Khalid Bhatti

سانحہ بلدیہ فیکٹری متاثرین انصاف کے منتظر

پانچ سال قبل 11 ستمبر 2012ء کو کراچی کے علاقے بلدیہ کی ایک گارمنٹ فیکٹری میں آگ بھڑک اٹھی۔ اس آگ نے پوری فیکٹری کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ جس وقت آگ لگی اس وقت فیکٹری میں سیکڑوں محنت کش کام میں مصروف تھے۔ 259 جیتے جاگتے انسان جو اپنا اور اپنے گھر والوں کا پیٹ بھرنے کے لیے وہاں موجود تھے۔ اس آگ کی لپیٹ میں آ کر لقمۂ اجل بن گئے۔ جیتے جاگتے، زندگی کی تمام توانائیوں سے بھرپور 259 انسانی جسم آگ میں جل کر خاکستر ہو گئے۔ اس آگ کی لپیٹ میں آ کر سیکڑوں محنت کش جھلس کر زخمی ہوئے۔ یہ سیکڑوں خاندان پانچ سال گزرنے کے بعد بھی انصاف کے منتظر ہیں۔ ابھی تک نہ تو اس کیس کا عدالتی فیصلہ ہوا ہے اور نہ ہی اس سانحے کے نتیجے میں کام کی جگہوں پر حالات کار کو بہتر بنانے اور محنت کشوں کے تحفظ اور اس قسم کے سانحوں اور حادثوں کو روکنے کے لیے مؤثر اقدامات ہوئے ہیں۔
11 ستمبر کا دن ذہن میں آتے ہی ویسے تو امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سنٹر پر ہوائی جہازوں کے ذریعے حملے اور تباہی کے مناظر سامنے آجاتے ہیں۔ 9/11 کے بعد امریکہ نے جہاں ایک طرف کھربوں ڈالر دہشت گردی کے خلاف نام نہاد جنگ میں جھونک دیے وہیں اربوں ڈالر خرچ کر کے اس بات کو یقینی بنایا گیا کہ دوبارہ اس طرح کا واقعہ امریکی سرزمین پر رونما نہ ہو۔ امریکہ کے باہر تو افغانستان اور عراق پر جنگیں مسلط کر کے انہیں تباہی سے دو چار کیا گیا اور دہشت گردی کے خاتمے کی اس جنگ کے نتیجے میں دہشت گردی پوری دنیا میں پھیل گئی۔ امریکہ نے اپنے سامراجی مفادات کے لیے بد امنی اور دہشت گردی کو کئی خطوں اور ملکوں میں پھیلا دیا مگر امریکہ کو محفوظ بنانے کے لیے ہر ممکن اقدامات اٹھائے گئے۔ اس بات کو یقینی بنانے کی پوری سنجیدگی سے کوشش کی گئی کہ آئندہ دہشت گرد امریکہ کی سر زمین پر اس قسم کی کارروائی نہ کر پائیں۔ اس کے لیے امریکہ نے اپنی داخلی سلامتی پالیسی کی خامیوں اور کمزوریوں کو دور کیا۔ اداروں کے درمیان تعاون کو بڑھایا اور جاسوسی کے اندرونی نظام کو مضبوط کیا گیا۔ صدر بش نے قومی سلامتی اور اندرونی خطرات کے نام پر جمہوری اور شہری آزادیوں پر بھی حملے کیے۔ مگر امریکی عوام کی اکثریت نے ان اقدامات کو اس لیے تسلیم کیا یا بادل نخواستہ قبول کیا تا کہ وہ ایک محفوظ اور پر امن زندگی گزار سکیں۔
ان دو واقعات کا آپس میں کوئی براہ راست تعلق نہیں اورنہ ہی ان کے درمیان کوئی تاریخی مماثلت موجود ہے۔ یہ قطعاً مختلف نوعیت کے واقعات ہیں ۔ 9/11 کے عالمی سطح پر نتائج مرتب ہوئے۔ امریکہ نے اپنی معاشی اور فوجی قوت کا وحشیانہ استعمال کیا ۔ مگر دوسری طرف امریکہ نے اپنے نظام کی اندرونی خامیوں اور کمزوریوں کا جائزہ لیا اور پھر انہیں دور کرنے کی کوشش کی جبکہ دوسری طرف بلدیہ کے علاقے کی فیکٹری علی انٹر پرائز میں لگنے والی آگ اور اس کے نتیجے میں 259 انسانوں کی ہلاکت کے باوجود ہمارے ملک میں معاملات جوں کے توں چل رہے ہیں۔ اس سانحے کے بعد کے پانچ سالوں کے دوران مختلف صنعتی حادثات اور فیکٹریوں میں آگ لگنے کے واقعات تواتر سے رونما ہورہے ہیں۔ ان حادثات میں بے شمار قیمتی انسانی جانوں کا نقصان ہوا ہے۔ گڈانی شپ بریکنگ یارڈ میں جہاز توڑنے کے دوران لگنے والی آگ میں بھی درجنوں محنت کش جل کر ہلاک ہوئے۔ ان تمام واقعات کے باوجود نہ تو قوانین بہتر ہوئے اور نہ ہی ان جیسے واقعات کی روک تھام کے لیے اقدامات کیے گئے۔ سیکڑوں جانوں کا نذرانہ بھی ہمارے حکمرانوں کو جھنجھوڑنے میں ناکام رہا۔ سانحہ بلدیہ فیکٹری کے حوالے سے چندباتیں بہت اہم ہیں۔ اس معاملے کے تین اہم پہلو ہیں۔ پہلا تو اس سانحہ کے ذمہ داروں کو قرار واقعی سزا اور ان کا تعین ہے۔ اس حوالے سے پہلے تو اس واقعے کو حادثہ قرار دیا گیا مگر بعد میں اس سانحے کو جان بوجھ کر لگائی جانے والی آگ قرار دے دیا گیا اور ایم کیو ایم کے چند عہدیداروں کو اس کا ذمہ دار قرار دیا گیا۔ اس کی وجہ بھتہ دینے سے انکار بتائی گئی۔ اس واقعے کی تفتیش کئی مرتبہ تبدیل کی گئی۔ دو مختلف جے آئی ٹی ایز (JIT) بنیں۔ ان کی تحقیقات ہوئیں مگر ابھی تک فیصلہ نہیں ہو سکا۔ اس کیس کے اہم ملزمان ابھی تک فرار ہیں۔
اس صنعتی حادثے کو اس بحث میں الجھا دیا گیا کہ یہ آگ لگی تھی یا جان بوجھ کر لگائی گئی تھی اور اس معاملے سے جڑے دیگر اہم سوالات کو نظر انداز کر دیا گیا۔ اس بحث میں الجھے بغیر کہ یہ آگ لگی یا لگائی گئی کیا یہ اہم نہیں کہ اس آگ میں 259 جانیں گئیں۔ اگر اس فیکٹری میں آگ بجھانے اور آگ کی صورت میں باہر نکلنے کے مناسب انتظامات موجود ہوتے تو کیا اتنی جانیں ضائع ہوتیں۔ اگر اس فیکٹری کو تعمیراتی ضابطوں اور قوانین کے مطابق تعمیر کیا جاتا اور حفاظتی انتظامات کو یقینی بنایا جاتا تو کیا اس جانی نقصان سے بچا نہیں جا سکتا تھا۔ سب سے اہم معاملہ یہ ہے کہ اس حادثے اور اس سے ملتے جلتے دیگر حادثات کے نتیجے میں حالات کار کو بہتر بنانے اور مستقبل میں ایسے حادثات سے بچنے کے لیے اقدامات اٹھائے گئے، تو اس کا جواب تو واضح طور پر نفی میں ہے۔ اس سارے معاملے کا سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ صورت حال کو بہتر بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے گئے۔ حکمرانوں نے یہ واضح پیغام دیا ہے کہ انہیں اس بات سے کوئی دلچسپی نہیں ہے کہ فیکٹری اور کام کی جگہوں پر محنت کشوں کی حفاظت اور تحفظ کے لیے مناسب انتظامات موجود ہیں یا نہیں۔۔۔ فیکٹریاں رجسٹرڈ ہیں یا نہیں۔ کارخانوں، فیکٹریوں اور کام کی جگہوں پر بہتر قوانین کا اطلاق ہو رہا ہے یا نہیں۔ حکومت کی مقرر کردہ کم سے کم اجرت مل رہی ہے یا نہیں۔ بوائلر پھٹیں، آگ لگے، عمارتیں گریں یا دیگر وجوہات کی بناء پر اپنا اور اپنے خاندانوں کا پیٹ پالنے کے لیے محنت مشقت کرنے والے یہ عام انسان مریں، کٹیں یا معذور ہوں، حکمرانوں کو اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔
حکمران طبقات نے اس ملک میں غریب ہونے، کمزور ہونے اور مظلوم و محکوم طبقات سے تعلق ہونے کو جرم بنا دیا ہے۔ محنت کشوں، کسانوں اور غریب عوام کے حقوق کے تحفظ میں نہ تو حکمرانوں کو کوئی دلچسپی ہے اور نہ ہی ریاست کو۔ ریاست محکوموں، مظلوموں، کمزوروں اور مجبوروں کو انصاف کی فراہمی اورانہیں استحصال سے بچانے کے اپنی بنیادی آئینی ذمہ داری سے کب کی دست بردار ہو چکی۔ محنت کشوں سے سرمایہ داروں نے کیا سلوک کرنا ہے۔ لیبر قوانین پر کس حد تک عمل درآمد کرنا ہے۔ محنت کشوں کو یونین سازی کا حق دینا ہے یا نہیں۔ ریاست نے یہ تمام اختیارات سرمایہ داروں کے حوالے کر دیے ہیں۔ زیادہ سے زیادہ منافعوں کا حصول اور محنت کشوں کا بد ترین استحصال ہی آج کا اصل قانون، اصول اور ضابطہ ہے۔ آئینی اور قانونی حقوق اور
اختیارات کا سوال تو دراصل ریاستی اداروں اور حکمران طبقے کے متحارب دھڑوں کے آپسی جھگڑے تک محدود ہے۔ عام انسانوں، مجبور اور بے بس محنت کشوں اور کسانوں کے نہ تو حقوق ہوتے ہیں اور نہ ہی انہیں کوئی قانونی اور آئینی تحفظ حاصل ہوتا ہے۔
ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ فوری طور پر پاکستان بھر کی تمام چھوٹی بڑی فیکٹریوں اور کارخانوں کا سروے کیا جاتا۔ انہیں رجسٹرڈ کیا جاتا۔ ان تمام جگہوں پر مزدوروں کے تحفظ اور سلامتی کے لیے مؤثر اقدامات اور انتظامات کیے جاتے۔ لیبر قوانین کا اطلاق یقینی بنایا جاتا۔ ٹھیکیداری نظام کو ختم کیا جاتا جو کہ اب جدید غلامی کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ ہر روز لاکھوں محنت کش محنت کے لیے کارخانوں اور فیکٹریوں میں داخل ہوتے ہیں مگر ان کے پاس اپنے محنت کش ہونے یا متعلقہ فیکٹری کے ملازم ہونے کا کوئی دستاویزی ثبوت نہیں ہوتا۔ نہ تو سرمایہ دار اور صنعتکار انہیں محنت کش تسلیم کرتے ہیں اور نہ ہی ریاست ان کی محنت کو تسلیم کرتی ہے۔ اسی لیے تو وہ 60 سال کے بعد بھی اولڈ ایج ، پنشن اور دیگر مراعات کا حق دار نہیں ٹھہرتا۔ ہمارے حکمرانوں نے اس سانحے سے کچھ نہیں سیکھا ۔ حالات جوں کے توں ہیں۔