Ali Imran Junior

سائیں بھائی

جب ہم چھوٹے سے تھے تو سکول میں مس ہمیشہ تین ہی مضمون لکھنے کو دیتی تھیں۔۔۔ میرا دوست۔۔۔میرے ابو۔۔۔اور قائد اعظم۔۔۔ہماری کوشش ہوتی کہ میرے دوست کو رگڑا لگایاجائے۔۔۔ہمارے بچپن کے دوست لئیق آفریدی ہیں،نام تو بڑا پاپولرسا ہے لیکن خود سائیں ہیں۔۔۔ پنجاب میں سائیں پگلے یا مستانے کوکہتے ہیں۔۔۔سندھ میں سائیں کو جناب کے معنوں میں لیا جاتا ہے۔۔۔ لیکن جناب پگلے سے کم نہیں۔۔۔سائیں ہرفن مولا انسان ہے۔انسان پر زور اس لئے دیا کہ وہ خود کو انسان ہی نہیں سمجھتے بلکہ مافوق الفطرت قسم کی کوئی توپ چیز سمجھتے ہیں۔۔۔کون سا کام ہے جو انہیں نہیں آتا۔۔۔منہ سے کوئی جملہ ایسا نہیں نکالتے جس پر آپ مسکرائے بنا رہ نہ سکیں۔۔۔لوگ صبح اٹھ کر غرارے کرتے ہیں۔۔۔ یہ ناک سے کلیاں کرتے ہیں۔۔۔کہتے ہیں۔۔۔سب سے خوب صورت دانت ہاتھی کے ہوتے ہیں۔۔۔ جس کی خوب صورتی اس کی قیمت سے پتہ لگ جاتی ہے، اسی لئے وہ کبھی دانت برش نہیں کرتے۔۔۔ وجہ پوچھو تو کہتے ہیں۔۔۔ کیا کبھی ہاتھی کو دانت صاف کرتے دیکھا ہے؟۔۔۔ناشتہ ہلکا پھلکا کرنے کے عادی ہیں۔ اسی لئے چھ ” پھلکے” کھالیتے ہیں۔۔۔کالے اتنے کہ ملکہ ترنم کے کالا سیاہ کالا سے بھی دس گنا زیادہ ہی سیاہ، بلکہ توت سیاہ۔
دنیا کا کون سا موضوع ہے جس پر وہ سیرحاصل ایسی گفتگو نہ کرسکیں جو” لاحاصل ” رہے۔۔۔بالی وڈ موویز کے شوقین ہیں۔۔۔ اسی لئے اس کے گانے بھی یاد رکھتے ہیں مگر بدقسمتی سے گانوں کو ” ری مکس” کردیتے ہیں۔۔۔ جیسے جن دنوں ہٹ گانا چل رہا تھا۔۔۔ چٹیاں کلائیاں وے، سن جا وے، مینوں شاپنگ کرادے۔۔۔من جا وے رومانٹک پکچر دکھا دے۔۔۔ ریکویسٹاں پائیاں وے۔۔۔ چٹیاں کلائیاں وے۔۔۔چٹیاں کلائیاں وے۔۔۔تْو لادے مجھے ہری ہری چوڑیاں۔۔۔اپنا بنالے مجھے بالما۔۔۔ گوری ہیں کلائیاں۔۔۔ایک اور سپرہٹ بالی وڈ سانگ کو کچھ اس طرح گنگنایا کہ شروع تو ممبئی میں ہوا لیکن ختم اسے لاہور میں کیا۔۔۔ وہ گانا کچھ یوں تھا۔۔۔ محبت برسا دینا تْوساون آیا ہے۔۔۔تیرے اور میرے ملنے کا موسم آیا ہے۔۔۔ محبت برسادیناتوساون آیا ہے۔۔۔ساون آئے ، ساون جائے۔۔۔تجھ کوپکاریں گیت ہمارے۔
سائیں کو کپڑے ہمیشہ اترے ہوئے ہی پسند آتے ہیں، یعنی لنڈابازار کا مال فیوریٹ ہے۔کالے اتنے کہ ایک بار محلے میں چوری کے کیس میں پکڑے گئے تو لوگوں نے منہ سفید کرکے گدھے پر بٹھایا۔۔۔ایک بار بنچ پر بیٹھ کر فوٹو کھنچوائی تو ان کی تصویر تو نہیں آئی صرف بنچ ہی نظر آئی۔۔۔ ان کے کالے رنگ کے حوالے سے کئی روایتیں مشہور ہیں۔۔۔ جن میں سے ایک یہ ہے کہ جب وہ پیدا ہوئے تو لوڈشیڈنگ تھی۔۔۔ایک اور روایت میں آتا ہے کہ ان کی امی نے موم بتی جلائی جو پلنگ پر گری، ا س طرح ماں اور بچے دونوں جل کر سیاہ ہوگئے۔۔۔ ایک اور جگہ آتا ہے کہ ان کی امی نے پیدائش سے پہلے کوک اور پیپسی ڈٹ کر پی۔۔۔ کہتے ہیں کہ اگر وہ ڈیو، سپرائٹ، سیون اپ پیتی تو بچے کی جینز تبدیل ہوکر اسے سفیدفام بناسکتی تھی۔۔۔ پیدا ہوئے تو فرشتوں نے پوچھا۔۔۔ اس میں روح ڈالنی ہے یا تسمے؟؟۔۔۔ڈاکٹر سے ایک ماہ کی دوا لے کر آئے تو اپنا ہی کلینک کھول لیا۔
سائیں کا بچپن بھی ہماری طرح غربت میں ہی گزرا۔۔۔اماں قمیص کے پیچھے گانٹھ لگاکرنالی پر بٹھادیتیں۔۔۔کچھ دیر کے بعد آواز لگاتے۔۔۔اماں بس۔۔۔ بات کرتے تو تھوکتے ہیں۔پوچھا یہ کیاہے۔کہتے ہیں۔۔۔شبنم کے قطرے ہیں، مگر یہ نہیں بتاتے کہ یہ قطرے ان کے منہ میں آئے کیسے؟ دور جدید کے ابن بطوطہ کہلائے جاتے ہیں۔۔۔جس طرح ایک بار ابن بطوطہ کو پشاور شہر کی کنجی پیش کی گئی تو وہ شہر کا دروازہ کھولنے کے لئے جھکے اس کے بعد تاریخ پراسرار طور پر خاموش نظر آتی ہے۔ابن بطوطہ سے متاثر سائیں کا بھی پشاور سے متعلق الگ ہی فلسفہ ہے۔کہتے ہیں،پشاور میں پانچ کا سکہ اٹھانے کے لیے جھکو تو پانچ سو دوائی پر لگ جاتے ہیں۔۔۔مزید فرماتے ہیں۔۔۔پشاور دنیا کا واحد شہر ہے جہاں میاں بیوی میں لڑائی ہوپھر بھی ایک دوسرے کی طرف منہ کرکے سوتے ہیں۔۔۔جوتے ہمیشہ بغیر جرابوں کے پہنتے ہیں۔۔۔لاکھ سمجھایا کہ جوتوں میں سونایوریا ڈالا کرو،اس طرح جرابیں اگ آتی ہیں۔۔۔ لیکن وہ مانتے ہی نہیں۔
سیاست پر گہری نظر رکھتے ہیں،ایک بار کہنے لگے،ڈونلڈ ٹرمپ امریکا کا صدر بن گیا یہ کوئی بڑی بات نہیں۔۔۔ ٹرمپ کی بیگم’’ میلانیا ٹرمپ ‘‘زیادہ خوش قسمت ہے جو ٹرمپ کی تیسری بیوی ہونے کے باوجود ’’خاتون اول‘‘ کہلائے گی۔۔۔ کچھ دیر کو سانس لینے رکے اور گفتگو کا سلسلہ وہیں سے جوڑتے ہوئے کہنے لگے۔۔۔ دیکھو یار لوگ فضول میں کہتے ہیں کہ ہر کامیاب مرد کے پیچھے عورت کا ہاتھ ہوتا ہے۔۔۔ ٹرمپ کی کامیابی کے پیچھے کئی عورتوں کا ہاتھ ہے، یعنی جو کئی عورتوں سے چکر چلائے گا ٹرمپ کی طرح کامیاب ہوجائے گا۔۔۔ جو کسی عورت سے چکر نہیں چلائے گا وہ مودی کی طرح کامیابی سمیٹے گا۔۔۔ مجھے تو ان لوگوں کی فکر ہے جن کی زندگی میں صرف ایک ہی عورت رہتی ہے، پھر وہ مر کر ہی گھر سے نکلتی ہے۔۔۔ خود سوچو۔۔۔ ایک بیوی والے کیا خاک ترقی کریں گے؟؟۔۔۔مودی نے جب انڈیا میں بڑے نوٹ بند کئے تو ہمارے دوست کا کہنا تھا۔۔۔مودی نے یہ فیصلہ اس لئے کیا تھا کہ ایک دن گاندھی جی ،مودی کے خواب میں آئے اور بولے بیٹا بہت دن سے میں نے اپنی ” ڈی پی” تبدیل نہیں کی۔یہ بات ہمارے سر پر سے گزر گئی۔ ہم انہیں حیران کن نظروں سے دیکھنے لگے تووہ مزیدبولے، مودی کا تو پتا ہے ناں چائے والا ہے۔۔۔ اسے پانچ دس کے نوٹ سے بڑا نوٹ اچھا ہی نہیں لگتا۔۔۔ اسی لئے تو اس نے بڑے نوٹ بند کردیئے۔
سائیں پھڈے باز بھی بہت ہیں۔۔۔اپنی شادی میں پھڈا کرلیا۔۔۔سالی نے دودھ کا گلاس لا کر دیاجو انہوں نے پی لیا۔سالی نے پانچ ہزار مانگے۔۔۔ پوچھا کس بات کے۔۔۔ سالی بولی دودھ کے۔۔۔ وہ حیرت سے اپنے ابا کو دیکھ کر بولے۔۔۔ اتنا مہنگا دودھ، لگتا ہے ابا یہ بھینس کا دودھ نہیں۔۔۔ایک دن رکشے والے سے پھڈا کرلیا۔۔۔ پوچھاسرجانی جانا ہے کتنے پیسے ؟ وہ بولا تین سو روپے۔۔۔ کہنے لگے سو روپے بنتے ہیں۔۔۔ وہ بولا۔۔۔صاحب جی تیل مہنگا ہوگیا ہے۔۔۔ کہنے لگا۔۔۔ تیل کے بغیر کام چلا لے۔۔۔لڑائی میں کسی نے دھمکی دی کہ جا جا کے دودھ بخشوا کر آ۔۔۔ یہ بولے۔۔۔ اب کیا دودھ بخشوانے جاپان جاؤں۔۔۔ڈبے کا دودھ پیا ہے۔۔۔سوال ہمیشہ الٹے ہی کرتے۔۔۔ ایک دن پوچھنے لگے۔۔۔ یہ بدھ جو ہے کیا جمعرات سے بڑا ہوتا ہے۔۔۔ فرمائشیں بھی عجیب ہوتیں۔۔۔مولوی صاحب کے پاس جمعرات کو گئے۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔آج جمعہ پڑھا دو رات میں کراچی سے باہر جارہا ہوں۔۔۔ایک دن ہم سے ٹاکرا ہوگیا۔۔۔ سوالات کی بوچھاڑ کردی۔۔۔ کہنے لگے وہ کون سی انگلی ہے جس میں ہڈی نہیں ہوتی۔۔۔ ہم سرکھجاتے رہ گئے وہ بولے۔۔۔ دستانے کی انگلی۔۔۔پھر اگلا سوال داغ دیا۔۔۔وہ کون سی ٹیبل ہے جس کی ٹانگیں نہیں ہوتیں۔۔۔ اس کا بھی جواب نہیں ملا تو انہوں نے بتایا۔۔۔ ٹائم ٹیبل۔۔۔ پھر اچانک انہوں نے ایک اور عجیب و غریب سوال کرڈالا۔۔۔ کہنے لگے۔۔۔ عمران بھائی یہ بتائیں۔۔۔ جب انسان باتھ روم میں جاتا ہے تو سب سے پہلے نلکا کیوں کھولتا ہے۔۔۔اس عجیب سوال کا جواب بھی ہمیں نہیں آیا تو کہنے لگے۔۔۔ تاکہ آواز باہر نہ جائے۔۔۔ ایک روز ہمیں بھی ساتھ لے گئے۔۔۔ گوشت والے کی دکان پر پہنچے۔۔۔ کہا بھائی جی۔۔۔ ایک کلو بوٹی بنادو ہڈی والی۔۔۔۔۔۔ قصائی نے کہا۔۔۔ کل تو آپ بون لیس لے کر گئے تھے آج ہڈی والا خیر تو ہے؟۔۔۔ سائیں نے برجستہ کہا۔۔۔ کل اپنے کتے کیلئے لے گیا تھا آج ہم اپنے لئے لے جارہے ہیں۔