Awais-Ghauri

سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا

اس دنیا کا سب سے بڑا معمہ انسان ہے اور انسان کی زندگی کا سب سے بڑا معمہ موت ۔ اگر موت نہ ہوتی تو شاید خدا پر کوئی بھی انسان یقین نہ کرتا۔ یہ زندگی سے رابطہ ٹوٹنے کا ہی نام ہے جو انسان کو یہ یقین دلاتا ہے کہ وہ بے بس ہے اور ابھی بہت سے گتھیاں ہیں جو سلجھنے والی ہیں۔ میں ابھی عمران کے گھر سے آ رہا ہوں ، عمران سفید جوڑا پہنے لیٹا ہوا تھا۔ میرا خالہ زاد بھائی جو جمعہ کی رات 12بجے تک زندگی کی اس ریس میں شامل ہنس کھیل رہا تھا ، جس کی عمر ابھی چالیس سال بھی نہ ہوئی تھی ، جس کی بیوی نے اپنے خاوند کے ساتھ بڑھاپے میں قدم رکھنے کے پلان بنا رکھے تھے اور جس کا کمسن بیٹا اپنے باپ کی میت پر گھر آنے والے مہمان بچوں کو دیکھ کر خوش ہو رہا ، ان کے ساتھ کھیل رہا تھا ، وہی بچہ جو اس خام خیالی کا شکار تھا کہ اس کا باپ گھر ہی لیٹا سو رہا ہے ۔۔۔اس کے گھر کے باہر بین کی آوازیں سماعتوں میں ہیجان بپا کر رہی تھی ، میری آنکھوں سے آنسو رواں تھے اور ہر منظر کے ساتھ میرے ذہن کے پردے پر گزشتہ سال ماہ اگست کے مناظر تازہ ہو رہے تھے۔ ہر تصویر اسی منظر میں بدل رہی تھی جب میرے رفیق ، میرے پیارے ابو مجھ سے جدا ہو رہے ہیں اور مجھے ایک جملے کی اہمیت شدت سے سمجھ آرہی تھی
سب کو اپنی ہی کسی بات پہ رونا آیا
پڑھنے والوں شاید کوئی دلچسپی نہ ہو کہ عمران کتنا خوش مزاج تھا ، کبھی اس کے کسی جملے سے کسی کا دل نہ دکھا تھا ، اس نے اپنی ماں کو اپنی سواری پر بٹھا کر کہاں کہاں کا چکر نہ لگوایا ، اپنی ماں کے بڑھاپے کا سہارا تھا لیکن دلچسپی کی بات یہ ہے کہ عمران کی جواں سال موت کی وجہ ہمارا نظام ہے۔ ہم عوام جو صحت ، تعلیم کے بڑے بڑے بلند بانگ نعروں کے شور میں اپنا لیڈر چننے کی کوشش کرتے ہیں اسی عوام کو بنیادی انسانی سہولیات بھی میسر نہیں ہیں۔ اگر عمران کی جگہ حمزہ ، بلاول یا مریم کو لاہور کے کسی سرکاری ہسپتال سے علاج کروانا پڑتا تو شاید ہم عوام کیلئے بھی زندگی آسان ہو سکتی لیکن ہمارے حکمرانوں کو جب صحت کے مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو وہ اپنے چارٹر طیاروں میں باہر کا رخ کرتے ہیں ، دنیا کی بہترین صحت کی سہولیات سے فائدہ اٹھاتے ہیں۔
جمہوریت اور آمریت کی جنگ سے قطع نظر ، ووٹ کی حرمت کیلئے جدوجہد بھی درست سہی لیکن ہمارے سیاسی حکمرانوں سے ایک سوال تو کرنا بنتا ہی ہے کہ آپ لوگ جب عوام کے ووٹوں سے حکمران خاندان بنتے ہیں تو انہی عوام کے ساتھ زندگی کیوں نہیں گزارتے؟ آپ کو کون سی فوجی طاقت اس عمل سے روکتی ہے کہ آپ پاکستان کے ہسپتالوں کو اس قابل بنا لیں کہ اپنا علاج بھی یہاں کروا سکیں ، یہاں سکولوں کی حالت کیوں ایسی نہیں کرتے کہ آپ کے بچے بھی انہی سرکاری سکولوں میں پڑھ سکیں۔ میٹرو بس بنا دینا تو آپ کا احسان ٹھہرا لیکن کیا یہ میٹرو بس آپ کے وزرا کے سفر کے قابل بھی ہے۔ کیا آپ ان سوا لاکھ مسافروں میں شامل ہو سکتے ہیں جو روزانہ میٹرو بس میں دھکے کھاتے ہیں۔ ایک بس میں مسافر ایسے ٹھنسے ہوتے ہیں جیسے قربانی کے جانور پک اپ کے پیچھے یا مرغیاں شاہ زور ڈالے میں۔ کیا صرف میٹرو بس بنا دینا ہی کام تھا ؟ سڑکوں پر چلتا پھرتا خدمت کا کارنامہ نظر آنا ضروری تھا یا یہ بھی سوچنا ضروری تھا کہ گورے میٹرو بس میں بیٹھ کر آفس کیسے جاتے ہیں ؟ کیسے وہ ساتھ ایک اخبار لے جاتے ہیں جو مزے سے پڑھتے ہوئے سفر کرتے ہیں ۔ کیا یہاں میٹرو بس میں کوئی مسافر اخبار پڑھ سکتا ہے؟۔ اگر ہمارے پیسوں سے میٹرو بس بنا ہی دی تھی تھوڑے پیسے اور لگا کہ کم از کم ایک روٹ کے مسافروں کو تو عالمی معیار کا سفر کرنے کا اعزاز بخش دیا جاتا ۔ کوئی منصوبہ بنا لیا جاتا ، کوئی پلاننگ کرلی جاتی۔
ایک طرف عالمی معیار کی میٹرو بس کے نام پر عوام سے مذاق کیا گیا ہے تو دوسری طرف صحت کی سہولیات کے نام پر خاندان کے خاندان اجاڑے جا رہے ہیں۔ ہمارا عالمی اعداد وشمار کے ساتھ کیا لینا دینا لیکن عالمی ادارہ صحت کے مطابق ایک ہزار افراد کیلئے کم ازکم ایک ڈاکٹر،200افراد کیلئے ایک ڈینٹسٹ ،5مریضوں کی دیکھ بھال کیلئے ایک نرس کا ہونا ضروری ہے لیکن پنجاب کے اعدادو شمار نے حیران کردیا۔ یہاں پر 21سو افراد کیلئے ایک ڈاکٹر،4ہزار افراد کیلئے ایک ڈینٹیسٹ ہے۔پنجاب میں فلو سے کینسر تک کی40فیصد ادویات جعلی فروخت ہو رہی ہیں جبکہ ممنوع ادویہ، نشہ آور ٹیکہ جات مارکیٹ میں با آسانی دستیاب ہیں۔ٹی بی کے مریضوں کی تعداد34لاکھ ہو گئی ہے اور اس میں ہر سال بتدریج2لاکھ اضافہ ہو رہا ہے ،گندا پانی پی کر ہیپاٹائٹس کے مریضوں کی تعداد70لاکھ سے زائد ہو گئی ہے اور اس میں سالانہ تین لاکھ سے زائد کا اصافہ ہو رہا ہے۔صرف چلڈرن ہسپتال لاہور میں آپریشن کے منتظر بچوں کی تعداد11ہزار ہے۔پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی کی ایمرجنسی میں آنے والے دل کے مریضوں کو انجیو گرافی کیلئے7ماہ تک اور بائی پاس کیلئے دو سال تک کا وقت دیا جا رہا ہے۔سرکاری ہسپتالوں میں ہر 100میں سے صرف2 افرادکو مفت ادویات مل رہی ہیں،ایشیاء کے سب سے بڑے میو ہسپتال میں ایم آر آئی مشین تک نہیں۔سابق حکومت کے دور میں تعمیر شدہ وزیر آباد کارڈیالوجی ہسپتال کو انتہائی ضرورت کے باوجود بھی مکمل فعال نہیں کر سکی۔ پنجاب میں دوران زچگی ایک لاکھ میں سے115 خواتین ہلاک ہو جاتی ہیں ۔ میو ہسپتال کا سرجیکل ٹاور ہو یاچلڈرن ہسپتال کا بون میرو ٹرانسپلانٹ، جناح ہسپتال کا برن یونٹ ہو یا جنرل ہسپتال کا انسٹی ٹیوٹ آف نیورو سائنسز۔ کوئی بھی مکمل تعمیر یا فعال نہ ہو سکا۔ خاندان میں سے ایک شخص بچھڑ جائے تو گھر کی دیواریں ہل جاتی ہے۔ ایک خلا پیدا ہو جاتا ہے اورصحت کی ان سہولیات کی وجہ سے معلوم نہیں کتنے لوگ صرف صحت کی سہولیات میسر نہ آنے پر دنیا سے چلے جاتے ہیں۔
عوام کو سفر کرنے کیلئے اے بسوں کی ضرورت ہے ، ان بسوں کی جن میں وہ آرام دہ سفر کر سکیں ، اخبار پڑھتے ہوئے اپنی سیٹ پر بیٹھ کر ، دس بارہ بندوں کو زبردستی عید ملے بغیر گھر یا دفاتر جا سکیں ، انہیں اورنج ٹرین کی بھی ضرورت ہے ۔لیکن سب سے پہلے انہیں ہسپتال ، سکول ، امن و امان ، روزگار ، رہائش کی ضرورت ہے۔ یا پھر حکومت پنجاب میٹرو بس میں ہی ڈاکٹر بھی فراہم کر دے، انہی میں محمدی بسترے بھی فراہم کر دے اور کسی فارغ وقت میں انہیں بسوں میں اساتذہ بچوں کو الف ب بھی پڑھانا شروع کر دیں ۔