہے۔ کچھ ہلاک کر دیئے گئے کچھ نشان عبرت بنا دیئے گئے پھر بھی وہ سبق سیکھنے کی بجائے مزید دولت لوٹنے کے نئے نئے فارمولے تلاش کر رہے ہیں۔ حالانکہ بعض لٹیرے حکمران ملک سے لوٹی گئی دولت خود استعمال ہی نہیں کر سکے ہیں۔ اس لئے کیا کہوں سوائے اس کے کہ رحم رب العالمین رحم۔ کبھی ہمارے حکمران دنیا کے لئے ایک رول ماڈل تھے۔ حضرت عمر بن عبدالعزیزؓ جب خلیفہ بنے تو انہوں نے اپنے اور اپنی بیوی کے تمام اثاثے سرکاری خزانے میں جمع کرا دیئے۔ کیونکہ وہ فرماتے تھے کہ دولت اور خلیفہ ایک چھت کے نیچے نہیں رہ سکتے۔ وہ جب خلیفہ نہیں تھے تو امیر ترین شخص تھے، پُرتعیش زندگی بسر کرتے تھے مگر خلیفہ بننے کے بعد ان کی سادگی دیکھ کر انہیں عمرثانی کا خطاب دیا گیا اور چند سالوں میں انہوں نے ایسی ایسی مثالیں قائم کیں اور ایسے ایسے کارنامے سرانجام دیئے جن کی تاریخ میں نظیر نہیں ملتی۔ ان کے بعد بھی بہت سے حکمران آئے جنہوں نے اپنے کردار اور سادہ زندگی سے مثالیں قائم کیں۔ بعض تو اپنے ہاتھوں سے بنی ٹوپیاں بنا کر فروخت کر کے گزر بسر کرتے تھے۔ مگر افسوس کہ آج ہم یہ سب بھول چکے ہیں۔ اور دن رات دولت دولت کے راگ الاپتے پھرتے ہیں حالانکہ خلیفہ چہارم حضرت علیؓ کا قول ہے کہ قناعت سب سے بڑی دولت ہے۔