Dr-Murtaza-Mughal-new

زینب کا قتل:ملک اور جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ

قصور کی 7سال کم سن بچی کی زیاتی کے بعد اس کے وحشیانہ قتل پرآج تیسرے روز بھی نماز جمعہ کے بعد ملک کے تمام بڑے شہروں میں شہری، سیاسی اور سماجی تنظیموں نے زبردست احتجاج کرتے ہوئے زینب کے بہیمانہ قتل کی ذمہ داری پنجاب حکومت کی روایتی غفلت اور انتظامیہ کے سنگدلانہ تغافل پر ڈالی۔مقررین نے زینب کے ساتھ ہونے والے واقعہ کو ظلم اور انسانی درندگی کی بدترین مثال قرار دیا ۔انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک ایسا وحشیانہ اور گھناؤنا جرم ہے جس سے انسانیت کا سر شرم سے جھک جاتا ہے،یہ انسانیت سوز واقعہ پاکستان اور جمہوریت کے چہرے پر بدنما داغ ہے،یہ ایک بچی کا قتل نہیں بلکہ انسانیت کا قتل ہے جس نے پورے معاشرے کے ضمیر کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا ہے‘۔ ادھر اپوزیشن لیڈر خورشید شاہ قصور واقعے پر وزیراعلیٰ پنجاب شہباز شریف اور صوبائی وزیر قانون رانا ثنااللہ سے استعفے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔ آپ کو یاد ہوگا کہ رائیونڈ جاتی امرا کے شاہی محل کے وسیع و عریض چڑیا گھر میں ایک آدھ مور کی اچانک موت پر ایس پی کو اور درجنوں پولیس اہل کاروں کو معطل کردیا گیا تھا۔ ’’حیوان دوست‘‘ شاہی حکمران ایک مور کی موت پر اتنا غصے میں آیا کہ بے چارے پولیس والوں کی کم بختی آگئی۔ میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے خورشید شاہ نے کہا ’قصور میں ایسے واقعات مسلسل ہو رہے ہیں، یہ واقعہ درندگی کی انتہا اور حکومت پنجاب کی ناکامی ہے،حکومت ایسے واقعات کی روک تھام میں ناکام رہی۔ملزموں کی گرفتاری نہ ہوئی تو یہ حکومت کی ناکامی ہوگی، مظاہرین پر فائرنگ افسوسناک عمل ہے،پنجاب حکومت نے سانحہ ماڈل ٹاؤن سے سبق سیکھنے کے بجائے اسے دہرایا‘۔ ان کا کہنا تھا ’ نواز شریف کی باتوں کے پیچھے ان کی سوچ اور دوست ہیں،ان کے جارحانہ روئیے سے ملک کی تباہی ہو گی‘۔
ہر باخبر شہری جانتا ہے کہ زینب کو زیادتی کا نشانہ بنانے کے بعد ’نامعلوم ملزم‘ نے اس کی نعش کوڑے کے ڈھیرپر پھینک دی تھی۔ یہ زینب کی نعش نہیں تھی، حکومت اور انتظامیہ کی بے حسی کا لاشہ تھا۔ زینب کی چیخیں جن کا گلا گھونٹ دیا گیا، آج عالمی میڈیا کے ایوانوں میں بھی گونج رہی ہیں۔ برطانوی اخبار انڈیپنڈنٹ نے لرزہ خیز واقعہ کو افسوس ناک قرار دیتے ہوئے کہا کہ’ ملزمان کو ابھی تک پکڑا نہیں گیا لیکن احتجاج کرنے والوں پر تشدد کے نتیجے میں 2 افراد اپنی جان گنوا بیٹھے ہیں‘۔ امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز
نے بھی واقعہ کی مذمت کی۔نیویارک ٹائمز نے قصور میں 2 سال قبل ہونے والے واقعات میں ملوث افراد کو سزا نہ دینے پر تنقید بھی کی ہے۔واشنگٹن پوسٹ نے زینب کے والد کے الفاظ کو دہراتے ہوئے واقعہ کی مذمت کی۔عرب میڈیا نے بھی زینب کے قتل پر شدید الفاظ میں مذمت کی ۔الجزیرہ کے مطابق زینب کو پاکستان کے ضلع قصور کے مصروف بازار سے اغواء کیا گیا ،تشدد کے بعد قتل اور پھر گندگی کے ڈھیر سے لاش کا ملنا انتہائی افسوسناک ہے۔
پاکستان میں سال 2017ء کے پہلے 6ماہ جہاں جمہوری تسلسل وہاں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے عروج کے بھی آئینہ دار تھے ۔اس دوران 768 مذموم واقعات پیش آئے جن میں سے 68 صرف ضلع قصور سے رپورٹ ہوئے۔ساحل کی ششماہی رپورٹ 2017 کے مطابق تناسب کے اعتبار سے ان اعداد و شمار سے یہ پتہ چلا کہ گذشتہ سال کے پہلے چھ ماہ میں کل 1764 کیسز میں سے پنجاب میں 62 فیصد، سندھ میں 28 فیصد، بلوچستان میں 58، کے پی میں 42 اور پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں9 فیصد رجسٹرڈ ہوئے۔گذشتہ دو برسوں میں اسلام آباد، قصور، لاہور، راولپنڈی، شیخوپورہ، مظفرگڑھ، پاکپتن، فیصل آباد، ویہاڑی، خیرپور، کوئٹہ، اوکاڑہ اور سیالکوٹ ایسے اضلاع کے طور پر سامنے آئے جہاں بچوں کے تحفظ کے حوالے سے صورتحال تشویشناک ہے۔عالم یہ ہے کہ بچوں کے خلاف جرائم کے لحاظ سے ملک کا دارالحکومت اسلام آباد 2016 میں پاکپتن کے 169 واقعات کے بعد 156 کیسز کے ساتھ سرفہرست رہا۔یہ رپورٹ بھی اخباری خبروں سے مرتب کی گئی ہے کیونکہ انتہائی حساس نوعیت کے اس مسئلہ پر کوئی سرکاری ادارہ ایسے اعداد و شمار جمع نہیں کرتا۔ عوامی نمائندے اور سرکاری حکام یا تو اس بھیانک حقیقت کو تسلیم کرنے کے تیار نہیں یا اس سے انکار کرتے ہیں۔ گزشتہ سال کے دوران بچوں کے ساتھ جنسی تشدد کے 768 واقعات کے بارے میں کسی صوبائی اور وفاقی ادارے کے پاس ایسی کوئی تفصیل موجود نہیں ہے کہ ان میں سے کتنے کیسز میں ملزمان گرفتار ہوئے یا انھیں سزائیں سنائی جا سکیں۔صوبائی اور وفاقی حکام یہ تسلیم کرتے ہیں کہ بچوں کے تحفظ کے اقدامات اور قوانین پر عملدرآمد میں ناکامی کا سامنا کرنا پڑا۔ ایک رپورٹ کے مطابق جنوری 2017ء سے جون 2017ء کے دوران بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے سب سے زیادہ واقعات صوبہ پنجاب میں پیش آئے۔یاد رہے کہ ضلع قصور جو 2015 ء میں ویڈیو سکینڈل کی وجہ سے خبروں میں رہا ، وہاں 2016 میں بچوں کے ساتھ زیادتی اور تشدد کے کل 141 کیسز میں سے99 جنسی تشدد اور ریپ اور پھر قتل کیے جانے کے تھے جبکہ 2017 ء کے پہلے چھ ماہ میں یہ تعداد 68 رہی۔اس کے بر عکس ضلع قصور میں پولیس حکام کے مطابق اغوا کے بعد ریپ اور قتل کے 12 مقدمات درج ہیں۔ ان واقعات میں سے پہلا واقعہ تقریباً ایک سال قبل چار دسمبر 2016 کو پیش آیا جب کہ زینب کی گمشدگی سے ایک ماہ پہلے ہی کائنات بھی لاپتہ ہوئی تھیں جو اس وقت صدمے کی حالت میں قصور کے ہی ایک ہسپتال میں زیر علاج ہیں۔
ظلم تو یہ ہے کہ2013ء میں قائم ہونے والی شرفاء کی حکومت نے پاکستان میں بچوں کی اندرون ملک سمگلنگ یا انٹرنل ٹریفکنگ کو روکنے کے لیے کسی قسم کا قانون نہیں بنایا تاہم عدالتی نا اہل کو پارٹی صدارت کا اہل بنانے کا قانون چٹکیوں میں منظور کرکے ایک مخصوص شاہی خانوادے کے نام نہاد جمہوری لیڈر کی خوشنودی کے حصول کا اعزاز حاصل کیا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ چائلڈ پروٹیکشن اینڈ ویلفیئر بیورو پنجاب کی چیئرپرسن کیا کر رہی ہیں۔ ان کی کارکردگی محض کاغذبازی اور زبانی جمع خرچ تک محدود ہے۔۔ادھر وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں ڈائریکٹر نیشنل کمیشن فار چائلڈ ویلفییر خالد لطیف نے بی بی سی سے گفتگو میں بتایا کہ ‘جب قصور میں یہ واقعہ پیش آیا تو اس کے بعد پنجاب یونیورسٹی اور پلان پاکستان کے ساتھ مل کر وہاں تحقیقات کرنے کا ارادہ کیا گیا کہ کیا وجوہات ہیں کہ وہاں ایسے واقعات بڑھ رہے ہیں لیکن ابھی تک اس منصوبہ پر عمل نہیں ہو سکا‘۔ان کا مزید کہنا تھا کہ’’10 سال کی کوششوں سے ملک میں بچوں پر جنسی تشدد کے خلاف کرمنل لا کا ترمیمی بل 2016ء کمیٹی کی سطح پر پاس کروایا جو ابھی اسمبلی سے پاس نہیں ہوا‘‘۔ اس کے علاوہ چائلڈ رائٹس کمیشن ایکٹ بنا ہے جس کے تحت بچوں کے لیے کمیشن بنایا جائے گا۔ستم ظریفی تو یہ ہے کہ وفاقی وزارت برائے انسانی حقوق کے ماتحت کام کرنے والے نیشنل چائلڈ پروٹیکشن سنٹر کے ڈپٹی ڈائریکٹر زاہد ریحان خان کا کہنا ہے کہ ’میں یہ نہیں کہوں گا کہ سب اچھا ہے کی رپورٹ ہے ہم بہت کچھ کر سکتے ہیں لیکن معافی چاہوں گا نہیں کرتے، ہم نہتے ہیں، شاید یہ ہماری حکومت کی ترجیحات میں نہیں،میں نے ایک میٹنگ میں شرکت کی جس میں بہت سے ایم این اے شریک تھے وہاں ساٹھ سے 65 فیصد لوگوں کی یہی رائے تھی کہ ہماری تو سوسائٹی بہت اچھی ہے، وہ تو بچوں کو بہت پروٹیکٹ کرتی ہے، ہمارا فیملی سسٹم بہت مضبوط ہے‘۔