bushra ejaz copy

ریل گاڑی سے اورنج لائن تک!

ریل گاڑی سے اورنج لائن ٹرین تک کا سفر، زمانی لحاظ سے چاہے جتنا بھی ہو، مگر غور کیا جائے تو محض ایک پل کی بات لگتی ہے۔ ایک پل جس میں صدیاں جی جاتا ہے انسان! پیچھے مڑ کر دیکھتی ہوں تو ریل گاڑی کے رومینس کے عجب عجب نظارے دکھائی دیتے ہیں۔ جس نے انیسویں صدی کے اوائل میں انڈوپاک کی سماجی اور معاشرتی زندگی میں انقلاب برپا کر دیا۔ وہ صنعتی انقلاب جو دوسری جنگ عظیم کے بعد دنیا کا نقشہ تبدیل کر گیا، اور جس نے جنگوں سے مسمار ملکوں (خصوصاً یورپی ممالک) کو ترقی کے نئے موڑ پر لا کھڑا کیا۔ یہ ریل گاڑی (جسے اپنے ہاں شروع شروع میں عام سادہ لوح عوام دھوئیں کی گاڑی کہا کرتے تھے)اسی صنعتی انقلاب کا اہم حصہ تھی، جو سپاہیوں اور اسلحے کی نقل و حرکت کے علاوہ عوامی زندگی کی سست رفتار کو تیز کرنے کا وسیلہ بھی ثابت ہوئی۔ چنانچہ اس دور کی تاریخ ہو یا ادب، سماج ہو یا سیاست، جنگیں ہوں یا انقلابی مہمات، سب میں ریل گاڑی کا اہم کردار دکھائی دیتا ہے۔ رشین انقلاب پر مشتمل بورس پیٹرناک کا ڈاکٹر ژواگو، جب اشتراکی انقلاب کے مضمرات کا ذکر کرتا ہے تو اس میں ریل گاڑی ایک حقیقت کی طرح دکھائی دیتی ہے، جس میں سرخ انقلاب کی ’’افتاد‘‘ سے گھبرائے مزدور، عام روسی اور ناول کا ہیرو، برف سے ڈھکے میدانوں کے طول و عرض میں دوڑتی اور چنگھاڑتی ریل کے ڈبوں میں بیٹھے ایسے مسافروں کی طرح دکھائی دیتے ہیں جن کی منزلیں گم ہو گئی ہوں۔
ہمارے ہاں اے حمید ہوں یا احمد ندیم قاسمی، خوشونت سنگھ ہوں یا بیپسی سدھوا، سبھی کے ہاں ریل گاڑی ماضی کے مضبوط حوالے کے طور پر دکھائی دیتی ہے، خصوصاً قیامِ پاکستان کے خونچکاں واقعات پر لکھی تحریریں، جن میں ریل گاڑی مہاجرین کی کٹی پھٹی لاشوں اور لاشوں کے نیچے دبے اکا دکا زندہ انسانوں کو لے کر، جب لاہور سٹیشن رکتی تھی، کہرام مچ جاتا تھا ہر جانب۔! لاکھوں کی تعداد میں مہاجرین کی دونوں ملکوں میں منتقلی اسی ریل گاڑی کے ذریعے ہوئی، جس کی زبوں حالی اور کسمپرسی پر وہ سبھی افسردہ ہیں۔ جنہوں نے اپنے بچپن میں ریل کی سیٹی، شہروں کی فضاؤں میں گونجتے، اُبھرتے اور پھر معدوم ہوتے دیکھی ہے۔ ریلوے سٹیشن کے رومینس میں جن کے ننھے دل دھڑکے ہیں اور جو اپنی ماؤں اور باپوں کی انگلی پکڑے، کالے سیاہ مہیب انجن کی گڑگڑاہٹ سے سٹیشن کی ہلتی ہوئی زمین پر گرتے گرتے بچے ہیں اور جنہوں نے قطار در قطار ریل کے چمکیلے ڈبوں کو تیزی سے ایک دوسرے کے پیچھے گزرتے دیکھا ہے، ریل کی کھڑکی سے جھانکتے چہروں کی جھلک، ہوا میں لہراتا کوئی خوش رنگ آنچل، کسی نسوانی ہاتھ میں کھنکتی چوڑیوں کا تیزی سے ’’واردات‘‘ ڈال کر گزر جانا یہی تھا، ریل کا رومینس، جس نے عوامی زندگی میں تیز اور تیکھے رنگ بھر رکھے تھے۔
وہ زمانہ جو اب خواب ہوا، اور خواب سے اک گزرا خیال بن کر رہ گیا، جو اس زمانے کو اب بھی جیتے ہیں اور ریل گاڑی اور اس کی سیٹی کے عشق میں مبتلا ہیں، اور ریل کی اکھڑی ہوئی پٹریوں اور زنگ آلود ڈبوں کو اتنے ہی دکھ سے دیکھتے ہیں، جیسے اپنے آبائی مکانوں، پرانے قصبوں، بوڑھی بوسیدہ ہو جانے والی ان قبروں کو جن پر کوئی پھول چڑھانے اور فاتحہ گزارنے نہیں جاتا۔ چنانچہ ماضی کی پرانی یادگاریں ہوں یا ریل گاڑی کی ثقافتی، سماجی اور عوامی حیثیت کا خاتمہ، یہ باب اتنا تکلیف دہ ہے کہ اسے کھولنا بجائے خود ایک عذاب ہے۔
مجھے یاد ہے میرے شہر سرگودھا کا چھوٹا سا ریلوے سٹیشن، 60ء کی دہائی میں عوامی اجتماع کا ایک ایسا مرکز تھا، جہاں ہر رنگ، ہر قوم، ہر مقامی غیرمقامی بولی کا بندہ دکھائی دے جاتا تھا۔ چناب ایکسپریس، سپر، تیزگام اور پسنجر کی سیٹیاں، قلیوں کی بھاگ دوڑ، مسافروں کی گاڑی آ جانے پر بوکھلاہٹ، برقع پوش خواتین، الجھتے قدموں کی رفتار اور پکوڑے گرے، انڈے گرے کی آوازیں، مل جل کر جو ردھم بناتی تھیں، اس کا مقابلہ دنیا کی کوئی سمفنی نہیں کر سکتی۔ملک کے طول و عرض سے حجازِ مقدس جانے والے مسافر بھی ٹرینوں کے ذریعے ہی کراچی جایا کرتے تھے۔ (اس زمانے میں بحری و بری جہاز کراچی سے ہی روانہ ہوا کرتے تھے حجاج کو لے کر) وہ ایک عجیب منظر ہوا کرتا تھا، حاجیوں کا سامان، جس میں دالیں، گھی، چینی پتی، بستر بند اور بستر بند کے ساتھ سلور کے بڑے سے لوٹے کا شمار ضروری آئٹمز کے طور پر ہوتا تھا، جن کے بغیر ایک حاجی کا تصور ممکن ہی نہ تھا ۔ اس پر طُرہ، ایک حاجی کے ساتھ بھانت بھانت کے رشتہ داروں کا پورا قافلہ، جو سٹیشن ٹکٹ لے کر حاجی کو الوداع کہنے آیا کرتا تھا، سو، ایک حاجی کا سوئے حرم جانا اور ایک لمبے چوڑے قافلے کا اسے الوداع کہنا، ریلوے سٹیشن کے مناظر کا ایسا حصہ تھا جس کے بغیر ریل اور ریلوے کی کہانی ادھوری لگتی ہے۔
اور تو اور، اس زمانے میں اخباریں اور رسائل بھی ریلوے سٹیشنوں پر ہی دستیاب ہوتے تھے۔ اعلیٰ ادبی پرچوں سے لے کر فلمی رسائل اور لوک داستانوں سے لے کر جنتریوں تک، ان سٹالز پر موجود ہوتے تھے، جنہیں ریل گاڑی کے انتظار میں سٹیشن پر بیٹھے مسافر خریدنا ضروری سمجھتے تھے، تاکہ دورانِ سفر بوریت کا احساس نہ ہو۔ بوگی کی اوپر والی برتھ کے لئے باقاعدہ جھگڑا ہوا کرتا تھا، بچوں میں جس پر وہ بندروں کی طرح لٹکتے دکھائی دیتے تھے۔
اس عوامی ذریعۂ سفر کو اور اس کی تاریخی اور ثقافتی حیثیت کو، کوچ اور Daewoo کلچر نگل گیا۔ وہ عوامی کی شاہی سواری، جس پر بڑے بڑے امراء اور رؤسا سفر کرنا اپنا فخر سمجھتے تھے، اسے ٹرانسپورٹ مافیا نے اس نہج پر پہنچا دیا کہ آج وہ اپنی آخری سانسیں لے رہی ہے اور ہمارے حکمران اس کی ٹوٹتی نبضیں بحال کرنے کے بجائے اورنج ٹرین کے لئے لاہور کو اکھاڑے بیٹھے ہیں۔ یہ اگاڑ پچھاڑ، اگر محض سڑکوں کی حد تک ہوتی تو خیر تھی مگر یہ اگاڑ پچھاڑ تو ہمارا وہ تاریخی ورثہ بھی کھائے چلی جا رہی ہے جس کی بنا پر لاہور آج بھی تخت لاہور کہلاتا ہے، جی ہاں، وہی تخت لہور، جس کے بارے میں میرے بابے بلّھے شاہؒ نے کبھی ایک نعرۂ مستانہ بلند کرتے کہا تھا :
عرش منور بانگاں ملیاں
سنیاں تخت لہور۔۔۔!
یہ تخت لہور جو میرے قصوری بابے کے مرشد کا شہر تھا، جسے منانے وہ پاؤں میں گھنگھرو باندھے، سوہے ساوے چولے پہنے، ’’تیرے عشق نچایا کر تھیا تھیا‘‘ الاپتے قصور سے لہور تک چلے آئے تھے۔ اسی تخت لہور میں دو منزلہ اورنج بس (جسے موجودہ حکمران اپنا تاریخی کارنامہ ثابت کرنے پر تلے ہوئے ہیں) کھا کے چلی جا رہی ہے، ان ہزاروں تاریخی عمارتوں، جی پی او اور چوبرجی کو، جو اس لہور کا حسن، اس کا Heritage اس کی شان ہیں۔ سارا ملک چیخ رہا ہے، سارا لاہور سراپا احتجاج ہے، خدا کے لئے اس شہر کو سیمنٹ سریے کا پہاڑ نہ بناؤ، اسے، اس کے باغوں، پارکوں، تاریخی عمارتوں اور پرانی ثقافتوں کے ساتھ جینے دیں۔
اگر زیادہ ہی ترقی و تعمیر کا شوق ہے تو خدارا، عوامی رومینس، ہماری ریل، ہمارے ریلوے کو زندہ کر دو۔ عوام کو اس ٹرانسپورٹ مافیا کے چنگل سے رہا کر دو۔ آخر بھارت میں بھی تو یہ رومینٹک سواری پوری شان سے زندہ ہے اور عوام کو سفری سہولیات بھی مہیا کر رہی ہے اور اس پرانے رومینس سے بھی جوڑے ہوئے ہے جو اے حمید، احمد ندیم قاسمی اور خوشونت سنگھ کی تحریروں میں اب بھی زندہ ہے۔!
لاہور کا ریلوے سٹیشن جس کی فضا کبھی زندگی کی رونقوں، ہنگاموں سے بھرپور تھی، آج اس کا سناٹا، زبوں حالی، گندگی اور کسمپرسی دیکھ کر، ایسا ہی افسوس ہوتا ہے، جیسا اورنج لائن کے لئے اکھاڑی جانے والی تاریخی عمارتوں کو دیکھ کر۔ کیا اس تیزرفتار اور بے برکت ترقی میں انسان اور اس کے رومینس کی کوئی جگہ نہیں؟