hafiz shafique ur rehman

رینجرز اور شہر قائد کا امن

ڈی جی رینجرز سندھ میجر جنرل محمد سعید نے ایک نجی ٹی وی پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ’’ایم کیو ایم اور پی ایس پی کا معاہدہ ختم کیوں ہوا؟ اس بارے میں وہ کسی کا نام نہیں لیں گے‘‘۔ سیاست میں اکٹھے ہوں یا علیحدہ، ہم صرف امن چاہتے ہیں، کراچی آپریشن کے حوالے سے تمام سیاسی جماعتوں سے بات چیت ہوتی ہے، معاہدے کے بنیادی نکات میں کسی جماعت کو ووٹ دینے یا سیٹ ایڈجسٹمنٹ کا ذکر نہیں، معاہدہ اسٹیبلشمنٹ نے کرایا تو سوال ہے کیا ان کو جی ایچ کیو بلایا گیا تھا یا وہاں سے کوئی آیا؟ میجر جنرل محمد سعید نے کہا کہ ’’کراچی آپریشن میں رینجرز کا اہم رول ہے۔ اس پر سوالات اٹھائے جاتے ہیں لیکن ہم کراچی میں جو کچھ بھی کر رہے ہیں امن کے لئے کر رہے ہیں‘‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ ’’ستمبر 2013ء میں کراچی آپریشن شروع ہونے سے پہلے کراچی کے حالات کیا تھے، 1995ء سے 2013ء تک کراچی میں تقریباً 30 ہزار لوگوں کی جانیں گئیں‘‘۔کراچی میں روزانہ 8 ٹارگٹ کلنگ اور 2 اغواء برائے تاوان کی وارداتیں ہوتی تھیں، کراچی میں روزانہ 8 کروڑ سے 10 کروڑ روپے بھتہ لیا جاتا تھا، اس کے علاوہ ہر ماہ دہشت گردی کے ایک دو واقعات بھی ہوا کرتے تھے، ہڑتال کے روز ایک دن میں 15 سے 20 ارب روپے کا نقصان ہوتا تھا۔ بسیں جلا دی جاتی تھیں، پٹرول پمپ نذرآتش کر دیئے جاتے تھے۔ 1995ء سے 2013ء تک کراچی میں تقریباً 30 ہزار افراد مارے گئے جس کی بنیاد سیاست بھی تھی، لسانی کشمکش اور فرقہ وارانہ اختلافات اور دہشت گردی بھی تھی جبکہ 1987ء سے 1995ء تک تقریباً 22 ہزار لوگوں کی جانیں گئیں، مجموعی طور پر یہ اعداد 52 ہزار بنتے ہیں۔ 2017ء کے ڈیٹا کے مطابق اب تک تو ان کے صرف 5 کیسز کا اندراج ہوا ہے اس سال میں 13 پولیس اہلکاروں کی ٹارگٹ کلنگ ہوئی، لیکن سیاسی بنیاد پر صرف دو کیس ہوئے ہیں، امن و امان کی حالت یہ ہے کہ چند ہفتے قبل امریکہ سمیت پوری دنیا سے یہاں بوہرہ کمیونٹی کے 50 ہزار افراد آئے ہوئے تھے، امن و امان کی یہ فضا کس وجہ سے پیدا ہوئی ہے؟۔ انہوں نے بتایا کہ ’’یہاں ہمارے دشمن ملکوں کی انٹیلی جنس ایجنسیوں کی بھی مداخلت رہی ہے، لیکن یہ قتل و غارت، مارا ماری، اغواء برائے تاوان اور جلاؤ گھیراؤ تو یہیں کے لوگ کر رہے تھے۔ آج بھی کراچی بدامنی کیس کے فیصلہ کو تفصیل سے پڑھ لیں تو پتا چل جائے گا کراچی میں کس قسم کی سیاست ہو رہی تھی، پورا ملک اس سے متاثر ہو رہا تھا، معیشت متاثر ہونے لگی، پاکستان کا امیج خراب ہونے لگا تو قومی اتفاق رائے کے ساتھ ستمبر 2013ء میں کراچی آپریشن شروع ہوا، سول اور فوجی ادارے ایک میز پر بیٹھے اور رینجرز کو پولیس کے اختیارات حاصل ہوئے، جو کچھ ہو رہا ہے یہ اس پالیسی کا تسلسل ہے‘‘۔ ڈی جی رینجرز نے واضح کیا کہ ہم ایسا کچھ نہیں چاہتے کہ ایم کیو ایم پاکستان اور پی ایس پی ضم ہو جائیں، ہم چاہتے ہیں وہ ضم ہوں یا الگ رہیں، ان کے درمیان کوئی تصادم نہیں ہونا چاہئے۔ انہوں نے بتایا کہ لاپتا افراد کی رہائی کے بارے میں مصطفی کمال کی اپنی رائے ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’’تفتیش کے دوران بے گناہ افراد کو چھوڑ دیا جاتا ہے، ایسے سینکڑوں افراد کو ان کے خاندانوں اور بطور گارنٹی سیاسی جماعت کے نمائندوں کے حوالے کیا گیا، اس سلسلے میں ہمارے پاس ان کے دستخط شدہ سرٹیفکیٹ موجود ہیں، لیاری گینگ وار کراچی کی تاریخ کا خوفناک پہلو ہے، لیاری نوگوایریا بن چکا تھا، آج لیاری میں ان گینگز کا کوئی وجود نہیں، آج وہاں کرکٹ اور فٹ بال کے کھیل ہوتے ہیں، لیاری کو پاکستان کا ایک عام علاقہ بنا دیا ہے، جہاں تک عزیر بلوچ کا تعلق ہے، وہ رینجرز کی حراست میں نہیں ہے‘‘۔
واضح رہے کہ4ستمبر 2013ء کو سابق وزیر اعظم نواز شریف نے کراچی میں وفاقی کابینہ کے خصوصی اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے بدامنی سے نمٹنے کے لیے رینجرز کو مرکزی کردار دینے کی تجویز پیش کی۔ وزیراعلیٰ سندھ کی سربراہی میں ایک کمیٹی تشکیل دی گئی جو اس آپریشن کی نگرانی کرتی ہے۔ اس سے کسی بھی ذی شعور شہری کو مجال انکار نہیں کہ کراچی آپریشن سیاسی مصلحت کے بغیر جاری ہے اور نہ اس پر کسی قسم کا سیاسی دبا ؤہے۔ ان اقدامات کے نتیجے میں آج کراچی کی صورت حال میں نمایاں کمی آ چکی ہے ۔ قتل و غارت، ٹارگٹ کلنگ، بھتہ خوری ختم ہو چکی ہے، شہر کی روشنیاں بحال ہو رہی ہیں اور کاروباری حالات میں مثبت تبدیلی آئی ہے۔ بھتہ خور، لینڈ، ڈرگ، چائنہ کٹنگ ، ٹارگٹ کلنگ اور گینگ وار میں ملوث مافیاز کے اکثر گاڈ فادر روپوش ہیں۔ واضح رہے کہ آپریشن کا آغاز ہوتے ہی تجزیہ کاروں کی رائے تھی کہ ’ اگر ٹارگٹڈ آپریشن کے دوران کراچی میں مفرور33ہزار665مفرور ملزمان کو حراست میں لے کر ان سے ناجائز اسلحہ کی بازیابی کو یقینی بنا لیا جائے تو مستقبل میں امن و امان کی صورت حال میں مزید بہتری آسکتی ہے‘۔ صرف 2برس بعد ہی ستمبر 2015ء کے پہلے ہفتے میں کراچی پولیس کی ایک رپورٹ میں یہ بتایا گیا کہ 5ستمبر 2013سے یکم ستمبر2015 تک کراچی آپریشن کے دوران ایک ہزار 171ملزمان مارے گئے اور64ہزار سے زائد ملزمان کوگرفتار کیا گیا۔یہ بات ریکارڈ پر ہے کہ ڈی جی رینجرز کی جانب سے جون 2015ء میں ایک علامیے میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ’کراچی میں سالانہ سوا دو کھرب روپے سے زائد رقم غیر قانونی طریقوں سے وصول کی جاتی ہے، جس میں لینڈ مافیا، بھتہ خوری اور ایرانی پٹرول کی سمگلنگ وغیرہ شامل ہیں‘۔ اور یہ انکشاف یقیناًمحب وطن عوامی حلقوں کے لیے اذیت ناک تھا کہ ’اس عمل میں سیاسی و مذہبی جماعتیں ملوث ہیں‘۔ اُن کا یہ الزام بھی ریکارڈ پر موجود ہے کہ اس رقم میں سے ایک اعلیٰ شخصیت کو بھی حصہ دیا جاتا ہے اور نجی لشکر بھی اس سے اپنا حصہ پاتے ہیں‘‘۔ دسمبر 2014ء کو اپیکس میٹنگ میں میجر جنرل بلال اکبر نے بریفنگ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’سیاسی رہنما اور بااثر شخصیات غیر قانونی طریقوں سے رقوم حاصل کرنے میں ملوث ہیں، اس طرح کا پیسہ مسلح ونگ اور اسلحہ کی فراہمی پر خرچ ہوتا ہے‘۔ واضح رہے کہ ڈی جی رینجر کے اس بیان کی سابق وفاقی وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے بھی توثیق کی تھی۔ یہ ایک کڑوا سچ ہے کہ رینجرز نے جب بھی کراچی میں کسی سیاسی شخصیت کو حراست میں لیا یا اس کے مرکزی دفتر پر چھاپہ مارا تو سیاسی قائدین کی جانب سے ہمیشہ اس اقدام کے دفاع میں جارحانہ بیانات دیئے گئے۔ ہر جماعت کا یہ دعویٰ ہے کہ’ ہم جمہوریت پسند اور امن پسند جماعت ہے اور اس کی شخصیات کی گرفتاری اور دفاتر پر چھاپے ناقابل فہم ہیں‘۔ یہ جماعتیں اپنے دفاتر میں موجود اسلحہ کو لائسنسی قرار دیتی رہیں اور دعویٰ کرتی رہیں کہ یہ اسلحہ انہوں نے دہشت گردوں سے بچاؤ کے لیے رکھا ہوا ہے کیونکہ ہمیں دہشت گردوں کی جانب سے دھمکیاں مل رہی ہیں۔ یہ ایک زمینی حقیقت ہے کہ پہلے 2برسوں ہی میں رینجرز نے کراچی کے تقریباً 80 فیصد سے زائد علاقوں سے نو گو ایریاز کو ختم کر دیا تھا۔بعد ازاں کراچی شہر سے خوف کی فضا بتدریج ختم ہونے لگی ۔ کراچی کی وہ بدامنی میں جہاں غنڈہ عناصر سیاسی جماعتوں کی پشت پناہی حاصل کرتے تھے، وہیں اْن کی دیکھا دیکھی نوجوان نسل بھی محنت کے بجائے ‘‘شارٹ کٹ’’کے چکر میں تعلیم سے دور ہوکر ‘‘ٹی ٹی’’ کے قریب ہونے لگی تھی۔ گلی محلوں میں مقامی بدمعاشوں کی اتنی کثرت ہوگئی کہ شریف انسان کا اس ماحول میں جینا محال ہو چکا تھا، مگر جب کراچی آپریشن کے نتائج سامنے آنا شروع ہوئے، جرائم پیشہ لوگ قانون کی گرفت میں آنا شروع ہوئے تو ان موسمی بدمعاشوں نے بھی توبہ کرنا شروع کر دی۔ اگر آپ کراچی میں رہنے والے ایک عام آدمی سے پوچھیں تو وہ یہ ہی کہے گا کہ کراچی میں بہتری آئی ہے۔ دہشت گردی کی لعنت کا خاتمہ اور مستقبل کی نسلوں کے لیے محفوظ پاکستان کو یقینی بنانا رینجرز کی اولین ترجیح ہے۔قانون نافذ کرنے والے اداروں اور رینجرز کی مربوط کوششوں نے بیرون ملک پاکستان کا امیج بہتر بنایاہے۔ نتیجتاً دنیا بھر کے بزنس لیڈر اب پاکستان بارے بہتر سوچ رکھتے ہیں۔
دریں چہ شک کہ قومی سلامتی کے محافظ اداروں کے غازیوں کے ایثار اور شہداء کی لائقِ رشک قربانیوں کی وجہ سے ارضِ پاکستان اس کے ازلی دشمنوں کی جلی و خفی سازشو ں کے باوجود ایک ناقابل تسخیر ملک ہے۔ ہمارے یہ شہداء بلاشبہ ہمارا قیمتی سرمایہ ہیں۔ کسی ایک شہید کی شہ رگ سے ٹپکنے والے خونِ شہادت کے گلابی قطرے بارے یہ بات بلاخوفِ تردید کہی جاسکتی ہے کہ وہ مرگ ناآشنا اور اجل ناشناس ہوتا ہے۔ خونِ شہادت کا یہ قطرہ ہی واحد قوت ہے جو موت کو بھی شکست دینے کی قدرت رکھتا ہے۔ قرآن کی نص صریح ہے کہ ’ان لوگوں کو جو اللہ کے راستے میں لڑتے ہوئے اپنی جان کا نذرانہ پیش کر دیں انہیں مردہ مت کہو، وہ زندہ ہیں لیکن تمہیں اس کا شعور نہیں‘۔ یہ امر پاکستانی قوم کے لئے موجب طمانیت ہے کہ سکیورٹی فورسز کے جوانوں نے دفاعِ پاکستان، بقائے پاکستان، استحکامِ پاکستان اور سالمیتِ پاکستان کے لئے نائن الیون کے بعد جو جرأت بہادری اور ایثاروقربانی کی جو روشن مثالیں قائم کی ہیں وہ تاریخِ پاکستان میں آبِ زر سے لکھنے کے قابل ہیں۔
پاکستان میں کرکٹ میچوں کے پر امن انعقاد میں حکومت سول انتظامیہ، پی سی بی، فوج، رینجرز ارو دیگر سکیورٹی اداروں کا کردار روشن چراغ کی طرح ہے۔ تمام اداروں نے اشتراک عمل اور اعلیٰ درجے کی منصوبہ بندی کر کے اور اس پر عمل درآمد کر کے ان میچوں کا انعقاد ممکن بنایا ہے۔ چیمپئیز ٹرافی میں کامیابی کے بعد پی سی بی کے مطالبے پر آئی سی سی نے ستمبر میں ورلڈ الیون پاکستان بھیجنے کا اعلان کیا۔ پاکستان میں سیاسی حالات میں پیدا ہونے والی تبدیلی اور غیر یقینی کے باوجود پنجاب حکومت نے پی سی بی کو ورلڈ الیون کے پاکستان آنے پر تمام انتظامات کرنے کی یقین دہانی کرائی اور لاہور میں ہونے والے ضمنی انتخاب کی مہم کے باوجود پنجاب حکومت نے فوج، رینجرز اور پولیس کے ساتھ اشتراک عمل سے بھرپور سکیورٹی پلان بنا کر ورلڈ الیون کے تینوں میچوں کا کامیاب انعقاد کر لیا۔سکیورٹی اداروں نے جس طرح سے فرائض انجام دیئے اور پر امن طور پر میچ کا انعقاد کرانے میں کامیاب رہے وہ قابل ستائش ہے۔پی سی بی کے چیئرمین نجم سیٹھی نے وزیراعلیٰ سندھ سے کراچی جا کر ملاقات کر کے پی ایس ایل کے اگلے ایڈیشن کے 4 میچ کراچی میں کرانے کا اعلان کیا۔ کراچی میں رینجرز کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کرنے کی مکمل آزادی دی گئی جس کے بعد کراچی کے حالات میں بھی بہتری آئی اس کا نتیجہ ہے کہ پی ایس ایل کے 4 میچ کراچی میں ہونا طے ہو چکا ہے۔ پاکستانی اپنے سکیورٹی اداروں، کرکٹ بورڈ اور سری لنکا کی کرکٹ ٹیم کے مشکور ہیں جنہوں نے ان پر بین الاقوامی کرکٹ کے دروازے وا کر دیئے۔ زندہ باد پاکستانی قوم، زندہ باد سکیورٹی ادارے۔