tofeeq butt

رونانہیں بابا !

ایک بات بتاﺅں بابا، مجھے اپنے مرنے کا دُکھ نہیں ہے، مجھے دُکھ اِس بات کا ہے آپ عمرے پر گئے ہوئے تھے اور میں جاتے ہوئے آپ سے مل نہ سکی۔ میں نے سوچا ہوا تھا آپ جب عمرے سے واپس آئیں گے میں آپ کو ڈھیرسارے ہار پہناﺅں گی۔ مگر میں خود ہار گئی۔ بابا اماں اکثر مجھے بتاتی تھیں زینب تم جب پیدا ہوئی تمہارے بابا بہت خوش تھے۔ اُنہوں نے سارے محلے میں برفی اور اندرسے بانٹے تے، میں نے اماں سے پوچھا ”ہمارے معاشرے میں بیٹیوں کے پیدا ہونے پر تو اکثر والدین اُداس ہو جاتے ہیں، بلکہ میں نے تو یہاں تک سنا ہے عورت مسلسل تین چار بیٹیاں پیدا کرے اُس کا خاوند اِس بات پر ناراض ہوکر اُسے طلاق تک دے دیتا ہے۔ لوگ الگ طعنے دیتے ہیں یہ بیٹا پیدا کرنے کے قابل ہی نہیں ہے۔ اِن حالات میں میری پیدائش پر بابا اتنے خوش کیوں ہوئے تھے؟“۔ اماں بولیں ”تمہارے بابا بہت نیک آدمی ہیں۔ تمہاری پیدائش پر اُنہوں نے مجھے ایک واقعہ سنایا تھا۔ ایک بار حضرت موسیٰ ؑنے اللہ سے پوچھا ” جب آپ بہت زیادہ خوش ہوتے ہیں کیا کرتے ہیں؟“ اللہ نے فرمایا ”میں بنجرزمین پر بارشیں برساتاہوں“….پھر پوچھا ”جب آپ کسی سے بہت ہی زیادہ خوش ہوتے ہیں تب کیا کرتے ہیں ؟“۔اللہ پاک نے فرمایا ”تب میں اُس کے گھر مہمان بھیجتا ہوں“….حضرت موسیٰ ؑنے تیسری بار پوچھا ” اور اللہ پاک جب آپ کسی سے سب سے زیادہ بہت ہی زیادہ خوش ہوتے ہیں تب کیا کرتے ہیں؟ “اللہ پاک نے فرمایا ”تب میں اُسے بیٹیاں دیتا ہوں“….اِس لیے جب تم پیدا ہوئی تھی تمہارے ابا بڑے خوش تھے۔ اُنہوں نے فرمایا تھا اللہ مجھ سے راضی ہے“۔ اماں نے بتایا تمہاری پیدائش پر میں نے کچھ فیشنی سے نام سوچے ہوئے تھے، مگر بابا نے تمہارا نام زینب رکھا۔….بابا مجھے پتہ ہے آپ مجھ سے بہت پیار کرتے تھے، میں بھی آپ سے بہت پیار کرتی تھی۔ بیٹیوں کو قدرتی طورپر باپ سے بہت پیار ہوتا ہے۔ مجھے آپ سے کچھ زیادہ ہی پیار تھا۔ آپ جب تک رات کو گھر واپس نہ آتے مجھے نیند نہیں آتی تھی۔ ….سوری بابا مجھے پتہ ہے اب آپ کو میرے بغیر رات کو نیند نہیں آتی ہوگی، مگر بابا زندگی اور موت پر تو کسی کا اختیار نہیں ہے، البتہ ایک دو روز میں اللہ سے میری ملاقات ہوئی میں یہ گِلہ ضرور کروں گی مجھے اُس معاشرے میں کیوں پیدا کیا جہاں درندے، انسانوں سے کئی لحاظ سے بہتر ہیں ؟ میں یہ بھی اللہ سے پوچھوں گی جو کچھ یہ انسان کررہے ہیں یہ اشرف المخلوق کہلوانے کے لائق ہیں؟…. بابا اماں مجھے روزانہ صاف ستھرے کپڑے پہنا کر سکول بھیجا کرتی تھی۔ سکول کے قریب گندگی کے کئی ڈھیر تھے ۔ میں ہمیشہ اُن سے بچ کر چلتی تھی کہیں میرے کپڑے خراب نہ ہو جائیں ۔ درند بڑا خراب تھا۔ درندے نے درندگی کے بعد مجھے گندگی کے ایک ڈھیر پر پھینک دیا۔ میرے سارے کپڑے خراب ہوگئے۔ شکر ہے میں وہاں سے سیدھی قبرمیں آگئی ورنہ ماما نے مجھے ڈانٹنا تھا تم نے کپڑے کیوں گندے کیے؟ ۔…. بابا آپ روئیں نہیں ،بلکہ اللہ کا شکر ادا کریں آوارہ کتوں نے گندگی کے ڈھیر پر پڑی میری لاش کی بوٹیاں نہیں نوچ لیں۔ ویسے ہوسکتا ہے آوارہ کتوں نے میرے لاش دیکھی ہو اور شکر ادا کیا ہو وہ انسان نہیں بنائے گئے ، ایک ”انسان“ نے جوکچھ میرے ساتھ کیا اُس پر درندے بھی فخرکرتے ہوں گے وہ انسان نہیں بنائے گئے ،….اور ہاں بابا یاد آیا میری موت پر جو نظمیں وغیرہ لکھی جارہی ہیں اُن میں یہ تاثر دیا جارہا ہے میں شاید انسانی درندے کے ساتھ کسی ٹافی یا چاکلیٹ وغیرہ کے لالچ میں چلی گئی تھی۔ ایسا نہیں ہے بابا۔ ٹافیاں اور چاکلیٹیں میرے پاس بہت تھیں۔اصل میں اس نے مجھ سے پوچھا تھا تمہارے امی ابو کہاں ہیں ؟ میں نے اُنہیں بتایا وہ عمرے پر گئے ہوئے ہیں۔ اس نے مجھ سے کہا ”میرے ساتھ چلو میں تمہیں گلاب کے ہار لے کر دیتا ہوں، تمہارے امی ابو جب عمرے سے آئیں گے تم یہ ہار اُنہیں پہنانا، وہ بہت خوش ہوں گے “۔….بابا آپ یہی سمجھنا میں آپ کے لیے گلابوں والے ہار لینے گئی ہوئی ہوں۔ مجھے قبر کے اندر سے گلابوں کی خوشبو آرہی ہے۔ مجھے پتہ ہے میری قبر گلاب کی پتیوں سے لدی پھندی ہے۔ میرا جی چاہتا ہے قبر سے نکل کر گلاب کی یہ ساری پتیاں اکٹھی کرکے آپ کے پاس لے آﺅں اور عمرے کی سعادت حاصل کرنے پر آپ پر نچھاور کردوں۔…. مگر بابا آپ کو تو پتہ ہی ہے جب کوئی ایک بار قبر میں چلے جاتا ہے پھر باہر نہیں نکل
سکتا،…. بابا یاد ہے آپ جب عمرے پر جانے لگے آپ نے مجھ سے پوچھا تھا تمہارے لیے کیا لے کر آﺅں؟ میں نے کہا تھا مجھے کچھ نہیں چاہیے، بس آپ خیریت سے واپس آجائیں، شکر ہے آپ واپس آگئے۔ البتہ ایک بات کا بہت زیادہ دُکھ ہے میں ایئرپورٹ پر آکر آپ کو ویلکم نہیں کہہ سکی، آپ کو ہار نہیں پہنا سکی، آپ کا ماتھا نہیں چُوم سکی، اور آپ کے ساتھ ایک سیلفی نہیں بناسکی۔ آپ ایک روز کے لیے بھی سکول سے مجھے چھٹی نہیں کرنے دیتے تھے، آج کتنے دنوں سے میں سکول نہیں گئی اورآپ نے اِس بات پر مجھے ڈانٹا بھی نہیں۔ ویسے آپ نے مجھے کسی بات پر کبھی نہیں ڈانٹا تھا۔اماں جب کبھی کسی بات پر مجھے ڈانٹتی آپ اُنہیں روک دیا کرتے تھے، مگر اب شاید آپ کا یہ جی چاہتا ہوگا مجھے ڈانٹیں، اِس بات پر کہ میں کیوں آپ کو چھوڑ کر چلی گئی ہوں؟۔ بابا میں کوئی اپنی مرضی سے تھوڑی آپ کو چھوڑ کر گئی ہوں،یہ اللہ کی مرضی بھی نہیں تھی۔ بس انسانی مرضی کام کر گئی۔ میں نے تو آپ سے کہا تھا عمرے پر مجھے ساتھ لے جائیں، آپ نے فرمایا تھا ”تم ابھی چھوٹی ہو، تھوڑی بڑی ہو جاﺅ گی تمہیں بھی لے جائیں گے“، درندے کو شاید معلوم نہیں تھامیں ابھی بہت چھوٹی ہوں، وہ خود بھی بہت ”چھوٹا“ نکلا۔ میرے خیال میں اس کی کوئی بیٹی نہیں تھی، اور اسے بیٹی کے رشتے کا تقدس معلوم نہیں تھا۔ اب میں سوچتی ہوں کاش آپ عمرے پر مجھے ساتھ لے گئے ہوتے، انسانی درندہ جب میرا گلہ دبا رہا تھا میں نے شکر کیا آپ اُس وقت پاس نہیں تھے ورنہ آپ کی اس سے لڑائی ہو جانی تھی، ممکن ہے اُس لڑائی میں آپ کو چوٹ لگ جاتی، مجھے اِس کی بہت تکلیف ہونی تھی، …. بابا مجھے پتہ ہے میری جدائی آپ سے برداشت نہیں ہورہی ہوگی۔ مجھ سے بھی نہیں ہورہی، میں یقیناً اپنے اللہ کے پاس ہوں جو بے شک انسان سے ستر ماﺅں سے بڑھ کر پیار کرتا ہے، پر امّی ابو بھی اللہ ہی دیتا ہے اور امّی ابوتوامّی ابو ہی ہوتے ہیں، وہ پاس نہ ہوں تو دل بہت گھبراتا ہے۔ مگر بابا پلیز صبر کرنا ۔ البتہ ایک گزارش میں آپ سے ضرور کرنا چاہتی ہوں، اب کبھی یہ خواہش مت کرنا آپ کے گھر بیٹی ہو۔ اب بیٹی کی پیدائش پر مٹھائیاں مت بانٹنا۔ اماں کو حضرت موسیٰ ؑوالے قصے مت سنانا۔ میں اب اللہ کے پاس ہوں تو میں بھی اللہ سے کہوں گی اُس معاشرے کو بیٹیاں عطا کرنا بند کردے جہاں درندے اِس یقین میں مبتلا ہیں اُنہیں کبھی موت نہیں آئے گی۔ جہاں حکمران بے حِس ہو چکے ہیں۔ جہاں جنگل کا قانون، انسانوں کے قانون سے ہزار درجے بہتر محسوس ہوتا ہے ۔ جہاں پھولوں کو کھِلنے سے پہلے ہی مسل دیا جاتا ہے !