rana amir javed  Jaiza

رمضانِ پاکستان

میں جیسے ہی گاڑی سے اُترا تو لوگوں کا ہجوم لگا ہواتھا،ہجوم دیکھ کرمیں نے تین چار قدم بڑھا کردیکھا تو پھل فروش اورروزہ دار گاہک آپس میں جھگڑرہے تھے ،پوچھ تاچھ کے بعد پتا چلا کہ جھگڑے کا سبب پھل فروش کی ’چرب زبانی‘اور ’ فنکاری‘ بنی ہے۔ پھل فروش اُونچی آوازمیں آڑوکا ریٹ بیس روپے پاؤ بتا رہا تھا جب پھل فروش نے ایک پاؤ آڑو شاپرمیں ڈال کرد یے توگاہک نے بیس روپے کا نوٹ پھل فروش فنکارکو دیا توفنکار صاحب نے کہا جناب دس رو پے اور دو گاہک نے کہا آپ ابھی تو بیس روپے پاؤ کی آوازلگا رہے تھے اب تیس روپے کیسے ہوگئے ؟تو پھل فروش نے کہا بھائی جان تیس روپے کی آواز لگائی ہے، شایدآپ کو روزے کی وجہ سے مغالطہ لگا ہے ۔ عزیز قارئین! اصل میں یہ ساراچکر ’قافیہ‘ اور’ ردیف‘ کا تھا یعنی بیس روپے اورتیس روپے کی ہم آواز میں دُکان دار اکثر گاہکوں کودھوکہ دے جاتے ہیں۔ آوازبیس روپے پاؤکی ہوتی ہے جب وہ شاپرمیں پھل ڈال دیتے ہیں توکہتے ہیں جی تیس روپے کی آواز لگا ئی تھی ۔اسی طرح پھل فروش گاہکوں کو متوجہ کرنے کے لیے ریڑھی پرصحت مند پھل بڑے سلیقے، طریقے اور ترتیب سے سجاکرلگاتے ہیں اور ناقص داغ دار پھل ایک طرف رکھ دیتے ہیں اور پھر آنکھ بچا کر بڑی صفائی سے گلے سڑے پھل صحت مند پھلوں میں ڈال دیتے ہیں۔ آواز سوروپے کلوکی لگاتے ہیں جب گاہک سوروپے کی آوازاورپھل کا جائزہ لیتا ہے تو اس کا دِل للچانے لگتا ہے اوروہ پھلوں کو للچائی نظروں سے دیکھ کر خیال کرتا ہے اتنا سستا پھل ۔۔۔بس یہ سوچ کروہ جیسے ہی مسکراتا ہوا پھل فروش کے پاس آتا ہے توپھل فروش اسے بتاتا ہے جناب 100روپے کلو والا پھل تو یہ رکھاہوا ہے یہ پھل تو 200روپے کلوہے ۔بس یہ سن کر گاہک بے چارے
کا دل ٹوٹ جاتا ہے۔ روزوں سے چارروز قبل میں نے آلوبخارا 120روپے کلوخریدا اورپہلے روزے اسی آلوبخارے کا ریٹ290روپے کلو ہوگیا۔ دوسرے روزے کی بات ہے صبح دس بجے میں نے شدیدگرمی کی شدت کو محسوس کرتے ہوئے 140روپے کے کلولیموں خریدے شام کوانہی لیموں کا ریٹ 250روپے کلوہوگیا۔ وجہ گرمی کادرجہ حرارت بڑھنا تھا، آٹھوے روزسستارمضان کا وزٹ کیا تواپنے دوست سے پوچھا یار یہ بچے اتنی تعدادمیں آٹے کے پیکٹکیوں خریدرہے ہیں؟ خواتین کی توبات سمجھ میں آتی ہے میری بات سن کر روزے دار دوست ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہنے لگا بات دراصل رانا بھائی یہ ہے کہ ان میں سے زیادہ تربچوں کو گلی محلے کے دُکانداروں نے بھیجا ہے سستا بازارمیں آٹے کاپیکٹ ایک سے زیادہ نہیں دیتے، دُکان دار بچوں اور غریب عورتوں کو آٹے کے پیکٹ خریدنے کے لیے پیسے دیتے ہیں اورایک پیکٹ آٹا خریدنے پر ان بچوں اورغریب عورتوں کووہ پچاس روپے کا لالچ دیتے ہیں اور پھریہی دکاندار سستا آٹا مہنگے داموں بیچتے ہیں بات سمجھ میں آگئی۔ بہت سے پیشہ ور اورصحت مند نوجوان فقیروں کو دیکھا جو اپنے بیوی بچوں سمیت جسم کے مختلف اعضاء پر کیمیکل لگا کر مصنوئی قابل رحم زخم بنا کر لوگوں سے رمضان شریف اورنمازروزے کی قبولیت کے واسطے دے کر بھیک مانگ رہے تھے۔ تھوڑا سا آگے گیا تو ایک جان پہچان والے بندے کو دیکھا جس نے ایک چھوٹا سا سٹال لگا رکھا تھا ،اور پریشانی اس کے چہرے سے جھلک رہی تھی۔ اس بندے کے ایک قریبی رشتے دار کا سخاوت میں بڑا نام اورمقام ہے، وہ اس کو ایک اچھا کاروبار بھی کرواسکتا ہے، روزگارکے لیے دبئی اورسعودی عرب بھی بھجوا سکتا ہے پتا نہیں کیوں ہم لوگ اپنے غریب رشتے داروں کو نظراندازکردیتے ہیں،اللہ کریم قرآن پاک میں فرماتا ہے رشتے داروں کو ان کا حق اداکرواوراس بارے میں تونبی کریمؐ کا فرمانِ عالی شان ہے۔کسی مسکین پرصدقہ کرنا(صرف)صدقہ ہے اور یہی صدقہ کسی (غریب)رشتہ دارپرکیا جائے تواس کی حیثیت دوگنی ہوجاتی ہے۔ ایک صدقہ کی اوردوسری صلہ رحمی کی‘‘۔رمضان المبارک کا مہینہ احساس،سخا وت ،غمگساری ،رحمتوں ،برکتوں اور مغفرتوں والا مہینہ ہے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں مالک کو حکم دیا گیا ہے کہ وہ روزہ دار ملازم کے کام میں نرمی کردے۔ یہ وہ مہینہ ہے جس میں سخاوت کرنے کوکہا گیا ہے اسی مہینے کے آخر میں’ فطرانے والی عید ‘ یعنی عیدالفطر کا نام دیا گیا ہے ۔ روزہ داروں کی افطاری کے لیے لوازمات سب کے سب الحمدللہ ہم مسلمانوں کی پراڈکٹس ہیں۔ کھجور،چینی،بیسن،آٹا اورپھل سب کی سب مسلمانوں کی پراڈکٹس ہیں،رمضان المبارک ہویاپھرکوئی اورتہوار ہما رے ہاں چیزوں کو مہنگا کردیا جاتا ہے ۔سستے رمضان میں سستی چیزیں خرید کر باہر مہنگے داموں فروخت کرتے ہیں،رمضان المبارک گناہوں سے پرہیز کا مہینہ ہے، رمضان صدقے کا مہینہ ہے، یہ مہینہ احساس کا مہینہ ہے۔ نبی کریم ؐ نے فرمایا جوشخص جفت(دودو چیزیں)صدقہ کرتا ہے جنت کے فرشتے اسے آٹھوں دروازوں سے آوازیں دیں گے کہ تم ہمارے دروازے سے داخل ہوجاؤ۔حضرت عائشہؓ فرماتی ہیں رسولؐ اللہ اس مہینے میں تیزہواسے زیادہ سخی ہوجایا کرتے تھے۔آج کل لوگ روزہ رکھ کر موبائل فونزمیں فلمیں ڈاؤن لوڈ کرواکے انہیں دیکھ کر دِن گزارتے ہیں جب کہ نوجوان نسل انٹرنیٹ کیفوں یا موبائل فونز پر بات چیت اور میسج کرنے میں گزاردیتی ہے کچھ سحری کرکے لمبی تان کرسو جاتے ہیں اورعصرکے وقت بیدارہوکر نہادھوکرٹی وی دیکھنے بیٹھ جاتے ہیں اور کچھ ٹیوب ویل پر نہانے کے لیے چلے جاتے ہیں اور افطاری سے کچھ منٹ پہلے گھر تشریف لے آتے ہیں۔ نہ نماز پڑھتے ہیں اورنہ قرآن کی تلاوت کرتے ہیں۔ نبی کریم ؐکا فرمانِ عالی شان ہے کہ روزِقیامت روزے اورقرآن سفارش کریں گے۔اس مبارک مہینہ میں ہم نہ صرف کردہ گناہوں کے وائرس سکین کرکے خود کو کلین کرسکتے ہیں بلکہ اچھے اعمال کے ذریعے اپنے ایمان کی بیٹری’چارج‘بھی کرسکتے ہیں۔ان مبارک لمحات کا تقاضا یہ ہے کہ انسان اس کے اندرثواب کمائے،غریبوں کی مددکریں،روزے داروں کے لیے سہولتیں پیدا کریں اور اپنے گناہوں کو دھلوائے،اپنی مغفرت کا سامان پیداکرے۔حرفِ آخر پروفیسرکاشف خضری کا ایک فکر انگیز مسیج موصول ہوا جو ہم سب کے لئے لمحۂ فکرہے کہ ایک غیرمسلم اپنی بیوی اوربچوں سے کہہ رہا تھا بس تھوڑے دن صبر کرومسلمانوں کاماہِ رمضان گزرجانے دوپھرپھل بھی سستے ہوجائیں گے اورمہنگائی بھی ختم ہوجائے گی۔