Hayat Abdulla

زرعی تربیتی مرکز کا نوحہ

فضائیں پھر سوگوار ہیں، ہواؤں میں پھر افسردگی اور رنجیدگی گھل گئی ہے احساسات پھر حزن و ملال کے سانچوں میں ڈھل گئے ہیں آنکھوں پر پھر اضطراب کا بوجھ طاری ہو گیا ہے، ماحول میں پھر سرخ لہو کی باس اور سنساہٹ کلیجے چیرنے لگی ہے، پھر اندرون دل اداسیوں نے کروٹیں بدلنا شروع کر دی ہیں، خزاں رتیں اور پت جھڑ کے موسم یک دم ہی آدھمکتے ہیں اور کئی ماؤں بہنوں کی پلکوں پر درد و الم کے بوجھ لاد کر رخصت ہو جاتے ہیں۔ جوانی کی نوخیز اور بسنت رتوں میں کجلا اور کملا جانے والا 20 سالہ طالب علم امین خان 6 بہن بھائیوں میں سب سے چھوٹا تھا، بدخواہ اور بداندیش دشمنوں کی گولیوں سے چھلنی ہونے والا محمد وسیم پانچ بہنوں کا اکلوتا بھائی تھا ذرا سوچیے کہ صعوبتوں نے بائیس سالہ عبدالصادق کے والدین اور بہنوں کے ارمانوں کو کس بے دردی سے لتاڑ ڈالا ہو گا جس کی صرف سات ماہ قبل شادی ہوئی تھی۔ ماؤں کی حسرتوں کو اجاڑ ڈالنے والو بہنوں کی آنکھوں میں ویرانیاں جھونک دینے والے دہشت گردو! کسی کے آرزو کے کنول یوں تہہ و بالا کرتے وقت کیا تمہارے ہاتھوں میں ذرا لرزہ طاری نہیں ہوتا؟ کیا تمہارے دل کے در و دیوار پر رحم، ترس اور چنتا نام کی کوئی لہر ٹکریں نہیں مارتی۔ کیا تمہارے دل کی فصیلوں پر ماؤں اور بہنوں کے آنسوؤں کے اتنے کثیر اعداد و شمار بھی اثرانداز
نہیں ہو پاتے۔ کیا بھارت کی گود میں پلنے والی تحریک طالبان نے اپنے مذہب، عقیدے اور انسانیت کو بھی بھارت کے پاس گروی رکھ دیا ہے کیا ان کی سوچ اور فکر کے تمام زاویے بھارت کے پاس رہن رکھے گئے ہیں کیا ان کے حسب و نسب کے تمام سلسلے بھی بھارت کے زیر کفالت ہیں؟
بھارتی اخبار ہندوستان ٹائمز یہ اعتراف کر چکا ہے کہ بھارتی خفیہ ایجنسی را اور تحریک طالبان کے آپس میں گہرے تعلقات ہیں اگرچہ ان مراسم پر امریکہ کو بھی شدید تشویش ہے کیونکہ اس کے نزدیک یہ تعلقات مستقبل میں بھارت کیلئے بھی خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں لیکن ہندوستان ٹائمز ’’را‘‘ اور تحریک طالبان کے ناجائز تعلقات کا بھانڈا تو پھوڑ چکا، یہی نہیں بلکہ بھارت اس حد تک تحریک طالبان کے ساتھ وابستگی اور دل بستگی پر مشتمل مراسم قائم رکھے ہوئے ہیں کہ اس کے کئی سفارتی اہل کار بھی تحریک طالبان کے ساتھ رشتہ داری نبھاتے رہے ہیں اور سی پیک اور بلوچستان میں تخریب کاری میں ملوث رہے ہیں راجیش کمار، اگنی ہوتری، بلبیر سنگھ، انو راگ سنگھ، امردیپ سنگھ، وجے کمار ورما، دھرمیندرا، انند کمار اور جیا بالن سنیتھل تحریک طالبان کو پالتے پوستے رہے ہیں تحریک طالبان کا سابق ترجمان اور خود کو رضا کارانہ طور پر پاکستانی حکام کے حوالے کرنے والا احسان اللہ احسان بھی یہ اعتراف کر چکا ہے کہ تحریک طالبان، بھارتی خفیہ ایجنسی را اور افغان خفیہ ایجنسی این ڈی ایس کے آپس میں رابطے میں ہیں اور افغانستان اور بھارت مل کر پاکستان کو ہدف بنا رہے ہیں۔ بھارت آبی جارحیت سے لے کر لائن آف کنٹرول پر دہشت گردی تک، بلوچستان میں تخریب کاری سے لے کر تحریک طالبان کے ساتھ خفیہ مراسم تک پاکستان کے خلاف ہر محاذ پر سرگرم عمل ہے لیکن ہم ببانگ دہل بھارت کا نام کبھی نہیں لیتے محض چند دبی دبی
مریل اور ناتواں سی آوازیں کانوں سے ٹکرا کر دم توڑ جاتی ہیں کہ اس دہشت گردی میں بھارت ملو ث ہے۔ دنیا یہ سب کچھ جانتے بوجھتے بھی چپ سادھے بیٹھے ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی کرنے کے لئے بھارت کو افغانستان کی سرزمین میسر آ گئی ہے۔ دنیا کی اس سرد مہری کی وجہ خود ہماری سیاسی بے مروتی اور بے توجہی ہے، افغانستان میں بھارتی قونصل خانے دراصل بھارتی دہشت گردی کے اڈے ہیں جن کے متعلق ہم مکمل معلومات رکھنے کے باوجود چپ سادھے بیٹھے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم بھارتی دہشت گردی کو ساری دنیا پر عیاں اور آشکار کرنے میں ناکام رہے ہیں، بھارت کے لئے اپنے دل میں لچک رکھنے والے سیاست دان دراصل بھارتی کردار ہی ہیں اور ان کا کام اپنے مفادات کے سائے تلے بیٹھ کر ہر سمت ڈر کر دیکھنا ہی ہے۔
کہانی میں مرا کردار یہ ہے
مجھے ہر سمت ڈر کر دیکھنا ہے
خزاں آلود خونیں رتیں اگرچہ کچھ طویل ہو گئی ہیں مگر پاک فوج، پولیس اور ایف سی کے اہلکاروں کی جان بازی اور جان سپاری نے ان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔ یہ حقیقت ہے کہ پاکستان میں دہشت گردی آخری سانسیں لے رہی
ہے لیکن بھارت بیک وقت کئی محاذوں پر سرگرم ہے، جس کو ہر محاذ پر لٹھ دکھانا اشد ضروری ہے۔ یہ پاک فوج کی مستقل مزاجی اور قربانیوں کا ثمر ہے کہ اب یہ دہشت گردی برقع پوش ہو کر زنانہ بھیس اختیار کرنے پر مجبور ہو گئی ہے، یعنی ان کا اصل روپ اپنی بساط لپیٹ چکا ہے، بھارت اور اس کے عقیدت مند یاد رکھیں کہ وہ جو بھی بہروپ بدل کر آئیں گے ان کا سواگت ویسے ہی ہو گا جیسے پشاور کے زرعی تربیتی مرکز میں کیا گیا ہے۔ بھارت اس خطے کا سب سے بڑا دہشت گرد ہے اور بھارت کی دہشت گردی اور اس کے بھیانک چہرے کو طشت ازبام کرنے کے لئے ہم نے آج تک وہ توجہ نہیں دی جس کا یہ متقاضی تھا جس کی بڑی وجہ ہمارے سیاست دانوں کے بھارت کے ساتھ وابستہ مفادات ہیں کہ جو ان کی زبانوں پر قفل ڈال رہے ہیں سو جب تک ان مفادات کا کھوج لگا کر ان کا قلع قمع نہیں کیا جاتا، بھارت کی دہشت گردی کو ختم کرنا ممکن نہیں، ہمارے سیاست دانوں کے بھارت کے ساتھ جیسے بھی مفادات وابستہ ہیں بھارت ان کی قیمت ہماری ماؤں کی گود اجاڑ کر اور ہمارے باپوں کے سینے سنسان کر کے وصول کر رہا ہے اور وہ جو بھارت کے آلہ کار ہیں اور وہ بھی جو ان آلہ کاروں کے سہولت کار ہیں وہ سب بخوبی جان لیں کہ پاک فوج کا ہر جاں باز سپاہی تمہارے عزائم کو ٹھکانے لگانے کے فن سے بخوبی واقف ہے۔
کبھی مہک کی طرح ہم گلوں سے اڑتے ہیں
کبھی دھویں کی طرح پربتوں سے اڑتے ہیں
یہ قینچیاں ہمیں اڑنے سے خاک روکیں گی
کہ ہم پروں سے نہیں حوصلوں سے اڑتے ہیں